| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
عہ۱: تنبیہ : مطلقاً جاذبیت سے انکار نہیں کہ کوئی شَے کو جذب نہیں کرتی مقناطیس و کہر با کا جذب مشہور ہے بلکہ جاذبیت شمس و ارض کا رد مقصود ہے اوّل کا لذاتہ کہ اسی کی بنا پرحرکت زمین ہے اور دوم کا اس لیے کہ اسی کو دیکھ کر اس میں بلادلیل جذب مانا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
رَدِّ اوّل : اقول: اہل ہیأتِ جدیدہ کی ساری مہارت ریاضی و ہندسہ و ہیأت میں منہک ہے عقلیات میں ان کی بضاعت قاصر یا قریب صفر ہے وہ نہ طریق استدلال جانتے ہیں نہ داب بحث، کسی بڑے مانے ہوئے کی بے دلیل باتوں کو اصولِ موضوعہ ٹھہرا کہ ان پر بے سرو پا تفریعات کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر وثوق وہ کہ گویا آنکھوں سے دیکھی ہیں بلکہ مشاہدہ میں غلطی پڑسکتی ہے ان میں نہیں ان کے خلاف دلائل قاہرہ ہوں تو سننا نہیں چاہتے ، سنیں تو سمجھنا نہیں چاہتے سمجھیں تو ماننا نہیں چاہتے۔ دل میں مان بھی جائیں تو اس لکیر سے پھرنانہیں چاہتے۔ جاذبیت ان کے لیے ایسے ہی مسائل سے ہے اور وہ اس درجہ اہم ہے کہ ان کا تمام نظام شمسی سارا علم ہیأت اسی پر مبنی ہے۔ وہ باطل ہو تو سب کچھ باطل، وہ لڑکوں کے کھیل کے برابر برابر کھڑی ہوئی اینٹیں ہیں کہ اگر گراؤ سب گرجائیں۔ ایسی چیز کا روشن قاطع دلیل پر مبنی ہونا تھا نہ کہ محض خیال نیوٹن پر ، ایک سیب ٹوٹ کر گرتا ہے اس سے یہ اٹکل دوڑاتا ہے کہ زمین میں کشش ہے جس نے کھینچ کر گرالیا مگر اس پر دلیل کیا ہے جواب ندارد۔ اولاً عقلائے عالم اثقال میں میل سفل مانتے ہیں کیا وہ میل اس کے گرانے کو کافی نہ تھا یا میل نجانا یوں نہ سمجھ سکتا تھا کہ ثقیل کے استقرار کو وہ محل چاہیے جو اس کا بوجھ سہارے سیب وہی ٹوٹے گا۔ جس کا علاقہ شاخ سے ضعیف ہوجائے وہ کمزور تعلق اب اس کا بوجھ نہ سہار سکے ورنہ سبھی نہ ایک ساتھ ٹوٹ جائیں، ادھر تو ضعیف علاقہ کے سبب شاخ سے چھوٹا ادھراس سے نرم تر ملاء ہوا کا ملاء اسے کیا سہارتی لہذا اس سے کثیف تر ملاء درکار ہوا کہ زمین ہو یا پانی کیا اتنی سمجھ نہ تھی یا بطلان میل پر کوئی قطعی دلیل قائم کرلی اور جب کچھ نہیں تو جاذبیت کا خیال محض ایک احتمال ہوا محتمل مشکوک بے ثبوت بات پر علوم کی بنا رکھنا
کارِ خردمنداں نیست
( عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ ت)
ثانیاً لطف یہ کہ یہی ہیأت جدیدہ والے جا بجا ( عہ۱) ثقیل میں میل سفل مانتے خفیف میں میل علو لکھ جاتے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ میل جاذبیت کا سارا میل کاٹ دے گا جب ثقیل اپنے میل سے گرتا سیب کا ٹوٹنا جاذبیت پر کہاں دلالت کرتا ہے یہ یقین و احتمال و طریق استدلال و منصب مدعی و سوال سے ان کی ناواقفی ہے معلول کےلیے علت درکار ہے جب ایک کافی ووافی علت موجود اور تمہیں بھی مسلم ہے تو اسے چھوڑ کر دوسری بے ثبوت کی طرف اسے منسوب کرنا کون سی عقل ہے۔ بالفرض اگر علت کافیہ معلوم نہ ہوتی بلادلیل کسی شیئ کو علت بتادینا مردود ہوتا ہے وہاں یہ کہنا تھا کہ علت ہمیں معلوم نہ ہوتی بلا دلیل کسی شیئ کو علت بتادینا مردو دہوتا ہے وہاں یہ کہنا تھا کہ علت ہمیں معلوم نہیں، نہ یہ کہ کافی علت موجود و مسلم ہوتے ہوئے اس سے فرار اور دوسری بے دلیل قرار جاذبیت کے رد کو ایک یہی بس ہے یہاں سے ظاہر ہوا جاذبیت پر ایمان بالغیب انہیں مجبورانہ میل طبعی کے انکار پر لانا ہے اگرچہ وہ نادانی سے کہیں مقر ہوں اگرچہ وہ بے دلیل منکر ہو (عہ۲۔ ۱۱) اور میل طبعی کا ثبوت بلکہ احتمال ہی جاذبیت کو باطل کرتا ہے کہ جب میل ہے جاذبیت کی کیا حاجت اور اس کے وجود پر کیا دلیل، یہ تقریر بعض دلائل آئندہ میں ملحوظ خاطر رہے۔
عہ۱: ح ص ۳۴ ثقل ہمیشہ اجسام کو جانب اسفل کھینچتا ہے۔ ص۳۷ اجسام کو جانب پائیں مائل کرتا ہے ۔ص ۳۹ اجسام بقدر ثقیل مطلق سے قرب کے طالب پانی ہمیشہ بالطبع بلندی سے پستی کی طرف میل کرتا ہی ۔ ص ۲۱۲ بخار جتنا ہلکا ہوگا۔ زیادہ بلند ہوگا۔ ص ۲۱۷ بخار ہوا سے زیادہ لطیف و خفیف لہذا میل علو کرتا ہے۔ عہ۲: ص ۲۱۷ حرارت آفتاب کے سبب اجزائے آب ہلکے ہو کر قصد بالا کرتے ہیں یونہی زمین کے جلے ہوئے اجزاء حرارت وقفت کے باعث۔ ص ۲۱۵ ابربحسب ثقل یا لطافت نیچے یا اوپر حرکت کرتا ہے۔ ط ص ۱۱۵ منجمد اجسام کے تمام اجزاء مل کر زمین کی طرف میل کرتے ہیں اور سیال اجسام کا ہر جز جدا میل زمین کرتا ہے ص ۱۴۱ ۔ص ۲۱۷ ہوا گرمی سے ہلکی ہو کر بالا سعود کرتی ہے یونہی جغ ص ۹ میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
رَدِّ دوم : اقول: فرض کردم کہ سیب گرنے سے زمین پر جاذبیت کا آسیب آیا مگر اس سے شمس میں جاذبیت کیسے سمجھی گئی جس کے سبب گردش کا طومار باندھ دیا گیا اس پر بھی کوئی سیب گرتے دیکھا۔ یا یہ ضرور ہے کہ جو کچھ زمین کے لیے ثابت ہو آفتاب میں بھی ہو۔ زمین بے نور ہے آفتاب سے منور ہوتی ہے۔ آفتاب بھی بے نور ہوگا کسی اور سے روشن ہوگا۔ یونہی یہ قیاس اس ثالث کو نہ چھوڑے گا اس کے لیے رابع درکار ہوگا۔ اور اسی طرح غیر متناہی چلا جائے گا یا واپس آئے گا۔ مثلاً شمس ثالث سے روشن اور ثالث شمس سے وہ تسلسل تھا یہ دور ہے اور دونوں محال یہ منطق الطیر اسی بے بضاعتی کا نتیجہ ہے جو ان لوگوں کو علوم عقلیہ میں ہے، ورنہ ہر عاقل جانتا ہے کہ شاہد پر غالب کا قیاس محض وہم اور وسواسی ہے۔
رَدِّ سوم: اقول: تم جاذبیت کے لیے نافریت لازم مانتے ہو کہ وہ ہو اور (عہ۱) یہ نہ ہو تو کھینچ کر وصل ہوجائے اور ہم نافریت باطل کرچکے تو جاذبیت خود ہی باطل ہوگئی کہ بطلان لازم بطلان ملزوم ہے۔
عہ۱: ۱۸۱ ۔۱۲۔