| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
رَدِّ ہفتم : اقول: ظاہر ہے کہ نفرت جذب سے ہے اور جذب جمیع جہات شمس سے یکساں اور جتنا جذب اتنی ہی نفرت (۷) تو واجب کہ ہر طرف نافریت یکساں ہو اور جتنی نافریت اتنا ہی بعد، تو لازم کہ سب طرف شمس سے بعد یکسا ں ہو آفتاب عین مرکز مدار ہو لیکن وہ مرکز سے ۳۱ لاکھ میل فاصلہ پر فوکز اسفل میں ہے تو نافریت باطل کہ وہ ایسی چیز چاہتی ہے جو امرِ واقع و ثابت کے خلاف ہے فائدہ : اسی دلیل سے بیضیت رَد ہوسکتی ہے کہ جب ہر طرف بعد برابر تو ضرور مدار دائرہ تامہ ہوگا نہ بیضی لیکن وہ بیضیت سے انکار کرسکتے ہیں نہ کوئی عاقل شمس کو عین مرکز پر مان سکتا ہے کہ مشاہدہ ہر سال سے باطل ہے لاجرم نافریت و حرکت زمین کو رخصت کرنا لازم ہے۔
رَدِّ ہشتم : اقول : نافریت جاذبیت سے دست و گریبان ہو کر کوئی مدار بنا ہی نہیں سکتی، نمبر ۳۴ میں سن چکے کہ زمین کو نصف حضیضی میں قُرب زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ اور نصف اوجی میں بعد اور نطاق اوّل و سوم میں مرکز سے قرب بڑھتا جاتا ہے اور دوم و چہارم میں بعد۔ یہ مسائل مسلمہ ہیں جن میں کسی کو مجال سخن نہیں لیکن نافریت و جاذبیت کا تجاذب ہر گز یہ کھیل نہ بنا رکھے گا۔
27_24.jpg
ا طؔ ، کوئی سا قطرفرض کرلیجئے اور اؔ، اس کا کوئی ساکنارہ اور طؔ مرکز خواہ شمس کی جاذبیت نے زمین کو اؔ سے طؔ اور نافریت نے بؔ کی طرف قائمہ پر پھینکنا چاہا اور تعاول قوتین نے کہ جاذبیت اور نافریت کو مساوی مانا ہے (نمبر۶) اسے کسی طرف نہ جانے دیا بلکہ زاویہ اؔ کی تصنیف کرتا ہوا خط ا ح پر حؔ تک لایا۔ اب اؔ سے زمین کا بعد ط حؔ ہوا زاویہ ا طؔ ایک عاشرہ یا اس سے بھی خفیف تر کوئی حصہ مانیے تاکہ وہ لہر دار متفرق مستقیم خطوط جن کو چھوٹے چھوٹے مستطیلوں کے قطر کہا جو ہر جزء حرکت پر جذب و نفرت سے بچ کر بیچ میں پڑتے اور ایک لہر دار منحنی کثیر الزوایا شکل بناتے ہیں غایت صغر کے سبب ان کے زاویے اصلاً کسی آلے سے بھی قابل احساس نہ رہیں اور ایک منتظم گولائی لیے ہوئے شبیہ بہ دائرہ یا بیضی پیدا ہو مثلث ا ط جؔ میں اؔ نصف قائمہ ہوگا۔ اور ط وہ خفیف کا لعدم زاویہ اور ح مفرجہ کہ ۱۳۵ درجے سے صرف بقدر ط چھوٹا ہے لا جرم ط ح کہ حادہ کا وتر ہے۔ اط سے چھوٹا ہوگا یعنی ط سے زمین کا بعد کم ہوا۔ ا ب حؔ پر وہی کشمکش ہے جاذبیت ا سے ط کی طرف کھنچتی ہے اور نافریت ۳ کی طرف قائمہ پر پھینکتی اور تعاول قوتیں دونوں سے بچا کر ط ح ء قائمہ کے منصف ح ہ پر ہ تک لانا اور پھر ر اور ح ط ہ اتنا ہی خفیف بنتا اور ط ہ وتر حادہ ط ح و تر منفرجہ سے چھوٹا ہوتا ہے یعنی ط سے اور قریب ہوئی، یونہی ہ پر وہی معاملہ پیش آئے گا اور ط ح ، ط حؔ سے چھوٹا ہوگا ہمیشہ یہی حالت رہے گی، تو زمین کو طؔ سے ہر وقت قُرب ہی بڑھے گا تو اس کا کوئی مدار بنانا اصلاً ممکن نہیں دائرہ ہو تو وہ ہر طرف بعد برابر چاہے گا اور یہاں ہر وقت مختلف ہے اور بیفی اہلیلجی، شلجمی کوئی شکل ہو تو ایک قطر اطول ایک اقصر رہے جس میں دو نطاق مرکز سے قریب کریں گے تو دو بعید ایک نصف شمس سے قریب کرے گا تو دوسرا بعید، حالانکہ یہاں ہرو قت قرُب ہی بڑھ رہا ہے تو زمین اگر گرد شمس گھومی تو شکل یہ بنائے گی۔ @ جس میں ہر وقت شمس سے قریب ہوتی جائے گی یہاں تک کہ اس سے مل جائے نہ کہ کسی مدار واحد پر دائرہ ہو۔
رَدِّ نہم : اقول: بالفرض جاذبہ و نافرہ کو مساوی ماننے سے استعفا بھی دو اور ط ا حؔ کو نصف قائمہ سے بڑا مانو تو ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ وہیں تک بڑھ سکتا ہے کہ زاویہ ط سے مل کر ایک قائمہ کم رہے یعنی لازم کہ ا ح طؔ منفرجہ آئے کہ اگر قائمہ ہو تو ی ا ح بھی ط کے برابر ہوگا۔ کہ دونوں ط ا حؔ کے تمام تاقائمہ ہیں تو نافریت کا حصہ ایک عاشرہ کم پورا قائمہ رہا اور جاذبیت کا حصہ ایک ہی عاشرہ جو اس کے سامنے عدم محض ہے اور اگر حادہ ہو تو اور بھی صغیر و حقیر رہے گا۔
27_25.jpg
فرض کر اءؔ قائمہ کا خط ہے یعنی جس نے ا سے نکل کر ط بؔ پر قائمہ بنایا تو حادے کا خط اس سے نیچا مثل ا حؔ نہیں گر سکتا ورنہ مثلث ا ء حؔ قائمہ و منفرجہ جمع ہوجائیں نہ ا ءؔ پر آسکتا ہے ورنہ قائمہ و حادہ برابر ہوجائیں۔ لاجرم اس سے اوپر پڑے گا۔ خواہ ا ر کی طرف ر ط ، ا ط قطع کرے کہ یہ حادہ اؔ کے مساوی ہو یا ا ہؔ کی طرح اط سے چھوٹا کہ یہ حادہ ا سے بڑا ہو یا احؔ کی طرح اس سے بڑا کہ یہ حادہ ا سے چھوٹا ہو بہرحال جب خط ا ءؔ سے اوپر پڑا تو زاویہ زاویہ ب ا ءؔ ایک عاشرہ پورا ہی ہو تو قائمہ میں ۰۰۰،۰۰۰،۰۰۰،۵۴۴۱۹۵۵۸۴۰۰ عاشرے ہوتے ہیں۔ حاصل یہ کہ نافریت کہ بؔ کی طرف لے جاتی تھی اسے پانچ مہاسنکھ چوالیس سنکھ انیس پدم پچپن نیل تراسی کھرب ننانوے ارب ننانوے کروڑ ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے حصے کھینچ لے گئی اور بیچاری جاذبیت کہ ط کی طرف لاتی تھی صرف ایک حصہ کھینچ سکی یہ نہ معقول ہے نہ اس کی کوئی وجہ نہ کوئی اتنا فرق مانتا ہے نہ مان سکتا ہے۔ جانتے ہو کہ ایک عاشرے کی قوس کتنی ہے مدار شمس یا تمہارے طور مدار زمین میں جس کا قطر اوسطاً اٹھارہ کروڑ اٹھاون لاکھ میل ہے ایک بال کی نوک کا لاکھواں حصہ بھی نہیں محیط ۳۶۰ درجے ہے درجہ ۶۰ دقیقہ اور ہم نے حساب کیا اس مدار کا ایک دقیقہ ستائیس ہزار تئیس میل ۵ء ہے اور ہر میل ۱۷۶۰ گز ۴۸ انگل ، ہر انگل چھ جوہر جو دم اسپ ترکی کے چھ بال ، تو ایک درجے میں صرف ۴۹۳۱۶۱۸۰۴۸۰۰ بال ہوئے کہ پچاس کھرب بھی نہیں، اور ایک درجے میں عاشرے ۰۰۰،۰۰۰،۰۰۰،۶۰۴۶۶۱۷۶۰ ہوتے ہیں کہ چھ سنکھ سے بھی زائد ہیں اس پر تقسیم کیے گئے تھے ۸ حاصل ہوا یعنی اس مدار عظیم کا عاشرہ ایک بال کی نوک سو الاکھ حصوں سے ایک حصہ ہے کیا جاذبیت اتنا ہی کھینچ سکی باقی سارا ماثر نافریت لے گئی، لاجرم واجب کہ ج ہ ح سب منفرجے آئیں اور بعد ہمیشہ گھٹتا جائے گا بلکہ انصافاً ، اؔ، نصف قائمے سے فرق کرے گا بھی تو قلیل اور ح وغیرہ ۱۳۵ درجے سے کچھ ہی کم ہوں گے اور قرب بین فرق سے دائماً بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ زمین آفتاب سے لپٹ جائے اب مدار بنانے کی خبریں کہئے۔
ردِ دہم : اقول : اینہم برعلم تو یہاں بعد لی کمی بیشی ایک ہی چیز تو نہیں بلکہ مرکز سے نطاق اوّل کم ہوتا گیا۔ دوم میں زیادہ سوم میں پھر کم چہارم میں پھر زیادہ ، اور شمس سے نصف حضیضی میں کم ہوتا گیا نصف اوجی میں زیادہ (نمبر۳۴) کیا وجہ ہے کہ نافریت یہ مختلف ثمر ے لاتی ہے وہ قوت شاعرہ نہیں کہ تم سے مشورے لے کہ جس نطاق میں جیسا تم کہو ویسا مختلف کام کرے او راپنے اثر بدلتی رہے۔ اگر کہئے کہ نطاق اول وسوم میں نافریت ضعیف ہوتی جاتی ہے اس کا اثر کہ بعید کرنا تھا گھٹتا جاتا ہے۔ نطاق دوم و چہارم میں قوی ہوتی جاتی ہے اس کا عمل بڑھتا جاتا ہے۔ اقول : یہ محض ہوس ہے۔ اولاً اس کے اس اختلاف قوت و ضعف کا کیا سبب ہے۔ ثانیاً کیوں انہیں نطاقوں پر اس کا تعین منتظم مرتب ہے۔ ثالثاً نطاق دوم میں مرکز سے بعد بڑھتا ہے شمس سے قرب کیا وہی نافریت مرکز کے حق میں قوی ہوتی اور شمس کے حق میں ضعیف ہوتی جاتی ہے۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ چال برابر بڑھ رہی ہے جو تمہارے طور پر دلیل قوت نافریت ہے۔ رابعاً نطاق سوم میں مرکز سے قُرب بڑھتا ہے اور شمس سے بعد کیا وہی نافریت اب یہاں اُلٹی ہو کر مرکز کے حق میں کمزور پڑتی اور شمس کے لیے تیز ہوتی جاتی ہے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ چال برابر سُست پڑتی جاتی ہے جو دلیل ضعف نافریت ہے مگر یہ کہیے کہ نافریت ایک ذ ی شعور اور سخت احمق ہے اسے مرکز و شمس دونوں سے نفرت ہے لیکن وہ اپنی حماقت سے دشمن کے گھر میں سوتی رہتی ہے اور جب سر پر آلگتی ہے اس وقت جاگتی ہے مگر پھر بھی غالباً ایک اسی آنکھ سے جس طرف کی زد سر پر آلگی دوسری آنکھ سے اس وقت بھی سوتی رہتی ہے یوں آپ کا نظام پائے گا دیکھو شکل مذکور ۳۴ نقطہ ، اؔ، یعنی اوج پر نافریت دونوں آنکھوں سے سوتی غافل پڑی خراٹے لے رہی ہے اور اس کی دشمن جاذبیت اپنا کام کررہی ہے زمین کو چپکے چپکے مرکز و شمس دونوں سے قریب لارہی ہے سیدھا یوں نہیں کھینچتی کہ نافریت جاگ اُٹھے گی لہذا بچتی کتراتی میر بحری بجاتی لا رہی ہے یہاں تک کہ نقطہ ر یعنی ایک کنارہ قطر اقصر پر لے آئی جہاں مرکز سے غایت قرب ہے اب نافریت کی وہ آنکھ جو مرکز کی طرف ہے کھلی کہ اسی طرف سے زد آئی تھی زمین کو مرکز سے لے کر بھاگی اور دور کرنا شروع کیا مگر شمس کی طرف والی آنکھ سے اب سو رہی ہے اسے خبر نہیں کہ شمس سے دور کرتی تو مرکز سے تو قریب لارہی ہوں ، یہاں تک کہ نقطہ ہ پر دوبارہ مرکز سے غایت قرُب میں آئی البتہ اب اس کی دونوں آنکھیں کھلیں اور زمین کو دونوں سے دور لے کر بھاگی یہاں تک کہ نقطہ ا پر پہنچی کھینچ تان کی محنت بہت اٹھائی تھی سال پورا دوڑتے دوڑتے ہوگیا یہاں آکر چاروں شانے چت دونوں آنکھوں سے ایک ساتھ سوگئی اور پھر وہی دورہ شروع ہوا۔ یہ فسانہ عجائب یا بوستانِ خیال تم تسلیم کرو کہ کوئی عاقل تو بے دلیل اسے مان نہیں سکتا۔
رَدِّ یا زدہم : اقول: ، یہاں سے ایک اور رد کا دروازہ کھلا ہرغیر مجنون جانتا ہے کہ نافریت کا اثر بعید کرنا ہے جیسے جاذبیت کا اثر قریب کرنا اور تم خود کہتے ہو کہ جتنی جاذبیت قوی ہوگی اتنی نافریت زور پکڑے گی کہ اس کی مقاومت کرسکے(۷) اتنی قرین قیاس ہے آگے کہتے ہیں کہ جتنی نافریت قوی ہوگی چال تیز ہوگی۔ (۷) یہ بھی قرین قیاس تھی اگر وہ چال تیز ہوتی جو بعید کرے لیکن نافریت کی بدقسمتی سے چال وہ تیز ہوتی ہے جو زمین کو شمس سے قریب کرے یعنی نصف حضیضی میں اور مرکز سے لو تو نطاق اول رد کو حاضر کہ جتنی چال تیز ہوتی ہے اتنا مرکز سے قرب بڑھتا ہے۔ یہ الٹی نافریت کیسی۔ رَدِّ دوازدہم : اقول :جانے دو کیسی بھی چال سہی نِری اوندھی مگر جاذبیت اگر کوئی شے ہو تو نصف حضیضی میں اس کی قوت ہر وقت بڑھناآنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ہر روز آفتاب قریب سے بڑھتا جاتا ہے تو اگر نافریت ہوئی واجب کہ وہ بھی واقعی بڑھتی جس طرح جاذبیت فی الواقع بڑھی نہ کہ محض برائے گفتن، اور اس کے واقعی بڑھنے کو لازم تھا کہ چال حقیقت میں تیز ہوجاتی ، لیکن تمام عقلاء کا اتفاق اور تمہیں خود مسلم ہے کہ شمس کہو یا زمین اس مدار پر دورہ کرنے والے کی چال ہمیسہ متشابہ ہے کبھی نہ سست ہوتی ہے نہ تیز، ہمیشہ مساوی وقتوں میں مساوی قوسیں قطع کرتی ہے اگرچہ دوسرے دائرے کے اعتبار سے دیکھنے والوں کو تیز و سست نظر آئے ( دیکھو نمبر۳۵) تو ثابت ہوا کہ نافریت باطل ہے کہ انتفائے لازم کو انتفائے ملزوم لازم ہے یعنی ترقی جاذبیت تو مشاہدہ ہے اگر نافریت واقع میں ہوتی تو اس وقت ضرور بڑھتی اور اس کے بڑھنے سے چال واقعی تیز ہوتی لیکن اصلاً نہ ہوئی تو نافریت تو ضرور غلط ہے تو گردش زمین باطل ہے کہ بے نافریت اس کا پہیہ ڈھلکے گا یا یوں کہئے کہ اس کی گردش دو پہیے ہیں نافریت و جاذبیت ایک کے گر جانے نے زمین کی گاڑی زمین میں گاڑی کہ ہل نہیں سکتی۔ وﷲ الحمد۔