Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
76 - 212
فصل اوّل

نافرّیت کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں۔
رَدِّ اوّل : اقول: ابتداء اتنا ہی بس کہ نافریت بے دلیل ہے اور دعویٰ بے دلیل باطل و علیل اور پتھر کی مثال کا حال نمبر۴۔ میں گزرا وہی اس کے حال کی کافی مثال ہے۔

 رَدِّ دوم : اقول:  مرکز دائرہ سے محیط کے نقطہ پر خط قاطع اب کھینچو اور ، ہ ب ، کے دونوں طرف اس کے مساوی چھ خط جن میں ، ح ہ ، ء ہ ،مماس ہوں اور ، ر ہ ح ہ ط، ہ ی ہ ،ان دونوں قائموں کی برابر تقسیم کرنے والے، اور سب کو ، ا، سے ملادو۔ ظاہر ہے کہ ان میں ہر خط اپنے نظیر کے مساوی ہوگا اور ، ا ح سے ا ر، ار سے اح ، ا ح سے ا ب ، بڑا ہوگا۔ یوں ہی ، ای سے اط ، اط سے اب ، اس لیے کہ مثلثات ، ا ہ ح، ا ہ ر اہ ح ، میں مشترک ۔ اور ، ہ ح ، ہ رہ ، ہ ح ، برابر ہیں۔ اور ہ پر کا زاویہ بڑھتا گیا ہے کہ ہر پہلا دوسرے کا جز ہے لاجرم ، ا ح ، ار ،اح،  قاعدے بڑھتے جائیں گے(اقلیدس مقالہ شکل ۲۴) رہا ، ا ب، ح ب ، ملادیا تو مثلث متساوی الساقین ح ہ ب کے دونوں زاویہ ح ب مساوی ہوئے اور ظاہر ہے کہ مثلث ا ح ب میں زاویہ ح جس کا وتر اب ہے زاویہ ہ  ح  ب سے بڑا ہے۔ تو  ا ح کہ چھوٹے زاویہ کا وتر ہے اب سے چھوٹا ہے ۔(شکل ۱۹) غرض ان میں سب سے زیادہ مرکز سے دوری ب کو ہے باقی جتنا مماس کی طرف آؤ مرکز سے قرب ہے کہ اب زمین نقطہ ہ پر تھی اور نافریت کے سبب اس نے مرکز سے دور ہونا چاہا واجب ہے کہ خط ہ ب پر ہٹے کہ اسی طرح مرکز سے بعد محض ہے اور سب بعد اضافی ہیں کہ ایک وجہ سے بعد ہیں تو دوسری وجہ سے قرب ہیں بعد محض چھوڑ کر ان میں سے کسی کو کیوں لیا یہ ترجیح مرجوح  ہوئی پھر اس میں جس خط پر جائے دوسری طرف اس کا مساوی موجود ہے ادھر کیوں نہ گئی ترجیح بلا مرجح ہے اور دونوں باطل ہیں زمین کوئی جاندار ذی عقل نہیں جسے ہر گونہ ارادے کا اختیار ہے اور جب ہ ب پر جائے گی دورہ محال ہوگا۔ اگر نافریت غالب آئے گی ب سے قریب ہوجائے گی اور جاذبیت تو اسے اور برابر رہیں تو ہ پر رہے گی کسی طرف نہ ہوجائے گی بہرحال دورہ نہ کرے گی۔
27_23.jpg
 رَدِّ سوم : اقول ، نہیں نہیں بلکہ واجب ہے کہ ہ ہی پر رہے کہ تمہارے نزدیک نافریت و جاذبیت برابر ہیں (نمبر۶) اور دائرہ پر حرکت میں اختلاف سرعت سے جذب و نفرت باہم کم و بیش ہوں تو ابتدائے آفرینش میں جب کہ زمین پہلے نقطہ ہ پر ہے کہاں دائرہ اور کہاں حرکت اور کہاں اختلاف سرعت، لاجرم اس وقت دونوں کانٹے کی تول برابر ہیں تو واجب کہ زمین جہاں اول پیدائش میں بنی تھی اب تک وہی ٹھہری ہوئی ہے اور وہیں ٹھہری رہے گی تو تمہاری نافریت وجاذبیت ہی نے زمین کا سکون مبرہن کردیا ۔ ﷲ الحمد

 رَدّ چہارم : اقول: معلوم ہولیا نافریت نہ ہے نہ اس کا مقتضی ہر گز خطِ مماس پر لے جانا اور بے اس کے زمین کی حرکت دور یہ گرد شمس منظم نہیں ہوسکتی تو ضرور کوئی واقعہ ناقلہ درکار ہے کہ اسے ہر وقت خطِ مماس پر واقع کرے اور شمس اپنی طرف کھینچے دونوں کا اوسط دائرے پر گردش نکلے ایک دفعہ کا دفعہ کافی نہیں زمین میں کیل گاڑ کر اس میں ڈورا اور ڈورے میں گیند باندھو اور ایک بار اسے مارو ڈورا تن جائے گا۔ گیند ایک ہی ضرب سے کیل کے گرد دورہ نہ کرے گی تو ہر وقت دفع و نقل کی حاجت ہے یہ شمس کا اثر ہو نہیں سکتا کہ وہ تو اس کے خلاف جذب چاہ رہا ہے تو ضرور کوئی اور سیّارہ چاہیے جو زمین کو مماس پر جذب کرے اور ہر وقت زمین کے ساتھ پھرے نہ نقل کا کام دے وہ سیارہ کہاں ہے اور بفرض ہو تو اسے کس نے گردش دی اس کے لیے اور سیارہ درکار ہوگا اور اسی طرح غیر متناہی سلسلہ چلا جائے گا اور تسلسل محال، لاجرم زمین کی گردش محض باطل خیال۔

 رَدِّ پنجم: اقول: دو مساویوں میں ایک کا اختیار کرنا عقل و ارادہ کا کام ہے، نہ طبیعت غیر شاعرہ کا ، ظاہر ہے کہ نقطہ ہ سے ح اور ء  دونوں طرف قائمہ اور یکساں حالت ہے اور ظاہر ہے کہ زمین صاحبِ شعور و ارادہ نہیں، اب اگر بفرض باطل زمین میں نافریت ہے اور بفرض باطل نافریت مماس پر پھینکتی یعنی جاذبیت پر قائمہ بناتی ہے، مگر نافریت کا اس طرف کے مماس سے کوئی رشتہ ہے جس سے زمین کواکب سرطان ، جوزا، ثور میں جاتی تو ایک طرف کولینا دوسری کو چھوڑنا کس بنا پر ہوا۔ یہ ترجیح بلا مرجح ہے اور وہ باطل اور بالفرض ایک بار جزا فاً ایک سمت لی ہمیشہ اس کا التزام کس لیے، کیوں نہیں ہوتا کہ ایک بار نقطہ اوج پر آکر پھر انہیں قدموں پیچھے پلٹ جائے کہ جاذبیت و نافریت کے اقتضاء یوں بھی بحال ہیں، بالجملہ یہ حرکت کسی طرح نافریت ( عہ۱ ) کے ماتھے نہیں جاسکتی۔
عہ۱:  اگر کہیے ارادہ الہیہ نے ایک سمت معین کردی اگرچہ اس کہنے کی تم سے امید نہیں کہ طبیعات والے اسے بالکل بھولے بیٹھے ہیں، ہر بات میں طبیعت و مادہ کے بندے ہیں، یوں کہے تو جاذبیت و نافریت کا سارا گورکھ دھندہ اٹھا رکھئے ارادہ الہیہ خود سب کچھ کرسکتا ہے اور جب رجوع الی اﷲ کی ٹھہری تو ہیات جدیدہ کا تھل بیڑہ  نہ لگا رہے گا اس کا ارادہ وہ جانے یا تم کتب الہیہ آسمانوں کا وجود بتائیں گی اور آفتاب کی حرکت جیسا کہ بعونہ تعالی خاتمہ میں آتا ہے اس پر ایمان لانا ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ۔
رَدِّ ششم :  یہ سب محض ہے دلیل ٹھان لیجئے تو نافریت قائمہ ہی پر تو لے جائے گی۔ (نمبر۵) حادہ پر لانا تو اور مرکز سے قریب کرنا ہے تو نفرت نہ ہوئی بلکہ رغبت لیکن ہیات جدیدہ مدار زمین دائرہ نہیں مانتی بلکہ بیضی اور اس میں طرفین قطر کے سوا باقی سب زاویے حادے بنیں گے جس کا خود ان کو اعتراف ( عہ۲) ہے، تونافریت باطل اور رغبت حاصل ،
عہ۲:  ط ص ۵۹ ۔۱۲
فائدہ : اس دلیل کو چاہے ابطال نافریت و ابطال حرکت زمین پر کرلو چاہے ابطال بیضیت مدار پر، اول تو یوں ہیں جو ابھی مذکور ہوا کہ نافریت ہوتی تو مدار بیضی نہ ہوتا۔، لیکن وہ بیضی ہے اور نافریت باطل تو حرکت زمین باطل اور آخر یوں ہوا کہ مدار اگر بیضی ہوتا تو نافریت نہ ہوتی تو دورہ نہ ہوتا اور دورہ نہ ہوتا تو مدار نہ ہوتا۔ نتیجہ یہ کہ مدار اگر بیضی ہوتا تو مدار نہ ہوتا، شے خود اپنے نفس کی مبطل ، لہذا بیضیت باطل اب ہیأت جدیدہ کو اختیار ہے جس کا بطلان چاہے قبول کرے مگر یاد رہے کہ بیضیت وہ چیز ہے کہ شروع ( عہ۳ ) سترھویں صدی عیسوی میں کپلر نے آٹھ سال رصدبندی کی جانکاہ محنت کی اور مدار کو دائرہ مان کر ۱۹ طریقے فنا کیے کوئی نہ بنا اس کے بعد مدار بیضی لیا اور سب حساب بن گیا اور اسی پر قواعد کپلر کی بنا ہوئی جس بیضیت اور قواعد کپلر پر تمام یورپ کا ایمان ہے اسے باطل مان لینا سہل نہ ہوگا۔ لہذا راہ یہی ہے کہ حرکت زمین سے ہاتھ اٹھائیں کہ ان تمام خرخشوں سے نجات پائیں۔
  عہ۳: ص ۱۷۰۔۱۲
Flag Counter