| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
اقول : اولاً نظر ( عہ۲) ظاہر میں تو یہی کافی کہ ایسا ہے تو تقریباً نصف کرُہ زمین میں ہمیشہ رات کیوں رہتی ہے سب ہی روشن رہا کرے کہ سب مقابل شمس ہے۔
عہ۲: اس سے ایک تدقیق دقیق کی طرف اشارہ ہے جسے ہم نے اپنے رسالہ صبح میں روشن کیا ،۱۲ منہ غفرلہ) (رسالہ صبح سے مراد ہے درء القبح عن درک وقت الصبح (زبان اردو فن توقیت) از اعلٰیحضرت عبدالنعیم عزیزی)
ثانیاً آخر کچھ نہیں تو اختلاف منظر کیوں، جب نصف قطر کی یہ مقدار ہے کل سطح کی اکثر واکبر ہے۔ اسی قدر اختلاف جذب کو بس ہے۔ ثالثاً بالفرض سب ہی مقابل سہی عمود و منحرف کا فرق کدھر جائے گا۔ یوں بھی اختلاف حاصل ، بالجملہ یہ تقریر ان مقدمات پر مبنی ہے جو ضرور ہیات جدیدہ کے اصول مقررہ ہیں تو یہی اسے واجب التسلیم ہے اگرچہ حقیقۃً اعتراض سے خالی نہ یہ نہ وہ بلکہ ہم بتو فیقہ تعالیٰ فصل سوم میں روشن کریں گے کہ دونوں وجہیں باطل محض ہیں اور کیوں نہ ہو کہ اصول باطلہ ہیات جدیدہ پر مبنی ہیں پھر بھی یہ اس سے اسلم اور اصول جدیدہ پر تو نہایت محکم ہے۔،
تنبیہ : اقول: وجہ یہ ہو خواہ وہ بہر طور زمین کی حرکت مستدیرہ حقیقۃً حرکت وضعیہ یعنی مجموع کُرہ کی حرکت واحدہ محوریہ نہیں بلکہ کثیر متوالی حرکات ایتیہ اجزاء کا مجموعہ وجہ اوّل پر پچھلے اجزا اگلے اجزا کو خود مقابل آنے کے لیے ہٹاتے ہیں پھر ان سے پچھلے ان کو ان سے پچھلے ان کو اسی طرح آخر تک اور وجہ دوم پر اگلے اجزاء مقابلہ سے ہٹنے کے لیے اپنے اگلوں کو ہٹاتے ہیں وہ اپنے اگلوں یہ اپنے اگلوں کو ، یونہی آخر تک بہرحال یہ حرکت خاص اجزاء سے پیدا ہو کر سب میں یکے بعد دیگرے بتدریج پھیلتی ہے نہ کہ مجموع کرہ حرکت واحدہ سے متحرک ہو۔ وجہ اول پر تمام اجزاء کے لیے نوبت بہ نوبت طبعی بھی ہے اور قسری بھی ، جو اجزاء حجاب میں ہیں ان کے لیے طبعی اور جو مقابل ہیں ان کے لیے قسری کے پچھلے اجزاء ان کے حاصل شدہ مقتضائے طبع سے ہٹاتے ہیں، جب یہ بالقسر مقابلہ سے ہٹ جائیں گے بالطبع حرکت چاہیں گے اور تازہ مقابلہ والوں کو قسر کریں گے اور وجہ دوم پر سب کے لیے قسری کو جاذبہ سے پیدا ہوئی اگرچہ نافرہ طبعی ہو۔ فافھم۔ (۳۴) ارب ہ بیضی مدار زمین ہے ا ر ، رب ، ب ، ہ، ہ ا چاروں نطاق (عہ۱) ہیں اب قطر اطول ہے اس کے دونوں کناروں پر مرکز ج سے پورا بعد ہے ہ ر قطر اقصر۔ اس کے دونوں نقطوں پرج سےبعد اقرب ح ، ء دونوں فوکز یعنی محترق ہیں جن کے اسفل پر شمس مستقر ہے ا نقطہ ء اوج شمس سے غایت بعد پر ہے اور ب حضیض غایت قرب پر زمین
27_21.jpg
ا پر مرکز و شمس دونوں سے نہایت دوری پر ہوتی ہے یہاں سے چلتے ہی ا ر نطاق اول میں دونوں سے قریب ہوتی جاتی ہیں یہاں تک کہ ر پر مرکز سے غایت قرب میں ہوتی ہے رب نطاق دوم میں مرکز سے دور ہونا شروع کرتی ہے لیکن شمس سے اب بھی قرب ہی بڑھاتی ہے یہاں تک کہ ب حضیض مرکز سے دوبارہ غایت بعد پر ہوجاتی ہے اور شمس سے نہایت قرب پر آتی ہے اس نصف حضیضی ارب میں شمس سے قرب ہی بڑھتا اور چال بھی برابر متزاید رہتی ہے تیزی کی انتہا نقطہ ب پر ہوتی ہے پھر انہیں قدموں پر سست ہوتی جاتی ہے ب ہ نطاق سوم میں زمین مرکز سے قریب اور شمس سے دور ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ ہ پر دوبارہ مرکز سے کمال قُرب پر آجاتی ہے ہ نطاق چہارم میں مرکز و شمس دونوں سے دور ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ ا پر دونوں سے کمال بُعد پاتی ہے اس نصف اوجی ب ہ ا میں شمس سے بعد ہی بڑھتا اور چال برابر متناقص رہتی ہے سستی کی انتہا نقطہ ا پر ہوتی ہے پھر وہی دورہ شروع ہوتا ہے یہ سب مسائل عام کتب میں ہیں اور خود مشہور اور قرب و بعد شمس و مرکز کی حالت ملاحظہ شکل ہی سے مشہود، اور ہمارے نزدیک بھی قطروں کے خلاف اور مرکز سے قُرب و بعد کے سوا اصل کروی میں ناممکن یہ سب باتیں یوں ہی ہیں جب کہ مدار شمس لو اور نقطہ ء پر مرکز زمین اور اگر مدار بیضی مان لیں تو یہ رسالہ بیان متفق علیہ ہے صرف شمس کی جگہ زمین اور زمین کی جگہ شمس کہا جائے ۔
عہ۱: قر ب وبعد مرکز کے سبب یہاں نطاق لیے ہمارے نزدیک خط ہ ر منتصف مابین المرکزین پر لیتےہیں کہ یہاں بعد اوسط ہے یا مرکز عالم پرکہ یہاں سیر اوسط ہے۔۱۲ منہ غفرلہ
(۳۵) چال میں تیزی و سستی کا اختلاف دوسرے ( عہ۱ ) مرکز کے لحاظ سے ہے واقع ( عہ۲ ) میں اس کی چال نہ کبھی تیز ہوتی ہے نہ سست ہمیشہ یکساں رہتی ہے اور مساوی وقتوں میں مساوی قوسین قطع کرتی ہے۔ قواعد کپلر
(عہ۳ ) سے دوسرا قاعدہ یہی ہے۔ عہ۱: ۔ ح ص ۹۷۔تا ص ۹۸۔۱۲ عہ۲: ۲؎۔ ص ۱۶۸۔۱۲ عہ۳: ۔ ص ۱۷۰۔۱۲
اقول: یہ بھی مجمع علیہ ہے لہذا طویل الذیل برہان ہندسی کی حاجت نہیں۔ مبتدی کے لیے ہمارے طور پر اس کا تصور اس تصویر سے ظاہر ،
27_22.jpg
ا ح ر ط، ، ط ر، رح، ح ا ، خارج المرکز یعنی مدار شمس کے چار مربع مساوی ہیں جن کو وہ برابر مدت میں قطع کرتا ہے لیکن ان کے مقابل دائرۃ البروج کی مختلف قوسین ہیں جب شمس ، ا سے ط ، پر آیا مرکز عالم ، ہ، سے اس پر خط ، ہ ب ، گزرا تو اس مدت میں اس پر قوس ، ا ب ، قطع کی جو ربع سے بہت یعنی بقدر ، ب ک ، چھوٹی ہے جب ط سے ر تک آیا اس ربع کے مقابل دائرۃ البروج کی قوس ، ب ل، ہوئی جو ربع سے بہت بڑی ہے یونہی دو ربع باقی ہیں تو باآنکہ شمس واقع میں ہمیشہ ایک ہی چال پر ہے دائرۃ البروج کے اعتبار سے اس کی چال تیز وسست ہوتی ہے ، ط ر ح ، کی ششماہی میں ، ب ل ح ، قطع کرتا ہے کہ نصف سے بہت زائد ہے اور ، ح ا ط ، کی ششماہی میں ، ح ا ب ، چلتا ہے کہ نصف سے بہت کم ہے لہذا تیز و سست نظر آتا ہے حالانکہ واقع میں اس کی چال ہمیشہ یکساں ہے یہی حال ہیأت جدیدہ کے نزدیک زمین کا ہے۔ الحمدﷲ مقدمہ ختم ہوا ۔ وصلی اللہ تعالیٰ علی سیّدنا محمد وآلہ ابدا۔