Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
74 - 212
(۳۱) معدل النہار ( عہ۲) دوائرۃ البروج دونوں دائرہ شخصیہ ہیں یعنی ہر ایک شخص واحد معین ہے کہ اختلاف لحاظ سے نہ اس کا محل بدلے نہ حال بخلاف دوائر نوعیہ کہ مختلف لحاظوں سے مختلف پڑتے ہیں جیسے دائرہ نصف النہار کہ ہر طول میں جدا ہے اور دائرہ افق کہ ہر عرض و ہر طول میں نیا ہے۔

عہ۲: ح ص ۴۶ ۔۱۲۔
اقول: بلاشبہ حق یہی ہے اور خود ہیأتِ جدیدہ کے سماوی و ارضی کرے اس پر شاہد کہ دونوں دائروں کو غیر متبدل بناتے ہیں بخلاف اُفق و نصف النہار کہ ان کی تبدیل حسب موقع کا طریقہ رکھتی ہیں مگر ہیأت جدیدہ کا یہ اقرار اور قولاً و فعلاً اظہار بھی نرا تقلیدی ہے جس نے اس کے اصول کا خاتمہ کردیا
علی اھلہا تجنی براقش ۱؂
 ( براقش اپنے ہی اہل مصیبت لاتی ہے۔ دائرۃ البروج کا حال تو ابھی گزرا  تھا مرکز مدار پر اور لیتے ہیں مرکز زمین پر تو وہ شخص کیسا، وہ نوع ہی بدل گئی اور معدل کا حال ابھی آتا ہے۔
 (۱؂المنجد داراشاعت کراچی، ص ۱۱۶۰)
 (۳۲) قطبین ( عہ۲) جنوبی و شمالی ساکن نہیں بلکہ قطبین دائرۃ البروج کے گرد گھومتے ہیں مبادرت اعتدالین کے باعث۲۵۸۱۷ برس میں ان کا دورہ پورا ہو تا ہے مبادرت (عہ۳) ہرسال ۲ء۵۰ ہے اور ہر دائرےمیں ۱۲۹۶۰۰۷ ثا نیے ان کو ۲ء۵۰ پر تقسیم کیے سے ۲۵۸۱۷ (عہ۴) حاصل ہوئے۔
عہ۲: ص ۳۳۷ و ۱۸۴ و ۱۹۰ ۔۱۲   

 عہ۳: ص ۱۸۳ ۔۱۲  

    عہ۴: یعنی ۷۳۳۳ء ۲۵۸۱۱۶ باسقاط خفیف ۱۲ منہ غفرلہ
اقول: ہیات جدیدہ کہ ہمیشہ معکوس گوئی کی عادی ہے جس کا کچھ بیان بعونہ تعالیٰ آتا ہے اس پر مجبور ہے کہ قطبین عالم کو متحرک مانے کہ زمین اس دائرے پر حرکت کرتی ہے جس کا قطر ۱۹ کروڑ میل کے قریب ہے او راس کا مدار ایک دائرہ ثابتہ ہے تو قطبین مدار تو ساکن ہیں اور قطبین جنوب و شمال کہ قطبین عالم و قطبین اعتدال ہیں اور زمین کے محور تحرک کے دونوں کناروں پر ہیں ضرو راس کی حرکت سے کروڑوں میل اوپر اٹھیں گے اور کروڑوں میل نیچے گریں گے مگر اولاً اب معدل النہار دائرہ شخصیہ کب رہا بلکہ ہر آن نیا ہے کہ ہر آن اس کے مرکز کا مقام جدا ہے۔

ثانیاً وہ فرض کیے ہوئے مقعر سماوی کو بھی دم بھر چین نہ لینے دے گا کہ اس مقعر کا مرکز بھی مرکز زمین مانا ہے۔ ۲۷ اور وہ کروڑوں میل اٹھنے گرنے میں ہے تو یونہی ہر آن مقعر سماوی بدلے گا اور اگر وہ بحال رہے تو دائرہ اس پر کب رہا کروڑوں میل اس کے اندر جائے گا اور دوسری طرف خلا چھوڑ ے گا پھر دوسری طرف کروڑوں میل اندر جائے گا۔ اور ادھر خلاء چھوڑے گا اسی کو کہا تھا کہ یہ سب دوائر ایک مقعر سماوی پر لیتے ہیں۔

ثالثاً بفرض باطل دائرۃ البروج کو بھی اسی مقعر و مرکز پر لے لیا اور یہ ہر آن متبدل ہیں تو دائرہ البروج بھی ہر آن بدلے گا تو شخصیہ کب رہا۔ یا وہ تنہا خواہ مع مقعر سماوی برقرار رکھا جائے گا کہ اس کا مرکز ثابت ہے تو اس کی تبدیل کی وجہ نہیں تو میل اور صد ہا مسائل کا کیا ٹھکانا رہے گا ، غرض بات وہی ہے کہ تقلیداً معدل النہار دوائرۃ البروج کا نام سن لیا اور ادھر ان احکام کی تقلید کی جو اصول قدما پر مبنی تھے ادھر اپنے اصول کا گندہ بروزہ  ملایا وہ ایک مہمل معجون باطل ہو کر رہ گیا۔ یہ ہے ہیأت جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ۔
 (۳۳) زمین وغیرہ ہر سیارے کا اپنے محور پر گھومنا اس سبب سے ہے کہ طبیعت میں ثابت ہوا ہے کہ ہر چیز بالطبع آفتاب سے نورو حرارت لینا چاہتا ہے اگر سیارے حرکت و ضعیہ نہ کریں جمیع اجزا کو نور و حرارت نہ پہنچے۔

اقول: یہ وجہ موجہ نہیں اولاً اجزا میں جاذبہ و ماسکہ و نافرہ کے علاوہ ایک قوت  شائقہ ماننی پڑے گی اور اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

ثانیاً زمین سے ذرے اور ریگ کے دانے خفیف پھونک سے جدا ہوجاتے ہیں ان کا یہ شوق طبعی کیا اتنی بھی قوت نہ رکھے گا کہ زمین سے بے جدا کیے ان کو گھمائے پھر ایک ایک ذرہ اور ریتے کا دانہ آفتاب میں اپنے نفس پر حرکت مستدیرہ کیوں نہیں کرتا اس کا جو حصہ مقابل آفتاب ہے سو برس گزر جائیں جب تک ہٹایا نہ جائے وہی مقابل رہتا ہے دوسرا حصہ کہ آفتاب سے حجاب میں ہے کیوں نہیں طلب حرارت و نور کے لیے آگے آتا۔

ثالثاً زمین میں مسام اتنے ہیں کہ پوری دبائیں تو ایک انچ کی رہ جائے۔(۲۵) تو ظاہر ہے کہ اس کا کوئی جزو دوسرے سے متصل نہیں سب ایک دوسرے سے بہت فصل پر ہیں تو ہر جز اپنے نفس پر کیوں نہ گھوماکہ اس کے سب اطراف کو روشنی و گرمی پہنچتی صرف کرے کے محور پر گھومنے سے ہر جز پورے انتفاع سے محروم رہا۔

رابعاً کرہ کی حرکت و ضعیہ سے سطح بالا ہی کے سب اجزاء فی الجملہ مستفید ہوں گے اندر کے جملہ اجزاء اب بھی محروم مطلق رہے تو جمیع اجزاء کا استفادہ کب ہوا اندر کے اجزاء طلب نور و حرارت کےلیے اوپر کیوں نہیں آتے۔ اگر کہیے اوپر کے اجزاء جگہ روکے ہوئے ہیں۔

اقول : اولاً غلط انچ بھر کی زمین جب پونے تین کھرب میل میں پھیلی ہوئی ہے اس میں کس قدر وسیع مسام ہوں گے۔(نمبر ۲۵) ان سوراخوں سے باہر کیوں نہیں آتے۔

ثانیاً اوپر کے اجزاء میں جو آفتاب سے حجاب ہیں ان کی جگہ اگلے اجزا ء رکے ہوئے ہیں جو مقابل شمس ہیں، پھر حرکت وضعیہ کیونکر ہوتی ہے۔

ثالثاً  آفتاب بھی تو اپنے محور پر گھومتا ہے وہ کس نور و حرارت کی طلب کو ہے۔ بالجملہ یہ وجہ بے ہودہ ہے بلکہ اصول ہیأت جدیدہ پر اس کی وجہ ہم بیان کریں۔

اقول: اس کا سبب بھی جاذبہ ( عہ۱) ونافرہ ہے جذب قُرب و بعد سے مختلف ہوتا ہے ولہذا خط عمود پر سب سے زیادہ ہے کلیت سیارہ مثلاً ارض کے لیے جاذب سے تنفر کا جواب مدار پر جانے سے ہوگیا مگر اب بھی اس کے اجزاء پر جذب مختلف ہے خاص وہ اجزا کہ مقابل شمس ہیں ان پر جذب اقویٰ ہے اور ان میں بھی جو بالخصوص زیر عمود ہے پھر جتنا قریب ہے۔(نمبر۱۰) یہ اجزاء اس سے بچنے کے لیے مقابلہ سے ہٹتے اور بالضرورت اپنے اگلے اجزاء کو اپنے لیے جگہ خالی کرنے کو دفع کرتے ہیں وہ اپنے اگلوں کو وہ اپنے اگلوں کو یوں محور پر دورہ پیدا ہوتا ہے اب جو اجزاء پہلے اجزا سے مقابلہ کے پیچھے تھے مقابل آئے اب یہ مقابلہ سے بچنے کو اپنے اگلوں کو ہٹاتے ہیں اور وہی سلسلہ چلتا ہے یوں دورہ پر دورہ مستمر رہتا ہے۔ اگر کہئے زمین بوجہ کثرت بعد وقلت حجم آفتاب کے آگے گویا ایک نقطہ ہے ولہذا آفتاب کا اختلاف منظر ۹ ثانیے بھی نہیں تو اس کے اجزا پر مقابلہ وہ حجاب کا اختلاف نہ ہوگا بلکہ گویا سب مقابل ہیں۔
عہ۱: یہ وجہ شمس کو بھی شامل ہے کہ وہ بھی اور سیاروں کے جذب سے بچنے کو اپنے محور پر گھومتا ہے۔ جغ ص ۱۲۱ ، ۱۲ منہ غفرلہ
Flag Counter