| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۲۶) آسمان کچھ نہیں فضائے خالی نامحدود و غیر متناہی ہے ایک پتھر (عہ۱)کہ پھینکا جائے اگر جذب زمین و مزاحمت ہوا وغیرہ نہ روکیں تو ہمیشہ یکساں رفتار سے چلا جائے کبھی نہ ٹھہرے زمین (عہ۲)کو کششِ آفتاب حائل نہ ہوتی تو ہمیشہ مساوی حرکت سے سیدھی ایک طرف چلی جاتی۔ یہ ان کی خام خیالیاں ہیں ۔ آسمان پر ایمان ہر آسمانی کتاب ماننے والے پر لازم ، اور بعد موجود قطعاً محدود لا متناہی ابعاد دلائل قاطعہ سے مردود۔
عہ۱:ح ص ۲۴ وغیرہ ط ص ۱۷ ۔۱۲ عہ۲: ط ص ۵۶ ۔۱۲
(۲۷) اگلے (عہ۳) تو غلطی میں پڑ کر وجودِ فلک کے قائل ہوئے اور ہم پچھلے ( یعنی) ہیأت جدیدہ والے اگرچہ آسمان نہیں مانتے پھر بھی حسابی غلطیوں اور ہندسی خطاؤں کے رفع کے لیے ان تمام حرکات و دوائر کو اگلوں کی طرح ایک کرہ کے مقعر میں مانتے ہیں جو منتہائے نظر راصد پر ہے اور اس کا مرکز مرکزِ زمین ۔
عہ۳: ح ص ۴۶ اور اسی کا اشارہ ص ۲۳ میں ہے ۱۲۔
اقول : اولاً یہ اقرار غنیمت ہے کہ بے آسمانی کرہ مانے حساب میں غلطی اور ہندسی اعمال میں خطا پڑتی ہے مگر یہ منطق نرالی ہے کہ وہی غلط ہے جس کے ماننےسے غلطیاں رفع ہوتی ہیں۔
ثانیاً تمام عُقلا تو ان دوائر کو آسمانی کرہ کی محدب پر مانتے ہیں مگر یہ انہیں کیونکر راست آتا کہ فضائے نامحدود کا محدب کہاں ، لہذا مقعرلیا، اب اس کو بھی تجدید درکار ، وہ انتہائے نظر راصد سے لی۔ تحدید تو اب بھی نہ ہوئی۔ راصدوں کی نظریں مختلف ہیں ،سب سے تیز نظر کا لیا جائے تو آگے آلات ہیں اور ان کی قوتیں مختلف ہیں سب سے قوی قوت کا لیا جائے تو اس کی بھی حد نہیں روز نئے آلے ایجاد ہوتے ہیں نگاہ مجرد ہو یا مع آلہ اس کی اپنی انتہا اس سقفِ نیلی پر ہے جسے ہیات قدیمہ نہایت عالم نسیم کرہ بخار کہتی ہے اور جدیدہ ایک محض موہوم حد نظر اور حقیقت میں وہ اس آسمانِ دنیا یعنی فلک قمر کا مقعر ہے اس کے بعد روشن اجرام نہ ہوتے تو کچھ نظر نہ آتا اور روشن اجرام زاویہ بابصار بننے کے لائق بعد پر کتنے ہی دور لے جائیں نگاہ ان تک پہنچے گی تو واقعہ میں کوئی حد نہیں ہاں یہ کہے کہ کل جب تک یہ آلات نہ نکلے تھے جہاں تک نگاہ پہنچتی تھی اس بعد پر یہ مقعر و دائر بنتے تھے آلات بن کر ان سے زائد پر ہوئے اور جو آلہ قوی تر ایجاد ہوتا گیا یہ کرہ عالم اونچا ہوتا گیا اور آئندہ یوں ہی ہوتا رہے گا حد بندی کچھ نہیں کیونکہ حساب و ہندسہ کی غلطیاں رفع کرنے کو ایک غلط بات ماننا درکار ہے جیسی بھی ہو۔
ثالثاً سماوی کرہ واقعی خواہ فرضی بالطبع ایسا ہونا لازم کہ تحت حقیقی سے اس تک بعد ہر جانب سے برابر ہوا اس کے کوئی معنی نہیں کہ یہ مقعر ایک طرف زیادہ اونچا ہے دوسری طرف کم، تو اسے مرکز شمس پر لینا تھا کہ وہی تمہارے نزدیک تحت حقیقی ہے۔ ۲۴ مگر مجبوری سب کچھ کراتی ہے وہ حسابی وہ ہندسی غلطیاں یونہی رفع ہوتی ہیں کہ باتباعِ قد ما مرکز عالم مرکز زمین پر لیا جائے۔ رابعاً مرکز زمین ہو یا مرکز شمس یا کوئی ایک مرکز معین ہیات جدیدہ سب دوائر کو جن سے ہیات کانظام بنتا ہے ایک مرکز پر مان سکتی ہی نہیں جس کا بیان عنقریب آتا ہے اور بے ایک مرکز پر مانے ہیات کا نظام سب درہم و برہم ، غرض بیچارے ہیں مشکل میں، دو ائر اور ان کے مسائل سب قدماء سے سیکھے اور انہیں کی طرح اُن سے بحث چاہتے ہیں مگر جدید مذہب والا بننے کو اصولِ معکوس لیے اب نہ وہ بنتے ہیں نہ یہ چھوٹتے ہیں، سانپ کے منہ کی چھچوندر ہیں۔آسمان گما کر سورج تھما کر جاذبیت کے مثل ہاتھوں سیارے گھما کر چار طرف ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور بنتی کچھ نہیں۔ بعونہ تعالیٰ یہ سب بیان عیاں ہوجائے گا۔ وباﷲ التوفیق۔
(۲۸) زمین کے خطِ استوا کو جب مقعر سماوی تک لے جائیں تو ایک دائرہ عظیمہ پیدا ہوگا کہ کُرہ فلک کے دو حصے مساوی کردے۔ یہ خط اعتدال یا آسمانی خط استوا یعنی معدل النہار ہے دائرہ عظیمہ وہ دائرہ ہے کہ کرہ کے دو برابر حصے کردے۔ اقول: اتنی قدماء سے سیکھ کر ٹھیک کہی مگر ہیات جدیدہ ہر گز اسے ٹھیک نہ رکھے گی جس کا بیان بعونہ تعالیٰ عنقریب آتا ہے۔ حدائق نے اس میں ایک مہمل اضافہ کیا کہ منطقہ حرکت یومیہ زمین کو قاطع عالم فرض کرنے سے عالم علوی میں معدل النہار اور زمین پر خطِ استوا پیدا ہوتا ہے۔ اقول: خطِ استوا ہی تو وہ منطقہ ہے اسے قاطع عالم ماننے سے خود اس کا پیدا ہونا عجیب ہے۔
(۲۹) تمام مباحث ہیات کی امہات دوائر دو دائرے ہیں معدل النہار کہ گزرا ، دوسرا دائرۃ البروج اس کی تعیین ہیات جدیدہ کے اضطراب دیکھے، سیکھا اسے بھی قدما سے اور بے اس کے ہیات کے کام احکام چل نہیں سکتے ناچار ابحاث واحکام میں قدماء کی تقلید کی مگر بیخبرکہ ہیات جدیدہ کے غلط اصول ان کا تھل بیڑا نہ رکھیں گے نہ تمہیں دائرۃ البروج کی صحیح تعریف کرنے دیں گے اصول علم الہیات میں کہا زمین اپنے دورہ سالانہ گردشمس سے جو دائرہ عظیمہ بناتی ہے وہ دائرۃ البروج ہے اس کی سطح معدل پر ۲۳ درجے ۷ ۲ دقیقے کچھ ثانیے مائل ہے یہ بارہ برج مساوی پر تقسیم ہے جن میں چھ خط استوا سے شمال کو ہیں چھ جنوب کو ، ہر برج ۳۰ درجے حدائق میں کہا یہ دائرہ مدار زمین کو قاطع عالم فرض کرنے سے فضائے علوی میں حادث ہوتا ہے۔
اقول اولاً : یہ سب غلط ہے بلکہ مدارِ شمس(جسے یہ مدارِ زمین کہتے ہیں) مرکز عالم سے جدا مرکز پر واقع ہے تو اس کے قطر کا ایک نقطہ مرکز عالم سے غایت بعد پر ہے جسے اوج کہتے ہیں دوسرا غایت قرب پر جسے حضیض ، جن کی تصویر ۳۳ میں آتی ہے مرکز عالم پر اوج کی دوری سے دائرہ کھنچیں کہ منطقہ و ممثل ہے ۔ اس دائرے کو قاطع لین محدب فلک الافلاک پر اس کے موازی جو دائرہ بنا وہ دائرۃ البروج ہے جس کا مرکز مرکزِ عالم ہے ہمارے بیان کاحق او ران کے مزعوم کا باطل ہونا ابھی خود ان کے اقراروں سے کھلا جاتا ہے ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ثانیاً اس سے قطع نظر ہو تو طریق علمی سے مشابہ وہی ہے جو حدائق میں کہا نہ کہ نفس مدار کو دائرۃ البروج ماننا جس سے اوپر ڈیڑھ سو کے قریب مدار موجود ہیں او ر سب کی مبانیت اس سے لی جاتی ہے جو اسے مقعر سماوی سے اتنا نیچا لینے پر نہیں بن سکتی۔ ثالثاً مدار زمین تو بیضی مانتے ہو دائرۃ البروج دائرہ کیسے ہوا اور مجاز کا دامن تھامنا کام نہ دے کہ میل و عرض ہما کے مؤامرات علم مثلث کروی پر مبنی اور وہ دوائر تامہ ہی میں جاری۔
(۳۰) معدل النہاردوائرۃ البروج کا تقاطع تناصف پر ہے یعنی نقطتین اعتدال سے دونوں کی تصنیف کروی ہے، ہیات جدیدہ میں بھی جتنے کرے بنتے ہیں سماوی خواہ ارضی جن کو گلوب کہتے ہیں سب میں دیکھ لو دونوں دائرے متناصف ملیں گے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس سے ہر بچہ آگاہ ہے جس نے قدیمہ خواہ جدیدہ کسی ہیات کے دروازے میں پہلا قدم رکھا ہو۔ نیز ابھی نمبر ۲۹ میں اصول علم الہیات سے گزرا کہ ایک نقطہ اعتدال سے دوسرے تک دائرۃ البروج کے ۸۰ا درجے ہیں یہ اس کی تنصیف ہوئی اور اسی سے نمبر ۲۳ میں گزرا کہ خطِ استوا کے نصفین کی تحدید انہیں دو نقطہ اعتدال سے ہے، نیز اسی کے نمبر ۵۹ میں ہے کہ یہ دونوں عظیمے ایک دوسرے کو دو نقطہ متقابل پر قطع کرتے ہیں ظاہر ہے کہ دائرے پر متقابل نقطے وہی ہوتے ہیں جن میں نصف دور کا فصل ہو اور سب سے صاف تر ۱۵۷ میں کہا کہ دونوں نقطہ اعتدا ل میں مطالع یعنی معدل کی قوس ۱۸۰ درجے ہے پھر کہا یعنی دائرۃ البروج خط استواکو دو نقطہ متقابلہ پر قطع کرتا ہے جن میں فصل ۱۸۰ درجے ہے پھر کہایہ برہان ہے اس پر کہ دائرہ بروج دائرہ عظیمہ ہی ہے کہ سوا عظیمہ کے کوئی دائرہ خطِ استوا یعنی معدل کو اس طرح قطع نہیں کرسکتا غرض یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر ہیات جدیدہ و جملہ عقلائے عالم سب کا اتفاق ہے۔
اقول: اب اسے تین نتیجے بدیہی طور پر لازم : (ا) یہ دونوں دائرے متساوی ہیں۔ (ب) دونوں مرکز واحد پر ہیں۔ (ج) دونوں ایک کرے کے دائرہ عظیمہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے دائروں کا تناصف ممکن نہیں ورنہ جزو کل مساوی ہوجائیں دائرہ ا ح ء نے چھوٹے دائرہ اب ح کی نقطتین ا ح پر تنفصیف کی ا ح وصل کیا ضرور ہے کہ اب ح کے مرکز سے ہ پر گزرا اور اس کا قطر ہوا ، اب انہیں نقطوں پر دائرہ اح ء کی بھی تنصیف مانو تو اگر یہی ا ح اس کا بھی قطر ہو تو دونوں دائرے مساوی ہوگئے اور اگر اس کا قطر ح ط ہوا تو قوس ا ء ح بھی اس کی نصف ہوئی اور ح ء ط بھی بہرحال جزو کل برابر ہوگئے۔ یونہی دو مساوی دائروں کا مرکز مختلف ہو تو ان کا تنا صف محال۔
27_20_1.jpg
دائرہ ا ر ب کا مرکز ح ہے اور ا ح ب کا ء ، اور نقطتین اب پر تناصف ، اب وصل کیا ضرورۃ ہر ایک کا قطر ہوا کہ اس کے نصفین میں فاصل ہے تو قطعاً دونوں کے مرکز پر گزرا کہ ہ ہے تو ہر دائرے کے دو مرکز ہوگئے اور یہ محال ہے ورنہ جزو کل مساوی ہوں اور جب یہ دونوں عظیمے مساوی دائرے مرکز واحد پر ہیں تو یقیناً کرہ واحدہ کے عظام سے ہیں، بالجملہ یہ تینوں نتیجے متفق علیہ ہیں اور خود جملہ کرات ارضی و سماوی کہ اب تک ہیات جدیدہ میں بنتے ہیں ان کی صحت پر شاہد عادل۔
27_20_2.jpg
فوائد: (ا) سطح مستوی میں کبھی دو دائرے تناصف نہیں کرسکتے کہ اس کے لیے اتحاد مرکز لازم اور وہ اس کے متقاطع دائروں میں محال )اقلیدس ( عہ۱ ) مقالہ ۳ شکل ۵ ) ب ، دائرۃ البروج کی تعریف کہ حدائق میں کی باطل ہے کہ معدل سے مرکز بدل گیا۔ ج اصول الہیات کی تعریف اس سے باطل تر ہے کہ مرکز بھی مختلف اور دائرے بھی چھوٹے بڑے ، اور حق وہ ہے جو ہم نے کہا۔ ء جب ان کے مرکز مختلف تو دونوں عظیمے کیسے ہوسکتے ہیں کہ عظیمہ کا مرکز نفس مرکز کرہ ہونا لازم ( دیکھو مثلت کروی باب اول نمبر ۳) ہ حدائق نے سنی سنائی یا اسی ہوشیاری سے سب دوائر کو ایک مقعر مساوی پر لیا جس کا مرکز زمین ہے مگر بھلا کر تمہارے نزدیک تو وہ مدار زمین ہے یا مقعر فلک پر اس کا موازی ، بہرحال اس کا مرکز مرکز مدار زمین مرکز زمین ہونا کیسی صریح جنون کی بات ہے دائرۃ البروج کو اپنے مرکز پر رکھ کر مقعر سماوی پر لیا ہے تو نہ وہ عظیمہ ہوسکتا ہے نہ معدل النہار اس کا تنا صف ممکن ا ور اگر اسے مرکز زمین کی طرف منتقل کرلیا تو دائرہ ہی وہ نہ رہا، نہ اس کی جگہ وہ رہی، نہ اب اس جدید دائرے اور معدل کا غایت بعد کہ میل کلی کہلاتا ہے دائرۃ البروج کا میل ہوسکتا ہے غرض تمام نظام ہیات تہ و بالا ہے تقلیدی باتیں کہتے چلے گئے اور خبر نہیں کہ ان کے اصول کی شامت لگ گئی ۔
عہ۱: اقلیدس نے ایک شکل یہ رکھی چھٹی یہ کہ دو متماس دائروں کا ایک مرکز نہیں ہوسکتا اور ایک شق باقی رہی کہ دو متبائن غیر متوازی دائروں کا مرکز ایک ہو ممکن نہیں، مناسب یہ تھا کہ ایک شکل ان تینوں کو حاوی رکھی جاتی کہ دو غیر متوازی دائروں کا مرکز ایک ہونا ممکن خواہ متقاطع ہوں یا متماس کہ جب مرکز ایک ہے تو اس سے ہر دائرے تک ہر طرف بعد مساوی ہے اور مساویوں سے مساوی ساقط کرکے مساوی رہیں گے تو دونوں دائروں کا ہر طرف فصل مساوی ہوا تو متوازی ہوگئے اور فرض کئے تھے نامتوازی ۱۲ منہ غفرلہ ۔