| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۲۵) خلا ممکن بلکہ واقع ہے بذریعہ آلہ کسی ظرف یا مکان کو ہوا سے بالکل خالی کرلیتے ہیں۔ اقول: یہ ان کا مزعوم جا بجا ہے، آلہ ایئر پمپ کا ذکر نمبر ۱۸ میں گزرا، فلسفہ قدیمہ خلا کو محال مانتا ہے۔ ہمارے نزدیک وہ ممکن ہے مگر زرّا قات (عہ) وسّراقات وغیرہا کی شہادت سے عادۃً محال اور ہوا بہت متخلخل جسم ہے کیا دلیل ہے کہ بذریعہ آلہ بالکل نکل جاتی ہے جزو قلیل متخلخل ہو کر سارے مکان کو بھردیتا ہے جو بوجہ قلت قابلِ احساس نہیں ہوتا۔ نیوٹن (عہ۱) نے لکھا اگر زمین کو اتنا دباتے کہ مسام بالکل نہ رہتے تو انکی مساحت ایک انچ مکعب سے زیادہ نہ ہوتی جب یہ عظیم کرہ جس کی مساحت (عہ۲) دو کھرب انسٹھ ارب تینتالیس کروڑ چھیانوے لاکھ ساٹھ ہزار میل ہے دب کر ایک انچ رہ جاتا تو ہوا کہ اس سے کثافت میں ہزاروں درجے کم ہے کیا ایک تل بھر پھیل کر کروڑوں مکانوں کو نہ بھر سکے گی۔
عہ: زرّاقہ پچکاری، سرّاقہ نیچورا۔ اس کا تنگ منہ اور نیچے باریک سوراخ پانی بھر کر اوپر انگوٹھی سے دبالو پانی نیچی نہ گرے گا کہ ہوا کے جانے کی کوئی جگہ نہ ہوگی پانی گرے تو خلا لازم آئے، انگوٹھا اٹھا لو تو اب گرے گا کہ نیچے سے جتنا پانی نکلے گا اوپر سے اُتنی ہوا داخل ہوگی، ڈاٹ پچکاری کے نتھنے تک دبا کر پانی پر رکھ کر کھینچو پانی چڑھ آئے گا کہ ڈاٹ کے نکلنے سے جگہ خالی ہوگی اس خلا کو بھرے اور جب پانی بھر جائے اور ڈاٹ سے منہ بند ہو جھکانے سے پانی نہ گرے گا جیسے نیچوری سے نہ گرتا تھا کہ خلا نہ لازم آئے، مدت ہوئی میں ایک مشہور طبیب کے یہاں مدعو تھا گرمی کا موسم تھا حقّہ بھر کرآیا نَے خشک تھی دھواں نہ دیا میں نے اسے کہا تازہ کرو اب دھواں دینے لگا میں نے حکیم صاحب سے وجہ پوچھی کچھ نہ بتائی میں نے کہا جب نےَ خشک تھی مسام کھلے ہوئے تھے، پینے کے جذب سے جتنی ہوا نَے کے اندر سے منہ میں آتی اس کے قریب باہر کی ہوا مسام کے ذریعے سے نَے کے اندر آجاتی جگہ بھر جاتی اور دھوئیں تک جذب کا اثر نہ پہنچا تازہ کرنے سے مسام بند ہوگئے اندر کی ہوا پینے سے کھینچی اور باہر کی آنہ سکی لاجرم خلا بھرنے کو دھواں نے میں آیا ۱۲ منہ غفرلہ۔ عہ۱: ط ص ۲۱۔۱۲۔ عہ۲: ۔ص ۲۶۶ میں اس سے بھی زائد بتائی دو کھرب ساٹھ ارب اکسٹھ کروڑ تیس لاکھ میل مگر ہم نے مقررات جدیدہ پر حساب کیا تو اُسی قدر آئی ہم نے اپنے رسالہ الھنئی النمیر(ف) میں ذکر کیا ہے کہ لو قطر + ۴۹۷۱۴۹۹ء۰ = لومحیط ، اور اصول الہندسہ مقالہ ۷ شکل ۱۰ میں ہے کہ سطح قطر و محیط دائرہ عظیمہ سطح کرہ، اور اسی کی شکل ۱۴ میں ہے کہ سطح کرہ /۶ xقطر = مساحت جرم کرہ لہذا لوگا ر ثم مذکور سے ۶ کا لوگار ثم ۷۷۸۱۵۱۳ء۰کم کرکے سہ چند لوگار ثم قطر میں شامل کیا ۳ لو قطر + ۷۱۸۹۹۸۶ء ا = لو مساحت کرہ ہوا،تفتیش تازہ ترین زمین کا قطر معدل ۰۸۶ء۷۹۱۳ میل ہے۔ لو ۸۹۸۳۴۵۹ء ۳x۳=۶۹۵۰۳۷۷ء ۱۱+ ۷۱۸۹۹۸۶ء آ = ۴۱۴۰۳۶۳ء ۱۱ عدد ۲۵۹۴۳۹۶۶۰۰۰۰ وھوالمطلوب ۱۲ منہ غفرلہ ) ف: رسالہ الھنئی النمیر فی الماء المستدیر فتاوی رضویہ جلد ۲ مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور میں ہے۔ نوٹ : ہمارا یہ طریقہ مختصر ہے ۔ اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے رسالہ مذکور ہ میں بیان کیا کہ وہ لو قطر + ۸۹۵۰۸۹۹ء۱ = لو مساحت دائرہ پھر ۲/۳ مساحت دائرہ عظیمہ xقطر = مساحتِ کرہ اس لیے کہ اصول الہندسہ مقالہ ۴ شکل ۱۲۔ میں ثابت ہوا ہے کہ ربع مسطح قطر ومحیط = مساحت دائرہ ہے اور مقالہ بہ شکل ۱۰ میں ہے کہ مسطح قطرو محیط دائرہ عظیمہ= مساحت سطح کرہ تو سطح کرہ چار مثل سطح عظیمہ ہوئی اور اس کا مسدس xقطر =مطلوب ::۸۹۵۰۸۹۹ء ۱ میں ۲ کالو ۳۰۱۰۳۰۰ ء جمع اور ۳ کالو ۴۷۷۱۲۱۳ء ۰ تفریق کرہ خواہ ۴ کالو۔۶۰۲۰۶۰۰ء۰جمع اور ۶ کالو ۷۷۸۱۵۱۳ء۰ = تفریق کرو، بہرحال حاصل ۷۱۸۹۹۸۶ء ۱ ہے، ۲ لو قطرپہلے تھا اور ایک اب بڑھا لہذا ۳ لو قطر ہوا ۱۲ منہ غفرلہ۔
تنبیہ لطیف : اقول: اہل انصاف دیکھیں سردار ہیأت جدیدہ نیوٹن نے کیسی صریح خارج از عقل بات کہی کرہ زمین اگر دب کر ایک انچ مکعب رہ جائے تو۔ اولاً یہ سارا کُرہ کہ کھربوں میل میں پھیلا ہوا ہے صرف ایک لاکھ دس ہزار پانچ سو بانوے (۱۱۰۵۹۲)، ذروں کا مجموعہ ہو، ہر ذرہ بال کی نوک کے برابر اس لیے کہ گز اڑتالیس انگل ہے، ہر انگل ۶جو، ہر جو دم اسپ ترکی کے ۶ بال ، تو گز ۱۷۴۸ بال کی نوک ہے اسے ۳۶ پر تقسیم کیے سے انچ میں ۴۸ بال ہوئے تو زمین کہ صرف ایک انچ مکعب کے لائق ہے ۱۱۰۵۹۲ ذروں کا ہی مجموعہ ہوئی یہ کیسا کھلا باطل ہے، اتنے ذرے تو اب ایک انچ مکعب مٹی میں ہوں گے باقی کھربوں میل کا پھیلاؤ کدھر گیا ، یوں نہ ظاہر ہو تو ا یک خط میں دیکھ لیجئے جب کرہ زمین ایک انچ ہوتا اس کا قطر تقریباً سوا انچ ہوتا یعنی (عہ۱) ۲۴۰۷۰۰۹ء ا جس میں بال کی نوک کے برابر ذرے صرف ۵۵۳۶۴۵ء۵۹ ہوسکتے پورے ساٹھ سمجھئے، بس یہ کائنات قطر زمین کی ہوتی اور اب ایک انچ طول کی خاک میں گن لیجئے اتنے ذرے فی الحال موجود ہیں تو باقی ۸ ہزار میل کا خط کہاں سے بنا۔
عہ۱: اس لیے کہ بحکم تعکیس لو مساحت کرہ ۔۷۱۸۹۹۸۶/۳ء۱ = لوقطر یہاں مساحت ایک ہے نہ صفر۔ عدد مذکور=۲۸۱۰۰۱۴ء ۰ - ۳=۰۹۶۳۶۷۱۳ء ۰ عددش ۲۴۰۷۰۰۹ء۱ یعنی ایک انچ مع کسر مذکور کہ قریب ربع ہے ۔ فائدہ : اقول: یونہی کرہ جس مقدار میں ایک فرض کیا جائے گا اُس کا قطر تقریباً سوا یا ہوگا اور قطر جس مقدار میں ایک فرض کیا جائے کہ وہ اس سے ۱۳۱/ ۲۵۰ یعنی ۱۳/ ۲۵ ہوگا اور بالتدقیق ۵۲۳۵۹۸۹ء۰ کہ جب قطر ایک ہے اس کا لوگار ثم اور سہ چند لوگار ثم سب صفر ہوا تو لو مساحت کرہ صرف ۷۱۸۹۹۸۶ء ۱ رہا جس کا عدد وہی مذکور ہے اور اس ۱۳۴ سے مقدار قطر کی کرہ پر زیادت متوہم نہو کہ قطر میں اس مقدار قطر کی کرہ پر زیادت متوہم نہو کہ قطر میں اس مقدار کی پہلی قوت ہوگی اور کرے میں تیسری یہیں دیکھئے کہ قطر میں ۶۰ ذرے ہوئے یعنی ایک انچ میں ۴۸ اور کرے کی ایک انچ میں ۱۱۰۵۹۲ کہ ۴۸ کی مکعب ہے اس کی تصدیق یوں ہوسکتی ہے کہ سوا انچ قطر میں ذرے ۵۵۳۶۴۵ء۵۹لوگار ثم ۷۷۴۹۰۸۳ء ۱x۳=۵۱۳۲۴۷۲۴۹،+ ۷۱۸۹۹۸۶ء۱= ۵۲۰۴۳۷۲۳۵ = لو مساحت انچ مکعب اس کا عدد وہی ۱۱۰۵۹۲ عدد ذرات کرہ ۱۲ منہ غفرلہ۔
ثانیاً جب قطر میں ۶۰ ہی ذرے ہوئے اور وہ ہے ۱۲۰ درجے اور زمین کا درجہ قطریہ ۶۶ میل کے قریب ہے یعنی ۹۴۳۳ء۶۵ میل کے نصف قطر معدل ۵۴۳ء۳۹۵۶ میل ہے تو سبب اُس سمٹنے کے بعد پھیل کر حالت موجود ہ پر آتی ہر ذرہ دوسرے سے ۱۳۲ میل کے فاصلے پر ہوتا تو زمین محسوس ہی نہ ہوسکتی۔ ثالثاً اگر بفرض غلط یہ منزلوں کے فاصلے پر ایک ایک ذرہ دوسرے سے جدا نظر بھی آتا تو کوئی مجنون ہی اسے جسم واحد گمان کرتا۔ رابعاً زمین پر انسان حیوان کا بسنا چلنا درکنار ،کوئی مکان تعمیر ہونا محال ہو تا کہ ہرذرے کے بیچ میں ۱۳۲ میل کا خلاہے۔ خامساً اگر لو گ ہوا میں معلق بستے بھی تو امریکہ کے ہندوستان سے دکھائی دیتے اور ہندوستان کے امریکہ سے، اورشمس و قمر کو کواکب کا طلوع غروب سب باطل ہوتا کہ منزلوں کے خلا میں متفرق ذرے کیا حاجب ہوتے۔ یہ سب حالتیں زمین کی حالت موجودہ میں لازم ہیں کہ یہ وہی حالت تو ہے جو سمٹ کر پھیلنے کے بعد ہوتی ۔ سمٹنے سے اجزاء کم و بیش نہیں ہوجاتے تو اب بھی قطرِ زمین وہی ۶۰ ذرے بھرہے اور سارے کُرے میں کل جمع ۱۱۰۵۹۲ ذرّے اگر کہے اجزائے دیمقر اطیسیہ بال کی نوک سے چھوٹے ہیں تو وہ قطر میں ۶۰ نہیں بہت ہیں۔ اقول : ایسے کتنے بہت ہیں ایسے کتنے چھوٹے ہیں ذہنی تقسیم میں کلام نہیں جس پر کہیں روک نہیں ، ایک خشخاش کے دانہ پر دائرہ عظیمہ لے کر اس کے ۳۶۰ درجے ، ہر درجے کے ۶۰ دقیقے، ہر دقیقے کے ۶۰ ثانیے یوں ہی عاشرے اور عاشرے کے عاشرے تک جتنے چاہیے حساب کرلیجئے کیا یہ جس میں متمایز ہوسکتے ہیں۔ یہ فلک شمس جسے تم مدار زمین کہتے ہو جس کا محیط دائرہ ۵۸ کروڑ میل سے زائد ہے۔ ہم فصل اول میں ثابت کریں گے کہ اس کا عاشرہ ایک بال کی نوک کے سوا لاکھ حصوں سے ایک حصہ ہے۔ تقسیم حسی میں کلام ہے جس کا انتفااجزاء دیمقراطیسیہ میں لیا گیاہے اور شک نہیں کہ بال کی نوک کا پچاسواں حصہ بھی حساًجدانہیں ہوسکتا تو جز دیمقراطیسی زیادہ سے زیادہ ایک ذرے میں پچاس رکھ لیجئے۔ نہ سہی ہر بال کی نوک میں ۱۳۲ فرض کیجئے اب تو کوئی گلہ نہ رہا اور کاسے میں آش بدستور، جب ہر ذرہ دوسرے سے ۱۳۲ میل کے فاصلے پر تھا اب ہر جز دوسرے سے میل میل بھر کے فاصلے پر ہوا ، اب کیا اس کا قطر بال کی ۶۰ نوک سے بڑھ جاتا ہے ، ایک نوک کے حصے کتنے ہی ٹھہرالو اب کیا زمین محسوس ہوسکتی ۔ اب کیا جسم و احد سمجھی جاتی، اب کیا اس پر کھڑا ہونا یا مکان ممکن ہوجاتا اب کیا ادھر کی آبادی ادھر نظر نہ آتی۔ اب کیا چاند سورج یا کوئی تارا غروب کرسکتا ، ہر دو جز میں ایک میل کا فاصلہ کیا کم ہے، ملاحظہ ہو یہ ہیں ان کی تحقیقاتِ جدیدہ اور یہ ہیں ان کے اتباع کی خوش اعتقادیاں کہ متبوع کیسی ہی بے عقلی کا ہذیان لکھ جائے یہ اٰمنّا کہنے کو موجود ۔ اخیر میں پہلی گزارش تو یہ ہے کہ صحت کی تمامتر کوشش کے باوجود۔