| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۲۳) میل کلی ہمیشہ کم ہوتا جاتا ہے زمانہ اقلیدس میں ۲۴ درجے تھا اس لیے اس نے مقالہ رابعہ میں دائرے میں ۱۵ ضلع کی شکل بنانے کا طریقہ لکھا اور اب ۲۳ درجے ۲۷ دقیقے ہے اس کی وجہ (عہ۱) بھی وہی بتائی کہ آفتاب خط استواء کے چھلے کو منطقہ کی طرف کھینچتا ہی اصول الہیأۃ میں اس پر یہ طرہ بڑھایا کہ نصف چھلے کو جو آفتاب سے قریب ہے منطقہ سے نزدیک ہوتا ہے اور دوسرے نصف کو دور مگر اس کی دوری اس کی نزدیکی سے کم ہے لہذا قرب ہی بڑھتا ہے اور پھر گھٹے گا بھی ان نصفوں میں فاصل وہ خط ہے کہ دونوں نقطہ اعتدال میں واصل ہے وہ اس دوری کا محور ہے۔(عہ۲)
عہ۱: ص ۱۸۶ و ص ۱۹۰ نیز ح ص ۱۷۶۔ عہ۲: ص ۱۵۸۔ ۱۲۔
اقول اولاً جب دو عظیمے مثلاً ا ر ب، ا ح ب متقاطع ہوں اوراُن کا تقاطع نہ ہوگا مگر نصف پر ہر نصف منتصف پر، ان میں غایت بعد ہوگا جسے میل کلی و بعدِ اعظم کہتے ہیں جیسے (ح ء، ہ ر) اور یہ قوس اس زاویہ (ا یا ب) کا قیاس ہوگی اور بداہۃً دونوں زاویے ا ح ء ، ہ ا ر متساوی ہیں تو وجوباً ح ء ، ہ ر دونوں قوسین برابر ہیں تو محال ہے کہ ایک نصف مثلاً ا ح ب کو اء ب سے قریب کرے اور دوسرے نصف ا ہ ب کو ا ر ب سے بعید بلکہ جتنا ایک ادھر کے نصف سے قریب ہوگا وجوباً اُتنا ہی دوسرا نصف دوسرے نصف سے قریب تر ہوجائے گا ورنہ دائرے کے دو ٹکڑے ہوجائیں گے۔
27_18_2.jpg
ثانیاً اس قریب و بعید کرنے میں تفاوت کے کیا معنے! ثالثاً چھلے کے دونوں نصف ہر روز آفتاب سے قُرب و بعد بدلتے ہیں دن کو جو نصف قریب ہے شب کو بعید ہوگا وبالعکس تو دن کا عمل رات میں باطل، رات کا عمل دن میں زائل، اور سال بسال میل کی کمی غیر حاصل۔ رابعاً کیا دلیل ہے کہ عمل کبوء یک زمانے کے بعد منعکس ہوگا اور میل کہ گھٹتا جاتا ہے ، پھر بڑھنے لگے گا یا جو منہ پر آیا دعویٰ کر ڈالا یہاں تک کہ لکھ دیا کہ ابدالآباد تک یونہی کبھی گھٹتا کبھی بڑھتا رہے گا۔ خامساً کبؤ مبادرت دونوں متلازم اور ایک علت کے معاذل ہیں جب کبوء منعکس ہوگا اور میل بڑھے گا ضرور خطِ استوا منطقہ سے دور ہوتا جائے گا اور تقاطع غرب سے شرق کو آئے گا کبھی ایسا سنا یا قدیم و جدید میں کسی کا ایسا زعم ہوا یا تحکمات بے سروپا ہی کا نام تحقیق جدید ہے۔ (۲۴) مرکز شمس تحت حقیقی ہے جو اس سے قریب ہے نیچے ہے اور بعید اوپر۔
اقول: یہ مضمون ہیاتِ جدیدہ سے بوجوہ ثابت: اولاً صاف تصریح کہ شمس(عہ۱) ہی ثقیل حقیقی ہے باقی سب اضافی، ہر ایک بقدر اپنے ثقل کے مرکز شمس سے قُرب چاہتا ہے اور اس سے زیادہ قرُب سے بھاگتا ہے مع اس اقرار (عہ۲)کے ثقل کا کام جانب زیریں کھینچنا ہے تو روشن ہوا کہ مرکز شمس ہی تحت حقیقی ہے۔
عہ۱: ح ص ۲۹۔ ۱۲ عہ۲: ح ص ۳۴
ثانیاً ہماری طرف یہ بھی زہرہ و عطارد کو سفلیین اور مریخ و مافوقہ کو علویات کہتے ہیں ہمارے طور پر تو اس کی وجہ صحیح و ظاہر ہے کہ مرکز زمین تحت حقیقی ہے زہرہ عطارد اُس سے قریب ہیں اگر چہ اپنے بعد ابعد پر ہوں اور مریخ ومافوقہ بعید اگرچہ بعد اقرب پر ہوں لیکن ان کے طور پر یہ نہیں بنتی کہ ہیات جدیدہ کے زعم میں بارہا مریخ زمین سے قریب اور زہرہ و عطارد دور ہوتے ہیں زیجات سنویہ یعنی المکنون میں دیکھئے گا کہ جا بجا کتنے کتنے دن زمین سے بعد مریخ کے لوگار ثم میں عدد صحیح ۹ ہے کہ کسر محض ہوئی اور زہرہ و عطارد میں صفر کہ احاد صحاح کا مرتبہ ہوا۔سب میں زیادہ تفاوت کا مقام وہ ہے کہ دونوں شمس کے ساتھ قران اعلیٰ میں ہوں اور مریخ مقابلے میں اس صورت پر ظاہر ہے کہ اس وقت مریخ زمین سے قریب ہوگا اور زہرہ و عطارد دور ہیات جدیدہ نے اس وقت زمین سے عطارد کا بعد اعظم ۱۳۵۶۳۱۰۴۹ تیرہ کروڑ میل سے زائد اور زہرہ کا ۱۵۹۵۵۱۴۳۶ سولہ کروڑ میل کے قریب اور مریخ کا بعد اقل ۲۶۳۸۸۹۸۵ کہ پونے تین کروڑ میل بھی نہیں تو اگر مرکز زمین تحت حقیقی ہو تو لازم کہ بارہا مریخ نیچا اور زہرہ و عطارد اوپر ہوں، حالانکہ ایسا نہیں ، لاجرم مرکز شمس کو تحت حقیقی لیا کہ زہرہ وعطارد و ہمیشہ اس سے قریب ہیں اور مریخ بعید۔
27_19.jpg
ثالثاً صاف تصریح (عہ۳) ہے کہ زہرہ و عطارد کا مدار مدارِ زمین کے اندر ہونے کے سبب ان کو سفلین کہتے ہیں اور مریخ وغیرہ کا مدار مدارِ ارض سے باہر ہونے کے باعث اُن کو علویات ، ظاہر ہے کہ یہ علو و سفل اضافی ہیں یعنی زہرہ و عطارد کا مدار اندر ہونے کے سبب تحت حقیقی سے بہ نسبت مدارارض نزدیک تر ہے اور مریخ وغیرہ کا دور تر کھل گیا کہ اُن کے نزدیک مرکز شمس ہی تحت حقیقی ہے یہ ہیأتِ جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ تمام عقلائے عالم کے خلاف اس نمبر کا پورا مزہ فصل سوم میں کھلے گا ان شاء اﷲ تعالیٰ۔
عہ۳: ص ۲۷۴ ح ص ۹۶ ۔ ۱۲