Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
70 - 212
اقول: اسے ہم اپنے طریقے پر توضیح کریں اگرچہ دو نصف بالائے افق و زیر افق کے اعتبار سے مشرق و مغرب کی تعبیر بدلتی ہے۔ہمارا مشرق امریکہ کا مغرب ہے اور ہمارا مغرب اس کا مشرق ، مگر توالی بروج متبدل نہیں اور وہ ہر جگہ مشرق سے مغرب کو ہے ، حمل جہاں ہو ثور اس سے مشرق میں ہے ۔ کہ اس کے بعد طالع وغارب ہوگا اور حوت مغرب میں کہ پہلے یونہی ہر جگہ میزان سے عقرب شرقی اور سنبلہ غربی تو جو چیز توالی بروج پر انتقال کرے مثلاً حمل سے ثور میں آئے یا راس الحمل سے حمل کے دوسرے درجے میں وہ مغرب سے مشرق کو جاتی ہے اور جو چیز خلاف توالی محترک ہومثلاً حمل سے حوت کے ۳۰ سے ۲۹ میں و ہ مشرق سے مغرب کو چلتی ہے اس شکل میں اگر (۱) مشرق پر راس الحمل ہے تو ضرور (اط ح ر) ا لخ حوت، دلو، جدی الخ ہیں خواہ ا ر قوس بالائے افق ہو کہ یہ اس سے پہلے طلوع کرتے ہیں یا قوس زیر اُفق کہ اب ا کہ ادھر کا مشرق ہی ہمارا مغرب ہے اور حوت دلو جدی الخ اس سے پہلے غروب کرتے ہیں اور اگر مشرق پر راس المیزان ہے تو ضرور بوجہ مذکوردونوں صورتوں میں (اط ح ر ) الخ سنبلہ اسد سرطان الخ ہیں  اب کہ  ا کی جگہ ط نقطہ تقاطع ہوا۔ پہلے صورت میں راس الحمل اپنی جگہ سے ہٹ کر حوت سابق کا کوئی حصہ راس الحمل ٹھہرا اور دوسری صورت میں راس المیزن ہٹ کر سنبلہ سابقہ کا کوئی نقطہ راس المیزان ہوا بہرحال نقطہ اعتدال خلاف توالی پر بڑھا تو مغرب کو ہٹا۔ وھو المقصود۔

تم سمجھے کہ یوں جاذبیت کے ہاتھوں مبادرت بن گئی اب رد سُنیے:
فاقول: اولاً ایک سہل سوال تو پہلے یہی ہے کہ شمس کا جذب صرف خط عمود پر نہیں بلکہ تمام اجزائے مقابلہ پر ہے اگرچہ موقع عمود پر زائد، اور ظاہر ہے کہ چھلے کے اجزاء اگرچہ ایک سمت میں نہیں کہ قوس کے ٹکڑے ہیں مگر انکی سمتیں قوس انتظام میں منتظم ہیں ان پر جذب کے جو خطوط  آئیں گے ان کی سمتوں کا اختلاف اور رنگ کا ہوگا اور مختلف زاویے بناتے آئیں گے ہر جز اپنے زاویے کے بیچ میں نکلے گا جو قوسی انتظام میں منتظم نہیں تو کیا وجہ کہ اجزاء متفرق نہ ہوجائیں اس کا ثبوت تمہارے ذمہ ہے کہ ان کا نکلنا ایسے ہی تناسب پر ہوگا کہ چھلا بدستوار برقرار رہے۔

ثانیاً  جب عمود و منحرف کا بھی فرق اور قرب بھی مختلف ، لاجرم جذب مختلف تونافریت مختلف تو چال مختلف تو اجزاء متفرق اور چھلا منتشر۔

ثالثاً وسط کے جز پر سب سے زیادہ جذب ہے اور دونوں پہلوؤں پر بتدریج متناقص تو واجب کہ چھلے کا جزء ، اوسط سب سے زیادہ اپنے محل سابق سے تجاوز کرے اور دونوں طرف کے اجزاء اخیر تک بترتیب کم تو موضع تقاطع کے دونوں جز اپنے محل سابق سے بہت کم ہٹے ہوں اور باقی کا بعد بڑھتا جائے یہاں تک کہ جز اوسط سب سے زیادہ اپنی پہلی جگہ سے دور ہوجائے مگر یہاں یہ ناممکن بلکہ اس کا عکس واجب کہ جب دونوں دائروں کا نقطہ تقاطع پیچھے ہٹا ہے تو خط استوا کی اب جو وضع ہوگی وہ پہلی وضع سے قطعاً وسط میں متقاطع ہوگی۔
مثلاً  ا ر اس الحمل ب راس المیزان تھا اب راس الحمل ح پر ہوا تو واجب کہ راس المیزان ء  پر ہو ح ء کو وصل کرنے والی قوس یقیناً قوس سابق ا ب سے وسط میں تقاطع کرے گی تو ثابت کہ محل تقاطع کے اجزاء اپنی جگہ سے بہت زیادہ ہٹے اور پھر بعد گھٹتا گیا، یہاں تک کہ وسط پر اصلاً نہ رہا بالکل اس کا عکس جو جاذبیت کا متقضیٰ تھا تو جاذبیت سے مبادرت ماننا جہل محض ہے۔
27_17_1.jpg
رابعاً جذب نیرین کا اثر ہمیشہ متوافق ماننا جز اف ہے بلکہ کبھی متوافق ہوگا جیسے اجتماع میں اور اس وقت مبادرت بہت سریع ہونا چاہیے کہ دسویں حصے ایک طرف کھینچ رہے ہیں اور کبھی متخالف ہوگا کبھی متعارض، جیسے اس شکل میں اب منطقہ (اح)، خط استواء شمس ر قمر نقطہ (ۃ) خط (اہ) پر جانا چاہتا ہے اور شمس اسے ء ہ پر کھینچتا ہے تو اس کا مقتضی خط ہ ح  پر جانا ہوگا اور قمر (رہ) پرکشش کرتا ہے اس کا مقتضیٰ خط (ہ ط) پر جانا ہوگا۔ اب اگر بعد قمر سے کمی جذب اس نسبت ۷/ ۳ سے جو ان کے جذبوں میں ہے زائد ہے قمر کا اثر ضعیف ہوگا کم ہے شمس کا اثر سست ہوگا برابر ہے تو دونوں اثر مساوی ہوں گے بہرحال اس پر تین مختلف اثر ہیں بحال تعارض اگر جذب نیرین ساقط ہو سیدھا ا ہ پر جائے گا مبادرت ہوگی ہی نہیں بحال تخالف اگر سست معتدبہ نہ رہے اگر وہ اثرِ شمس ہے (ہ ط) پر جائے ا ور اثر قمر تو (ہ ح) پر ورنہ ان تینوں کے سوا چوتھا خط نکالے گا بہر طور مبادرت کی چال ہر گز منتظم نہ ہوگی حالانکہ باتفاق ارصاد منتظم ہے۔
27_17_2.jpg
 خامساً جاذبیت دیگر سیارات کا مبادرت کو گھٹانا یونہی ہوسکتا ہے کہ نیرین اعتدالین کو جانبِ غرب بڑھاتے اور یہ جانب شرق پھینکتے یا مطلقاً حرکت سے روکتے ہوں، ثانی تو بداہۃً باطل کو روکنا کا رجاذبیت نہیں اور اوّل یعنی تقاطع کا کسی ایسے نقطہ منطقہ پر لے جانا جو پہلے نقطے سے مشرق کو ہو اسی حالت میں متصور کہ وہ نصف شمالی میں خط استوا سے جنوب کو ہوں یا نصف جنوبی میں شمال کو کہ اس صورت میں سیارہ ء  معدل کے نقطہ (ہ) کو اپنی طرف کھینچے گا اور وہ (ا) کی طرف جانا چاہے گا اور خط (ہ ح) پر نکل کر منطقہ سے دور ہوگا اور (ا) کے بدلے ر پر تقاطع ہوگا جو ہمارے بیان سابق کے مطابق توالی بروج پر ا  کے آگے اور اس سے شرقی ہے سیارات میں ایسا نہیں نصف شمالی میں ان کا میل شمالی اور جنوبی میں جنوبی ہوتا ہے اور برعکس بھی ہو تو نادر تو اکثر اوقات سیارات اس میں نیرین کے موافق ہی ہوں گے نہ کہ صد نقطہ خط استوا کے آگے بڑھنے میں کچھ رکاوٹ پیدا کرنا مبادرت کو غربی سے شرقی کرنا نہ چاہے گا کہ وہ منطقہ سے قریب ہوتا ہوا جتنا بھی بڑھے بہرحال مبادرت غربیہ ہوگی۔
27_17_3.jpg
سادساً فرض کیجئے کہ یہ نادر نہیں تو ہمیشہ کے لیے ہمیشہ عکس ہی لازم کہ نصف شمالی میں اُن کا میل دائما جنوبی ہو، اور جنوبی میں دائماً شمالی، اور یہ قطعاً باطل۔

سابعاً قرب قمر سے اس کی جاذبیت اقویٰ ہونے کا رَد ابحاث مَد کی وجہ چہارم میں گزرا۔

ثامناً مدارین پر عمل اقویٰ ہونا عجیب ہے یعنی غایت بعد پر جذب اقویٰ اور جتنا قرب ہوتا جائے اضعف۔

تاسعاً حلقہ استوائی کا بوجہ ارتفاع اقرب ماننا بھی عجیب ہے ایسا کتنا فرق ارتفاع ہے قطب سے خط استوا تک تقریباً (عہ۱)۱۳ ہی میل کا تو فرق ہے اور مدار سے خطِ استوا تک ۳ ۲ درجے ۲۷ دقیقے ہیں کہ ۲ کروڑ ۳ ۸ لاکھ میل سے زیادہ ہوئے شمس جب مدارین میں ہوگا قریب کے مداروں کو کھینچے گا یا پونے تین کروڑ میل سے زائد بیچ میں چھوڑ کر صرف ۱۳ میل بلندی کو جا پکڑے گا۔
عہ۱: ص ۱۱۲ ۔۱۲ وغیرہ
عاشراً اب واجب ہے کہ جب شمس مدار صیفی میں ہو تمام مدارات کہ اُس سے جانب جنوب ہیں شمالی ہوں خواہ جنوبی مع خطِ استوا سب کو جانبِ شمال کھینچے اور باقی تمام مدارات یعنی قطب شمالی تک انکے موازی دائروں کو جانب جنوب ، یوں ہی جس مدار پر منتقل ہو اسے چھوڑ کر اس سے شمالیوں کو جنوب اور جنوبیوں کو شمال کو طرف جذب کرے یہاں تک کہ خط استوا پرآئے اب اسے چھوڑ کر تمام شمالیات کو جنوب اور جمیع جنوبیات کو شمال کی طرف لائے جب اس سے جنوب کو چلے سب شمالیات و خط استوا کو جانب جنوب کشش کرے باقی کو جانب شمال غرض نہ خط استوا بلکہ زمین کا ہر چھلا اس کے موازی ہے جانب شمس کھینچے مدار صیفی سے باہر جتنے چھلے ہیں سب ہمیشہ جنوب کو بڑھیں اور مدار شتوی سے جتنے باہر ہیں سب ہمیشہ شمال کو تو زمین قطبین پر سے روز بروز خالی ہوتی جائے اور مدارین کے اندر چھلے ہیں وہ ہمیشہ برودمات میں رہیں کبھی جنوب کو ہٹیں کبھی شمال کو، دیکھو کیا اچھی مبادرت اعتدالین بنی۔
حادی عشر خط استوا پر فعل باطل ہونے کے کیا معنی ، اب منطقہ کی طرف نہ کھینچے اپنی طرف تو کھینچے گا تو لازم کہ تقاطع کا نقطہ تقاطع چھوڑ کر نہ صرف آگے بڑھے بلکہ اونچا ہوجائے۔

ثانی عشر یہ اپنی طرف کھینچتا خطِ استوا ہی پر نہیں بلکہ ہر مدار پر ہوگا دن کو ادھر کے نقطے کو اونچا کرے گا رات کو ادھر کے نقطے کو تو لازم کہ مابین المدارین زمین بہت اونچی ہوجاتی اور قطر استوائی پر سال زیادہ ہوتا جاتا اور شکل زمین بمرورِ زماں یہ ہوتی۔
27_18_1.jpg
یہ ہے تمہاری جاذبیت اور اس کے ہاتھوں نظم مبادرت۔
Flag Counter