(۱۸) ہوا ( عہ۵ ) ، پانی، مٹی سب مل کر ایک کرہ زمین ہے، یہ سب ثقیل ہیں ، ہوا روئے زمین سے ۴۵ میل بلندی تک ہے اور اتنی بھاری( عہ۶) ہے کہ ایک انچ مربع جگہ پر اس کا بوجھ ۱۵ پونڈ ہے ہر میانہ( عہ۷) قد آدمی پر ۳۹۲ من کے قریب بوجھ ہے یہاں سے صرف ۳۷ میل بلندی تک ہوا ( عہ۸) کا وزن ۰۰۰،۰۰۰،۰۰۰،۱۴۴۹۸۴۰۰۰ من ہے یہ ہیات جدیدہ کے تخیلات ہیں ہمارے نزدیک عنصر چار ہیں نارو ہوا خفیف و طالب علم اور آب و خاک ثقیل وطالب سفل ، ہیأت جدیدہ نے ثقل( عہ۹ ) ہوا پر یہ دلیل پیش کی کہ بوتل کو تو لو پھر بذریعہ آلہ اسے ہوا سے خالی کرکے تولو۔ اب ہلکی ہوگی چھ انچ مکسر بوتل کا وزن ہوانکال کر تولنے سے دو گرین ہے معتدل کی قید اس لیے کہ زیادہ گرمی سے ہوا رقیق ہو کر وزن گھٹ جائے گا۔
اقول: بلکہ تمہاری نافہمی، یہ ہوا کا وزن نہیں زمین سے قریب ہوا میں اجزائے ارضیہ اجزائے بخاریہ و اجزائے دخانیہ وغیرہا مخلوط ہیں ان کا وزن ہے یہ تو ان کی دلیل کا ابطال ہوا۔ دعوے کی ابطال کی کیا ضرورت ہر شخص اپنے وجدان سے جانتا ہے کہ اسے اپنے سر پر ماشہ بھر بھی بوجھ نہیں معلوم ہوتا نہ کہ ۳۹۲ من ، انسان تو انسان ہاتھی کی بھی جان نہ تھی کہ اتنا بوجھ سہارے اور سہارنا کیسا محسوس تک نہ ہو، اس کے دو جواب( عہ۱) دیتے ہیں اول یہ کہ آدمی کے اندر بھی ہوا ہے باہر کی ہوا انسان کو دباتی اور اندر کی ہوا ابھارتی ہے یوں مساوات رہتی ہے اور بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ باہر کی ہوا نہ ہوتی تو اندر کی جسم کو چاک کرکے نکل جاتی، بیرونی ہوا کے دباؤ میں ضرر کی جگہ نفع دیا۔
اقول: اولاً کہاں یہ جوفِ بشر کی دو چار ماشے ہوا اور کہاں وہ ۳۹۲ من پختہ کا انبار کچھ بھی عقل کی کہتے ہو، زمین کی نافریت اپنے تیرہ لاکھ گناہ آفتاب کی جاذبیت پر غالب آتی ہے۔ سب سیارے مل کر کہ چاند سے کروڑوں حصے زیادہ قوی ہوئے اسے کھینچتے ہیں اور وہ نہیں سرکتا ۔ چاند کا جذب ( عہ۲) اپنے سے مہاسنکھوں زائد جذب زمین پر غالب آکر پانی بلکہ خود سارے کُرہ زمین کو کھینچ لے جاتا ہے، دو ماشے ہوا چار سو من ہوا کا بوجھ برابر کرتی ہے کوئی بات بھی ٹھکانی کی ہے۔
عہ۱: ط ص ۱۳۲ ۔۱۲ عہ۲: ان سب کابیان فصل دوم میں آتا ہے۔ ۱۲ منہ غفر لہ
ثانیاً وہ اپنی بوتل کہاں بھلائی، جب ہوا سے خالی کر اندر کا اُبھار گیا اور اوپر سے منوں کا بوجھ، بوتل ٹوٹ کیوں نہ گئی ، تمہارے تولنے کو کیوں باقی رہی۔
ثالثاً اندر کی ہوا کیا بیرونی ہوا کی غیر جنس ہے اس میں دبانا اس میں اُبھارنا کیوں ہے۔
رابعاً جب ہوا ثقیل ہے اندر کی بھی ثقیل ہے بلکہ آمیزش رطوبات سے ثقیل تر، ثقیل اپنے سے ہلکے کو ابھارتا ہے جسم انسانی ہوا سے کہیں بھاری ہے اسے ابھارنا کیا معنی ! واجب تھا کہ اندر کی ہوا بھی جذب زمین سے متاثر ہو کر نیچے کو دباتی مگر اقرار کرتے ہو کہ اوپر کو ابھارتی ہے تو معلوم ہوا کہ جذبِ زمین بھی باطل اور ہوا کا ثقل بھی باطل، بلکہ وہ خفیف و طالب علو ہے۔
دوم یہ کہ ہوا کا یہ بوجھ اجزائے جسم پر مساوی تقسیم ہے لہذا محسوس نہیں ہوتا۔
اقول: اولاً یہ عجیب منطق ہے کہ ایک طرف سے دباؤ تو بوجھ معلوم ہو اور سب طرف سے صد ہاان کے دباؤ میں پیسو تو رتی بھر بھی محسوس نہ ہو، ایک گولر کو صرف اوپر سے ہتھیلی رکھ کر دباؤ تو وہ پچک جائے گا اور مٹھی میں لے کر چاروں طرف سے دباؤ تو سرمہ ہوجائے گا۔
ثانیاً مساوی تقسیم بھی غلط ہم نے اپنے محاسبات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ ہوا جسے کرہ بخار و عالم نسیم کہتے ہیں اس کا دل سر کی جانب صرف ۴۵ میل اور دہنے بائیں آگے پیچھے چھ سو میل کے قریب ہے تو ایک طرف سے اگر ۳۹۲ من بوجھ ہے اور اطراف سے ۵۲۲۷ من ہے پھر مساوات کہاں۔
ثالثاً سب اجزائے جسم پر تقسیم بھی غلط کھڑے ہونے میں تلووں پر ہوا کا کیا بوجھ ہے اور لیٹنے میں ایک جانب سر سے پاؤں تک کچھ نہیں۔
رابعاً بالفرض سہی تو ایک انسان کے سر کی سطح بالا کہ نیم سطح بیضی کے قریب ہے کم و بیش اسی انچ ہے اور تمہارے نزدیک ایک انچ کی سطح پر ہوا کا بوجھ ۰۷ / سیر تو صرف سر پر ۱۵ من بوجھ ہوا یہ تو اور اجزاء پر تقسیم نہیں، کیا انسان کا سر ۱۵ من بوجھ اٹھا سکتا ہے، کیا وہ پس کر سرمہ نہ ہوجائے گا نہ کہ اصلاٍ محسوس تک ہو۔ اس جواب دوم کو پانی کی مثال سے واضح ( عہ۱) کیا جاتا ہے کہ دیکھو دریا میں غوطہ لگاؤ تو صد ہا من پانی اوپر ہے مگر بوجھ نہ معلوم ہوگا اس کی وہی وجہ ہے کہ سب طرف سے دباؤ مساوی تقسیم ہے۔
عہ۱: ص ۱۳۲ ۔۱۲
اقول: : ہزار ہاتھ گہرے کنویں میں غوطہ لگا کر تہہ تک پہنچے جب بھی بوجھ محسوس نہ ہوگا حالانکہ سارا پانی سر ہی پر ہے کروٹوں پر صرف بالشت دو بالشت پاؤں پر کچھ نہیں تو وجہ یہ نہیں بلکہ وہ جس کی طرف ابھی ہم نے اشارہ کیا کہ ثقیل اپنے حیز میں اپنے سے ہلکے کو ابھارتا ہے جس ( عہ۲) کا خود ہیات جدیدہ کو اعتراف ہے ولہذا غوطہ خور کو نیچے جانے میں پانی کے ساتھ زور کرنا پڑتا ہے اور اوپر بسہولت اٹھتا ہے۔ اور جو خود ابھارے اس کا دباؤ پڑنا کیا معنی بخلاف ہوا کہ جسم انسان سے ہلکی ہے یہ اگر ثقیل ہوتی تو اس صد ہا من بوجھ سے ضرور انسان کو پیس ڈالتی اگر کہیےزمین کے قریب ہوا میں ابھی تم نے بھی وزن تسلیم کیا پھر کچھ تو محسوس ہو۔
اقول: وہ اجزاء غبار و بخار و دخان وغیرہا نہایت باریک باریک ہو امیں متفرق ہیں تو انسان کے سر سے گنتی کے جز متصل ہوتے ہیں جن سے زیادہ گرد اڑ کر سر پر پڑنے میں ہوتے ہیں جن کا بار اصلاً محسوس نہیں ہوتا۔ ان دونوں جوابوں کی غلطی ظاہر ہوگئی۔
عہ۲: ط ص ۱۲۰ ۔۱۲
اقول : یہاں اور مباحث و انظار دقیقہ ہیں جن کی تفصیل موجبِ تطویل، نہ ہم کو ضرورت نہ دلیل ابطال کی حاجت کہ ہم ابطالِ دلیل کرچکے رددعوے کو اسی قدر بس ہے کہ دعوٰی بے دلیل باطل وذلیل۔ رہا حقیقت ماننا اس کے لیے شہادت حس کافی ہے کہ کس قدر کثیر حجم کی سروں پر موجود ہے اور باز نہیں ڈالتی بلا دلیل اس شہادت کو غلط نہیں کہہ سکتے جیسے حسِ بصر میں اغلاط ہوتے ہیں مگرغلطی وہیں مانی جاتی ہے جہاں دلیل سے خلاف ثابت ہو بلادلیل تغلیط حس سے امان اٹھا دینا ہے تو روشن ہواکہ ہوا کو خفیف ہی کہا جائے گا اور اس کا ثقیل ماننا باطل۔
(۱۹) ہوائے تجارت یعنی مقامی ہوا کہ خطِ استوا میں ہمیشہ مشرق سے مغرب کو چلتی ہے اور عرض شمالی میں شمال اور جنوبی میں جنوب سے خطِ استوا کی طرف مائل ہوتی ہے اور بحر احمر میں ہمیشہ سواحل عرب شریف کی موازات کا لحاظ رکھتی ہے اور تجارت کے لیے کمال نافع ہے اُس کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ خط استوا( عہ۱) پر حرارتِ شمس زیادہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی ہوا ہلکی ہو کر اوپر چڑھتی ہے اور قطبین کی ہوا تعدیل کے لیے یہاں آتی ہے خط استوا( عہ۲) پر حرکت زائد ہے کہ مدار بڑا ہے جتنی تیز حرکت یہاں ہے ہوا کہ طرفین سے اُتنی تیز حرکت نہ کرے گی تو اس کی گردش زمین کے برابر نہ ہوگی بلکہ زمین اس کے اندر گردش کرے گی اور مشرق کو زیادہ بڑھ جائے گی۔ ہوا مغرب کی طرف پیچھے رہ جائے گی لہذا خط استوا پر ہوا شرقی ہوگی یعنی مشرق سے مغرب کو جاتی معلوم ہوگی ہوا کہ قطبین سے خط استوا کی طرف تعدیل کے لیے چلی شمالی سیدھی جنوبی نہیں رہتی بلکہ جنوبی مغربی ہوجاتی ہے اور جنوبی سیدھی شمالی نہیں رہتی بلکہ شمالی مغربی ( عہ۳) کہ وہ خط استوا کے قریب اتنی تیز رفتار نہیں کرسکتی تو زمین کا وہ حصہ نکل جائے گا اور شمالی ہوا کا رخ بجائے جنوب جنوب و مغرب اور جنوب کا بجائے شمال شمال و مغرب کو ہوجائے گا۔
عہ۱: جغ ص ۹ ۔۱۲ عہ۲ : ط ص ۱۴۱ ۔۱۲ عہ۳ : جغ ص۹ ۔۱۲
اقول: تعدیل کیا واجب ہے اور خلا تمہارے نزدیک محال نہیں پھر ہوائیں کیوں الٹ پلٹ ہوتی ہے۔
(۲۰) زمین ( عہ۴) اگر ابتدائے آفرنیش میں جامد ہوتی اور اپنے محور پر گھومتی تو خطِ استوا پر پانی کے سبب یکساں رہتی مگر پانی سیال تھا اور خطِ استوا پر حرکت سب سے زیادہ تو اسی طرف پانی کا ہجوم ہوتا اور قطبین جہاں حرکت نہیں پانی سے کھل جاتے لیکن ایسا نہیں تو معلوم ہوا کہ زمین ابتدا میں جامد نہ بنائی گئی۔
عہ۴: ص۱۰۵ ۔۱۲
(۲۱) زمین خطِ استوا پر اونچی اور قطبین کے پاس چپٹی ہے۔ اس سے معلوم ہوا ( عہ۵) کہ اول میں سیال ہی بنائی گئی تھی تیزی حرکت کے باعث خطِ استوا پر اس کے اجزاء زیادہ چڑھ گئے اور قطبین کے پاس کم ہوگئے۔ حدائق (عہ۶) میں ان دونوں مضمونوں کو یوں بیان کیا زمین کی محوری حرکت سے ضرور تھا کہ کرئہ آب شلجمی شکل ہوتا کہ حرکت مستدیرہ میں جسم لطیف مرکز سے متجاوز ہوگا اور جہاں تیزی حرکت ہے وہاں زیادہ جمع ہو کر شلجمی شکلہوجائے گا اگر زمین ابتدا میں سخت ہوتی مواضع خط استوا غرقِ آب رہتے حالانکہ وہاں اکثر خشکی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ زمین خود ہی شلجمی ہے یعنی ابتدا میں سیال تھی حرکتِ محوری کے سبب یہ شکل ہو کر اس کے بعد منجمد ہوئی اور اسی کو شروع حدیقہ ( عہ۱) سوم میں تمام سیّا رات پر یوں ڈھالا کہ حرکتِ وضعیہ قطبین پر اصلاً نہیں ہوتی پھر بڑھتی جاتی ہے اور منطقہ پر سب سے زائد تیز ہوتی ہے اور طبیعات میں ثابت ہے کہ حرکت موجب حرارت جاذب رطوبات تو ضرور ہوا کہ قطبین سے اجزا منتقل ہو کر منطقہ پر جمع ہوجائیں اور قطر استوائی محور سے بڑا ہو اھ ، یہ تقریر نافریت سے دور اور قبول سے نزدیک ہے اگر سیا رات کا سیّال ہونا ثابت ہوتا۔
(۲۲) دونوں نقطہ اعتدال ہر سال مغرب کو ۲ء۵۰ ہٹتے جاتے ہیں اسے مبادرت اعتدالین کہتے ہیں، یہ ہٹنا صہیح ہے جس کی وجہ ہیأت قدیمہ میں فلک البروج کا برخلاف معّدل مشرق کو آنا ہے یہ نقطہ تقاطع مغرب میں رہ جاتا ہی اور اس کی جگہ دوسرا نقطہ قائم ہوتا ہے۔ لہذا نقطہ تقاطع معدل النہار سے شخصی ہے اور فلک البروج سے نوعی کہ منطقہ کی حرکت شرقی کے سبب معدل کے اُس پر نطقہ پر منطقہ کے مختلف نقطے آتے رہتے ہیں۔
27_15.jpg
ا ح ب معدل النہار اء ب فلک البروج معدل کی حرکت کہ شرق سے غرب کو ہے اس میں تو منطقہ بھی اس کا تابع ہے اس سے کوئی تفاوت نہ ہوگا لیکن منطقہ اپنی ذاتی حرکت خفیفہ مغرب سے مشرق کو رکھتا ہے۔ ا ج تقاطع نقطتین اب پر ہے اب منطقہ کا نقطہ ا حرکت کرکے ہ پر آیا تو ضرور نقطہ ح کہ اس سے مغرب کو تھا ا کی جگہ آئے گا ا ب ح پر تقاطع ہوگا جو (ا) سے مغرب کو تھا جب (ح) چل کر (ہ) کی جگہ آئے گا (ط) کہ اس سے مغربی ہے محل تقاطع پر آئے گا یونہی جب (ا) محل (ہ) پر آیا ضرور ہے کہ ب بڑھ کر (ک) کی جگہ آیا اور (اب ء) کہ اُس سے مغرب کو تھا (ب) کی جگہ تقاطع پر آیا جب یہ (ک) کی طرف بڑھا (ل) نے کہ اس سے مغرب کو تھا تقاطع کیا یوں ہر روز تقاطع منطقہ کے عربی نقطوں پر منتقل رہے گا جس کی مقدار روزانہ تقریباً دس ثالثے بتائی گئی ہے کتنی صاف وجہ ہے جس پر عقلاً کچھ غبار نہیں لیکن ہیأۃ جدیدہ کو تو ہر چیز جاذبیت کے سر منڈھنی بنے خواہ نہ بنے اس کی وجہ ( عہ۲) یہ بتائی ہے کہ زمین خط استوا پر پھولی ہوئی ہے تو شمس و قمر کا بہ نسبت اور اجزائے زمین کے اس چھلے پر بوجہ قرب جذب زائد ہے آفتاب اس کے ہر جز کو منطقہ البروج کی طرف کھینچتاہے اور اور وہ جز ء زمین کی حرکت محوری سے اُسی چھلے کے ساتھ جانا چاہتا ہے لاجرم دونوں سمتوں کے بیچ میں بڑھتا ہے اور سارا چھلا اسی کشمکش میں ہے لہذا منطقہ البروج سے تقاطع کے نقطے اب آگے مغرب کو پڑتے ہیں اور یہ فعل مستمر رہتا ہے مگر جب آفتاب نقطتین اعتدال پر ہو جیسے مارچ ستمبر میں کچھ دیر تو اتنی دیر البتہ یہ فعل باطل ہوگا کہ خط استوا یہاں خود ہی دائرۃ البرج سے متحد ہے تو ایک دوسرے کی طرف کھینچے گا کیا ؟ اور سب سے زائد اس وقت ہوگا جب آفتاب مدارین میں ہو یعنی راس السرطان ور اس ابجدی پر اور اس میں بوجہ قرب قمر کا فعل شمس سے زائد ہے یعنی ۷/۳ اور چند سطر بعد کہا ( عہ۱) تقریبا ۵ /۲ مجموع جذب نیرین سے اعتدالین ۴۱ء ۵۰ ہر سال ہٹتے ہیں مگر اور سیاروں کی جاذبیت ان کے فعل کی ضد ہے وہ مبادرت کو ۲۱ء ۰ گھٹاتی ہے لہذا ۲۰ء۵۰ رہتی ہے
عہ۲ :ص۱۸۰ نیز ح ص ۱۷۲ ۔۱۲ عہ۱ ص ۱۹۰ دونوں میں ۱/ ۲۵ کا فرق ہے ۱۲ منہ غفرلہ
مبادرت کی تصویر یہ ہے ۔
27_16_1.jpg
اب ء منطقہ پر ر محل شمس ہے وہ ا ح ب معدل کے مثلاً نقطہ (ہ) کو اپنی طرف جذب کرتا ہے لیکن وہ زمین کی حرکت محوری سے اسی دائرہ ا ح ب پر جانب ا جانا چاہتا ہے دونوں تقاضوں کے تجاذب سے وہ نہ ر کی طرف جائے گا نہ ا کی، بلکہ دونوں کے بیچ میں ہو کر (ح) کی طرف بڑھے گا اور اب (ا) کی جگہ اور نقطہ کہ اس سے مغربی تھا نقطہ تقاطع ہوجائے گا ۔
اقول: یعنی (ہ کا ح) کی طرف بڑھنا یوں تو نہ ہوگا کہ (ہ) چھلے سے نکل کر خط (ہ ح) پر بڑھ جائے بلکہ سارا ہی چھلا اس طرح بڑھے گا کہ ہ ادھر (ر) سے قریب ہوجائے اور ادھر ح سے تو (ا) اپنی اس جگہ سے باہر نکل جائے گا اور اس کی جگہ اس کے بعد کا نقطہ ح کی طرف قریب کے نقطہ سے مل کر تقاطع پیدا کرے گا ممکن نہیں کہ معدل کا وہی نقطہ ہٹ کر تقاطع کرے کہ (ہ) جذب کے سبب جست کرکے اونچا ہوگیا ہے تو یہاں ا ہ کے قابل فاصلہ نہ رہا، لاجرم ا آگے نکل گیا اور اس کے پیچھے کانقطہ محل تقاطع ہوا اور اب یہ شکل ہوگی۔
27_16_2.jpg
ا پہلے نطقہ تقاطع تھا جب (ہ) بڑھ کر (ہ) کی جگہ آیا خط استوا کا حصہ (اہ) ا ب حصہ ا ہ ہوا ا موضع تقاطع سے آگے نکل گیا اور تقاطع منطقہ کے نقطہ اسے پیچھے ہٹ کر مغرب کو پڑا تو اب ط نقطہ تقاطع ہوا کہ ح سے بہ نسبت ر پہلے تقاطع کے قریب ہے تو اُن کے طور پر تقاطع دائرۃ البروج و معدل النہار یعنی خط استوا دونوں سے نوعی ہے اس کا نوعی ہونا تو ظاہر کہ تقاطع منطقے کے اجزائے غربیہ پر منتقل ہے اور اس کا یوں کہ اسے جاذبیت نے بڑھا یا اور پہلے نقطے کو قائم نہ رہنے دیا ان کے طور پر غربیت کیوں ہوئی۔