Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
68 - 212
وجہ دہم: (عہ ۴) مد کی چال بحراطلانتک یعنی اوقیانوس غربی میں فی ساعت سات ۷۰۰سو میل ہے۔ جزائر غربیہ و آئرلینڈ کے درمیان ۵۰۰ میل کہیں ۱۶۰ میل کہیں ۶۰ کہیں ۳۰ ہی میل جذب قمر میں یہ اختلاف کیوں، بالجملہ جذب قمر راست نہیں آتا،
عہ۴: ص ۲۷۳ ۔ ۱۲۔
رہا دوران یعنی وجود وعدم میں دوشے کی معیت ایک کے لیے دوسری کی علیت پر دلیل نہیں نہ کہ بعدیت، ہاں ان مشاہدات سے اتنا خیال جائے گا کہ علت کو ان اوقات سے کچھ خصوصیت ہے اگر کہیے علت کیا ہے۔

اقول:  اولاً: ہمارے نزدیک ہر حادث کی علت محض ارادۃ اﷲ جل وعلا ہے مسببات کو جو اسباب سے مربوط فرمایا ہے سب کا جان لینا ہمیں کیا ضرور، بلکہ قطعاً نامقدور کون بتاسکتا ہے کہ سوزن مقناطیس کا جدیُّ الفرقد سے کیا ارتباط ہے، ابھی گزرا کہ اصول ہیأت میں بحیرات وانہار میں مدنہ ہونا سبب مجہول کی طرف نسبت کیا اسی طرح اماکن مختلفہ سے اختلاف مدت حدوث مدکو۔
ثانیاً   ہمارے یہاں تو ثابت ہی تھا کہ سمندر کے نیچے آگ ہے۔قرآن عظیم نے فرمایا:
والبحرالمسجور۱؂
 (اور قسم ہے سلگائے ہوئے سمندر کی،ت)
 (القرآن الکریم ۵۲/۶)
حدیث میں ہے:
انّ تحت البحرنارًا ۔۲؂
(بے شک سمندر کے نیچے آگ ہے۔ت)
 (المستدرک للحاکم کتاب الاھوال ان البحرھوجہنم ، دارالفکر بیروت ، ۴/ ۵۹۶)
ہیأت جدیدہ بھی اسے مانتی ہے ۱۰۵۶ء میں( عہ۳ ) بحرالکاہل سے دھواں نکلنا شروع ہوا اور مادہ آتشی کہ قعر دریا سے نکلا تھا مجتمع و منجمد ہو کر سطح آب پر بشکل جزیرہ ہوگیا اس میں سوراخ تھے جن سے ایسے شعلے نکلتے کہ دس میل تک روشن کرتے۔ طوفان آب کے اسباب سے ایک سبب( عہ۴) دریا کے اندر بخارو دخان پیدا ہونا ہے، ایسے ہی بخارات اندر سے آتے اور پانی کو اٹھاتے ہوں یہ مد ہوا جیسے جوش کرنے میں پانی اونچا ہوتا ہے ان کے منتشر ہونے پر پانی بیٹھتا ہو یہ جزر ہوا ، جاڑوں میں صبح کا مد زیادہ ہونا بھی اس کا موید ہے سرما میں صبح کو تالابوں سے بکثرت بخارات نکلتے ہیں، کنویں کا پانی گرم ہوتا ہے، سطح ارض پر استیلائے برد کے سبب حرارت باطن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور رات بڑی اس طویل عمل حرارت سے ادھر بخارات زیادہ اٹھے پانی میں زیادہ بلند ہونے کی استعداد آگئی
واﷲ بکل شیئ علیم ۵؂۔
عہ۳:  جغ ص ۲۶ ۔۱۲  عہ۴:  ح ص ۲۰۸ وغیرہ ۱۲
 (۵؂القرآن الکریم    ۲۴/ ۳۵ )
 (۱۷) جاذبیت ( عہ۱) مرکز سے نکل کر اس کے اطراف میں خط مستقیم پر پھیلتی اور مرکز ( عہ۲) ہی کی طرف کھینچتی ہے۔
عہ۱: ح ص ۳۸ ۔۱۲   عہ۲: ط ص ۱۱۴ ۔۱۲
اقول:  : یہاں تک کہہ سکتے تھے کہ جاذبیت کا آغاز مرکز سے ہے، نہ یہ کہ مرکز ہی جاذب ہے مگر نمبر۱۵ میں گزرا کہ حدائق میں مجذوب کا بعد مرکز زمین سے لیا اور اس کے اختلاف پر وزن گھٹایا یوں ہی اصول الہیات میں مرکز زمین سے بعد لیا اس کا مفادیہ ہے کہ مرکز ہی جاذب ہے ۔

لیکن اولاً    یہی لوگ قائل  ہیں کہ ہر شئے میں جذب ہے۔

ثانیاً یہ کہ جذب بحسبِ مادہ جاذب ہے۔(نمبر۱۰)( مرکز میں اختلاف مادہ کہاں۔

ثالثاً اختلاف کثافت سے اختلاف قوت مرکز قدر قرین قیاس تھی حجم کرہ، کا مرکز پر کیا اثر مگر بالعکس ہے۔ کثافت عطارد زمین سے زائد ہے مگر بوجہ صغر جاذبیت ۳/۵ کثافت ( عہ۳ ) زمین شمس سے چوگنی ہے مگر جاذبیت ۱/ ۲۸ (نمبر۱۵)
عہ۳:ص  ص۲۶۶۔۱۲
رابعاً یہی کہتے ہیں جو زمین ( عہ۴ )کے اندر چلا جائے اس کے اوپر کے اجزاے زمین اسے اوپر کھنیچیں گے اور نیچے کے نیچے کو اور خاص مرکز پر سب طرف کوشش اجزاء یکساں ہوگی اور یہی ان کے قواعد سے موافق تر ہے۔
عہ۴: ط ص۸۳ ۔۱۲
Flag Counter