| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
وجہ سوم :کشش ماہ سے مَد ہوتا تو چھوٹے پانیوں میں کیوں نہیں ہوتا۔ چاند جس پانی کے سامنے آئے گا اسے کھنچے گا اس کے جواب میں اصول الہیأت نے تو ہتھیار ڈال دیئے، کہا یہ کسی مقامی سبب سے ہے۔ اقول: یہی کہنا تھا تو وہاں کہنا چاہیے تھا کہ جزر و مد کا کوئی مقامی سبب ہے جس کے سبب یہ قاہر ایراد نہ ہوتے۔ حدائق النجوم نے اس پر دو مہمل حیلے تراشے ، یکم مد کے لیے اجزائے آب کا اختلاف چاہیے کہ بعض کو قمر کھینچے بعض کو نہیں تو جسے کھینچا وہ اٹھتا معلوم ہو یہ پانی چھوٹے ہیں قمر جب ان کی سمت الراس پر آتا ہے ، سارے پانی کو ایک ساتھ کھینچتا ہے لہذا مد نہیں ہوتا۔ اقول : اولاًجہالت ہے اگر سارا پانی ایک ساتھ اٹھے توکیا اس کا بڑھنا اورکناروں پرپھیلنااور پھر گھٹنا اور کناروں سے اتر جانا محسوس نہ ہوگا ،عقل عجب چیز ہے ۔ ثانیاً تمھارے نزدیک تو قمر سارے کرہ زمین کوکھینچتاہے نہ کہ بڑے سمندر میں ایک حصہ آب کوکھینچے باقی کونہیں ۔کچھ بھی ٹھکانے کی کہتے ہو ، حیلہ دوم قمر کی قوت تاثیر صرف اس وقت ہے کہ نصف النہار پر گزرے اور وہ تھوڑی دیر تک ہے یہ پانی کم پھیلے ہوئے ہیں ان کی سمت الراس سے قمر جلد گزرجاتا ہے لہذا اثر نہیں ہونے پاتا ۔ اقول: بڑے سمندروں میں قمر سمت الراس پر بدرجہ اولٰی نہ ہوگا بلکہ مختلف حصوں پر مختلف وقتوں میں آئے گا اور ہر حصے سے اتنا ہی جلد گزر جائے گا جتنا جلد چھوٹے سمندروں سے گزرا تھا تو چاہیے کہیں بھی مدنہ ہو اور اگر قبل و بعد کے ترچھے خطوط پر جذب یہاں کام دے گا تو وہاں کیا نصف النہار سے گزر کر جذب نہیں ہوتا۔ طلوع سے غروب تک ترچھے خطوط پر برابر پانی کو جذب کرتا ہے تو سب میں مد لازم حتی کہ جھیلوں تالابوں بلکہ کٹورے کے پانی میں جب کہ طلوع قمر سے غروب تک کھلے میدان میں رکھا ہو۔
وجہ چہارم : سوائے وقت اجتماع و مقابلہ پانی پر نیرین کا گزر ہر روز جدا ہوتا ہے کیا آفتاب پانی کا جذب نہیں کرتا حالانکہ وہ حرارت اور یہ رطوبت ہے اور حرارت جاذب رطوبت ہے۔ شمس اگر بہ نسبت قمر بعید تر ہے تو دونوں کے مادے کی نسبت، تو دیکھو بعد شمس بعد قمر کا ۳۳ء۳۷۳ ہی مثل ہے اور مادہ شمس تو مادہ قمر کا تقریباً ڈھائی کروڑ گناہ یا اس سے بھی زائد ہے (عہ۱) تو اسی حساب سے جذب شمس زائد ہونا تھا رات دن میں چار مد ہوتے ہیں دو قمر دو شمس سے، حالانکہ دو ہی ہوت ہیں، تو معلوم ہوا کہ جذب شمس نہیں تو جذب قمر بالاولےٰ نہیں اس کے دو جواب دئے گئے، یکم حدائق النجوم میں اس پر صرف وہی تفاوت بعد کا عذر سنا کر کہا پانی کو جذب شمس جذب قمر کا ۳/۱۰ ہے۔
عہ۱: اصول ہیئات ص ۲۹۴ میں ۲۴۴۹۰۷۴۴ کہا اور ص ۱۵۶ پر ۲۵۱۸۰۸۰۰ کہ ڈھائی کروڑ سے زائد ہے۔۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول: اولاً : اس کا رد نفس تقریر سوال میں گزرا کہ بعد کی نسبت دیکھی مادوں کی تو دیکھو۔ ثانیاً ۳/۱۰ ہی سہی جب بھی چار مدوں سے کدھر مفر، قمر سے دوبار ستر فٹ اٹھے شمس سے دوبارہ اکیس فٹ دوم اصول الہیأۃ میں اس پر وہ مہمل سا مہمل راگ گایا کہ تذکرہ کرتے بھی کاغذ کے حال پر رحم آئے کہ اسے کیوں سیاہ کیا جائے۔ کہتا ہے مدَتو یوں ہوتا ہے کہ زمین کی دونوں جانب جاذبیت کا اثر پیش ہو جتنا تفاوت ہوگا مد زیادہ ہوگا بالعکس آفتاب کا زمین سے بعد قطر زمین کے گیارہ ہزار پانچسو سینتیس مثل ہے تو دونوں جانب کے پانیوں کا آفتاب سے بعد ۱/۱۱۵۳۷کا فرق رکھے گا تو جذب دونوں طرف تقریباً برابر ہوگا۔ لیکن قمر کا زمین سے بعد قطر زمین کے تیس ہی مثل ہے لہذا دونوں طرف کا فرق ۱/۳۰ ہوگا تو جذب میں تفاوت بین ہوگا اور اسی پر مد کا توقف ہے اور بالاخر نتیجہ یہ دیا کہ قمر شمس ::۲ /۱۔۲ :۱ اقول: اولاً موج مدکو تفاوت جذب جانبیں ارض پر موقوف ماننا کیسا جہل شدید ہے، جب ایک جانب جذب ہو بداہتہً ارتفاع ہوگا خواہ دوسری جانب جذب اس سے کم یا زائد یا برابر ہو یا اصلاً نہ ہو۔ ثانیاً اب بھی چار مد بدستور رہے قمر سے دو بار ستر فٹ اٹھے تو شمس سے دوبار اٹھائیس فٹ۔
وجہ پنجم : کہتے ہیں اجتماع یا مقابلہ نیرین کے وقت مداعظم یوں ہوتا ہے کہ دونوں جذب معاً عمل کرتے ہیں۔ اقول: مقابلہ میں اثر واحد مقتضائے ہر دو جاذبہ نہ ہوگا بلکہ متضاد کہ ہر ایک اپنی طرف کھینچے گا اس کی صورتوں کی تفصیل اور نتائج کی تحصیل اور یہاں جو کچھ ہیأتِ جدیدہ نے کہا اس کی تقبیح و تذلیل موجب تطویل ، سے جانے دیجئے مگر تصریح ہے کہ مداعظم اجتماع واستقبال کے ڈیڑھ دن بعد ہوتا ہے وہاں تو پانی نے ۹ ہی گھنٹے اثر نہ لیا تھا یہاں ۳۶ گھنٹے ندارد، اگر اثر اجتماع دو جذب تھا وقت اجتماع پیدا ہوتا نہ کہ بارہ پہرگزار کر۔
وجہ ششم : یوں ہی تربعین میں بھی مد اقصر ۳۶ گھنٹے (عہ۱) بعد ہے۔
عہ۱: ص ۲۷۳ ص ۱۵۹۔ ۱۲۔
وجہ ہفتم : اقول: اگر یہ جذبِ قمر ہوتا تو ہمیشہ دائرۃ الارتفاع قمر کی سطح میں رہتا تو بحرین شمالی و جنوبی میں جن کا میل میل قمر سے زائد ہے جب قمر افق شرقی پر ہوتا مَد جانب مشرق چلتا شمالی میں جنوب کو مائل، جنوبی میں شمال کو، پھر جتنا قمر مرتفع ہوتا شمالی کا جنوب جنوبی کا شمال کو مائل ہوجاتا۔ جب نصف النہار پر پہنچتا شمالی کا ٹھیک جنوبی جنوبی کا ٹھیک شمالی ہوجاتا، جب غرب کی طرف چلتا دونوں جانب غرب متوجہ ہوتے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ مد (عہ۱)کی حرکت مغرب سے مشرق کو مشاہدہ ہوتی ہے اس کی توجیہ (عہ۲) یہ کی جاتی ہے کہ مدسیر قمر کا اتباع کرتا ہے۔
عہ۱: ح ص ۲۰۷ ۔ ۱۲۔ عہ۲: ح محل مذکور ۱۲۔
اقول: مجذوب کو موضع جاذب کا اتباع لازم ہے اس کی طرف کھینچے، نہ یہ کہ چال میں اس کی نقل کرے، قمر اپنی سیر خاص سے جس میں روبمشرق ہے دو گھنٹے میں کم و بیش ایک درجہ چلتا ہے اور اتنی ہی دیر میں زمیں تمہارے نزدیک ۳۰ درجے مشرق ہی کو چلتی ہیں تو ہر گھنٹے پر ساڑھے چودہ درجے مغرب کو پیچھے رہتا ہے تو مدکولازم کہ جانب جاذب یعنی مشرق سے مغرب کو جائے نہ کہ اس کی چال کی نقل اتارنے کو اسے پیچھ کرکے اپنا منہ بھی مشرق کو لے کر جتنا چلے جاذب سے دور پڑے۔
وجہ ہشتم : اقول: موسمِ سرما میں صبح کا مَد کیوں زیادہ بلند ہوتا ہے اور گرما میں شام کا، کیا سردی میں چاند صبح کو پانی سے زیادہ قریب ہوتا ہے شام کو دور ہوجاتا ہے، اور گرمی میں بالعکس۔ وجہ نہم : اقول: مَد کی چال تجددامثال سے ہے نہ یہ کہ وہی پانی جو یہاں اٹھا تھا کسی طرف منہ کرکے سطح آب کی سیر کرتا ہے اثر قمر سے سب اجزائے آب پر باری باری ہے تو سب متاثر ہوں گے نہ کہ ایک اثر لے کر دوڑتا پھرے باقی چپکے پڑے رہیں۔ اس کی نظیر سایہ ہے جب آدمی چلتا ہی دیکھنے والے کو گمان ہوتا ہے۔کہ سایہ اس کے ساتھ چل رہا ہے۔ ایسا نہیں بلکہ جب آدمی یہاں تھا ، آفتاب یا چراغ سے یہ جگہ محجوب تھی۔ اس پر سایہ تھا جب آگے بڑھا ، یہ جگہ حجاب میں نہ رہی یہ سایہ معدوم ہوگیا اب اگلی جگہ حجاب میں ہے اس پر سایہ پیدا ہوا، اسی طرح ہر جز حرکت پر ایک سایہ معدوم اور دوسرا حادث ہوتا ہے۔ سلسلہ پے درپے بلافصل ہونے سے گمان ہوتا ہے کہ وہی سایہ متحرک ہے یہی حال یہاں ہونا لازم تو اوقیانوس شمالی میں جہاں قمر پانی سے جنوب کو ہے ضرور ہے کہ پانی کا جنوبی حصہ پہلے اٹھے پھر جو اس سے شمالی ہے کہ اقرب فالاقرب کا سلسلہ بھی یہی ہے اور ہر قریب تر پر خطِ جذب بھی استقامت سے قریب ہے تو مد کی چال جنوب سے شمال کو ہو اور اسی دلیل سے اوقیا نوس جنوبی میں شمال سے جنوب کو، حالانکہ ہوتا عکس ہے۔ شمالی (عہ۳) میں موج جنوب کو جاتی ہے جنوبی میں شمال کو۔
عہ۳: ص ۲۲۷۔ ۱۲۔