Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
66 - 212
اقول: مد کا جذب قمر سے ہونا اگر چہ نہ ہم کو مضر نہ اس کا انکار ضرور، مگر برسبیل ترک ظنون وطلب تحقیق وہ بوجوہ مخدوش ہے:
وجہ اول : چاند تو زمین کے ایک طرف ہوگا دوسری طرف پانی کس نے کھینچا، یہ تو جذب نہ ہوا دفع ہوا۔
عہ:  ص ۲۶۳ میں ۲۴ گھنٹے ۵۰ منٹ کہے نیز ص ۲۷۳ و ح ص ۲۰۷ میں ۲۴ ت ،۴۸ ط ص ۱۰۶ ۲۴ت ص ۱۰۹ ۲۴ ت ۔ ۴۵ تعریبات شافیہ جزثانی ص ۳۸ ،۲۴ ت ،۵۱ جغرافیاطبعی ص ۱۹ ،۲۴ ت ،۵۴ بہرحال ہر یوم قمری میں دو مد ہیں یونہی جزء ۱۲ منہ غفرلہ۔

عہ۱: ص ۲۷۲۔  ۱۲۔    عہ۲:  ص ۲۶۳ ح ص ۲۰۵و۲۰۶ ط ۱۰۶و ۱۰۷

عہ۳:  ص ۲۶۵ ح ص ۲۰۵۔ ط ۱۰۹ 

عہ۴: حدائق النجوم ص ۲۰۰ میں اس کی اصل مقدار تین گھنٹے بتائی اگرچہ عوارض خارجیہ سے تفاوت ہوتا ہے۔ 

عہ۵: ص ۲۶۷۔ شافیہ جلد دوم ص ۳۹    عہ۶:  ص ۲۰۵۔ ص ۲۰۶     عہ۷: ۔۲۶۶ 

عہ۸:  ح ص ۲۰۷    عہ۹:  ص ۲۶۳و ۲۷۰، ۲۷۲ ح ص ۲۰۷ ۔
اصول علم (عہ۱) الہیات وغیرہ سب میں اس کا یہ جواب دیا کہ بعید پر جذب کم ہوتا ہے سمتِ مواجہ قمر میں پانی قمر سے قریب اور زمین بعید ہے، لہذا اس پانی پر زمین سے زیادہ جذب ہوا اور بہ نسبت زمین کے چاند سے قریب تر ہوگیا۔ یوں ارتفاع ہوا ادھر کا پانی قمر سے بعید اور زمین سے قریب ہے، لہذا زمین پر پانی سے زیادہ جذب ہوا اور ادھر کا حصہ زمین چاند سے بہ نسبت آب (عہ۲) قریب تر ہوگیا تو وہ پانی مرکز زمین سے دور ہوگیا اور مرکز زمین سے دوری بلندی ہے ادھر یوں ارتفاع ہوا۔
عہ۱: ص ۲۶۴ ط ص ۱۰۷ ۔  ح ص ۲۰۵ و ۲۰۶ ص ۵۲ اس کے اخیر میں اسے جاہلانہ بیان کیا اور ط میں متحیرانہ اقرار کرکے کہ اس کا بیان پیچیدہ ہے اور بات صاف نہ کہہ سکا، ح کا کلام بھی مضطرب و مشتبہ سارہا، ص نے صاف بیان کیا لہذا ہم نے اسی سے نقل کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔

عہ۲:  نظار ہ عالم میں براہِ جہالت اُسے یوں لکھا کہ دوسری جانب کاپانی بعد کے باعث ساکن رہتا ہے لیکن زمین جو اس پانی کے اندر ہے کھینچتی ہے۔
اقول: اولاً جس طرح قرب وبعد سے اثر جذب میں اختلاف ہوتا ہے یونہی مجذوب کے ثقل و خفت سے بھاری چیز کم کھینچے گی اور ہلکی زیادہ سمت مقابل کا پانی بہ نسبت زمین کیا ایسا بعید ہے کہ زمین سے متصل ہے اور سمندر کی گہرائی(عہ۳) زیادہ سے زیادہ پانچ میل بتائی گئی ہے قمر کا بعد اوسط ۲۳۸۸۳۳ میل ہے اور زمین کا قطر معدل ۷۹۱۳ میل تو اس جانب کے اجزائے ارضیہ کا قمر سے بعد ۲۴۶۷۴۶ میل ہوا اس کثیر بعد پر چار پانچ میل کا اضافہ ایسا کیا فرق دے گا لیکن پانی بہ نسبت زمین بہت ہلکا ہے زمین کی کثافت پانی سے چھ گنی کے قریب ہے یعنی، ۶۷ء۵(عہ۴) تو اگر تفاوت بعد اس کے جذب میں کچھ کمی کرے تفاوت ثقل اس کمی پر غالب آئے گا یا نہ سہی پوری تو کردے گا۔ اور زمین و آب پر جذب یکساں رہ کر پانی زمین سے ملا ہی رہے گا تو مد نہ ہوگا بخلاف سمت مواجہ قمر کہ ادھر کا پانی قرب و لطافت دونوں وجہ کا جامع ہے تو اسی طرف مد ہونا چاہیے۔
عہ۳:  جغرافیہ طبعی ص ۱۹۔۱۲    عہ۴:  حدائق میں گزرا ۳ گھنٹے بعد۔
ثانیاً  نمبر ۱۸ میں آتا ہے ہوا و آب و خاک مجموعہ تمہارے نزدیک کرہ زمین ہے اور قمر مجموع کو جذب کررہا ہے تو سب ایک ساتھ اٹھیں نہ کہ ادھر کا پانی زمین کو چھوڑ جائے اور ادھر کی زمین پانی کو چھوڑ آئے، دیکھو تمہارے زعم میں جذب شمس سے زمین گھومتی ہے تو تینوں جز خاک و آب و باد کو ایک ساتھ یکسان متحرک مانتے ہو نہ کہ سب ایک دوسرے سے جدا ہو کر چلیں۔
ثالثاً اگر ایسا ہوتا سمت مواجہ کی ہوا پر قمر کا جذب ادھر کے پانی سے بھی زائد ہوتا کہ اقرب بھی اور الطف بھی، اور ادھر کی ہوا کو تمہارے زعم باطل پر ادھر کا پانی چھوڑ آتا جس طرح اس پانی کو ادھر کی زمین چھوڑ گئی تو لازم تھا کہ مد کے وقت دونوں طرف نہ سطح زمین پر پانی ہوتا نہ سطح آب پر ہوا، بلکہ ہر دو کے بیچ میں خلا ہوتا۔ یہ بداہۃً باطل ہے، اطراف کے پانی کا آکر اس جگہ کو بھرنا کیوں یہ حرکت نہ اُن پانیوں کے متقضائے طبع ہے نہ زمین کا اثر نہ استحالہ خلا کی ضرورت، نمبر ۲۵ میں آتا ہے۔ کہ خلا تمہارے نزدیک محال نہیں پھر بلاوجہ اور پانی کیوں چل کر آئیں گے۔
وجہ دوم : کشش قمر سے مدَ ہوتا تو اس وقت ہوتا جب قمر عین نصف النہار پر سیدھے خطوں میں پانی کو کھینچتا ہے لیکن پانی وہاں کا اٹھتا ہے جہاں نصف النہار سے گزرے قمر کو گھنٹے ہوچکتے ہیں(عہ۱) ۔ اصول ہیأت میں اس کے دو حیلے گھڑے یکم پانی کا سکون ا سے فوراً جذب قبول نہیں کرنے دیتا انتہی یعنی جسم میں حرکت سے انکار ہے حتی الامکان محرک کی مقاومت کرے گا اس لیے پانی فوراً نہیں اٹھتا۔
عہ۱: ص ۲۶۶
اقول: اولاً  قمر صرف سیدھے خط پر کھینچتا ہے یا ترچھے پر بھی، برتقدیر اول کس قدر باطل صریح ہے کہ جس وقت جذب ہورہا تھا پانی نہ ہلا،جب جذب اصلاً نہ رہا گزوں اٹھا یعنی وجود مسبب وجود سبب سے نہیں ہوتا بلکہ سبب معدوم ہونے کے گھنٹوں بعد، برتقدیر ثانی قمر جس وقت افق شرقی پر آیا اس وقت سے اس پانی کو کھینچ رہا تھا تو ٹھیک دوپہر کو اٹھنا فوراً اثر قبول کرنا نہ تھا بلکہ چھ گھنٹے بعد عجب کہ دوپہر کامل جذب ہوا اور وہ بھی اس طرح کہ ہرلمحہ پر پہلے سے قوی تر ہوتا جائے یہاں تک کہ نصف النہار پر غایت قوت پر آئے اور پانی کو اصلاً خبر نہ ہو جب جذب ضعیف پڑے اور آناً فاناً زیادہ ضعیف ہوتا جائے تو گھنٹوں کے بعد اب اثر پیدا ہوا اور یہیں سے حدائق النجوم کے جواب کا رد ہوگیا کہ امتداد سبب اشتداد سبب سے زیادہ موثر ہے۔

اقول : ہاں گرمی کے سہ پہر کو دوپہر سے زیادہ گرمی ہوتی ہے جاڑے کی سحر کو شب سے زیادہ سردی ہوتی ہے مگر زیادت کا فرق ہوتاہے نہ یہ کہ مدت مدید تک بڑھتا ہوا اشتداد امتداد رکھے اور اثر اصلاً نہ ہو جب وقتاً فوقتاً بڑھتے ہوئے ضعف کا امتداد ہو اس وقت آغاز اثر ہو یعنی جون ، جولائی کی دوپہر کو اصلاً گرمی نہ ہو تیسرے پہر کوہو ۔دسمبر ،جنوری کی آدھی رات کو سردی نام کو نہ ہو سحر کے وقت ہو ، ایسا الٹا اثر ہیئات جدیدہ میں ہوتا ہوگا۔ 

ثانیاً محرک کی قوت اگر جسم پر غالب نہ ہو اصلاً حرکت نہ کرے گا ،من بھر کے پتھر میں رسی باندھ کر ایک بچہ کھینچے کبھی نہ کھینچے گا اور اگر اس درجہ غالب ہو کہ اسے تاب مقاومت نہ ہو فوراً متحرک ہو گا مزاحمت کا اثر اصلاً ظاہر نہ ہوگا جیسے ایک مرد گیند کو کھینچے اور اسکی مقاومت اس کی قوت کے سامنے قیمت رکھتی ہے تو البتہ فوراً اثر نہ ہوگا اسے قوت بڑھانی پڑےگی زیادت قوت کے وقت اثر ہوگا نہ یہ کہ منتہائے قوت تک زور کرکے تھک جائے اور نہ ہلے اب کہ ضعیف زور رہ جائے اور لحظہ بہ لحظہ گھٹتا جائے  تو اس گھٹی ہوئی قوت کو مانے ۔پانی کی مقاومت قمر کی قوت کے آگے اول تو قسم دوم کی ہونی چاہئے جو ساری زمین کو کھینچ لے جاتا ہے اس کے سامنے اتنا پانی ایسا کتنے پانی میں ہے کہ گھنٹوں نام کونہ ہلے اور نہ سہی قسم سوم ہی مانئے تو انتہائے قوت کے وقت اثر ظاہر ہونا تھا نہ کہ تھک رہنے کے بعد مری ہوئی طاقت سے۔

ثالثاً جب پانی اتنی مقاومت کرے واجب ہے کہ زمین اس سے بدرجہا زائد مزاحم ہو تو جس وقت پانی اثر لے زمین اس سے بہت دیر بعد متاثرہو، اور اس طرف کے پانی کا اٹھنا خود نہ تھا بلکہ زمین کے اٹھنے سے تو واجب کہ ادھر کے پانی میں جب مد ہو ادھر کے پانی میں سکون ہو ادھر کے پانی میں مدتوں بعد جب زمین اثر مانے مد ہو اس وقت ادھر کے پانی میں کب کا ختم ہو چکا حالانکہ دونوں طرف ایک ساتھ ہوتا ہے ۔

رابعاً رات دن میں دو ہی مد ہوتے ہیں اب لازم کہ چارہوں دو پانی کے اپنے اور دو جب زمین متاثر ہو کر اٹھے ۔

خامساً جانب قمر میں چار مد ہو ں اور طرف مقابل میں دو کہ باتباع زمین ہیں اور اس کے دوہی تھے ، غرض یہ لوگ اپنے اوہام بنانے کے لیے جو چاہیں منہ کھول دیتے ہیں ۔اس سے غرض نہیں کہ اوندھی پڑے یا سیدھی ، اور پڑتی اوندھی ہی ہے ۔ حیلہ دوم قعر دریا میں اور کناروں پرپانی کی حرکت بھی اثر جذب میں دیر کی معین ہوتی ہے۔
اقول:  سمندر کے قعر میں پانی کی حرکت کیسی ،سمندر میں نہرو ں کا سا ڈھال نہیں، ولہذا دھار نہیں، نہ قعر میں ہوا ہے نہ اوپر کی ہوا کا اثر قعر تک پہنچتا ہے کیسی ہی آندھی ہو سو فٹ کے بعد پانی بالکل ساکن رہتا ہے(عہ۱) کناروں کی حرکت ہوا سے ہے جہاتِ اربعہ سے ایک جہت مثلاً مشرق کو حرکت قمر کی طرف حرکت صاعدہ کے لیے کیا منافی ہے کہ تاخیر اثر میں معین ہوگی دیکھو تمہارے نزدیک زمین مشرق کو جاتی ہے اور اسی آن میں جذب شمس سے مدار پر چڑھتی ہے دونوں حرکتیں ایک ساتھ ہوتی ہیں۔
عہ۱: تعریبات شافیہ جزء ثانی ص ۳۸۔  ۱۲۔
Flag Counter