Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
65 - 212
(۱۴) ہر دائرے میں جاذبہ ہو یا نافرہ بحسب نصف قطر (عہ۴) مربع زمانہ دورہ ہے اس (عہ۵) سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آفتاب جو زمین کو کھینچتا ہے اور زمین قمر کو ان دونوں کششوں میں کیا نسبت ہے نصف قطر مدار قمر کو ایک فرض کریں تو نصف قطر مدار زمین ۴۰۰ ہوگا اور اس کی مدت دورہ ۳۲۵ء ۲۷ دن ہے اور اس کی ۲۵ء۳۶۵ دن :: انجذاب قمربہ شمس : انجذاب قمربہ ارض
27_14.jpg
یعنی شمس اگرچہ دور ہے، قمر کو ۲۔۱/ ۵ زمین سے زیادہ کھینچتا ہے انتہی۔
عہ۴: ص ۱۰۴۔  ۱۲۔۔   عہ۵: ص ۲۰۹،۱۲
اقول: منتسبین بدل گئے یوں کہنا تھا کہ انجذاب قمربہ ارض: انجذاب قمربہ شمس :: الخ اور اختصار میں  ۴/۱ ۔۲  چاہیے تھا کہ حاصل ۲۳۷ء۲ ہے کہ ربع سے قریب ہے پھر بفرض صحت اس سے ثابت ہوتی تو وہ نسبت جو قمر کو زمین اور زمین کو شمس کی کشش میں ہے جیسا کہ ابتداءً دعوٰی کیا تھا اور نتیجہ میں رکھی وہ نسبت جو قمر کو کشش زمین و شمس میں ہے خیر اسے کہہ سکیں کہ بوجہ قلت (عہ)  تفاوت دورہ و بعد زمین کو دورہ و بعد قمر رکھا مگر اس کے بیان میں اس دلیل کا مبنٰی یہی قاعدہ نمبر ۱۴ ہے اور اس کا مبنٰی قاعدہ نمبر ۱۳ جس کے شدید ابطال ابھی سن چکے۔
عہ: کما قال فی اول ھذہ النمرۃ ۲۰۹ ان القمر یدورحول الشمس علی معدل بعد الارض وفی نفس مدۃ دوران الارض حولھا الخ ۱۲ منہ ۔

 (۱۵) وزن (عہ۲) جذب سے پیدا ہوتا او را سکے اختلاف سے گھٹتا بڑھتا ہے۔ اگر جسم (عہ۳) پر جذب اصلاً نہ ہو یاسب طرف سے مساوی ہونے کے باعث اس کا اثر نہ رہے تو جسم میں کچھ وزن ہوگا ہم اگر مرکز زمیں پر چلے جائیں تمام ذراتِ زمین ہم کو برابر کھینچیں گے اور اثر کشش جاتا رہے گا ہم بے وزن ہوجائیں گے۔

عہ۲:  ط ص ۱۰۔  ۱۲۔   عہ۳:  ط ص ۸۳ ۔  ۱۲۔
اقول: یہ نری بے وزن بدیہی البطلان بات کہ جسم میں خود کچھ وزن نہیں جذب سے پیدا ہوتا ہے ہیات جدیدہ کی کثیر تصریحات سے واضح و آشکار ہے۔ ا کثافت (عہ۴) عطارد سونے کے قریب زمین سے دو چند ہے مگر اس کے صغر کے سبب اس کی جاذبیت جاذبیت زمین کی ۳ / ۵  ہے اسی نسبت سے اوزان اس کی سطح پر گھٹتے ہیں جو چیز زمین پر من بھر ہے عطارد پر رکھ کر تولیں تو صرف چوبیس (۲۴) سیر ہوگی۔ ب سطح (عہ۵) آفتاب پر جسم کا وزن سطح زمین سے ۲۸ گنا ہوتا ہے یعنی یہاں کامن وہاں کا ٹن ہوجائے گا وہاں کاٹن یہاں من رہے گا اس کا رد فصل ۲ رد ۱۴ سے روشن ہوگا۔ ج جو چیز (عہ۶) سطح زمین سے تین ہزار چھ سو رطل کی ہے کہ اس کے بعد مرکز سے بقدر نصف قطر زمین ہے اگر سطح زمین نصف قطر کی دوری پر رکھیں ۹ سورطل رہ جائے گی اور پورے قطر کہ بعد پر چارہی سو اور ڈیڑھ قطر کے فاصلے پر سوا دو سو اور دو قطر کے فصل پر ایک سو چوالیس ہی رطل رہے گی کہ مربع بعد جتنے بڑھتے ہیں جاذبیت اتنی ہی کم ہوتی ہے تو ویسا ہی وزن گھٹتاجائے گا یعنی ساڑھے چار قطر کے بعد پر ۳۶ ہی رطل رہے گا اور ساڑھے پانچ پر صرف ۲۵، اور ساڑھے نو پر ۹ ہی رطل، اور ساڑھے چودہ پر چار رطل، اور ساڑھے انتیس پر ایک ہی رطل رہے گا تین ہزار پانچ سو ننانوے رطل اڑ جائیں گے وعلٰی ہذا القیاس ء زمین (عہ۱) پر خط استوا کے پاس شے کا وزن کم ہوگا اور جتنا قطر کی طرف ہٹو بڑھتا جائے گا کہ خطِ استواء کے پاس جاذبیت کم ہے اور قطب کے پاس زیادہ ۔ ولیم ہرشل (عہ۲) نے کہا نجیمات پر یعنی مریخ و مشتری کے درمیان آدمی ہو تو ساٹھ فٹ اونچا بے تکلف جست کرسکے۔
عہ۴: ص ۲۷۶۔۱۲     عہ۵ : ص ۱۳۲   عہ۶:  ح ص ۳۸

عہ۱:  ط ص ۸۳ ۔۱۲   عہ۲: ص ۲۹۰
اقول: تو یورینس پر جا کر تو خاصا پکھیرو ہوجائے گا جدھر چاہے اڑتا پھرے گا پھر کہا اور ساٹھ فٹ بلندی سے انُ پر گرے تو اس سے زیادہ ضرر نہ دے جتنا ہاتھ پر بلندی سے زمین پر گرنا۔

اقول:  تو نیپچون پر جا کر تو روئی کا گالا ہوجائے گا کہ ہزاروں گز بلندی سے سخت پتھر پر گرے کچھ ضرر نہ ہوگا۔ یہ ہیں ان کی خیال بندیاں اور انہیں ایسا بیان کریں گے گویا عطاردو آفتاب پر کچھ رکھ کر تول لائے ہیں نجیمات پر بیٹھ کر کود آئے ہیں، ان تمام خرافات کا بھی ماحصل وہی ہے کہ جسم میں فی نفسہ کوئی وزن نہیں ورنہ ہر کرے ہر مقام ہر بعد پر محفوظ رہتا جاذبیت کی کمی بیشی سے صرف اس پر زیادت میں کمی بیشی ہوتی ظاہر ہے کہ جو کچھ بھی وزن مانو اس سے زیادہ بعد پر بقدر مربع بعد گھٹے گا اور بعید ہیئات (عہ۳) جدیدہ میں غیر محدود ہے تو کمی بھی غیر محدود ہے، پہاڑ کا وزن (عہ۴) رائی کے دانے کا ہزاروں حصہ رہے گا پھر اس پر بھی نہ رکے گا تو کوئی وزن کہیں محفوظ نہیں جسے اصلی ٹھہرائیے مگر اس جری بہادر ط نے اسے اور بھی کھلے لفظوں میں کہہ دیا اس کی عبارت یہ ہے جس سبب سے کہ چیزیں زمین پر گر پڑتی ہیں اُسی سبب سے ان میں وزن بھی پیدا ہوتا ہے یعنی کشش  ثقل ان کو بھاری کرتی ہے بوجھ اشیاء میں موافق مقدار کشش کے ہوگا۔ یہ ہے فلسفہ جدیدہ اور اس کی تحقیقات ندیدہ کہ پہاڑ میں آپ کچھ وزن نہیں وہ اور رائی کا ایک دانہ ایک حالت میں ہیں۔
عہ۳:  دیکھو ۲۶۔  ۱۲۔

عہ۴: اقول: بعد دیگرے سیّارہ دیگر کے جذب سے اور وزن ہلکا ہوگا زمین کے خلاف جہت کھینچا اور بفرض غلط ہو بھی تو کام نہ دے گا کہ وہ بھی عارضی ہوا کلام وزن اصلی میں ہے۔ ۱۲ منہ غفرلہ
اقول: حقیقتِ امر اور اختلافِ جذب سے ان کے دھوکے کا کشف یہ ہے کہ ہر جسم ثقیل یقیناً اپنی حد ذات میں وزن رکھتا ہے۔ پہاڑ اور رائی ضرور مختلف ہیں، شیئ میں جتنا وزن ہو اس کے لائق دباؤ ڈالے گی پھر اگر اس کے ساتھ کوئی جذب بھی شریک کرو تو دباؤ بڑھ جائے گا اور جتنا جذب بڑھے اور بڑھے گا بیس سیر کا پتھر آدمی سر پر رکھے وہ دبائے گا اور اس میں رسیاں باندھ کر دو آدمی نیچے کو زور کریں، دباؤ بڑھے گا۔ چار آدمی چاروں طرف سے کھینچیں اور بڑھے گا لیکن جذب کی کمی بیشی اصل وزن پر کچھ اثر نہ ڈالے گی جذب کم ہویا زائد یا اصلاً نہ ہو وہ بدستور رہے گی، ہاں اگر اوپر کی جانب کوئی جاذب یا چاری کی طرف ادھر سے سہارا دے یا کمانی کی لچک کی طرح اوپر اچھالے تو اِن صورتوں میں وزن کا احساس کم ہوگا یا اصلاً نہ ہوگا فی نفسہ وزن اصلی اب بھی برقرار رہے گا مگر جذب زیریں کی کمی یا نفی احساس اصلی بھی فرق نہیں کرسکتی کہ نیچے جذب نہ ہونا نہ اوپر کو کھینچتا ہے نہ سارا نہ اچھال تو اصلی وزن کا دباؤ کم ہونا محال۔ بالجملہ جذب مؤید تھا نہ کہ مولد، لیکن انہوں نے جذب کو وزن کا مولد مانا اور واقعی ان کو اس مکابرے کی ضرورت ہے کہ وزن ذاتی میل طبعی کو ثابت کرے گا اور اس کا ثبوت جاذبیت کا خاتمہ کردے گا کما سیأتی( جیسا کہ آئے گا۔ت) اور اس کے ختم ہوتے ہی ساری ہیات جدیدہ کی عمارت ڈھہ جائے گی کہ اس کی بنیاد کا یہی ایک پتھر ہے تو قطعاً اس کا مذہب یہی ہے جیسا کہ اس کی تصریحات کثیرہ سے آشکار ، نیوٹن کا قول نمبر ۸ جسے ماننا ہو پہلے ہیات جدیدہ کا سارا دفتر اور خود نیوٹن کے قواعد جاذبیت سب دریا برد کردے ظاہراً وہ نیوٹن نے ۱۶۶۵ء سے پہلے کہا ہو جب تک سیب نے گر کر جاذبیت نہ سمجھائی تھی اور اسی پر نادانستہ نمبر ۲ مبنی ہوا بہرحال کچھ ہو ہم سب ان کی ان تصریحات متناقصہ سے کام لے سکتے ہیں کہ انہیں کے اقوال ہیں لیکن ان کو اس نمبر ۱۵ سے کوئی مفر نہیں وہ ہیات جدیدہ کی بنی رکھی چاہیں تو اس کے ماننے پر مجبور ہیں کہ کسی جسم میں خود کوئی وزن نہیں بلکہ جذب سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے کہ آئندہ دھوکا نہ ہو ہم اس پر اس سے زیادہ کیا کہیں جو کہہ چکے کہ یہ بداھۃً باطل ہے ہاں وہ جو کروں پر اختلافِ وزن بتایا ہے اس سے سہل ترانہیں بتادیں۔
فاقول: ہیأت جدیدہ سے کہے کیوں خط استوا سے قطب تک دوڑے یا عطاردو آفتاب تک پھلانگتی پھرے اس کا زعم سلامت ہے تو خود اس کے گھر میں ایک ہی جگہ رکھے رکھے شے کا وزن گھٹتا بڑھتا رہے گا آج سیر بھر(عہ) کی ہے کل سوا سیر ہوجائے گی، پرسوں تین پاؤ رہ جائے گی پھر ڈیڑھ سیر ہوجائے گی، کوئی عاقل بھی اس کا قائل ہے وجہ یہ کہ سیارات و اقمارات ونجیمات ( وہ مشابہ سیارہ سوا سو سے زائد اجرام کہ مریخ و مشتری کے درمیان ابھی انیسیویں صدی میں ظاہر ہوئے ہیں جن میں جو نو ووسطا وسیرس و پلاس زیادہ مشہور ہیں ) اگرچہ کثافت و بعد میں مختلف ہوں جاذبیت رکھتے ہیں قطعاً مجموعہ تفاضل کے برابر نہیں ہوسکتا ، اب جس وقت ان کا اجتماع زمین کی جانب مقابل ہو کہ شے اُن کے اور زمین کے بیچ میں ہو تو زمین کی جاذبیت تو شے میں وزن پیدا کرے گی اور ان سب کی جاذبیت کہ جانبِ مخالف ہے ہلکا کرے گی۔ غلبہ جذب زمین کے باعث وزن بقدر تفاضل رہے گا اور جب اُن کا اجتماع زمین کے اس طرف ہو کہ شے سے زمین اور وہ سب ایک طرف واقع ہوں تو وہ اور زمین سب کی مجموعی جاذبیت اس میں وزن پیدا کرکے بہت بھاری کردے گی او ر جب کچھ ادھر کچھ ادھر ہوں وزن بین بین ہوگا۔جوہر اختلاف اوضاع پر بدلے گا اگر کہیے اختلافِ وزن کیونکر معلوم ہوسکے گا۔ جس چیز سے تو لاتھا وہ بھی تو اُتنی ہی بھاری یا ہلکی ہوجائے گی۔
عہ: یہ مدت وعدت تنظیر ہے نہ کہ تحدید ۱۲ منہ غفرلہ
اقول: قطب و خطِ استوا پر اختلافِ وزن کیونکر جانا، اب کہو گے ساقول سے، ہم کہیں گے یہاں بھی اُسی سے۔

(۱۶) ہر شبانہ روز (عہ) میں دو بار سمندر میں مدوجزر ہوتا ہے جسے جوار بھاٹا کہتے ہیں۔ پانی گزوں یہاں تک کہ خلیج فوندی (عہ۱) میں نیز شہر برستول کے قریب جہاں نہر سفرن سمندر میں گرتی ہے ستر فٹ تک اونچا اٹھتا پھر بیٹھ جاتا ہے اور جس(عہ۲) وقت زمین کے اس طرف اٹھتا ہے ساتھ ہی دوسری طرف بھی یعنی قطر زمین کے دونوں کناروں پر ایک ساتھ مد ہوتا ہے یہ جذب قمر کا اثر ہے ، ولہذا (عہ۳)جب قمر نصف النہار پر آتا ہے اس کے چند ساعت (عہ۴) بعد حادث ہوتا ہے آفتاب کو بھی اس میں دخل ہے ولہذا (عہ۵) اجتماع و مقابلہ نیر ین کے ڈیڑھ دن بعد سب سے بڑا مد ہوتا ہے مگر اثر شمس بہت کم ہے، حدائق النجوم (عہ۶) میں جذب قمر سے ۳/۱۰ کہا اصول ہیأت (عہ۷) میں ۲/۵ یا ۲۳/۵۸ جاڑوں میں (عہ۸) صبح کا مد شام کے مد سے زیادہ بلند ہوتا ہے اور گرمیوں میں بالعکس (عہ۹) چھوٹے سمندروں اور بڑی نہروں اور اُن پانیوں میں جن کو خشکی محیط ہے جیسے دریائے قزبین و دریائے ارال و بحر متوسط و بحر بالطیق وجحیوں وسیحون وگنگ و جمن وغیرہ میں نہیں ہوتا۔
Flag Counter