| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۱۱) جذب (عہ۱) بحسب مادہ مجذوب ہے ، دس جز کا جسم جتنی طاقت سے کھینچے گا سو (۱۰۰) جز کا اس کی دو چند سے۔ اگر تم ایک سیر اوردوسرے دس سیر کے جسم کو برابر عرصے میں کھنیچنا چاہو تو کیا دس سیر کو دس گنے زور سے نہ کھینچو گے۔
عہ۱: ط ص۱۱
اقول۲۵: یہ بجائے خود ہی صحیح رکھتا تھا جب اس میں مجذوب پر نظر ہو اور اس کے دو محل ہوتے اول طلب کا تبدل یعنی ہر مجذوب اپنے مادے اور بعد کے لائق طاقت مانگے گا جاذب میں اتنی قوت ہے کھینچ لے گا ورنہ نہیں، یوں یہ دونوں نسبتیں مستقیمہ ہیں کہ مجذوب میں مادہ خواہ بعد جو کچھ بھی زائد ہو اتنی ہی طاقت چاہے گا۔ دوم مجذوب پر اثر کا تبّدل ۔ یوں یہ دونوں نسبتیں معکوس ہیں کہ مجذوب میں مادہ خواہ بعد جس قدر زائد اُسی قدر اس پر جذب کا اثر کم اور جتنا مادہ یا بعد کم اتنا ہی زائد۔ مگر اس صحیح بات کو غلط استعمال کیا ہے اس میں جاذب پر نظر رکھی کہ وہ مادہ وزن مجذوب کے لائق اس پر اپنی قوت صرف کرتا ہے یہ بھی صاحب ارادہ طاقت کے اعتبار سے صحیح تھا مگر اُسے قوت طبیعہ پر ڈھالاکہ مجذوب میں جتنا مادہ ہوگا زمین اسے اتنی ہی طاقت سے کھینچے گی۔ اب یہ محض باطل ہوگیا۔ اولاً اس کا بطلان ابھی سن چکے اور انسان سے تمثیل جہالت، انسان ذی شعور ہے زمین صاحب ادراک نہیں کہ مجذوب کو دیکھے او راس کی حالت جانچے اور اس کے لائق قوت کا اندازہ کرے تاکہ اتنی ہی قوت اس پر خرچ کرے۔
تنبیہ : اگر یہ ہے تو وہ پہلا قاعدہ جس پر ساری ہیأتِ جدیدہ کا اجماع اور سردار فلسفہ جدیدہ نیوٹن کا اختراع ہے صاف غلط ہوجائے گا جب زمین مجذوب کے مادوں کا ادراک کرتی ہے اور ان کے قابل اپنی قوت کے حصے چھانٹتی ہے تو کیوں نہ اس کے بعد کا ادراک کرے گی اور ہر بعُد کے لائق اپنی قوت کا حصہ چھانٹے گی تو ہر بُعد پر جذب یکساں رہے گا۔ ثانیاً تنبیہ اقول: ملاحظہ نمبر ۲ سے یہاں ایک اور سخت اعتراض ہے نمبر ۱۵ میں آتا ہے کہ تمہارے نزدیک اختلاف وزن اختلاف جذب پر متفرع ہے اور ہم ثابت کردیں گے کہ ہیاتِ جدیدہ کو اس اقرار پر قائم رہنا لازم ورنہ ساری ہیات باطل ہوجائے گی۔ اب یہاں اختلافِ جذب اختلاف وزن پر متفرع کیا کہ دس سیر کا جسم دس گنی طاقت سے کھنچے گا۔ یہ کھلا دور ہے اگر کہیے اختلاف وزن پر نہیں اختلاف مادے پر متفرع کیا اختلاف وزن سے مثال دی ہے کہ ہماری جذب سے پہلے جذب زمین نے وزن پیدا کردیا ہے۔ اقول: مختلف قوتِ جذب چاہنا اختلافِ وزن سے ہوتا ہے مادے میں جب پیش از جذب کچھ وزن ہی نہیں تو بے وزن چیز قلیل ہو یا کثیر مختلف قوت چاہے گی۔ اگر کہے اختلاف مادے سے ماسکہ مختلف ہوگی لہذا مختلف جذب درکار ہوگا۔ اقول: ماسکہ بحسبِ وزن ہی تو ہے۔ پھر اختلاف وزن ہی پر بنا آگئی اور دور قائم رہا مگر صاف انصاف یہ کہ نمبر ۲ نیوٹن کے قول نمبر ۸ پر مبنی اور ہیات جدیدہ کا بیخکن ہے جسے وہ کسی طرح تسلیم نہیں کرسکتی بلکہ جا بجا اس کا رد کرتی ہے جس کا بیان نمبر ۱۵ میں آتا ہے۔ ہیات جدیدہ کے طور پر صحیح یہ ہے کہ ماسکہ بربنائے وزن نہیں بلکہ نفس مادے کی طبیعت میں حرکت سے انکار ہے تو جس میں مادہ زیادہ ماسکہ زائد تو انکار افزون تو اس کے جذب کو قوت زیادہ درکار، یہ تقریر یاد رکھیے اور اب یہ اعتراض یکسر اٹھ گیا۔
تنبیہ : ہیئاتِ جدیدہ نے اس تناقض کی بنا پر ایک اور قاعدہ اس سے بھی زیادہ باطل تراشا جسے اپنے مشاہدے سے ثابت بتاتی ہے بھلا مشاہدے سے زیادہ اور کیا درکار ہے۔ وہ اس سے اگلا قاعدہ ہے۔ تنبیہ ضروری : اقول: یہ دونوں قاعدے متناقض صحیح مگر ان سے اتنا کھل گیا کہ جذب کی تبدیلی تین ہی وجہ سے ہے مادہ جذب مادہ مجذوب بعد ، جن میں قابل قبول صرف دو ہیں، مادہ مجذوب اس نمبر ۱۱ نے طنبور میں نغمہ اور شطرنج میں بغلہ بڑھایا۔ بہرحال مجذوب واحد پر بعد واحد سے جاذب واحد کا جذب ہمیشہ یکساں رہے گا، وہ جو نمبر ۱۳ میں آتا ہے کہ جاذبیت بحسب سرعت بدلتی ہے، نمبر ۷ میں گزرا کہ اصل میں سرعت بحسب جاذبیت بدلتی ہے۔
(۱۲) جذب (عہ۱) اگرچہ باختلاف مادہ مجذوب مختلف ہوتا ہے مگر جاذب واحد مثلاً زمین کے جذب کا اثر تمام مجذوبات صغیرو کبیر پر یکساں ہے، سب ہلکے بھاری اجسام کہ زمین سے برابر فاصلے پر ہوں ایک ہی رفتار سے ایک ہی آن میں زمین پر گرتے کہ اُن میں آپ تو کوئی میل ہے نہیں جذب سے گرتے اور اس کا اثر سب پر برابر ایک حصہ مادے کو زمین نے ایک قوت سے کھینچا اور دس حصے کو وہ چند قوت سے تو حاصل وہی رہا کہ ہر حصہ مادہ کے مقابل ایک قوت لہذا اثر میں اصلاً فرق نہ ہوتا مگر ہوتا ہے بھاری جسم جلد آتا ہے اور ہلکا دیر میں اس کا سبب بیچ میں ہوائے حائل کی مقاومت ہے بھاری جسم سے جلد مغلوب ہوجائے گی کم روکے گی جلد آئے گی، ہلکے سے دیر میں متاثر ہوگی۔ زیادہ روکے گی دیر لگائے گا۔ اس کا امتحان آلہ ایر پمپ سے ہوتا ہی جس کے ذریعہ ہوا برتن سے نکال لیتے ہیں۔ اس وقت روپیہ اور روپے برابر کاغذ یا پر ایک ہی رفتار سے زمین پر پہنچتے ہیں یہ حاصل ہے اس کا جو چار صفحوں سے زائد میں لکھا۔
عہ۱: ط ص ۱۰تا ص۱۵ ۔ ۱۲۔
اقول: اولاً اس سے بڑھ کر عاقل کون کہ لفظ کہے اور معنٰی نہ سمجھے جس میں وزن زیادہ ہے وہ مقاومت ہوا پر جلد غالب آتا ہے ، زیادہ وزن کے کیا معنٰی یہی نا کہ وہ زیادہ جھکتا ہے ، یہ اس کی اپنی ذات سے ہے تو اسی کا نام میل طبعی ہے جس کا ابھی تم نے انکار مطلق کیا اور اگر زمین اسے زیادہ جھکاتی ہے تو یہی تفاوت اثر جذب ہے اس پر زیادہ نہ ہوتا تو زیادہ کیوں جھکتا۔ ثانیاً زیادتِ وزن کا اثر صرف یہی نہیں کہ مقاومت پر جلد غالب آئے بلکہ اس کا اصل اثر زیادہ جھکنا ہے ۔،مقاومت پر جلد غلبہ بھی اسی زیادہ جھکنے سے پیدا ہوتا ہے اگر پہاڑ آکر معلق رہے نیچے نہ جھکے ہوا کو ذرہ بھر شق نہ کرے گا۔ تمہاری جہالت کہ تم نے فرع کو اصل سمجھا اور اصل کو یک لخت اڑا دیا۔ مقاومت پر اثر ڈالنا زیادہ جھکنے پر موقوف تھا لیکن زیادہ جھکنا کسی مقاوم کے ہونے نہ ہونے پر موقوف نہیں وہ نفس زیادت وزن کا اثر ہے تو ہوا بالکل نکال لینے پر بھی یقینا رہے گا اور روپیہ ہی جلد پہنچے گا بلکہ ممکن کہ اب پہلے سے بھی زیادہ کہ اس وقت اس کی جھونک کو ہوا کی روک تھی اب وہ روک بھی نہیں۔ اہل انصاف دیکھیں کیسی صریح باطل بات کہی اور مشاہدے کے سرتھوپ دی، یہ حالت ہے ان کے مشاہدات کی، یہ دیگ کا چاول یاد رہے کہ آئندہ کے اور خلافِ عقل دعوؤں کی بانگی ہے اور اس کا زیادہ مزہ فصل دوم میں کھلے گا ان شاء اللہ تعالٰی، اور ہمارے نزدیک حقیقتِ امر یہ ہے کہ ہر ثقیل میں ذاتی ثقل او ر طبعی میل سفل ہے۔ کہ بزیادت وزن زائد ہوتا ہے تو ہلکی خود ہی کم جھکے گی اگرچہ ہوا حائل نہ ہو، اور حائل ہوئی تو اسے شق بھی کم کرے گی تو بھاری چیز کے جلد آنے کا ایک عام سبب ہے اس میں میل فزوں ہونا خواہ کوئی حائل ہو یا نہ ہو، اور در صورت حیلولت زیادت وزن کے باعث حائل کو زیادہ شق کرنا تو بغرض غلط، ہوا برتن سے بالکل نکال بھی لی جائے روپیہ پھر بھی پَر سے یقیناً جلد آئے گا اگرچہ چند انگل کی مسافت میں تمہیں فر ق محسوس نہ ہو۔
(۱۳) جب (عہ۱)کوئی جسم دائرے میں دائر ہو تو مرکز سے نافرہ اور مرکز کی طرف جاذبہ (ازانجاکہ دونوں برابر ہوتی ہیں) مربع سرعت بے نصف قطر دائرہ کی نسبت سے بدلتی ہیں۔ اء سرعت ہے یعنی وہ مسافت کہ جسم نے مثلاً ایک سیکنڈ میں قطع کی نافرہ کی دلیل اب ہے یعنی وہ اسے یہاں تک پھینکتی ہے تو سیدھا اسی طرح جاتا مگر جاذبہ ار نے اسے ی مرکز کی طرف کھینچا تو جسم ا ب سے ا ء کی طرف پھر گیا، چھوٹی قوس اور اس کے وتر میں فرق کم ہوتا ہے۔ لہذا قوس ا ء کی جگہ وتر اء لو اور جاذبہ کو ح اور سرعت کو س فرض کر : ار: اء :: اء یعنی ح : س :: س : قطر یعنی ح = س۲/قطر یعنی جاذب س ۲/نصف قطر کی نسبت پر بدلے گی اور دائرے پر حرکت میں جاذبہ و نافرہ برابر ہوتی ہیں اور ایک دائرے میں نصف قطر کی قیمت محفوظ ہے لہذا جاذبہ ونافرہ مربع سرعت کی نسبت بدلیں گی مثلاً ڈور میں گیند باندھ کر گھماؤ جب سرعت دو چند ہوگی ڈور پر زور چہار چند ہوگا تو ڈور یعنی جاذبہ کی مضبوطی بھی چہار چندہونی چاہیے۔
عہ۱: ص ۱۰۳۔ ۱۲۔
27_12.jpg
اقول: یہ سب تلبیسیں و تدلیس ہے۔ اولا ا ر جاذبیت رکھی کہ سہم قوس ا ء ہے اور اب واقعیت کے مساوی رء جب قوس مذکور ہے اور جیب سہم سواربع دو روسہ ربع دور کے کبھی مساوی نہیں ہوسکتے ربع اول و چہارم میں ہمیشہ جیب بڑی ہوگی اور دوم و سوم میں ہمیشہ سہم اور بوجہ صغر قوس قلت تفاوت کا عذر مردود ہے۔ ثانیاً اب دافعیت نہیں بلکہ وہ مسافت جس تک اس دفع کے اثر سے جاتا خود بھی اسے دلیل نافرہ کہا یہاں دافع کہا جب اتنا اثر ہے تو جاذبہ کے تجاذب سے اگر گھٹے نہیں تو بڑھنا کوئی معنٰی ہی نہیں رکھتا تو جسم یہاں اسی قدر مسافت پر جاسکتا ہے۔ وہ قوس ا ء رکھی پھر وتر اء تو واجب کہ ا ب و اء یعنی جیب وتر مساوی ہوں اور یہ قطعاً ہمیشہ محال ہے ا رء قائم الزاویین اور دونوں قائمے ہوئے یا قائمہ مساوی حادہ اور عذر صغر پہلے رد ہوچکا۔ ثالثاً : ا رسہم و ا ء وتر بھی مساوی ہوگئے اور یہ بھی محال ہے ا ب مثلث ا ر ء قائم الزاویہ مختلف الاضلاع ہوگیا اور قائمہ ۶۰ درجے کا رہ گیا اور ایک ثانیہ ۱۸۰ درجے ایک ثانیہ یہ ہوا کہ رء (عہ) ا محیطیہ ایک ثانیہ پر پڑا ہے اور ر ا ء محیطیہ ایک ثانیہ کم نصف دور پر اور دونوں مساوی ہیں کہ دونوں کے وتر مساوی ہیں۔(مامونی) تو دونوں قوسیں مساوی ہیں۔(مقالہ ۳ شکل ۲۵) بالجملہ اس پر بے شمار استحالے ہیں۔
عہ: تو یہ نصف ثانیہ ہوا اور ر ا ء ۵۹۵۹۸۹ٍ۔۳ اور دونوں مساوی ہیں اور نسبت اضعاف مثل نسبت انصاف ہے۔(اقلیدس ۵ مقالہ شکل ۱۵) تو ایک ثانیہ ۵۹۵۹۱۷۹ کے برابر ہوا، یعنی ۱=۶۴۷۹۹۹ ::۶۴۷۹۹۸ یہ ہیں تحقیقات جدیدہ ۱۲ منہ غفرلہ
رابعاً یہ ضرور ہے کہ مہندسین نہایت صغیر قوسوں میں اُن کے وتر اُن کی جگہ لے لیتے ہیں جیسے اعمال کسوف و خسوف میں، مگر اسے تو حکم عام دینا ہے، ہر جگہ یہ ٹٹو کیسے چلے گا، دیکھو نصف دو ۱۸۰ درجے محیط ہے اور اس کا وتر کہ قطر ہے صرف ۱۲۰ درجے وہ بھی قطریہ کہ محیطیہ کے ۱۵ ۱(عہ۱) سے بھی کم ہوئے فرض کرو قوس ا ء ۶۰ درجے ہے تو درجات قطریہ سے ا ر سہم صرف ۳۰ ہے اور رء جیب تقریبا ۵۲(عہ۲) ا ء قوس تقریباً ۶۳ (عہ۳) مجنون ہے جو ان سب کو مساوی کہے۔
عہ۱: یعنی ۱۱۴ درجے ۳۵ دقیقے ۲۹ ثانیے ۳۶ ثالثے ۴۷ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ عہ۲: یعنی ۵۱ درجے ۵۷ دقیقے ۴۱ ثانیے ۲۹ ثالثے ۱۴ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ عہ۳: یعنی ۶۲ درجے ۴۹ دقیقے ۵۴ ثا نیے ۴۰ ثالثے ۴۴ رابعے ۱۲ منہ غفرلہ ۔
خامساً تساوی قوتین پر شکل وہ نہ ہوگی بلکہ یہ اب دلیل واقعہ ہے ا کو مرکز مان کر بعد ب پر قوس ب ر کھینچی جس نے محیط کو ء پر قطع کیا اورقطر کو ر پر تو ا ء مسافت واثر دافعیت ہوئی اور ا ر اثر جاذبیت ا ب ا ر سہم قوس اء نہیں بلکہ اس کا سہم ا ح ہے بحکم شکل مذکور اقلیدس ا ح بحسب مربع ا ء بدلے گا نہ کہ جاذبیت ا ر۔
27_13.jpg
سادساً دعوٰی میں جاذبہ نافرہ دونوں تھیں اور بغرض باطل اس دلیل سے ثابت ہوا تو جاذبہ کا بحسب مربع مسافت بدلنا جسے بنادانی مربع سرعت کہا سرعت مسافت نہیں بلکہ مسافت مساویہ کو زمانہ اقل میں قطع کرنا نافرہ کے دعوے کو تساوی جاذبہ ونافرہ پر حوالہ کیا اور اسے خود شکل میں بگاڑ دیا کہ جاذبہ سہم رکھی اور دافعہ جیب، بلکہ وتر، بلکہ قوس، اہلِ انصاف دیکھیں یہ حالت ہے انکی اوہام پرستی کی، اپنے باطل خیالات کو کیسا زبردستی برہان ہندسی کا لباس پہنا کر پیش کرتے ہیں۔