| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
اقول۱۸: اولاً یہ کہنا تھا کہ دونوں ثقل مطلق میں برابر ہیں یعنی میل بمرکز زمین دونوں کی طبیعت میں ہے مطلق میں موازنہ کی گنجائش کہاں۔ ثانیا ۱۹: اسی وجہ سے مطلق کو مقدار مادے کے مساوی ماننا جہل ہے کیا مقدار مادہ کی کمی بیشی سے مطلق بدلے گا۔ ثالثا ۲۰: یہ جو تفاوت مادے سے کم بیش ہوتا ہے محال ہے کہ لوہے اور لکڑی میں مساوی ہو۔ جسم جتنا کثیف تر اس میں مادہ یعنی وہی اجزائے دیمقر اطیسیہ کما سیأتی۔ ( جیسا کہ آگے آئے گا۔ت) بیشتر لوہے کی کثافت لکڑی کہاں سے لائے گی۔ یہ لوگ جب اس میدان میں آتے ہیں ایسی ہی ٹھوکریں کھاتے ہیں، پھر کہا دوسرا ثقل مضاف یعنی ایک جسم کو دوسرے کی نسبت سے یہ باختلافِ انواع مختلف ہوتا ہے، ایک ہی حجم کی دو چیزوں میں اُن کے مادوں کی نسبت سے مختلف ہوتا ہے۔ ایک انگل مکعب لوہا بھی لو اور لکڑی بھی، لوہا زیادہ بھاری ہوگا کہ مساوی جسامت کے لوہے میں لکڑی سے مادہ زائد ہے۔
اقول ۲۱: فرق کیا ہوا، ثقل مطلق بھی موافق مقدار مادہ تھا جس کے یہی معنی کہ مادے کی کمی بیشتی سے بدلے گا، یہی مضاف میں ہے کمی بیشی کا لحاظ وہاں بھی بے لحاظ تعددو نسبت دو شے ممکن نہیں، اگر یہ فرض کرلو کہ شے واحد میں مادہ اس سے کم ہوجائے تو ثقل کم ہوگا اور زائد تو زائد تو کیا یہ دو چیزوں اور ان کی نسبت کا اعتبار نہ ہوا۔ بالجملہ ان کے یہاں مدار ثقل کثرت اجزاء پر ہے کم اجزا میں کم زائد میں زائد، اور یہ نہیں مگر وزن تو اُن کے یہاں ثقل ووزن شے واحد ہے ، ہم آئندہ غالباً اسی پر بنائے کلام رکھیں گے۔
(۹) ہر جسم (عہ۱)کا مادہ جسے ہیولٰی وجسمیہ بھی کہتے ہیں وہ چیز ہے جس سے جسم اپنے مکان کو بھرتا اور دوسرے جسم کو اپنی جگہ آنے سے روکتا ہے۔
عہ۱: ح ص ۳۲
اقول۲۲: یہ وہی اجزائے دیمقراطیسیہ ہوئے اور ان کی کمی بیشی جسم تعلیمی یعنی طول عرض عمق کی کمی بیشی پر نہیں بلکہ جسم کی کثافت پرایک حجم کے دو جسم ایک دوسرے سے کثیف تر ہوں جیسے آہن وچوب یا طلا وسیم کثیف تر ہیں، اجزاء زیادہ ہوں گے کبھی زیادہ حجم میں کم جیسے لوہا اور روئی۔
(۱۰) جاذبیت (عہ۲) بحسب مادّہ سیدھی بدلتی ہے اور بحسب مربع بعد بالقلب،
عہ۲: ص ۱۲
اقول ۲۳: یہاں مادے سے مادہ جاذب مراد ہے اور تبدل سے طاقت جذب کا تفاوت یعنی جاذب میں جتنا مادہ زائد اُتنا ہی اس کا جذب قوی۔ یہ سیدھی نسبت ہوئی اور بعد مجذوب کا مجذور، جتنا زائد اتنا ہی اس کا جذب ضعیف گز بھر بعد پر جو جذب ہے دو گز پر اس کا چہارم ہوگا۔ دس گز پر اس کا سوواں حصہ یہ نسبت معکوس ہوئی کہ کم پر زائد،زائد پر کم۔
نتیجہ : (ا) کثیف ترکہ جذب اشد۔ (ب) قریب تر پر اثر اکثر۔ (ج) خطِ عمود پر عمل اقویز
تنبیہ جلیل : اقول ۲۴: یہ قاعدہ دلیل روشن ہے کہ طبعی قوت جذب ہر شے کی طرف یکساں متوجہ ہوتی ہے مجذوب کی حالت دیکھ کر اس پر اپنی پوری یا آدھی یا جتنی قوت اس کے مناسب جانے صرف کرنا اس کا کام ہے جو شعور و ارادہ رکھے طبعی قوت ادراک نہیں رکھتی کہ مجذوب کی حالت جانچے اور اس کے لائق اپنے کل یا حصے سے کام لے وہ تو ایک ودیعت رکھی قوت بے ارادہ و بے ادراک ہے نہ اس میں جدا جدا حصے ہیں شے واحد ہے اور اس کا فعل واحد ہے اس کا کام اپنا عمل کرنا ہے مقابل کوئی شے کیسی ہی ہو، بھیگا ہوا کپڑا دھوپ میں پھیلا دو جس کے ایک حصے میں خفیف نم ہو اور دوسرا حصہ خوب تر۔ حرارت کا کام جذب رطوبات ہے، اس وقت کی دھوپ میں جتنی حرارت ہے وہ دونوں حصوں پر ایک سی متوجہ ہوگی۔ ولہذا نم کا حصہ جلد خشک ہوجائے گا۔ اور دوسرا دیر میں کہ اتنی حرارت اس خفیف کو جلد جذب کرسکتی تھی اور اگر یہ ہوتا کہ طبعی قوت بھی مقابل کی حالت دیکھ کر اسی کے لائق اپنے حصے سے اس پر کام لیتی تو واجب تھا کہ نم بھی اتنی ہی دیر میں سوکھتی جتنی میں وہ گہری تری کہ ہر ایک پر اسی کے لائق جذب آتا، نم پر کم اور تری پر زائد، حالانکہ ہر گز ایسا نہیں بلکہ دھوپ اپنی قوتِ جذب کا پورا عمل دونوں پرکرتی ہے، ولہذا کم کو جلد جذب کرلیتی ہے یوں ہی مقناطیس لوہے کے ذروں کو ریزوں سے جلد جذب کرے گا اگر ہر ایک کے لائق جذب کرتا تو جس قوت سے ریزوں کو کھینچا تھا عام ازیں کہ کل قوت تھی یا بعض جو نسبت ذروں کو ان ریزوں سے ہے اسی نسبت کے حصہ قوت سے ذروں کو کھینچتا دونوں برابر آتے نہیں نہیں بلکہ قطعاً سب کو اپنی پوری قوت سے کھینچا جس نے ہلکے پر زیادہ عمل کیا، یوں ہی بعد کے بڑھنے سے جذب کا ضعیف ہوتا جانا قطعاً اسی بنا پر ہے کہ وہی قوت واحدہ ہر جگہ عمل کررہی ہے، ظاہر کہ قریب پر اس کا عمل قوی ہوگا اور جتنا بعد بڑھے گا گھٹتا جائے گا اور اگر ہر بعد کے لائق مختلف حصے کام کرتے تو ہر گز بعد بڑھنے سے جذب میں ضعف نہ آتا جب تک ساری طاقت ختم نہ ہوچکتی کہ ہر حصے بعد پر طبیعت اپنی قوت کے حصے پڑھاتی جاتی اور نسبت یکساں رہتی ہاں جب آگے کوئی حصہ نہ رہتا تو اب بعد بڑھنے سے گھٹتی کہ اب عمل کرنے کی یہی قوت واحدہ معینہ رہ گئی بالجملہ بعد بڑھنے سے ضعف آنے کو لازم ہے کہ ہر جگہ ایک ہی قوت معینہ عامل ہو اور وہ کوئی حضہ نہیں ہوسکتی کہ حصوں کی تقسیم غیر متناہی یہ حصہ معین ہوا وہ کیوں نہ ہوا ترجیح بلا مرجح ہے لہذا واجب کہ طبعی جاذب ہمیشہ اپنی پوری قوت سے عمل کرتا ہے۔ یہ جلیل فائدہ یاد رکھنے کا ہے کہ بعونہ تعالٰی بہت کام دے گا۔
تنبیہ : اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ مثلاً زمین کا پورا کرہ اپنی ساری قوت سے ہر شے کو کھینچتا ہے بلکہ مجذوب کے مقابل جتنا ٹکڑا ہے جیسے اس کپڑے کو شرق تا غرب پھیلی ہوئی ساری دھوپ نے نہ سکھایا تھا بلکہ اُسی قدر نے جو اس کے محاذی تھی۔