| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۵) انہیں(عہ۱) جاذبہ و نافرہ کے اجتماع سے حرکتِ دوریہ پیدا ہوتی ہے تمام سیّاروں کی گردش شمس کی جاذبہ اور اپنی ہاربہ کے سبب ہے۔ فرض کرو زمین یا کوئی سیارہ نقطہ ا پر ہے اور آفتاب ج پر شمس کی جاذبہ اسے ج کی طرف کھینچتی ہے اور نافرہ کا قاعدہ ہے کہ خط مماس ۔(عہ۲) پر لے جانا چاہتی ہے یعنی اس خط پر کہ خط جاذبہ پر عمود ہو جیسے ا ج پر اب دونوں(عہ۳) اثروں کی کشاکش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین نہ ب کی طرف جاسکتی ہے نہ ج کی جانب بلکہ دونوں کی بیچ میں ہو کر ء پر نکلتی ہے یہاں بھی وہی دونوں اثر ہیں جاذبہ ء سے ج کی طرف کھینچتی ہے اور نافرہ ہ کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ لہذا زمین دونوں کے بیچ میں ہو کر ر کی طرف بڑھتی ہے اسی طرح دورہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ مدار جو اس حرکت سے بنا بظاہر مثل دائرہ خط واحد معلوم ہوتا ہے اور حقیقۃً (عہ۴) ایک لہردار خط ہے جو بکثرت نہایت چھوٹے چھوٹے مستقیم خطوں سے مرکب ہوا ہے جن میں ہر خط گویا ایک نہایت چھوٹی شکل متوازی الاضلاع کاقطر ہے۔
27_11.jpg
عہ۱: ح: ص ۳۷ اص ۷۷ ط ص ۶۳۔ ۱۲۔ عہ۲: ص ۱۰۶ وغیرہ ح: ص ۳۸ ط : ۵۸ عہ۳: ص ۱۰۴ وغیرہ ط ح وغیرہا ۱۲ عہ۴: ص ۱۰۴ عہ۵ : ص ۱۰۲ ط ص ۸۲ ن ص ۲۳ ۔ ۱۲۔
اقول۱۰: یہ جو یہاں ہے کہ نافرہ سے دورہ پیدا ہوتا ہے یہی ان کے طور پر قرین قیاس ہے اور وہ جو اُن کا زبان زد ہے کہ دورے سے نافرہ پیدا ہوتی ہے بے معنی ہے مگر ہیاتِ جدیدہ الٹی کہنے کی عادی ہے جس کا ذکر تذ ییل فصل سوم میں ہوگا ان شاء اﷲ تعالٰی۔
تنبیہ : یہ جو یہاں مذکور ہوا کہ جاذبہ و نافرہ مل کر دورہ بناتی ہیں یہی ہیات جدیدہ کا مزعوم ہے۔ تمام مقامات پر انہیں کا چرچا انہیں کی دھوم ہے ط (ص۹۳) پر بھی یہی مرقوم ہے ص ۵۶ پر اس نے ایک شاخسانہ بڑھایا کہ فرض کرو وقت پیدائش زمین خلا میں پھینکی گئی تھی کوئی شے حائل نہ ہوتی تو ہمیشہ ادھر ہی کو چلی جاتی راستے میں آفتاب ملا اور اس نے کھینچ تان شروع کی۔
اقول ۱۱: واقعیات کا کام فرضیات سے نہیں چلتا، مدعی کا مطلب شاید اور ممکن سے نہیں نکلتا یہ لوگ طریقہ استدلال سے محض نابلد ہیں، اگر کوئی شے مشاہدہ یا دلیل سے ثابت ہو اور اس کے لیے ایک سبب متعین مگر اس میں کچھ اشکال ہے جو چند طریقوں سے دفع ہوسکتا ہے۔ اور ان میں کوئی طریقہ معلوم الوقوع نہیں ۔ وہاں احتمال کی گنجائش ہے کہ جب فہم متحقق اور اس کا یہ سبب متعین تو اشکال واقع میں یقیناً مندفع تو یہ کہنا کافی کہ شاید یہ طریقہ ہو لیکن نا ثابت بات کے ثابت کرنے میں فرض و احتمال کا اصلاً محل نہیں کہ یوں تو ہمارے اس فرض کی تابع ہوئی یوں فرض کریں تو ہوسکے نہ کریں نہ ہوسکے اس سے مدعی کے لیے وہی کافی مانے گا، جو مجنون ہے۔ پھر اگر شے ثابت و متحقق ہے اور یہ سب متعین نہیں تو دفع اشکال پر بنائے احتمال ایک مجنونانہ خیال ، اور اگر سرے سے شیئ ہی ثابت نہیں، نہ اس کے لیے یہ سبب متعین، پھر اس میں یہ اشکال تو کسی احتمال سے اس کا علاج کرکے شے اور سبب دونوں ثابت مان لینا۔ دوہرا جنون اور پوراضلال۔ پھر اگر علاج کے بعد بھی بات نہ بنے جیسا کہ یہاں ہے جب تو جنونوں کی گنتی ہی نہ رہی۔ یہ نکتہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ بعض جگہ مخالف دھوکا نہ دے سکے۔
(۶) ہر مدار (عہ۱) میں جاذبہ و نافرہ دونوں برابر رہتی ہیں، ورنہ جاذبہ غالب ہو تو مثلاً زمین شمس سے جا ملے، نافرہ غالب ہو تو خطِ مماس پر سیدھی چلی جائے دورہ کا انتظام نہ رہے۔
عہ۱:ص ۱۰۳۔
اقول۱۲: بتاتے یہ ہیں اور خود ہی اس کے خلا ف کہتے ہیں اور حقیقتاً تناقض پر مجبور ہیں جس کا بیان فصل اوّل سے بعونہ تعالٰی ظاہر ہوگا۔
(۷) نافرہ(عہ۲) بمقدار جذب ہے اور سُرعت حرکت بمقدار نافرہ ، جذب جتنا قوی ہوگا نافرہ زیادہ ہوگی کہ اس کی مقاومت کرے اور نافرہ جتنی بڑھے گی چال کا تیز ہونا ظاہر ہے کہ وہ نتیجہ نفرت ہے و لہذا سیارہ آفتاب سے جتنا بعید ہے اتنا ہی اپنے مدار میں آہستہ حرکت کرتا ہے۔ سب سے قریب عطارد ہے کہ ایک گھنٹہ میں ایک لاکھ پانچہزار تین سو تیس میل(عہ۳) چلتا ہے اور سب سے دور نیپچون ایک گھنٹہ میں گیارہ ہزار نو سو اٹھاون میل۔
عہ۲: ط ص ۶۴ ۔ ۱۲۔ عہ۳: ص ۲۶۷ ۲۱ ط ص ۵۸ ن ص ۲۴ ۔۱۲
اقول۱۳: یہ قرین قیاس ہے، اور وہ جو نمبر ۱۳ میں آتا ہی کہ جاذبہ و نافرہ بحسب سرعت بدلتی ہیں معکوس گوئی پر مبنی ہونا ضرور نہیں بلکہ مقصود و نسبت بتانا ہے۔
(۸) اجسام (عہ۱) اجزائے دیمقراطییہ سے مرکب ہیں، نیوٹن نے تصریح کی کہ وہ نہایت چھوٹے چھوٹے جسم ہیں کہ ابتدائے آفرینش سے بالطبع قابلِ حرکت و ثقیل و سخت و بے جوف ہیں، اُن میں کوئی حس میں تقسیم کے اصلاً لائق نہیں اگرچہ وہم اُن میں حصّے فرض کرسکے۔
عہ۱: ح ۳۲۔ ۱۲۔
اقول ۱۴: اولاً یہ من وجہ ہمارے مذہب سے قریب ہے ہمارے نزدیک ترکیب اجسام جواہر فردہ یعنی اجزائے لایتجزی سے ہے کہ ہر ایک نقطہ جوہری ہے جن میں عرض، طول عمق، اصلاً نہیں وہم میں بھی انکی تقسیم نہیں ہوسکتی۔ فلسفہ قدیمہ جسم کو متصل وحدانی مانتا ہے جس میں بالفعل اجزاء نہیں اور بالقوہ تقسیم غیر متناہی کا قائل ہے۔
ثانیاً نیوٹن کی تصریح کہ وہ سب اجزا بالطبع قابل حرکت ہیں بظاہر نمبر ۲ کے مناقض ہے کہ جسم بالطبع حرکت سے منکر ہے اور اثر قاسر سے قبول حرکت اس کے فقط بالطبع کے خلاف ہے مگر یہ کہا جائے کہ طبیعت ہی میں قبول اثر قاسر کی استعداد رکھی گئی ہے کہ یہ صلاحیت نہ ہوتی تو قاسر سے بھی حرکت ناممکن ہوتی اور طبیعت ہی کو اپنے وزن و ثقل طبعی کے باعث حرکت سے انکار ہے یہ قوت ہے جس کا کام فعل کرنا ہے یعنی محرک کی مزاحمت اور وہ صلاحیت ہے جس کی شان قبول اثر ہے۔ حاصل یہ کہ اپنے وزن کے سبب ممانعت کرتی ہے اور قوت قسر کے باعث قبول کرلیتی ہے تو تعارض نہیں۔
اقول۱۶: ثالثا یہ سب سہی مگر یہ قول ایسا صادر ہوا کہ ساری ہیات جدیدہ کا خاتمہ کرادیا جس کا بیان ان شاء اللہ آتا ہے معلوم نہیں نیوٹن نے کس حال میں ایسا لفظ ثقیل لکھ دیا جس نے اسی کے ساختہ پر داختہ قواعد جاذبیت کو خفیف کردیا۔
فائدہ : ہمارے علمائے متکلمین ثقل ووزن میں فرق فرماتے ہیں وہ بلحاظ نوع ہے یہ بلحاظ فد وہ ایک صفت مقتضائے صورت نوعیہ ہے جس کا اثر طلب سفل ہے اُسے حجم و وزن و کثرت اجزائے سے تعلق نہیں لٹھے میں لوہے کی چھٹنکی سے وزن زائد ہے مگر لوہا لکڑی سے زیادہ ثقیل ہے (عہ۲) اور حدائق النجوم میں کہا ثقل ہمیشہ جسم کو نیچے کھینچتا ہے پھر نقل (عہ۳)کیا کہ ثقل وہ میل طبعی ہے کہ سب اجسام کو کسی مرکز کی طرف ہے۔
عہ۲: ح ص ۳۴۔۱۲ عہ۳: ص ۳۷۔ ۱۲۔
اقول ۱۷: یہ مسامحت ہے ثقل میں میل نہیں بلکہ سبب میل ہے جیسا خود آگے کہا کہ وہ دو قسم ہے اول مطلق یعنی نفس ثقل جس کے سبب جملہ اجسام اپنے مرکز مجموعہ کی طرف میل کرتے ہیں، جیسے ہمارے کرہ کے عنصریات جانب مرکز زمین یہ ہمیشہ مقدار مادہ جسم کے برابر ہوتا ہے جس میں اس کی جسامت کا اعتبار نہیں تو لکڑی اور لوہا دونوں کا ثقل مطلق برابر ہے۔