Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
61 - 212
مقدمہ، امورِ مسلّمہ ہیأت جدیدہ میں
ہم یہاں وہ امور بیان کریں گے جو ہیاتِ جدیدہ میں قرار یافتہ و تسلیم شدہ ہیں واقع میں صحیح ہوں یا غلط جذب و نفرت و حرکتِ زمین کے رَد میں تو یہ رسالہ ہی ہے اور اغلاط پر تنبیہ بھی کردیں گے۔وباﷲ التوفیق۔
 (۱) ہر جسم میں دوسرے کو اپنی طرف کھینچنے کی ایک قوت طبعی ہے جسے باذبا یاجاذبیت کہتے ہیں۔ 

اس کا پتہ(عہ) نیوٹن کو ۱۶۶۵ء میں اُس وقت چلا جب وہ وبا سے بھاگ کرکسی گاؤں گیا ، باغ میں تھا کہ درخت سے سیب ٹوٹا اُسے دیکھ کر اسے سلسلہ خیالات چھوٹا جس سے قواعد کشش کا بھبھوکا پھوٹا۔
عہ: یعنی اصول علم طبعی ص ۷۵ ۔۱۲
اقول : سیب گرنے اور جاذبیت کا آسیب جاگنے میں علاقہ بھی ایسا لزوم کا تھا کہ وہ گرا اور یہ اُچھلا کیونکہ اس کے سوا اس کا کوئی سبب ہوسکتا ہی نہ تھا۔ اس کی پوری بحث تو فصل دوم میں آتی ہے۔۱۶۶۵ء تک ہزاروں برس کے عقلا سب اس فہم سے محروم گئے تو گئے تعجب یہ کہ اس سیب سے پہلے نیوٹن نے بھی کوئی چیز زمین پر گرتے نہ دیکھی یا جب تک اس کا کوئی اور سبب خیال میں تھا جسے اس سیب نے گر کر توڑ دیا۔
 (۲) اجسام ۔(عہ۱) میں اصلاً کسی طرف اُٹھنے گرنے سرکنے کا میل ذاتی نہیں بلکہ ۔(عہ۲) اُن میں بالطبع قوت  ماسکہ ہے کہ حرکت کی مانع اور تاثیر قاسر کی تاحدِ طاقت مدافع ہے۔ یہ قوت ہر جسم میں اس کے وزن کے لائق ہوتی ہی ۔ ولہذا ایک جسم سے کوئی حصہ جدا کرکے دوسرے میں شامل کردیں وزن کی نسبت پر اول میں گھٹ جائے گی اور دوسرے میں بڑھ جائے گی۔
عہ۱: ط ص ۱۲/ ۱۱ ط سے مراد علم طبعی ہے۔عزیزی 

عہ۲: حدائق النجوم  ص ۱۲/ ۲۳
اقول۲ :اولاً  خود جسم میں یہ قوت ہونے پر کیا دلیل ہے اگر کہیے تجربہ کہ ہم جتنے زیادہ وزنی جسم کو حرکت دینا چاہتے ہیں زیادہ مقابلہ کرتا اور قوی طاقت مانگتا ہے۔

اقول۳:  جذب زمین کدھر بھلایا زمین اُسے کھینچ رہی ہے تم اسے جدا حرکت دینی چاہتے ہو اس کی روک کا احساس کرتے ہو یہ تمہارے طور پر ہے اگر یقیناً باطل ہے جس کا بیان فصل دوم میں آتا ہے اور ہمارے نزدیک جسم کا میل طبعی اپنے خلاف جہت میں مزاحمت کرتا ہے مطلقاً حرکت سے ابا۔ یہ تو تمہارا تخیل ہے اور فلسفہ قدیمہ اس کے عکس کا قائل ہے کہ ہر ایک جسم میں کوئی نہ کوئی میل مستقیم خواہ مستدیر ضرور ہے وہ اپنے خلاف میل کی مدافعت کرے گا اور موافق کی مطاوعت جیسے پتھر اوپر پھینکنے اور نیچے گرانے میں اس کا رد بھی بعونہ تعالٰی تذییل فصل سوم میں آتا ہے ہمارے نزدیک اجسامِ مشہودہ میں میل ہے سب میں ہونا کچھ ضرور نہیں ماسکہ کسی میں پائی نہ گئی اور ہو تو کچھ محذور نہیں۔

ثانیاً  یہ اخیر فقرہ ایسا کہا ہے جس نے تمام ہیئات جدیدہ کا تسمہ لگا نہ رکھا، جس کا بیان آتا ہے ان شاء اﷲ تعالٰی اور یہ تمہاری اپنی نہیں بلکہ نیوٹن صاحب کی اپنی جاذبیت پرعنایت ہے کہ نمبر ۸ میں آتی ہیں۔

(۳) ہر جسم بالطبع دوسرے کے جذب سے بھاگتا ہے اس قوت کا نام نافرہ ، ہاربہ ، دافعہ ، محر کہ نافریت ہے۔
اقول۴: جاذبہ تو سیب کے گرنے سے پہچانی، یہ کا ہے سے جانی، شاید سیب گرنے میں نیچے دیکھا تو زمین تھی، اُس کا جذب خیال میں آیا اوپر دیکھا تو سیب شاخ سے بھاگتا پایایوں نافرہ کا ذہن لڑایا حالانکہ نیچے لانے کو ان میں ایک کافی ہے دوکس لیے۔ حدائق النجوم ۔(عہ۱) میں کہا برابر سطح پر گولی پھینکیں تو بالطبع خطِ مستقیم پر جاتی ہے یہ نافرہ ہے۔
عہ۱: ص ۱۲/ ۳۸  ح ص ۳۸ ط ص ۳۰ ن یعنی نظارہ عالم ص ۲۳ ۔۱۲ منہ
اقول۵: پھینکیں میں اس کا جواب ہے آہستہ رکھ دیں کہ جنبش نہ ہو تو بال بھر نہ سِرکے گی۔ ہاں سطح پوری لیول میں نہ ہو تو ڈھال کی طرف ڈھلے گی۔ پھر کہاکنکیا میں پتھر باندھ کر اڑائیں سیدھا زمین پر آئے گا۔ یہ نافرہ ہے۔

اقول۶: وہی بات آگئی جو ہم نے ان کی دانش پر گمان کی تھی کہ نیچے دیکھا تو جذب سمجھے اوپر نگاہ اٹھی تو اسے بھول گئے فرار پر قرار ہوا۔

(۴) جب (عہ۲) کوئی جسم کسی دائرے پر حرکت کرے اس میں مرکز سے نفرت ہوتی ہے۔ پتھر رسی میں باندھ کر اپنے گرد گھماؤ وہ چھوٹنا چاہے گا اور جتنے زور سےگھماؤ گے زیادہ زور کرے گا اگر چھٹ گیا تو سیدھا چلا جائے گا اور جس قدر قوت سے گھمایا تھا اتنی دور جا کر گرے گا۔ یہ مرکز سے پتھر کی نافریت ہے۔
عہ۲: ص یعنی اصول علم الہیأۃ ع ۱۰۳ وغیرہ ۔
اقول ۷: نافریت بے دلیل اور پتھر کی تمثیل ، نری علیل، پتھر کو انسان یا مرکز سے نفرت نہ رغبت جانب خلاف جو اس کا زور دیکھتے ہو تمہاری دافعہ کا اثر ہے نہ کہ پتھر کی نفرت، تحقیق مقام کے لیے ہم ان قوتوں کی قسمیں استخراج کریں جو باعتبار حرکت کسی جسم پر قاسر کا اثر ڈالتی ہیں۔

فاقول۸: وہ تقسیم اول میں دو ہیں، محرکہ کہ حرکت پیدا کرے اور حاصرہ کہ حرکت کو بڑھنے نہ دے مثلاً ڈھلکتے ہوئے پتھر کو ہاتھ سے روک لو۔ پھر محرکہ دو قسم ہے۔
جاذبہ: کہ متحرک کو قاسر کی سمت پر لائے، جیسے پتھر کو اپنی طرف پھینکے خواہ اس میں قاسر سے دور کرنا ہو کہ ظاہر ہے یا قریب کرنا، مثلاً اس شکل میں مقام انسان ہے، ج پتھر کا موضع۔ آدمی نے لکڑی مار کر پتھر کو ج سے ب پر پھینکا تو یہ جذب نہیں کہ انسان کی سمت خط ا ج تھا اس پر لاتا تو جذب ہوتا، وہ خط ب ج پر گیا کہ سمِت غیر ہے لہذا دفع ہی ہوا، اگرچہ پتھر پہلے سے زیادہ انسان سے قریب ہوگیا کہ اب ضلع قائمہ اج وتر سے چھوٹی ہے پھر یہ دونوں باعتبار اتصال و انفصال زمین دو قسم میں رافعہ کہ حرکت میں زمین سے بلند ہی رکھے۔
27_9.jpg
ملصقہ: مثلاً پتھر کو زمین سے ملا ملا اپنی طرف لاؤ یا آگے سرکاؤ اور باعتبار نقص و کمال دو قسم ہیں، 

منھیہ: کہ متحرک کو منتہائے مقصد تک پہنچائے۔

قاصرہ: کہ کمی رکھے ۔

اور باعتبار وحدت و تعدد  خط حرکت دو قسم ہیں۔ مثبتہ کہ ایک ہی خط پر رکھے ، ناقلہ کہ حرکت کا خط بدل دے مثلاً اس شکل میں پتھر ا سے ج کی طرف پھینکا جب ب پر پہنچا لکڑی مار کر ہ کی طرف پھیر دیا یہ دافعہ ناقلہ ہوئی۔ اس حرکت میں جب د تک پہنچا ر کی طرف کھینچ لیا یہ جاذبہ ناقلہ ہوئی ، اور اگر ج کی طرف پھینک کر ب سے ا کی طرف کھینچ لیا تو ب تک دافعہ مثبتہ تھی کہ اسی خط پر لیے جاتی تھی (ب) سے واپسی میں جاذبہ مثبتہ ہوئی کہ اسی خط پر لائی۔
27_10.jpg
 یہ کل ۱۳ قسمیں ہیں ان میں سے پتھر گرد سرگھمانے میں جاذبہ کا تو کچھ کام نہیں کہ اپنی سمت پر لانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ مضر مقصود ہے باقی سات (عہ) میں سے چار قوتیں یہاں کام کرتی ہیں حاصرہ اور تین دافعہ یعنی منہیہ رافعہ ناقلہ پتھر کو پورا دور پھینکو کہ رسی خوب تن جائے یہ منہیہ ہوئی، ہاتھ اٹھائے رکھو کہ زمین پر گرنے نہ پائے ، یہ رافعہ ہوئی ہاتھ گرد سر پھراتے جاؤ کہ خط حرکت ہر وقت بدلے ، یہ ناقلہ ہوئی یہ قوتیں ہر وقت برقرار رہیں کہ نہ رسی میں جھول آنے پائے، نہ زمین کی طرف لائے نہ ایک سمت کھینچ کر رک جائے، پھر یہ دافعہ کہ یہاں عمل کررہی ہے اس کا کام خط مستقیم پر حرکت دینا ہے تو دفع اول سے اسی سمت کو جاتا اور ہر نقل سے اس کی سیدھی سمت لیتا لیکن رسی جسے منہیہ تانے اور رافعہ اٹھائے اور ناقلہ بدل رہی ہے ۔کسی وقت اپنی مقدار سے آگے بڑھنے نہیں دیتی ناچار ہر دفع و نقل اسی حد تک محدودرہتے ہیں اور انسان کہ یہاں مثل مرکز ہے ہر جانب اس سے فاصلہ اسی قدر رہتا ہے یہ حاصرہ ہوئی جس کا کام رسی کی بندش سے لیا گیا اس نے شکل دائر پیدا کردی اسے جاذب سمجھنا جیسا کہ نصرانی بیروتی سے نمبر ۱۳ میں آتا ہے، جہالت و نافہمی ہے ، یہاں جاذبہ کو اصلاً دخل نہیں، نہ پتھر میں کوئی نافرہ ہے بلکہ حاصرہ و دافعہ کام کررہی ہے جتنے زور سے گھماؤ گے اتنی ہی قوت کا دفع ہوگا پتھر اتنی ہی طاقت سے چھوٹتا گمان کیا جائے گا حالانکہ یہ نہ اس کا تقاضا ہے نہ اس کا زو ربلکہ تمہارے دفع کی قوت ہے جسے نافہمی سے پتھر کی نافریت سمجھ رہے ہو۔
عہ۱: ایک حاصرہ تھی اور چھ چھ جاذبہ و دافعہ، جاذبہ کی چھ نکل کر سات رہیں ۱۲ منہ غفرلہ
تنبیہ : یہاں اُن لوگوں کا کلام مضطرب ہے عام طور پر اس قوت کو نافرہ عن المرکز کہا۔ ص ۶۶ کی تقریر میں مرکز دائرہ  ہی سے تنفر لیا مگر جا بجا جاذب مثلاً شمس سے تنفر رکھا، اور ص ۱۸ میں شمس ہی کو وہ مرکز بتایا۔

اقول۹: اُن کے طور پر حقیقت امر یہی چاہیے اس لیے کہ جسم بوجہ ماسکہ اثر جذب سے انکا ر کرے گا تو جاذب سے تنفر ہوگا۔ اور انہیں دو کے اجتماع سے اس کے گرد دورہ کرے گا۔ جس کا بیان نمبر آئندہ میں ہے جب تک دورہ نہ کیا تھا مرکز تھا ہی کہاں جس سے تنفر ہوتا، وہ تو اس کے دورے کے بعد مشخص ہوگا مگر ہم ان لوگوں کے اضطراب سخن کے سبب فصل اول میں مرکز و شمس دونوں پر کلام کریں گے۔
Flag Counter