Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
60 - 212
رسالہ                     

فوزِمبین دررَدِّ حرکتِ زمین

(زمین کی حرکت کے رَد میں کھُلی کامیابی)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، الحمدﷲ الذی یمسک السمٰوٰت والارض ان تزولا oولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا oوسخرلکم الفلک لتجری فی البحر بامرہ وسخرلکم الانھٰر oوسخر لکم الشمس والقمر دائبین و سخرلکم الّیل والنہار وسخّر الشمس والقمر کل یجری لاجل مسمّی الاھو العزیز الغفار o ربنا ما خلقت ھٰذا باطلا سبحٰنک فقنا عذاب النار قلت و قولک الحق والشمس تجری لمستقرلہا ذٰلک تقدیر العزیز العلیم oوالقمرقدرنہٰ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم فصلّ وسلمّ وبارک علٰی شمس اقمار النبوۃ و الرسالۃ oمارج معارج اوج القرب والجلالۃ oبحیث لم یبق لاحد مرمٰی oان الٰی ربک المنتھٰی oوعلٰی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحرز ماطلعت شمس وکان الیوم بین غدٍوامسٍ oامین
اﷲ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا۔ ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اس کے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔ تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کےلیے ہیں جو روکے ہوئے ہیں آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں، اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اﷲ کے سوا ، بے شک وہ حلم والا بخشنے والا ہے اور اس نے تمہارے لیے کشتی کومسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں، اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر  کئے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پرلگایا ہر ایک ایک ٹھہرائی ہوئی معیاد کے لیے چلتا ہے، سنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے۔ اے رب ہمارے تو نے یہ بے کار نہ بنایا۔ پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے تو نے فرمایا اور تیرا فرمان حق ہے اور سوج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔ اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال۔درودو سلام اور برکت نازل فرما نبوت رسالت کے چاندوں کے سورج پر جو قرب بزرگی کی بلندی کی سیڑھیون کا روشن چمکدار شعلہ ہے اس طور پر کہ کسی کے لیے تیر پھینکنے کی جگہ نہ رہے۔ بے شک تمہارے رب ہی طرف انتہا ہے۔، اور آپ کی آل ، آپ کے اصحاب اور آپ کے بیٹے پر ۔ اور حفاظت فرما جب تک سورج طلوع ہوتا رہے اور گزشتہ کل اور آئندہ کل کے درمیان آج رہے۔ امین۔
الحمدﷲ وہ نور کہ طورِ سینا سے آیا اور جبل ساعیر سے چمکا اورفاران مکہ معظمہ کے پہاڑوں سے فائض الانوار 

وعالم آشکارہوا۔ شمس و قمر کا چلنا اور زمین کا سکون روشن طور پر لایا آج جس کا خلاف سکھایا جاتا ہے اور مسلمان ناواقف نادان لڑکوں کے ذہن میں جگہ پاتا اور ان کے ایمان و اسلام پر حرف لاتا ہے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی فلسفہ قدیمہ بھی اس کا قائل نہ تھا اس نے اجمالاً اس پر ناکافی بحث کی جو اس کے اپنے اصول پر مبنی اور اصول مخالفین سے اجنبی تھی۔ فقیر بارگاہِ عالم پناہ مصطفوی عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی غفراﷲ لہ وحقق املہ کے دل میں ملک الہام نے ڈالا کہ اس بارے میں باذنہ تعالٰی ایک شافی و کافی رسالہ لکھے اور اس میں ہیأتِ جدیدہ ہی کے اصول پر بنائے کار رکھے کہ اُسی کے اقراروں سے اس کا زعم زائل اور حرکتِ زمین و سکون شمس بداہۃباطل ہو، و باﷲ التوفیق( اور توفیق اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے۔ت)
یہ رسالہ مسمی بنام تاریخ فوزِ مبین درددِّ حرکت زمین (۱۳۳۸ھ) ایک مقدمہ اور چار فصل اور ایک خاتمہ پر مشمل ۔ 

مقدمہ: میں مقررات ہیأت جدیدہ کا بیان جن سے اس رسالہ میں کا م لیا جائے گا۔ فصل اول : میں نافریت پر بحث اور اُس سے ابطالِ حرکت زمین پر بارہ دلیلیں۔ فصل دوم میں جاذبیت پر کلام اورا س سے بطلان حرکت زمین پر پچاس دلیلیں۔ فصل سوم میں خود حرکت زمین کے ابطال پر اور تینتالیس دلیلیں یہ بحمدہ تعالٰی بطلان حرکت زمین پر ایک سو پانچ دلیلیں ہوئیں جن میں پندرہ اگلی کتابوں کی ہیں جن کی ہم نے اصلاح و تصحیح کی، اور پورے نوے دلائل نہایت روشن و کامل بفضلہ تعالٰی خاص ہمار ے ایجاد ہیں۔

فصل چہارم میں ان شبہات کا رد جو ہیات جدیدہ اثبات حرکت زمین میں پیش کرتی ہے۔خاتمہ میں کتبِ الہیہ سے گردش ِ آفتاب و سکونِ زمین کا ثبوت والحمدﷲ مالکِ الملکِ والملکوت۔
Flag Counter