| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۱۶) اگر آفتاب کا جسم ایسا ہی کمزور مسام ناک ہے کہ اس قدر شدید متفرق زدسرایت کرکے اس کے موضع واحدپر ہوجاتی ہے تو پچاس ساٹھ یا ستّر اسی یا سو درجے کے فاصلہ پرپھیلے ہوئے ستارے کہ اکثر اوقات گر د شمس رہتے ہیں ان کی مجموعی زد ہمیشہ کیوں نہیں عمل کرتی، اگر اتنا فاصلہ مانع ہے تو دو سیاروں کا مقابلہ کیوں عمل کرتا ہے جب کہ ان میں غایت درجے کا فصل ۱۸۰ درجے ہے خصوصاً ایسا فرضی مقابلہ جیسا یہاں یورنیس کو ہے کہ تحقیقی کسی سے نہیں جس پر خط واحدکا مہمل عذر ہوسکے۔
(۱۷) بالفرض یہ سب کچھ سہی پھر آفتاب کے داغوں کو زمین کے زلزلوں، طوفانوں، بجلیوں، بارشوں سے کیا نسبت ہے۔ کیا یہ احکام منجموں کے لیے بے سرو پا خیالات کے مثل نہیں کہ فلاں گروہ یا جوگ یا نچھتر کے اثر سے دنیا میں یہ حادثات ہوئے جس کو تم بھی خرافات سمجھتے ہو اور واقعی خرافات ہیں، پھر آفتاب کیا امریکہ کی پیدائش یا وہیں کا ساکن ہے کہ اُس کی مصیبت خاص ممالک متحدہ کا صفایا کردے گی۔ کل زمین سے اس کو تعلق کیوں نہ ہوا، بیان منجم پر اور مواخذات بھی ہیں مگر ۱۷ دسمبر کے لیے ۱۷ پر ہی اکتفا کریں(عہ) ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
عہ: ماہنامہ الرضا بریلی ربیع الاول ۱۳۳۸ھ۔
رسالہ معین مبین بہرد ورشمس وسکون زمین ختم ہوا۔