| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۸) اقول: جاذبیت کے بطلان پر دوسرا شاہد عدل قمر ہے۔ ہیئات جدیدہ میں قرار پاچکا ہے کہ اگرچہ زمین قمر کو قریب سے کھینچی ہے اور آفتاب دور سے، مگر جرم شمس لاکھوں درجے جرم زمین سے بڑا ہونے کے باعث اس کی جاذبیت قمر پر زمین کی جاذبیت سے ۵/۱ ۔۲ گنی ہے۔یعنی زمین اگر چاند کو پانچ میل میں کھینچتی ہے تو آفتاب گیارہ میل اور شک نہیں کہ یہ زیادت ہزاروں برس سے مستمر ہے تو کیا وجہ کہ چاند زمین کو چھوڑ کر اب تک آفتاب سے نہ جا مِلا یا کم از کم ہر روز یا ہر مہینے اس کا فاصلہ زمین سے زیادہ اور آفتاب سے کم ہوجاتا مگر مشاہدہ ہے کہ ایسا نہیں تو ضرور جاذبیت باطل و مہمل خیال ہے اور یہاں یہ عذر کہ آفتاب زمین کو بھی تو کھینچتا ہے عجب صدائے بے معنی ہے زمین کو کھینچنے سے قمر پر اس کی کشش کیوں کم ہوگی۔ ایک اور ۵/ ۱۱ کی نسبت اسی حالت موجودہ ہی پر تو مانی گئی ہے جس میں شمس زمین کو بھی جذب کررہا ہے پھر اس قرار یافتہ مسلم کا کیا علاج ہوا۔
(۹) لطف یہ کہ اجتماع کے وقت قمر آفتاب سے قریب تر ہوجاتا ہے اور مقابلہ کے وقت دُور تر حالانکہ قریب وقت اجتماع آفتاب کی جاذبیت کہ ۱۶/ ۱۱ ہے صرف ۸/ ۳ ہی عمل کرتی ہے کہ قمر شمس وارض کے درمیان ہوتا ہے زمین اپنی طرف ۵ حصے کھینچتی ہے اور شمس اپنی طرف ۱۱ حصے تو بقدر فضل جذب شمس ۱۶/ ۶ جانب شمس کھینچا اور قریب وقت مقابلہ جاذبیت کے سب سولہ حصّے قمر کو جانب شمس کھینچتے ہیں کہ ارض شمس وقمرکے درمیان ہوتی ہے تو دونوں مل کر قمر کو ایک ہی طرف کھینچتے ہیں، غرض وہاں تفاضل کا عمل تھا یہاں مجموع کا کہ اس کے سہ چند کے قریب ہے، تو واجب کہ وقت مقابلہ شمس سے بہ نسبت وقت اجتماع قریب تر آجائے حالانکہ اس کا عکس ہے تو ثابت ہوا کہ جاذبیت باطل ہے۔
(۱۰) طرفہ یہ کہ اس بیچارے صغیر الجثہ چاند کو صرف شمس ہی نہیں اُس کے ساتھ زہرہ عطارد بھی جانب شمس کھینچتے ہیں اور ادھر سے ارض اپنی طرف گھسیٹتی ہے خصوصا اُن تینوں کا ایک درجہ سے بھی کم فاصلہ میں ہزاروں بار قران ہوچکا ہے نہ اُن تینوں کی مجموعی کشش جذب زمین پر غالب آتی ہےنہ اس ستم کشاکش میں قمر کو کوئی زخم پہنچتا ہے۔نہ وہ ہسپتال جاتا ہے نہ سول سرجن کا معائنہ ہوتاہے (عہ ) ۔
عہ: لطیفہ : اعلٰیحضرت مدظلہ کی نوعمری کا واقعہ ہے جسے تقریباً ۴۵ سال سے زائد ہوئے اعلٰیحضرت قبلہ ایک طبیب کے ہاں تشریف لے گئے ان کے استاد ایک نواب صاحب (جو علم عربی بھی رکھتے تھے اور علوم جدیدہ کے گرویدہ) ان کو مسئلہ جاذبیت سمجھا رہے تھے کہ ہر چیز دوسری کو جذب کرتی ہے اثقال کہ زمین پر گرتے ہیں نہ اپنے میل طبعی بلکہ کشش زمین سے۔ اعلٰی حضرت قبلہ: بھاری چیز اوپر سے دیر میں آنا چاہیے اور ہلکی جلد کہ آسان کھینچے گی حالانکہ امر بالعکس ہے ۔ نواب صاحب: جنسیت موجب قوت جذب ہے ثقیل میں اجزائے ارضیہ زائد ہیں لہذا زمین اسے زیادہ قوت سے کھنچتی ہے۔ اعلٰی حضرت : جب ہر شے جاذب ہے اور اپنی جنس کو نہایت قوت سے کھینچتی ہے تو جمعہ وعیدین میں امام ایک ہوتا ہے اور مقتدی ہزاروں، چاہیے کہ مقتدی امام کو کھینچ لیں۔ نواب صاحب : اس میں روح مانع اثر جذب ہے۔ اعلٰیحضرت : ایک جنازے پر دس ہزار نمازی ہوتے ہیں اور اس میں روح نہیں کہ نہ کھینچنے دے تو لازم ہے کہ مردہ اڑ کر نمازیوں سے لپٹ جائے۔ نواب صاحب خاموش رہے۔
آفتاب (عہ۱) کہ چھ کروڑ چاند سے بھی لاکھوں حصے بڑا ہے اس پر تو چار کے اجتماع سے وہ ظلم ہوتا تھا۔ قمر بیچارے کی کیا ہستی یہ اس کھینچ تان میں پرزے پرزے ہوجانا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر حرف آنا درکنا ر اس کی منضبط چال میں اصلاً فرق نہیں آنا۔ تو منجم کے اوہام اور جاذبیت کے تخیلات سب باطل ہیں۔
عہ۱: اصول علم الہیأۃ میں قمر کو زمین کا ۴۹/ ۱ لکھا اور بالتوفیق ۲۰۳۴ء۰ حدائق النجوم ۰۲۰۳۶ء۰ میں شمس اس کے نزدیک زمین کے ۱۲۴۵۱۳۰ مثل ہے اسے ۰۲۰۳۴ء پر تقسیم کیے سے آفتاب ۶۱۲۱۵۸۴۳ قمر کی مثل ہوا اور ہمارے حساب سے کہ قطر شمس ۲ء۸۶۶۵۵۴ میل ہے اور قطر قمر ہنس نے ۲۱۶۱ میل بتایا کما فی اصول الھیأۃ تو شمسی ۶۴۴۷۹۶۶۷ قمر کے برابرہوا بہرحال چھ کروڑ چاند کے بموجب سب سے لاکھوں کی قدر ہے۔
(۱۱) اس کے بعد بفضلہ تعالٰی جاذبیت کے ردنافریت کے رد حرکت زمین کے رد میں اور مضامین نفیسہ کہ آج تک کسی کتاب میں نہ ملیں گے۔ خیال میں آئے اُن کا بیان موجب طول تھا لہذا انہیں ان شاء اﷲ العزیز ایک مستقل رسالہ میں تحریر کریں گے۔یہاں بقیہ کلام منجم کی طرف متوجہ ہوں۔ آفتاب کا کلف جسے داغ کہا بارہا نظر آیا۔۱۷ دسمبروالا اگر ہو تو انہیں میں کا ایک ہوگا جو بارہاگزرچکے۔ (ا) قدیم زمانے میں شیز نامی ایک عیسائی راہب نے اپنے رئیس سے کہا میں نے سطح آب پر ایک داغ دیکھا اس نے اعتبار نہ کیا اور کہا میں نے اول تاآخر ارسطوکی کتابیں پڑھیں ان میں کہیں داغ شمس کا ذکر نہیں۔ (ب) علامہ قطب الدین شیرازی نے تحفہ شاہیہ میں بعض قدماء سے نقل کیا کہ صفحہ شمس پر مرکز سے کچھ اوپر محور قمر کی مانند ایک سیاہ نقطہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نقطہ کہ مہندس نے محض نظر سے دیکھا کتنا بڑا ہوگا۔کم از کم اس کا قطر۲۲۵۲۰ میل ہوگا کما یعلم ممّا سیاتی (جیسا کہ معلوم ہوجائے گا اس دلیل سے جو عنقریب آرہی ہے،ت) (ج) ابن ماجہ اندلسی نے طلوع کے وقت روئے شمس پر دو سیاہ نقطے دیکھے جن کو زہرہ وعطارد گمان کیا ۔ (د) ہر شل دوم نے ایک داغ دیکھا جس کی مساحت تین ارب اٹھتّر کروڑ میل بتائی۔
اقول : یعنی اگر وہ بشکل دائرہ تھا تو اس کا قطر۶۹۳۷۵ میل۔ (ہ) یورپ کے ایک اور مہندس نے ایک اور داغ دیکھا جس کا قطر ایک لاکھ چالیس ہزار میل حساب کیا۔
اقول : یعنی اگر دائرہ تھا تو اس کی مساحت پندرہ ارب انتالیس کروڑ اڑتیس لاکھ میل۔ (و) ۲۹ جولائی ۱۸۰۷ء میں سمٹ نے اس شکل کا داغ دیکھا۔
27_7.jpg
(ز) بیس جنوری ۱۸۶۵ء میں کوسکی نے اس صورت کا داغ دیکھا۔
27_8.jpg
(ح) قرار پاچکا ہے کہ جو کلف قطر شمس کے پچاس ثانیے سے زائد ہوگا بے آلہ نظرآئے گا، ہاں آفتاب پر نگاہ جمنے کے لیے لطیف بخارات ہوں یا رنگین شیشے کی آڑ۔
(۱۲)کہا گیا ہے کہ یہ کلفت قطبین شمس کے پاس اصلاً نہیں ہوتی اور اس کے خط استواء کے پاس کم، وہاں سے ۳۰، ۳۵ درجے شمال جنوب کو بکثرت ان میں بھی شمال کو زائد جنوب کو کم، اگر یہ قران و مقابلہ سیارات کا اثر ہے تو یہ تخصیصیں کس لیے ہیں شمس کے جس حصہ کو ان سے مواجہہ ہو وہاں ہوں۔ (۱۳) ان کا حدوث آفتاب کی جانب شرقی اور زوال جانب غربی سے شروع ہوتا ہے۔ اثر قرانات میں یہ خصوصیت کیوں؟ (۱۴) بعض کلف دیرپا ہوتے ہیں کہ قرص شمس پر دورہ کرتے ہیں جانب شرقی سے باریک خط کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں، پھر جتنا اوپر چڑھتے ہیں چوڑے ہوتے جاتے ہیں مرکز شمس تک اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں جب آگے بڑھے گھٹنا شروع کردیتے ہیں۔ کنارہ غربی پر پھر بشکل خط رہ کر غائب ہوجاتے ہیں پھر کنارہ شرقی سے اسی طرح چمکتے ہیں۔ ان کے دورے کی ایک مقرر میعاد خیال کی گئی ہے کہ پونے چودہ دن میں صفحہ شمس کو قطع کرتے ہیں اور پہلے ظہور شرقی سے ۲۷ دن ۱۲ گھنٹے ۲۰ دن کے بعد دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں لیکن اکثر داغوں میں آناً فاناً بادلوں کے سے تغیرات ہوتے ہیں جن سے متاخرین یورپ نے گمان کیا ہے کہ یہ کرہ آفتاب کے سحاب ہیں بعض اوقات دفعۃً پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات دیکھتے دیکھتے غائب ہوجاتے ہیں، ہر شل یکم دوربین سے داغوں کا ایک گچھّا دیکھ رہا تھا لحظہ بھر کے لیے نگاہ ہٹائی اب جو دیکھے ایک داغ بھی نہیں،کبھی آفتاب کی جانب غربی سے ایک داغ زائل ہوا ہی تھا کہ معاً جانب شرقی میں نیا پیدا ہوگیا۔ ابھی ایک داغ دیکھ ہی رہے ہیں تھوڑی دیر میں وہ پھٹ کر چند داغ ہوجاتا ہے چند داغ ہیں اور ابھی مل کر ایک ہو گئے راجر لانک نے ایک گو ل داغ دیکھا جس کا قطر آٹھ ہزار میل تھا دفعۃً وہ متفرق متفرق ہو کر دوداغ ہوگیا اور ایک ٹکڑا دوسرے سے بہت دور دراز مسافت پر چلاگیا اکثر یہ ہے کہ اگر چند داغ بتدریج پیدا ہوتے ہیں ویسے ہی چند بتدریج فنا ہوجاتے ہیں اور اگر کئی داغ دفعۃً چمکے ویسے ہی کئی دفعہ جاتے رہے ان کا کوئی وقت بھی مقرر نہیں۔ ایک بار وسا میں تیس سال کامل ان کی رصد بندی کی گئی۔ بعض برسوں میں کوئی دن بھی داغ سے خالی نہ تھا۔ بعض میں صرف ایک دن خالی گیا بعض میں ایک سو ترانوے دن صاف ان تمام حالات کو قرانات کے سر ڈھالنا کس قدر بعید ہے۔
(۱۵) داغ پیدا کرنے کے لیے اقتران کی کیا حاجت ہے، سیارے آفتاب کے نزدیک ہمیشہ رہتے اور تمہارے زعم میں اُسے ہمیشہ جذب کرتے ہیں، تو چاہیے کہ آفتاب کا گیس مدام اڑتا رہے اور آتش فشانی سے کوئی وقت خالی نہ ہو۔ اس کا جواب یہ ہوگا کہ اور وقت ان کا اثر جرم شمس پرمتفرق ہوتا ہے جس سے آفتاب متاثر نہیں ہوتا بخلافِ قران کے دو یا زائد مل کر موضع واحد پر اثر ڈالتے ہیں۔اس سے یہ آگ بھڑکتی ہے ایسا ہے تو جب وہ ۲۶ درجے ۲۳ دقیقے کے فاصلہ میں منتشر ہیں اب بھی ان کا اثر آفتاب کے متفرق مواضع پر تنہا ہے نہ مجموعی ایک جگہ پر پھر آفتاب کیوں متاثرہوگا۔ یہ فاصلہ کہ تھوڑا سمجھے مرکز شمس سے فلک نیپچون تک ہر سیارے کے مرکز پر گزرتے ہوئے خط کھینچے جائیں تو معلوم ہو کہ سو کروڑ میل سے زائد کا فصل ہے۔ شمس سے نیپچون کا بُعد زمین کے تیس گنے سے زیادہ ہے۔اگر تیس ہی رکھیں تو دو ارب اٹھتر کروڑ ستر لاکھ میل ہوا اور اس کے مدار کا قطر پانچ ارب ستاون کروڑ چالیس لاکھ میل اور اس کا محیط ستر ارب اکیاون کروڑ بارہ لاکھ میل سے زائد اور اس کے ۲۶ درجے ۲۳ دقیقے ایک ارب اٹھائیس کروڑ ۳۳ لاکھ۴۶ ہزار میل سے زیادہ ایسے شدید بعید فاصلہ میں پھیلا ہوا انتشار کیا مجموعی قوت کا کام دے گا۔ یہ بھی اس حالت میں ہے کہ ان کے اختلاف عرض کا لحاظ نہ کیا اور اگر ضرر رسانی شمس کے لیے سب کو سب سے قریب تر فلک عطارد پر لاڈالیں تو بعد عطارد: بعد ارض ::۳۸۷ء: ۱ تو شمس سے بعد عطارد ۳۵۹۵۲۳۰۰ میل ہوا تقریباً تین کروڑ ساٹھ لاکھ میل اور قطر مدار ۷۱۹۰۴۶۰۰ سات کروڑ ۱۹ لاکھ میل سے زائد اور محیط ۲۲ کروڑ ۵۸لاکھ ۹۵ ہزار میل اور ۲۶ درجے ۲۳ دقیقے ایک کروڑ ۶۵ لاکھ ۵۵ ہزار ۱۷۳ میل ، یہ فاصلہ کیا کم ہے بلکہ بالفرض سب دوریاں اٹھا کر تمام سیاروں کو خود سطح آفتاب پر لاکھ رکھیں جب بھی یہ فاصلہ دو لاکھ میل ہوگا یعنی ۱۹۹۵۱۴ کہ قرص شمس کا دائرہ ۲۷ لاکھ ۲۲ ہزار ۳۶۱ میل ہے۔