Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
57 - 212
 (۷) جاذبیت پر ایک سہل سوال اوج وحضیض شمس سے ہوتا ہے جس کا ہر سال مشاہدہ ہے نقطہ اوج پر کہ اُس کا وقت تقریباً سوم جولائی ہے، آفتاب زمین سے غایت بعُد پر ہوتا ہے اورنقطہ حضیض پر کہ تقریباً سوم جنوری ہے غایت قرب پر یہ تفاوت اکتیس لاکھ میل سے زائد ہے کہ تفتیش جدید میں بعد اوسط نوکروڑ انتیس لاکھ میل بتایا گیا ہے اور ہم نے حساب کیامابین المرکز ین دو درجے پینتالیس ثانیے یعنی ۵۲۱۲۔ء ۲ ہے۔ تو بُعد ابعد ۹۴۴۵۸۰۲۶میل ہوا اور بعد اقرب ۹۷۴،۴۱،۱۳،۹ میل تفاوت ۰۵۲،۱۶،۳۱ میل اگر زمین آفتاب کے گرد اپنے مدار بیضی پر گھومتی ہے جس کے مرکز اسفل میں آفتاب ہے جیسا کہ ہیات جدیدہ کا زعم ہے۔ اول تو نافریت ارض کو جاذبیت شمس سے کیا نسبت کہ آفتاب حسب بیان اصول علم الہیأت ہیأت جدیدہ میں بارہ لاکھ پینتالیس ہزار ایک سو تیس زمینوں کے برابر ہے اور ہم نے بربنائے مقررات (عہ) تازہ اصل کُروی پر حساب کیا تو اس سے بھی زائد آیا یعنی آفتاب تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو سو چھپن زمینوں کے برابر ہے بعض کتبِ جدیدہ میں ۱۴ لاکھ ہے وہ جرم کہ اس کے بارہ تیرہ لاکھ کے حصوں میں سے ایک کے بھی برابر نہیں اس کی کیا مقاومت کرسکتا ہے تو کرو و دورہ کرنا نہ تھا بلکہ پہلے ہی دن کھینچ کر اُس میں مِل جانا، کیا بارہ تیرہ لاکھ آدمی مل کر ایک کو کھینچیں تو وہ کھنچ نہ سکے گا بلکہ اُن کے گرد گھومے گا۔
عہ: وہ مقررات تازہ یہ ہیں قطر مدار شمس اٹھارہ کروڑ اٹھاون لاکھ میل قطر معدل زمین ۰۸۶ء۷۹۱۳ میل قطر اوسط شمس دقائق محیطیہ سے ۳۲ دقیقے ۴ ثانیے ، پس اُس قاعدے پر کہ ہم نے ایجاد اور اپنے فتاوٰی جلد اول رسالہ الھنیئ النمیر میں ایراد کیا ۲۶۹۰۴۵۷ء۸ لوامیال قطر مدار۔۴۹۷۱۴۹۹ء ـ۰ = ۷۶۶۱۹۵۶ء۸ ۔ لو امیال محیط ،ما۔ ۵۵۳۸ ۳۳۴۴ء۴ لو دقائق محیط= ۴۳۱۷۴۱۸ء۴ لودقیقہ محیطیہ ما+ ۵۰۶۰۵۳۹ء۱ دقائق قطر شمس = ۹۳۷۷۹۵۷ء۵ لو امیال قطر شمس ما ۔۸۹۸۳۴۵۹ء۳ لوامیال قطر زمین =۰۹۴۴۹۸ء۲ لو نسبت قطرین ما x۳ کہ کرہ : کرہ ::قطر : قطر مثلثہ بالتکریر=۱۱۸۳۴۹۴ء۶لو نسبت کر تین عدد ۱۳۱۳۲۵۶ وھو المقصود یعنی محیط فلک شمس اٹھاون کروڑ پینتیس لاکھ آٹھ ہزار میل ہے اور ایک دقیقہ محیطیہ ۵ء۲۷۰۲۳ میل اور قطر شمس ۲ء۸۶۶۵۵۴ میل اور وہ قطر زمین کے ۵۰۹ء۱۰۹ مثل ہے اور جرم شمس تیرہ لاکھ تیرہ ہزار دو سو چھپن زمینوں کی برابر اور علم حق اس کے خالق جل وعلا کو ۱۲ منہ مدظلہ العالی۔
ثانیاً جب کہ نصف دورے میں جاذبیت شمس غالب آکر اکتیس لاکھ میل سے زائد زمین کو قریب کھینچ لائی تو نصف دوم میں اُسے کس نے ضعیف کردیا کہ زمین پھر اکتیس لاکھ میل سے زیادہ دور بھاگ گئی۔حالانکہ قرب موجبِ قوت اثر جذب ہے تو حضیض پر لاکر جاذبیت شمس کا اثر اور قوی تر ہونا اور زمین کا وقتاً فوقتاًقریب ترہوتا جانا لازم تھا نہ کہ نہایت قرب پر اُس کی قوت سست پڑ کر اور اس کے نیچے سے چھوٹ کر پھراتنی دور ہوجائے، شاید جولائی سے جنوری تک آفتاب کو راتب زیادہ ملتا ہے قوت تیز ہوجاتی ہے،ا ور جنوری سے جولائی تک بھوکا رہتا ہے کمزور پڑ جاتا ہے۔دو جسم اگر برابر کے ہوتے تو یہ کہنا ایک ظاہری لگتی ہوئی بات ہوتی کہ نصف دور ے میں یہ غالب رہتا ہے نصف میں وہ، نہ کہ وہ جرم کہ زمین کے ۱۲ لاکھ امثال سے بڑا ہے اُسے کھینچ کر ۳۱لاکھ میل سے زیادہ قریب کرلے اور عین شباب اثر جذب کے وقت سُست پڑجائے اور ادھر ایک اُدھر ۱۲ لاکھ سے زائد پر غلبہ و مغلوبیت کا دورہ پورا نصف نصف القسام پائے۔
ثالثاً خاص انہیں نقطوں کا تعین اور ہر سال انہیں پر غلبہ و مغلوبیت کی کیا وجہ ہے بخلاف ہمارے اصول کے کہ زمین ساکن اور آفتاب (عہ) اس کے گرد ایک ایسے دائرے پر متحرک جس کا مرکز مرکزِ عالم سے۔
عہ: تنبیہہ ضروری: آفتاب کو مرکز ساکن اور زمین کو اُس کے گرددائر ماننا تو صراحۃً آیاتِ قرآنیہ کا صاف انکار ہے ہی ہیأت یونان کا مزعوم کو آفتاب مرکز زمین کے گرد دائر تو ہے مگر نہ خود بلکہ حرکتِ فلک سے،آفتاب کی حرکت عرضیہ ہے جیسے جالس سفینہ کی، یہ بھی ظاہر قرآنِ کریم کے خلاف ہے بلکہ خود آفتاب متحرک ہے آسمان میں تیرتا ہے جس طرح دریا میں مچھلی،
قال اﷲ تعالٰی : وکل فی فلک یسبحون ۔۱؂
اور چاند سورج ایک ایک گھیرے میں تَیررہے ہیں۔(ت)
 ( ۱ ؎۔القرآن الکریم ۳۶/ ۴۰ )
افقہ الصحابہ بعد الخلفاء الاربعہ سیدنا عبداﷲ بن مسعود صاحب سِّررسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کے حضور کعب کا قول مذکور ہوا کہ آسمان گھومتا ہے دونوں حضرات نے بالاتفاق فرمایا۔
کذب کعب
 ( ان اﷲ یمسک المسٰوٰت و الارض ان تزولا) ۔۲؂
کعب نے غلط کہا اﷲ تعالٰی فرماتا ہے بے شک اﷲ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکیں نہیں۔
 ( ۲ ؎۔جامع البیان (التفسیر الطبری) تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱ ، داراحیاء الثراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۰ ) 

(الدرالمنثور   تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱ ، داراحیاء الثراث العربی بیروت ۷/ ۳۲ )
زاد ابن مسعود : وکفٰی بہازولا ان تدور ۳؂ رواہ عنہ سعید بن منصور و عبد بن حمید وابن جریر و ابن المنذرو عن حذیفۃ عبد بن حمید ۔
ابن مسعود نے اتنا زیادہ کیا کہ گھومنا اس کے زوال کے لیے کافی ہے اس کو عبداﷲ بن مسعود سے سعید بن منصور، عبدبن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے روایت کیا، جب کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عبدبن حمید نے روایت کیا۔(ت)
 ( ۳ ؎۔جامع البیان (التفسیر الطبری) تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱ ، داراحیاء الثراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۱ )

(الدرالمنثور    تحت الآیۃ ۳۵/ ۴۱ ، داراحیاء الثراث العربی بیروت ۷/ ۳۲)
اس آیت میں اگرچہ تاویل ہوسکے، صحابہ کرام خصوصاً ایسے اجلہ اعلم بمعانی القرآن ہیں اور انکا اتباع واجب ۱۲۔منہ مدظلہ العالی۔
اکتیس لاکھ سولہ ہزار باون میل باہر ہے اگر مرکز متحد ہوتا زمین سے آفتاب کا بُعد ہمیشہ یکساں رہتا مگر بوجہ خروج مرکز جب آفتاب نقطہ (ا) پر ہوگا مرکز زمین سے اس کا فصل (ا ،ج) ہوگا یعنی بقدر (ا۔ب) نصف قطر مدار شمس + ب ج مابین المرکزین اور جب نقطہ ء پر ہو گا اس کا فصل ج ء ہو گا یعنی بقدر ب ء نصف قطر مدار شمس + 

ب ج مابین المرکزین دونوں فصلوں میں بقدر دو چند مابین المرکزین فرق ہوگا یہ اصل کروی پر ہے لیکن وہ بعد اوسط اصل بیضی پر لیا گیا ہے اس میں بعد اوسط منتصف مابین المرکزین پر ہے تو بعد اوسط +نصف مابین المرکزین = بعد ابعد ۔ نصف مذکور = بعد اقرب لاجرم بقدر مابین المرکزین فرق ہوگا اور یہی نقطے اس قرب و بعد کے لیے خود ہی متعین رہیں گے۔
27_6.jpg
کتنی صاف بات ہے جس میں نہ جاذبیت کا جھگڑا نہ نافریت کا بکھیڑا ۔
 ذلک تقدیر العزیز العلیم ۔۱؂
یہ سادھا ہوا ہے زبردست جاننے والے کا، جل وعلاو صلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا وآلہ وصحبہ وسلم ۱۹ صفر ۱۳۳۸ھ ۱۲ نومبر ۱۹۱۹ ۔
عہ: ماہنامہ الرضا بریلی صفر ۱۳۳۸ھ ۔
( ۲ ؎۔القرآن الکریم ۳۶/ ۳۸ )
Flag Counter