| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
(۲) یہ جسے طول بفرض مرکزیت شمس کہتے ہیں حقیقۃً کواکب کے اوساط معدلہ بتعدیل اول ہیں جیسا کہ واقفِ علم زیجات پر ظاہر ہے اور اوساطِ کواکب کے حقیقی مقامات نہیں ہوتے بلکہ فرضی، اوراعتبار حقیقی کا ہے۔
۱۷ دسمبر کو کواکب کے حقیقی مقام یہ ہوں گے۔
27_4.jpg
ظاہر ہے کہ اُن چھ کا باہمی فاصلہ نہ ۲۶ درجے میں محدود بلکہ ۱۱۲ درجے تک محدود،یہ تقویمیہ اس دن تمام ہندوستان میں ریلوے وقت سے ساڑھے پانچ بجے شام اور نیویارک ممالک متحدہ امریکہ میں ۷ بجے صبح اور لندن میں دوپہر کے ۱۲ بجے ہوں۔ یہ فاصلہ اُن تقویمات کاہے باہمی بُعد اس سے قلیل مختلف ہوگا کہ عرض کی قوسین چھوٹی ہیں اس کے استخراج کی حاجت نہیں کہ کہاں ۲۶ اور کہاں ۱۱۲)
(۳) یہ کلام اسلامی اصول پر تھا۔ اب کچھ عقلی بھی لیجئے۔ یہ کہنا کہ دو ہزار برس سے ایسا اجتماع نہ دیکھا گیا بلکہ جب سے کواکب کی تاریخ شروع ہوئی ہے نہ جانا گیا محض جزاف ہے، مدعی اس پر دلیل رکھتا ہے تو پیش کرے ورنہ روزِ اوّل کواکب درکنار دو ہزار برس کے تمام زیجات بالاستیعاب اس نے مطالعہ کئے اور ایسا اجتماع نہ پایا،یہ بھی یقینا نہیں، تو دعوٰی بے دلیل باطل و ذلیل۔ اور یورنیس اور نیپچون تو اب ظاہر ہوئے۔ اگلے زیجات میں ان کا پتہ کہاں مگر یہ کہ اوساط موجودہ سے بطریق تفریق ان کے ہزاروں برس کے اوساط نکالے ہوں یہ بھی ظاہر النفی اوردعوے محض ادعاء۔
(۴)کیا سب کو کواکب نے آپس میں صلح کرکے آزار آفتاب پر ایکا کرلیا ہے؟ یہ تو محض باطل ہے، بلکہ مسئلہ جاذبیت اگر صحیح ہے تو اس کا اثر سب پر ہے اور قریب تر پر قوی تر اور ضعیف ترپرشدید تر۔ اور ۱۷ دسمبر کو اوساط کواکب کا نقشہ یہ ہے۔
27_5.jpg
اور ظاہر ہے کہ آفتاب ان سے ہزاروں درجے بڑا ہے۔ جب اتنے بڑے پر ۶ کی کھینچ تان اس کا منہ زخمی کرنے میں کامیاب ہوگی تو زحل کہ اس سے نہایت صغیر و حقیر ہے، پانچ کی کشاکش اور اُدھر سے یورنیس کی مارا مار یقیناً اس کو فنا کردینے کے لیے کافی ہوگی اور اس کے اعتبار سے ان کا فاصلہ اور بھی تنگ، صرف ۲۵ درجے۔
(۵) مریخ زحل سے بھی بہت چھوٹا ہے اور اُس کے لحاظ سے فاصلہ اور بھی کم، فقط ساڑھے۲/ ۱۔ ۲۴ درجے تو یہ پانچ ہی مل کر اسے پاش پاش کردیں گے۔ (۶) عطارد تو سب میں چھوٹا اور اس کے حساب سے باقی ۱۳ہی درجے کے فاصلہ میں ہیں تو ۲۶کا آدھا ہے تو یہ تین عظیم ہاتھی مع یورنیس اس چھوٹی سی چڑیاکے ریزہ ریزہ کردینے کو بہت ہیں۔منجم نے اسی مضمون میں کہا کہ دو سیارے ملے ہوئے کافی ہیں ایک چھوٹا داغ شمس میں پیدا کرنے اور ایک چھوٹا طوفان برپا کرنے میں اور تین اُن میں سے بڑا طوفان اور بڑا داغ اور چار فی الحقیقۃ ایک بہت بڑا طوفان اور بہت بڑا داغ جب آفتاب میں تین اور چار کا یہ عمل ہے تو بے بیچارے عطارد و مریخ چار اور پانچ کے آگے کیا حقیقت رکھتے ہیں اور زحل پر اکٹھے چھ جمع ہیں تو جو نسبت ان کو آفتاب سے ہے اسی نسبت سے اُن پر اثر زیادہ ہونا لازم واجب تھا کہ کھینچنے والوں سے چمٹ جائیں لیکن ان میں نافریت بھی رکھی ہے وہ انہیں تمرد پر لائے گی جس کا صاف نتیجہ ان کا ریزہ ریزہ ہو کر جواذب میں گم جانا۔ جیسا کہ ہمیشہ مشہود ہے کہ کمزور چیز نہایت قوی قوت سے کھینچی جائے۔ اگر دوسری طرف اس کا تعلق ضعیف ہے کھینچ آئے گی ورنہ ٹکڑے ہوجائے گی۔یہ سب اگر نہ ہوگاتو کیوں؟حالانکہ آفتاب پر اثر ضرب شدید کا مقتضی یہی ہے اور ہوگا تو غنیمت ہے کہ آفتاب کی جان چھوٹی وہ آپس میں کٹ مرکر فنا ہوں گے ، نہ آفتاب کے اس طرف ۶ رہیں گے نہ اس کے زخم آئے گا۔ بالجملہ پیشگوئی محض باطل و پا در ہوا ہے۔ غیب کا علم اﷲ عزوجل کو ہے، پھر اس کی عطا سے اس کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ہے۔ ا ﷲ تعالٰی اپنے خلق میں جو چاہے کرے۔ اگر اتفاقاً بمشیتِ الہٰی معاذ اﷲ ان میں سے بعض یافرض کیجئے کہ سب باتیں واقع ہوجائیں جب بھی پیشگوئی قطعاً یقینی جھوٹی ہے کہ وہ جن اوضاع کواکب پر مبنی ہیں وہ اوضاع فرضی ہیں اور اگر بفرض غلط واقعی بھی ہوئے تو نتائج جن اصول پر مبنی ہیں وہ اصول محض بے اصل من گڑھت ہیں جن کا مہمل و بے اثر ہونا خود اسی اجتماع نے روشن کردیا، اگر جاذبیت صحیح ہے تو یہ اجتماع نہ چاہیے اور اگر یہ اجتماع قائم ہے تو جاذبیت کا اثر غلط ہے، بہرحال پیشگوئی باطل۔
واﷲ یقول الحق وھویھدی السبیل ۔