Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
55 - 212
رسالہ

معین مبین بہردور شمس وسکون زمین(۱۳۳۸ھ)

(سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کے لیے مددگار)

(امریکی منجم پروفیسر البرٹ ایف، پورٹا کی پیشگوئی کا رَدّ )
مسئلہ ۳۲: دارالافتاء میں ملک العلماء جناب مولانا ظفر الدین صاحب بہاری (رحمۃ اﷲ علیہ) ازتلامذہ اعلٰیحضرت علیہ الرحمۃ نے بانکی پور کے انگریزی اخبار ایکسپریس ۱۸ اکتوبر۱۹۱۹ء کے دوسرے ورق کا صرف پہلا کالم تراش کر بغرض ملاحظہ واستصواب حاضر کیا جس پر امریکہ کے منجم پروفسیر البرٹ کی ہولناک پیش گوئی ہے۔ جناب نواب وزیر احمد خان صاحب وجناب سید اشتیاق علی صاحب رضوی نے ترجمہ کیا جس کا خلاصہ یہ ہے۔

۱۷ دسمبر کو عطارد، مریخ ، زہرہ ،مشتری، زحل ، نیپچون ، یہ چھ سیارے جن کی طاقت سب سے زائد ہے قرآن میں ہوں گے آفتاب کے ایک طرف ۲۶ درجے کے تنگ فاصلہ میں جمع ہو کر اسے بقوت کھینچیں گے۔ اور وہ ان کے ٹھیک مقابلہ میں ہوگا اور مقابلہ میں آتا جائے گا۔ ایک بڑا کوکب یورنیس سیاروں کا ایسا اجتماع تاریخ ہیأت میں کبھی نہ جانا گیا۔یورنیس اور ان چھ میں مقناطیسی لہر آفتاب میں بڑے بھالے کی طرح سوراخ کرے گی۔ان چھ بڑے سیاروں کے اجتماع سے چوبیس صدیوں سے نہ دیکھا گیا تھا۔ ممالک متحدہ کو دسمبر میں بڑے خوفناک طوفان آب سے صاف کردیا جائے گا۔ یہ داغ شمس ۱۷ دسمبر کو ظاہر ہوگا جو بغیر آلات کے آنکھ سے دیکھا جائے گا۔ایسا داغ کہ بغیر آلات کے دیکھا جائے آج تک ظاہر نہ ہوا اور ایک وسیع زخم آفتاب کے ایک جانب میں ہوگا۔ یہ داغ شمس کرہّ ہوا میں تزلزل ڈالے گا۔ طوفان ، بجلیاں اور سخت مینہ اور بڑے زلزلے ہوں گے زمین ہفتوں میں اعتدال پر آئے گی۔
محسنِ ملت اعلٰیحضرت علیہ الرحمۃ نے اس کا جواب حسب ذیل ارشاد فرمایا۔

یہ سب اوہامِ باطلہ وہوساتِ عاطلہ ہیں، مسلمانوں کو ان کی طرف اصلاً التفات جائز نہیں۔

(۱) منجم نے ان کی بناکواکب کے طول وسطی پر رکھی جسے ہیأت جدیدہ میں طول بفرض مرکزیت شمس کہتے ہیں، اس میں وہ چھ کواکب باہم ۲۶ درجے ۳ ۲ دقیقے کے فصل میں ہوں گے مگر یہ فرض خود فرض باطل ومطرود اور قرآن عظیم کے ارشادات سے مردود ہے، نہ شمس مرکز ہے نہ کواکب اُس کے گرد متحرک بلکہ زمین کا مرکز ثقل مرکز عالم ہے اور سب کواکب اور خود دشمس اُس کے گرددائر ۔
اﷲ تعالٰی عزوجل فرماتا ہے:
والشمس والقمر بحسبان ۔۱؂
سورج اور چاند کی چال حساب سے ہے۔
 ( ۱ ؎ ۔ القرآن الکریم ۵۵/ ۵)
اور فرماتا ہے:
 والشمس تجری لمستقرلہا ذلک تقدیر العزیز العلیم ۔۲؂
سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے ، یہ سادھا ہوا ہے زبردست علم والے کا۔
( ۲ ؎۔القرآن الکریم ۳۶/ ۳۸ )
اور فرماتا ہے:
کُلُّ فِی فَلَکٍ یَسۡبَحُون ۔۳؂
چاند سورج ایک ایک گھیرے میں تیررہے ہیں۔
( ۳ ؎ ۔القرآن الکریم ۳۶/ ۴۰)
اور فرماتا ہے:
وسخّرلکم الشمس والقمر دائبین ۔۴؂
تمہارے لیے چاند اور سورج مسخر کیے کہ دونوں باقاعدہ چل رہے ہیں۔
( ۴؎ ۔القرآن الکریم ۱۴/ ۳۳)
اور سورہ رعد میں فرماتا ہے:
وسخّرالشمس والقمر کل یجری لاجل مسمی ۔۵؂
اﷲ نے مسخر فرمائے چاندسورج، ہر ایک ٹھہرائے وقت تک چل رہا ہے۔
( ۵ ؎۔القرآن الکریم ۳۵/ ۱۳ )
بعینہ اسی طرح سورہ لقمان، سورہ ملک ، سورہ زمر میں فرمایا۔ اس پر جو جاہلانہ اختراع پیش کرے۔

اس کے جواب کو آیہ کریمہ تمہیں تعلیم فرمادی ہے۔
اَلاَ یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۔۱؂
کیا وہ نجانے جس نے بنایا اور وہی ہے پاک خبردار۔
( ۱ ؎ ۔القرآن الکریم۔۶۷/ ۱۴ )
توپیش گوئی کا سرے سے مبنٰی ہی باطل ہے۔
Flag Counter