( تمہارے لیے زمین کوگہوارہ بنایا) اس کا معنی ہے کہ وہ ٹھہری ہوئی پرسکون ہے جس سے نفع اٹھانا ممکن ہے۔ جب کہ گہوارہ بچے کے لیے راحت کی جگہ ہے تو اسی لیے زمین کا نام گہوارہ رکھا گیاہے کیونکہ اس میں مخلوق کے لیے کثیر راحتیں موجود ہیں۔(ت)
خطیب شربنیی پھر فتوحاتِ الہٰیہ میں زیرِ کریمہ زخرف ہے:
ای لوشاء لجعلھا متحرکۃ فلا یمکن الا نتفاع بھا فالانتفاع بہا انما حصل لکونھا مسطحۃ قارۃ ساکنۃ ۳
یعنی اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو زمین کو متحرک بناتا جس سے نفع حاصل کرنا ممکن نہ ہوتا۔نفع تو اس سے اس صورت میں حاصل ہوا کہ وہ ہموار، قرار پکڑنے والی اور ساکن ہے۔(ت)
( ۳ ؎الفتوحات الالہیہ (جمل ) تحت آیۃ ۴۳/۱۰ مصطفٰی البابی مصر ۴/۷۷)
اس ارشادِ علماء پر کہ زمین محترک ہوتی تو اس سے انتفاع ہوتا۔ کاسہ لیسان فلسفہ جدیدہ کو اگر یہ شُبہ لگے کہ اس کی حرکت محسوس نہیں۔ تو اُن سے کہیے یہ تمہاری ہوس خام ہے۔ فوزمبین دیکھئے ہم نے خود فلسفہ جدیدہ کے مسلمّاتِ عدیدہ سے ثابت کیا ہے کہ اگر زمین متحرک ہوتی جیسا وہ مانتے ہیں تو یقینا اس کی حرکت ہر وقت سخت زلزلہ اور شدید آندھیاں لاتی، انسان حیوان کوئی اس پر نہ بس سکتا۔ زبان سے ایک بات ہانک دینا آسان ہے مگر اس پر جو قاہر رَد ہوں اُن کا اٹھانا ہزار ہا بانس پیراتا ہے۔
(۱۱) دیباچہ میں جو آپ نے دلائل حرکت زمین کتب انگریزی سے نقل فرمائے الحمدﷲ ان میں کوئی نام کو تام نہیں سب پا در ہوا ہیں۔ زندگی بالخیر ہے تو آپ اِن شاء اﷲ تعالٰی ان سب کا ر َدِّ بلیغ فقیر کی کتاب فوزمبین کی فصل چہارم میں دیکھیں گے بلکہ وہ آٹھ سطریں جو میں نے اول میں لکھ دی ہیں کہ یورپ والوں کو طرز استدلال اصلاً نہیں آتا انہیں اثباتِ دعوٰی کی تمیز نہیں، ان کے اوہام جن کو بنامِ دلیل پیش کرتے ہیں یہ یہ علتیں رکھتے ہیں۔ منصف ذی فہم مناظرہ داں کے لیے وہی ان کے رد میں بس ہیں کہ دلائل بھی انہیں علتوں کے پابند ہوس ہیں اور بفضلہ تعالٰی آپ جیسے دیندار و سنی مسلمان کو تو اتنا ہی سمجھ لینا کافی ہے کہ ارشاد قرآن عظیم و نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم و مسئلہ اسلامی واجماعِ امتِ گرامی کے خلاف کیونکر کوئی دلیل قائم ہوسکتی، اگر بالفرض اس وقت ہماری سمجھ میں اس کا رَد نہ آئے جب بھی یقیناً وہ مردود اور قرآن و حدیث و اجماع سچے۔ یہ ہے بحمداﷲ شانِ اسلام۔
محب فقیر ! سائنس یوں مسلمان نہ ہوگی کہ اسلامی مسائل کو آیات و نصوص میں تاویلات ودرازکار کرکے سائنس کے مطابق کرلیا جائے۔ یوں تو معاذ اللہ اسلام نے سائنس قبول کی نہ کہ سائنس نے اسلام، وہ مسلمان ہوگی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل سے اُسے خلاف ہے سب میں مسئلہ اسلامی کو روشن کیا جائے دلائلِ سائنس کو مردود و پامال کردیا جائے جا بجا سائنس ہی کے اقوال سے اسلامی مسئلہ کا اثبات ہو، سائنس کا ابطال و اسکات ہو، یوں قابو میں آئے گی۔ اور یہ آپ جیسے فہیم سائنس داں کو باذنہ تعالٰی دشوار نہیں آپ اُسے بچشم پسند دیکھتے ہیں۔
وعین الرضاء عن کل عیب کلیلۃ ۔۱
(رضا مندی کی آنکھ ہر عیب کو دیکھنے سے عاجز ہوتی ہے۔ ت)
( ۱ ؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۴۸۸)
اُس کے معائب مخفی رہتے ہیں مولٰی عزوجل کی عنایت اور حضور سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اعانت پر بھروسہ کرکے اس کے دعاوی باطلہ مخالفہ اسلام کو بنظرِ تحقیر و مخالفت دیکھئے، اس وقت
ان شاء اللہ العزیز القدیر
اس کی ملمع کاریاں آپ پر کھلتی جائیں گی اور آپ جس طرح اب دیوبندیہ مخذولین پر مجاہد ہیں یونہی سائنس کے مقابل آپ نصرتِ اسلام کے لیے تیار ہوجائیں گے کہ۔
ولٰکن عین السخط تبدی المساویا۔۱
(لیکن ناراضگی کی آنکھ عیبوں کو عیاں کرتی ہے ۔ت)
( ۱ ؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث ۳۶۶۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۴۸۸)
مولوی قدس سرہ المعنوی فرماتے ہیں:۔
دشمن راہِ خدا را خوار دار دُزد رامنبر منہ بردار دار ۲؎
(اللہ تعالٰی کے راستے کے دشمن کو ذلیل رکھ، چور کے لیے منبر مت بچھا بلکہ اس کو سُولی پر رکھ۔ت)
ربِ کریم بجاہ نبی رؤف رحیم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ہمیں اور آپ اور ہمارے بھائیوں اہلِ سنت خادمانِ ملت کو نصرتِ دین حق کی توفیق بخشے اور قبول فرمائے۔آمین
الٰہ الحق اٰمین
واعف عنّا واغفرلنا وارحمنا انت مولٰینا فانصرنا علی القوم الکفرین
والحمد للہ رب العلمین o
وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا و مولٰینا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین oاٰمین واﷲ تعالٰی اعلم
اے معبودِ برحق ! ہماری دُعا قبول فرما، اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہمارا مولٰی ہے۔ تُو کافروں پر ہمیں مدد دے۔ اور تمام تعریفیں اللہ رب العلمین کے لیے ہیں۔ اللہ تعالٰی درود نازل فرمائے ہمارے آقا محمد مصطفٰی اور آپ کی آل ، اصحاب ، اولاد اور تمام اُمّت پر۔ آمین اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت)