ظاہر ہے کہ زمین آفتاب پر نہیں چڑھتی، اور مخالف کے نزدیک آفتاب بھی اس وقت زمین پر نہ چڑھا کہ طلوع اس کی حرکت سے نہیں لاجرم طلوع سرے سے باطل محض ہے مگر مکان زمین کو حرکت میں محسوس نہیں ہوتی۔ انہیں وہم گزرتا ہے کہ آفتاب چلتا، ڈھلتا ہے لہذا طلوع و زوال الشمس کہتے ہیں۔ یہ کوئی کافر کہہ سکے ۔ مسلمان کیونکر وہ روا رکھ سکے کہ جاہلانہ وہم جو لوگوں کو گزرتا ہے قرآن عظیم بھی معاذ اﷲ اسی وہم پر چلا ہے اور واقع کے خلاف طلوع و زوال کو آفتاب کی طرف نسبت فرمادیا ہے۔
والعیاذ باﷲ تعالٰی ، لاجرم مسلمان پر فرض ہے کہ حرکت شمس و سکونِ زمین پر ایمان لائے واﷲ الہادی۔
(۱۰) سورہ طٰہ وسورہ زخرف دو جگہ ارشاد ہوا ہے:
الذی جعل لکم الارض مھدا ۔۱
وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا۔(ت)
(۱ ؎ القرآن الکریم ۲۰/۵۳ و ۴۳/۱۰ )
دونوں جگہ صرف کوفیوں مثل امام عاصم نے جن کی قراء ت ہند میں رائج ہے مھداً پڑھا، باقی تمام ائمہ قراء ت نے مھٰدًا بزیادتِ الف۔ دونوں کے معنی ہیں بچھونا۔ جیسے فرش و فراش یونہی مھدومھاد ۔
(۱) پس قراء ت عام ائمہ نے قراء ت کو فی تفسیر فرمادی کہ مھد سے مراد فرش ہے مدارک شریف سورہ طہ میں ہے:
(مھدا)
کوفی وغیر ھم مھادا وھما لغتان لما یبسط ویفرش ۔۲
(مھداً )
یہ کوفیوں کی قراء ۃ ہے ان کے غیر مھاداً پڑھتے ہیں، یہ دونوں لغتیں ہیں، اس کا معنی ہے وہ شے جس کو بچھایا جاتاہے اور بچھونا بنایا جاتا ہے ۔(ت)
قرأ اھل الکوفۃ مھداً ھٰھنا وفی الزخرف فیکون مصدرًا ای فرشاً و قرا الاخرون مھادا کقولہ تعالٰی
الم نجعل الارض مھادا
ای فراشاوھو اسم مایفرش کالبساط ۔۴
اہل کوفہ نے یہاں سورہ زخرف میں مھداپڑھا ہے اور دوسروں نے مھاداپڑھا ہے جیسے اللہ تعالی کاقول "کیاہم نے زمین کو مھاد نہیں بنایا یعنی فراش ،وہ اس چیز کانام ہے جسے بچھایا جاتاہے جیسے بچھونا(ت)
(۱ ؎ تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس تحت آیۃ ۲۰/ ۵۳ و ۴۳/ ۱۰ مکتبہ سرحد مردان ص ۱۹۵ و ۳۰۴ )
نیز یہی مضمون قرآن عظیم کی بہت آیات میں ارشاد ہے،فرماتاہے:
الم نجعل الارض مھادا ۲
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا ،(ت)
(۲ ؎ القرآن الکریم ۷۸/۶ )
فرماتاہے :
والارض فرشنھا فنعم الماھدون ۳
اور زمین کوہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں (ت)
فرماتا ہے :
واللہ جعل لکم الارض بساطا۔۴
اور اﷲ تعالٰی نے تمہارےلیے زمین کو بچھونا بنایا۔(ت)
فرماتا ہے:
الذی جعل لکم الارض فراشا ۔۵
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔(ت)
اور قرآن کی بہتر تفسیر وہ ہے کہ خود قرآن کریم فرمائے۔
(۳ ؎ القرآن الکریم ۵۱/۴۸ ) (۴ ؎ القرآن الکریم ۷۱/۱۹ ) (۵ ؎ القرآن الکریم ۲/۲۲)
(ب) بچے ہی کا مہد ہو تو وہ کیا اس کے بچھونے کو نہیں کہتے ، جلالین سورہ زخرف میں ہے:
مھاداً فراشاً کا لمھد للصبی ۔۶
(مھاداً) بچھونا جیسے بچوں کے لیے گہوارہ (ت)
(۶؎تفسیر جلالین تحت آیۃ ۴۳/ ۱۰ مطبع مجتبائی دہلی نصف دوم ص ۴۰۴)
لاجرم حضرت شیخ سعدی و شاہ ولی اﷲ نے مھداً کا ترجمہ طٰہ میں فرش اور زخرف میں بساط ہی کیا اور شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے دونوں جگہ بچھونا۔
(ج) گہوارہ ہی لو تو اس سے تشبیہ آرام میں ہوگی نہ کہ حرکت میں، ظاہر کہ زمین اگر بفرض باطل جنبش بھی کرتی تو اس سے نہ ساکنوں کو نیند آتی ہے نہ گرمی کے وقت ہوا لاتی تو گہوارہ سے اسے بحیثیت جنبش مشابہت نہیں تو بحیثیت آرام و راحت ہے۔ خود گہوارہ سے اصل مقصد یہی ہے، نہ کہ ہلانا، تووجہِ شبہ وہی ہے نہ یہ۔ لاجرم اسی کو مفسرین نے اختیار کیا۔
(د) لطف یہ کہ علماء نے اس تشبیہ مہد سے بھی زمین کا سکون ہی ثابت کیا بالکل نقیض اس کا جو آپ چاہتے ہیں، تفسیر کبیر میں ہے:
کون الارض مھداانما حصل لاجل کونھا واقفۃ ساکنۃ ولما کان المہد موضع الراحۃ للصبی جعل الارض مھدا لکثرۃ ما فیھامن الراحات۱؎
زمین کاگہوارہ ہونا اس کے ٹھہرنےاور ساکن ہونے کی وجہ سے حاصل ہو ا، اورجب گہوارہ بچے کے لیے راحت کی جگہ ہے تو زمین کواس لیے گہوارہ قرار دیا گیا کہ اس میں کئی طرح متعدد راحتیں موجود ہیں۔(ت)
(۱؎ مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر) تحت آیۃ ۴۳/۱۰ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲/ ۱۹۶)