(د) یہاں سے بحمدہ تعالٰی حضرت معلّم التحیات رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اُس ارشاد کی خوب توضیح ہوگئی کہ صرف حرکتِ محوری زوال کو بس ہے۔
(۹) بحمدﷲ تین آیتیں یہ گزریں:
آیت ۱:
ان اﷲ یمسک۱
(۱ القرآن الکریم ۳۵/ ۴۱)
آیت ۲:
ولئن زالتا۲
(۲ القرآن الکریم ۳۵/ ۴۱)
آیت ۳:
لدلوک الشمس۳
(۳ القرآن الکریم ۱۷/ ۷۸)
آیت ۴:
فلما افلت ۔۴
( پھر جب وہ ڈوب گیا۔ت)
(۴ القرآن الکریم ۶/ ۷۸)
آیت ۵:
وسبّح بحمدربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب۵
(۵ القرآن الکریم ۵۰/ ۳۹)
اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو۔ سورج چمکنے سے پہلے اورڈوبنے سے پہلے (ت)
آیت ۶:
وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا۶ ۔
اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو۔ سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے(ت)
(۶ القرآن الکریم ۲۰/ ۱۳۰)
آیت۷:
حتّٰی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا ۷۔
یہاں تک کہ سور ج نکلنے کی جگہ پہنچا اُسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی (ت)
(۷ القرآن الکریم ۱۸/ ۹۰)
آیت ۸:
وتری الشمس اذا طلعت تزٰ ور عن کھفھم ذات الیمین واذا غربت تقرضھم ذات الشمال وھم فی فجوۃ منہ ذٰ لک من اٰیتِ اﷲ۸
تو آفتاب کو دیکھے گا جب طلوع کرتا ہے ان کے غار سے دہنی طرف مائل ہوتا ہے اور جب ڈوبتا ہے ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے حالانکہ وہ غار کے کھلے میدان میں ہیں، یہ قدرتِ الہی کی نشانیوں سے ہیں۔(ت)
(۸ القرآن الکریم ۱۸/ ۱۷ )
یونہی صدہا احادیث ارشاد سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خصوصاً حدیث صحیح بخاری ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ :
قال النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ لابی ذرحین غربت الشمس اتدری این تذھب قلت اﷲ ورسولہ اعلم قال فانھا تذھب حتی تسجد تحت العرش فتستأذن فیؤذن لھا ویو شک ان تسجدفلایقبل منھا وتستأذن فلا یؤذن لھا یقال لھا ارجعی من حیث جئت فتطلع من مغربھا فذلک قولہ تعالٰی
والشمس تجری لمستقرلھا ذٰلک تقدیر العزیز العلیم۔۱
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کو فرمایا جب کہ سورج غروب ہوچکا تھا کیا تم جانتے ہو کہ سورج کہاں جاتا ہے؟ حضرت ابوذر کہتے ہیں میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا : وہ جاتا ہے تاکہ عرش کے نیچے سجدہ کرے۔ چنانچہ وہ اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت دے دی جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے ، وہ سجدہ اس کی طرف سے قبول نہ کیا جائے اور وہ اجازت طلب کرے تو اس کو سجدہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور اسے کہا جائے کہ تو لوٹ جہاں سے آیا ہے۔ پھر وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ یہی معنی ہے اللہ تعالٰی کے ارشاد کا اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے ،یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔(ت)
(۱صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب صفۃ الشمس والقمر بحسبان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۵۴)
یونہی ہزار ہا آثارِ صحابہ عظام و تابعین کرام و اجماعِ امت جن سب میں ذکر ہے کہ آفتاب طلوع و غروب کرتا ہے آفتاب کو وسطِ سماء سے زوال ہوتا ہے آفتاب کی طرح روشن دلائل ہیں کہ زمین ساکن محض ہے بدیہی ہے اور خود مخالفین کو تسلیم کہ طلوع و غروب و زوال نہیں مگر حرکت یومیہ سے تو جس کے یہ احوال ہیں حرکت یومیہ اسی کی حرکت ہے تو قرآن عظیم و احادیث متواترہ و اجماعِ امت سے ثابت کہ حرکت یومیہ حرکت شمس ہے نہ کہ حرکتِ زمین ، لیکن اگر زمین حرکتِ محور کرتی تو حرکت یومیہ اسی کی حرکت ہوتی جیسا کہ مزعوم مخالفین ہے تو روشن ہوا کہ زعم سائنس باطل و مردود ہے۔ پھر شمس کی حرکت یومیہ جس سے طلوع وغروب وزوال ہے ۔ نہ ہوگی مگر یوں کہ وہ گرد زمین دورہ کرتا ہے تو قرآن و حدیث و اجماع سے ثابت ہوا کہ آفتاب حولِ ارض دائرہ ہے، لاجرم زمین مدارشمس کے جوف میں ہے ،تو ناممکن ہے کہ زمین گردِ شمس دورہ کرے اور آفتاب مدارِ زمین کے جوف میں ہو تو بحمداﷲ تعالٰی آیاتِ متکاثرہ و احادیث متواترہ و اجماع امت طاہرہ سے واضح ہوا کہ زمین کی حرکت محوری و مداری دونوں باطل ہیں وﷲ الحمد، زیادہ سے زیادہ مخالف یہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ غروب تو حقیقہً شمس کے لیے ہے کہ وہ غیبت ہے اور آفتاب ہی اس حرکت زمین کے باعث نگاہ سے غائب ہوتا ہے اور زوال حقیقتہً زمین کے لیے ہے کہ یہ ہٹتی ہے نہ کہ آفتاب اور طلوع حقیقۃً کسی کے لیے نہیں کہ طلوع صعود اور اوپر چڑھنا ہے۔
حدیث میں ہے:
لکل حد مطلع ۔۱
( ہر حد کے لیے چڑھنے کی جگہ ہے۔ت)
(۱ اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب تلاوۃ القرآن الباب الرابع دارالفکربیروت ۴/ ۵۲۷)
نہایہ و درنثیر و مجمع البحارو قاموس میں ہے:
ای مصعد یصعد الیہ من عرفۃ علمیہ ۔۲
یعنی چڑھنے کی جگہ جس کی طرف وہ اپنی علمی معرفت کے ساتھ چڑھتا ہے۔(ت)
( ۲ ؎ القاموس المحیط باب العین فصل الطاء مصطفٰی البابی مصر ۳/ ۶۱)
نیز ثلاثۃ اصول تاج العروس میں ہے :
مطلع الجبل مصعدہ۳
(پہاڑ کا مطلع اس پر چڑھنے کی بلند جگہ ہے ۔ت)
(۳ ؎تاج العروس شرح القاموس باب العین فصل الطاء داراحیاء الثرات العربی بیروت ۵/ ۴۴۲)
حدیث میں ہے :
طلع المنبر ۔۴
( منبر پر چڑھا۔ ت)
(۴ ؎ مجمع بحار الانوار باب الطاء مع اللام مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۳/ ۴۵۹)
مجمع البحار میں ہے:
ای علاہ ۵
(یعنی اس کے اوپر چڑھا ت)
(۵ ؎ مجمع بحار الانوار باب الطاء مع اللام مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۳/ ۴۵۹)