(۷)اس ساری تحریر میں مجھے آپ سے اس فقرے کا زیادہ تعجب ہوا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکانہ کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہ فرمایا، خاموشی فرمائی، اسے آپ نے اپنی مشکل کا حل تصور کیا۔ کعب احبا رنے آسمان ہی کا گھومنا بیان کیا تھا اور یہود اسی قدر کے قائل تھے زمین کو وہ بھی ساکن مانتے تھے بلکہ ۱۵۳۰ء سے پہلے (جس میں کوپرنیکس نے حرکت زمین کی بدعت ضالہ کو کہ دو ہزار برس سے مردہ پڑی تھی جِلایا) نصارٰی بھی سکون ارض ہی کے قائل تھے، اسی قدر یعنی صرف دورہ آسمان کا ان حضرات عالیات کے حضور تذکرہ ہوا اس کی تکذیب فرمادی۔ دورہ زمین کہا کس نے تھا کہ اس کا ردّ فرماتے، اگر کوئی صرف زمین کا دورہ کہتا صحابہ اسی آیتہ کریمہ سے اُس کی تکذیب کرتے اور اگر کوئی آسمان و زمین دونوں کا دورہ بتاتا، صحابہ اسی آیت سے دونوں کا ابطال فرماتے جواب بقدر سوال دیکھ لیا یہ نہ دیکھا کہ جس آیت سے وہ سند لائے اس میں آسمان وزمین دونوں کا ذکر ہے ، یا صرف آسمان کا ، آیت پڑھیے صراحتاً دونوں ایک حالت پر مذکور ہیں دونوں پر ایک ہی حکم ہے۔ جب حسب ارشادِ صحابہ آیہ کریمہ مطلق حرکت کا انکار فرماتی ہے اور وہ انکار آسمان و زمین دونوں کے لیے ایک نسق ایک لفظ ان تزولا میں ہے جس کی ضمیر دونوں کی طرف ہے تو قطعاً آیت نے زمین کی بھی ہر گو نہ حرکت کو باطل فرمایا جس طرح آسمان کی، ایک شخص کہے حضرت سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے آفتاب کو اپنے لیے سجدہ کرتے نہ دیکھا تھا اس پر عالم فرمائے وہ جھوٹا ہے۔
آیہ کریمہ میں ہے:
انی رأیت احد عشر کو کباً والشمس والقمر راٰیتھم لی ساجدین ۱۔
میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا۔
( ۱ ؎القرآن الکریم ۱۲/ ۴ )
اس کے بعد ایک دوسرا اُٹھے اور چاند کو ساجد دیکھنے سے منکر ہو اور کہے قربان جائیے عالم نے سورج کے سجدہ کی تصریح فرمائی مگر چاند کے بارے میں ایسا نہ فرمایا : خاموشی فرمائی اسے کیا کہا جائے گا، اب تو آپ نے خیال فرمالیا ہوگا کہ قائل حرکت ارض کو اجلہ صحابہ کرام بلکہ خود صاف ظاہر نصِ قرآن عظیم سے گریز کے سوا کوئی چارہ نہیں، اور یہ معاذ اﷲ خُسر انِ مبین ہے جس سے اللہ تعالٰی ہمیں اور آپ اور سب اہلسنت کو بچائے۔ آمین۔
(۸) عجب کہ آپ نے آفتاب کا زوال نہ سُنا، اسے تو میں نے آپ سے بالمشافہ کہہ دیا تھا ۔
(ا) حدیثوں میں کتنی جگہ
زالت الشمس
( سورج ڈھل گیا۔ت) ہے بلکہ قرآن عظیم میں ہے:
اقم الصلٰوۃ لدلوک الشمس ۔۱
نماز قائم کرو سورج ڈھلتے وقت ۔(ت)
( ۱ ؎القرآن الکریم ۱۷/ ۷۸ )
تفسیر ابن مردویہ میں امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لدلوک الشمس کی تفسیر میں فرمایا :
لزوال الشمس ۔۲
( ۲ ؎الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور (بحوالہ ابن مردویہ ) تحت آیۃ ۱۷/ ۷۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۸۰ )
ابن جریر نے عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
اتانی جبرئیل لدلوک الشمس حین زالت فصلی بی الظھر ۔۳
میرے پاس جبرائیل آئے جب سورج ڈھل گیا توآپ نے میرے ساتھ نماز ظہرپڑھی ۔
( ۳ ؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۱۷/ ۷۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵/ ۱۵۸)
نیز ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے:
کان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یصلی الظھر اذازالت الشمس، ثم تلا
اقم الصلوۃ لدلوک الشمس۴ ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ آیتِ کریمہ پڑھی کہ سورج ڈھلتے وقت نماز قائم کرو۔(ت)
(۴ ؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۱۷/ ۷۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵/ ۱۵۸)
نیز مثل سعید ابن منصور عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے:
دلوکہا زوالہا۵
( سورج کے دلوک کا معنی اس کا زوال ہے۔ت)
( ۵؎ الدرالمنثور بحوالہ سعید بن منصور وابن جریر تحت آیۃ ۱۷/ ۷۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۸۱)
بزار و ابو الشیخ و ابن مردویہ نے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ۔
دلوک الشمس زوالھا ۔۱
(سورج کے دلوک کا معنی اس کا زوال ہے۔ت)
( ۱ ؎ الدرالمنثور بحوالہ البزار وابی الشیخ وابن مردویہ تحت آیت ۱۷/ ۷۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۸۰)
عبدالرزاق نے مصنف میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے :
دلوک الشمس اذا زالت عن بطن السماء ۔۲
سورج کا دلوک یہ ہے کہ جب وہ آسمان کے بطن سے ڈھل جائے (ت)
زاغت الشمس مالت وزالت علی اعلٰی درجات ارتفاعھا ۔۳
زاغت الشمس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی بلندی کے اعلٰی درجے سے ڈھل گیا(ت)
( ۳ ؎ مجمع بحار الانوار باب الزاء مع الیاء مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۲/ ۴۵۶)
فقہ میں وقتِ زوال ہر کتاب میں مذکور اور عوام تک کی زبانوں پر مشہور ۔ کیا اس وقت آفتاب اپنے مدار سے باہر نکل جاتا ہے اور احسن الخالقین جل و علا نے جہاں تک کی حرکت کا اسے امکان دیا ہے اس سے آگے پاؤں پھیلاتا ہے؟ حاشا ! مدار ہی میں رہتا ہے اور پھر زوال ہوگیا۔ یونہی زمین اگر دورہ کرتی ضرور اسے زوال ہوتا اگرچہ مدار سے نہ نکلتی، اس پر اگر یہ خیال جائے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سِرکنا تو آفتاب کو ہر وقت ہے پھر ہر وقت کو زوال کیوں نہیں کہتے، تو یہ محض جاہلانہ سوال ہوگا۔ وجہ تسمیہ مطرد نہیں ہوتی۔ کتب میں یہ مشہور حکایت ہے کہ مطر د ماننے والے سے پوچھا جرجیر یعنی چینے کو کہ ایک قسم کا اناج ہے جرجیر کیوں کہتے ہیں۔ کہا لانہ یتجرجر علی الارض اس لیے کہ وہ زمین پر جنبش کرتا ہے کہا تمہاری داڑھی کو جرجیر کیوں نہیں کہتے یہ بھی تو جنبش کرتی ہے۔ قارورے کو قارورہ کیوں کہتے ہیں، کہا لان الماء یقرفیھا اس لیے کہ اس میں پانی ٹھہرتا ہے کہا تمہارے پیٹ کو قارورہ کیوں نہیں کہتے اس میں بھی تو پانی ٹھہرتا ہے۔ یہاں تین ہی موضع ممتاز تھے افق شرقی و غربی و دائرہ نصف النہار، ان سے سرکنے کا نام طلوع و غروب رکھا کہ یہی انسب ووجہِ تمایز تھا اور اس سے تجاوز کو زوال کہا اگرچہ جگہ سے زوال آفتاب کو بلاشبہ ہر وقت ہے کریمہ والشمس تجری لمستقر لھا میں عبداﷲ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قراء ت ہے لا مستقرلھا یعنی سورج چلتا ہے کسی وقت اسے قرار نہیں۔ اوپر گزرا کہ قرار کا مقابل زوال ہے، جب کسی وقت قرار نہیں تو ہر وقت زوال ہے اگرچہ تسمیہ میں ایک زوال معین کا نام زوال رکھا، غرض کلام اس میں ہے کہ احادیث مرفوعہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و آثار صحابہ کرام و اجماع اہل اسلام نے آفتاب کا اپنے مدار میں رہ کر ایک جگہ سے سرکنے کو زوال کہا اگر زمین متحرک ہوتی تو یقیناً ایک جگہ سے اس کا سرکنا ہی زوال ہوتا اگر چہ مدار سے باہر نہ جاتی لیکن قرآن عظیم نے صاف ارشاد میں اُس کے زوال کا انکار فرمایا ہے تو قطعاً واجب کہ زمین اصلاً متحرک نہ ہو۔
(ب) بلکہ خود یہی زوال کہ قرآن و حدیث و فقہ و زبان جملہ مسلمین سب میں مذکور قائلانِ دورہ زمین اسے زمین ہی کا زوال کہیں گے کہ وہ حرکتِ یومیہ اُسی کی جانب منسوب کرتے ہیں۔یعنی آفتاب یہ حرکت نہیں کرتا بلکہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے جب وہ حصّہ جس پر ہم ہیں گھوم کر آفتاب سے آڑ میں ہوگیا رات ہوئی۔ جب گھوم کر آفتاب کے سامنے آیا کہتے ہیں آفتاب نے طلوع کیا۔ حالانکہ زمین یعنی اُس حصہ ارض نے جانبِ شمس رُخ کیا جب اتنا گھوما کہ آفتاب ہمارے سروں کے محاذی ہوا یعنی ہمارا دائرہ نصف النہار مرکز شمس کے مقابل آیا دوپہر ہوگیا جب زمین یہاں سے آگے بڑھی دوپہر ڈھل گیا کہتے ہیں آفتاب کو زوال ہوا حالانکہ زمین کو ہوا ، یہ اُن کا مذہب ہے اور صراحۃً قرآن عظیم کا مکذب و مکذب ہے۔ مسلمین تو مسلمین، بیروت وغیرہ کے سفہائے قائلان حرکت ارض بھی جن کی زبان عربی ہے اس وقت کو وقت زوال اور دھوپ گھڑی کو مزولہ کہتے ہیں یعنی زوال پہچاننے کا آلہ۔ اور اگر اُن سے کہے کیا شمس زوال کرتا ہے؟ کہیں گے: نہیں بلکہ زمین ، حالانکہ وہ مدار سے باہر نہ گئی۔ تو آپ کی تاویل موافقین و مخالفین کسی کو بھی مقبول نہیں۔
(ج) اوروں سے کیا کام ، آپ تو بفضلہ تعالٰی مسلمان ہیں، ابتدائے وقت ظہر زوال سے جانتے ہیں، کیا ہزار بار نہ کہا ہوگا کہ زوالِ کا وقت ہے، زوال ہونے کو ہے، زوال ہوگیا۔ کاہے سے زوال ہوا، دائرہ نصف النہار سے۔ کس کا زوال ہوا آپ کے نزدیک زمین کا کہ اُسی کی حرکت محوری سے ہوا۔ حالانکہ اﷲ تعالٰی عزوجل فرماتا ہے کہ زمین کو زوال نہیں، اب خود مان کر کہ زمین متحرک ہو تو روزانہ اپنے مدار کے اندر ہی رہ کر اسے زوال ہوتا ہے دنیا سے ، زوال کفار پیش کرنے کا کیا موقع رہا، انصاف شرط ہے اور قرآن عظیم کے ارشاد پر ایمان لازم وباﷲ التوفیق۔