Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
50 - 212
 (۴) نہیں نہیں بلاقرینہ نہیں بلکہ خلافِ قرینہ، یہ اور سخت تر ہے کہ کلام اﷲ میں پوری تحریفِ معنوی کا پہلو دے گا رب عزوجل نے یمسک فرمایا ہے اور امساک روکنا، تھامنا، بند کرنا ہے ۔ ولہذا جو زمین کے پانی کو بہنے نہ دے روک رکھے اسے مسک اور مساک کہتے ہیں انہارو ابحار کو نہیں کہتے حالانکہ اُن میں بھی پانی کی حرکت وہیں تک ہوگی جہاں تک احسن الخالقین جل و علا نے اُس کا امکان دیا ہے۔ 

قاموس میں ہے:
امسکہ حبسہ المسک محرکۃ الموضع یمسک الماء کالمساک کسحاب ۔۳؂
امسکہ کا معنٰی ہے اس کو روکا ۔ المسک (س پر حرکت کے ساتھ) اُس جگہ کو کہتے ہیں جو پانی کو روکے، جیسے مساک بروزن سحاب (ت)
( ۳ ؎ القاموس المحیط فصل المیم باب الکاف  مصطفی البابی مصر   ۳/ ۳۲۹ )
یوں تو دنیا بھر میں کوئی حرکت کبھی بھی زوال نہ ہو کہ جہاں تک احسن الخالقین تعالٰی نے امکان دیا ہے اُس سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔
 (۵) اگر ان معنی کو مجازی نہ لیجئے بلکہ کہیے کہ زوال عام ہے مکان و مستقرحقیقی خاص سے سرکنا اور موقع عام اور موطن اعم اور اعم از اعم سے جُدا ہونا سب اس کے فرد ہیں تو ہر ایک پر اس کا اطلاق حقیقت ہے جیسے زید و عمرو وبکر وغیرہم کسی فرد کو انسان کہنا تو اب بھی قرآن کریم کا مفاد زمین کا وہی سکون مطلق ہوگا نہ کہ اپنے مدار سے باہر نہ جانا۔

تزولا فعل ہے اور محل نفی میں وارد ہے اور علمِ اصول میں مصرح ہے کہ فعل قوۃ نکرہ میں ہے اور نکرہ حیزنفی میں عام ہوتا ہے، تو معنی آیت یہ ہوئے کہ آسمان و زمین کو کسی قسم کا زوال نہیں نہ موقع عام سے نہ مستقر حقیقی خاص سے، اور یہی سکون حقیقی ہے وﷲ الحمد۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے مجاہد کبیر کو اپنی عبارت میں ہر جگہ قید بڑھانی پڑی زمین کا اپنے اماکن سے زائل ہوجانا اس کا زوال ہوگا۔ زائل ہوجانا قطعاً مطلقاً زوال ہے۔ زائل ہوجانا زوال کا ترجمہ ہی تو ہے۔ مکانِ خاص سے ہو خواہ اماکن سے، مگر اوّل کے اخراج کو اس قید کی حاجت ہوتی تو یونہی فرمایا ، زمین کا زوال اس کے اماکن سے۔ پھر فرمایا جن اماکن میں اﷲ تعالٰی نے اُس کو امساک کیا ہے۔ اس سے باہر سِرک نہیں سکتی۔ پھر فرمایا اپنے مدار میں امساک کردہ شدہ ہے اس سے زائل نہیں ہوسکتی۔ اور نفی کی جگہ فرمایا : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکانہ کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہیں فرمایا۔ یہاں جمع اماکن کا ظاہر کردیا مگر رب عزوجل نے تو اُن میں سے کوئی قید نہ لگائی۔ مطلق یمسک فرمایا ہے اور مطلق ان تزولا ۔ اﷲ آسمان و زمین ہر ایک کو روکے ہوئے کہ سرکنے نہ پائے یہ نہ فرمایا کہ اس کے مدار میں روکے ہوئے ہے۔ یہ نہ فرمایا کہ ہر ایک کے لیے اماکن عدیدہ ہیں اُن اماکن سے باہر نہ جانے پائے۔ تواُس کا بڑھانا کلام الہی میں اپنی طرف سے پیوند لگانا ہوگا از پیش خویش قرآن عظیم کے مطلق کو مقید، عام کو مخصصّ بنانا ہوگا۔ اور یہ ہر گز روا نہیں۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے جو ان کی کتبِ عقائد میں مصرح ہے۔
کہ النصوص تحمل علٰی ظواھر ھا ۱ ؎
 ( نصوص اپنے ظاہر پر محمول ہوتی ہیں۔ت) بلکہ تمام ضلاتوں کا بڑا پھاٹک یہی ہے کہ بطورِ خود نصوص کو ظاہر سے پھیریں۔ مطلق کو مقید عام کو مخصص کریں۔
مالکم من زوال ۔۲؂
 ( تمہارے لیے زوال نہیں ت) کی تخصیص واضح سے ان تزولا کو بھی مخصص کرلینا اس کی نظیر یہی ہے کہ
ان اﷲ علی کل شیئ قدیر ۔۱؂
 ( بے شک اﷲ تعالٰی ہر چیز پر قادر ہے۔ت) کی تخصیص دیکھ کر
ان اﷲ بکل شیئ علیم ۲ ؎
 (بے شک اﷲ تعالی ہرچیز کو جاننے والا ہے۔ت) کو بھی مخصص مان لیں کہ جس طرح وہاں ذات و صفات و محالات زیر قدرت نہیں یوں ہی معاملہ صاف ہوگیا کہ ذات و صفات و محالات کا معاذ اﷲ علم بھی نہیں۔ زیادہ تشفی بحمدہ تعالٰی نمبر ۸ میں آتی ہے جس سے واضح ہوجائے گا کہ اللہ و رسول وصحابہ و مسلمین کے کلام میں یہاں یعنی خاص محل نزاع میں زوال سے مطلقاً ایک جگہ سے سرکنا مراد ہوا ہے اگرچہ اماکن معینہ سے باہر نہ جائے یا زوال کفار کی طرح دنیا خواہ مدار چھوڑ کر الگ بھاگ جانا، فانتظر ( چنانچہ انتظار کر۔ت)
 ( ۱ ؎ شرح عقائد نسفیہ  دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ص ۱۱۹)

( ۲ ؎  القرآن الکریم ۱۴/ ۴۴) ( ۱؎  القرآن الکریم ۲/ ۲۰)( ۲ ؎  القرآن الکریم ۸/ ۷۵)
(۶) لاجرم وہ جنہوں نے خود صاحبِ قرآن صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے قرآن کریم پڑھا۔ خود حضور اقدس  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس کے معانی سیکھے انہوں نے آیہ کریمہ کو ہر گو نہ زوال کی نافی اور سکون مطلق حقیقی کی مثبت بتایا۔ سعید بن منصور و عبد بن حمید و ابن جریروابن المنذر نے حضرت شقیق ابن سلمہ سے کہ زمانہ رسالت پائے ہوئے تھے روایت کی اور حدیث ابن جریر بسند صحیح برجال صحیحین بخاری ومسلم ہے:
حدثنا ابن بشار ثنا عبدالرحمن ثنا سفٰین عن الاعمش عن ابی وائل قال جاء رجل الی عبداﷲ رضی اللہ تعالٰی عنہ فقال من این جئت ؟ قال من الشام، فقال من لقیت؟ قال لقیت کعباً ۔ فقال ما حدثک کعب؟ قال حدثنی ان السٰموٰت تدور علٰی منکب ملک قال فصدقتہ اوکذبتہ ؟ قال ما صدقتہ ولا کذبتہ ، قال لوددت انک افتدیت من رحلتک الیہ براحلتک ورحلھا وکذب کعب ان اﷲ یقول
ان اﷲ یمسک السمٰوٰت والارض ان تزولا o و لئن زالتا ان امسکھما من احد من بعد ہ ۱؂،
زادغیر ابن جریر و
کفٰی بہا زوالاً ان تدورا ۔۲؂
ہمیں ابن بشار نے حدیث بیان کی کہ ہم کو عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ ہم کو اعمش نے بحوالہ ابووائل حدیث بیان کی ، ابو وائل نے کہا کہ ایک صاحب حضرت سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حضور حاضر ہوئے فرمایا : کہاں سے آئے؟ عرض کی: شام سے۔ فرمایا وہاں کس سے ملے؟ عرض کی : کعب سے فرمایا کعب نے تم سے کیا بات کی ؟ عرض کی ، یہ کہا کہ آسمان ایک فرشتے کے شانے پر گھومتے ہیں، فرمایا : تم نے اس میں کعب کی تصدیق کی یا تکذیب ؟ عرض کی، کچھ نہیں( یعنی جس طرح حکم ہے کہ جب تک اپنی کتاب کریم کا حکم نہ معلوم ہو اہل کتاب کی باتوں کو نہ سچ جانو نہ جھوٹ) حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : کاش تم اپنا اُونٹ اور اس کا کجاوہ سب اپنے اس سفر سے چھٹکارے کو دے دیتے کعب نے جھوٹ کہا اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔ بے شک اللہ تعالٰی آسمانوں اور زمینوں کو روکے ہوئے ہے کہ سرکنے نہ پائیں اور اگر وہ ہٹیں تو اللہ کے سوا انہیں کون تھامے ، ابن جریر کے غیر نے یہ اضافہ کیا کہ گھومنا اُن کے سرک جانے کو بہت ہے۔
( ۱ ؎ جامع البیان ( تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۳۵/ ۴۱  داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۰)

( ۲ ؎ الدرالمنثور (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۳۵ /۴۱    داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/ ۳۲ )
نیز محمد طبری نے بسند صحیح بر اصولِ حنفیہ برجال بخاری و مسلم حضرت سیدنا امام ابوحنیفہ کے استاذ الاستاذ امام اجل ابراہیم نخعی سے روایت کی:
حدثنا جریر عن مغیرۃ عن ابراہیم قال ذھب جُندب البجلی الٰی کعب الاحبار فقدم علیہ ثمّ رجع، فقال لہ عبداللہ حدثنا ما حدثک، فقال حدثنی ان السماء فی قطب کقطب الرحا و القطب عمود علٰی منکب ملک، قال عبداﷲ لوددت انّک افتدیت رحلتک بمثل راحلتک ، ثم قال ماتنتکت الیھودیۃ فی قلب عبدفکادت تفارقہ ثم قال
انّ اﷲ یمسک السمٰوٰت و الارض ان تزولا ۔ کفٰی بہازوالا ان تدورا ۔۱؂
ہمیں جریر نے بحوالہ مغیرہ ابراہیم سے حدیث بیان کی کہ ابراہیم نے کہا کہ جُندب بُجلی کعب احبار کے پاس جا کر واپس آئے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : کہو کعب نے تم سے کیا کہا ؟ عرض کیا: یہ کہا کہ آسمان چکی کی طرح ایک کیلی میں ہے اور کیلی ایک فرشتے کے کاندھے پر ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا : مجھے تمنا ہوئی کہ تم اپنے ناقہ کے برابر مال دے کر ا س سفر سے چھٹ گئے ہوتے، یہودیت کی خراش جس دل میں لگتی ہے پھر مشکل ہی سے چھوٹتی ہے۔ اللہ تو فرما رہا ہے بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ نہ سِرکیں ، ان کے سرکنے کو گھومنا ہی کافی ہے۔
 ( ۱ ؎ جامع البیان ( تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۳۵/ ۴۱  داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۲/ ۱۷۱ و ۱۷۰)
عبدبن حمید نے قتادہ شاگردِ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی:
 ان کعباً کان یقول ان السماء تدور علٰی نصب مثل نصب الرحا فقال حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہما کذب کعب
ان اﷲ یمسک السمٰوٰت والارض ان تزولا ۔۲؂
کعب کہا کرتے کہ آسمان ایک کیلی پر دورہ کرتا ہے جیسے چکی کی کیلی۔ اس پر حذیفہ الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کعب نے جھوٹ کہا۔ بے شک اﷲ آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ جنبش نہ کریں۔
 ( ۲ ؎ الدرالمنثور (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۳۵ /۴۱    داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/ ۳۲ )
دیکھو ان اجلہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے مطلق حرکت کو زوال مانا اور اس پر انکار فرمایا اور قائل کی تکذیب کی اور اسے بقایائے خیالات یہودیت سے بتایا، کیا وہ اتنا نہ سمجھ سکتے تھے کہ ہم کعب کی ناحق تکذیب کیوں فرمائیں آیت میں تو زوال کی نفی فرمائی ہے اور اُن کا یہ پھرنا چلنا اپنے اماکن میں ہے جہاں تک احسن الخالقین تعالٰی نے ان کو حرکت کا امکان دیا ہے وہاں تک اُن کا حرکت کرنا ان کا زوال نہ ہوگا۔ مگر ان کا ذہن مبارک اس معنی باطل کی طرف نہ گیا نہ جاسکتا تھا بلکہ اس کے ابطال ہی کی طرف گیا اور جانا ضرور تھا کہ اللہ تعالٰی نے مطلقاً زوال کی نفی فرمائی ہے نہ کہ خاص زوال عن المدار کی تو انہوں نے روانہ رکھا کہ کلامِ ا لہی میں اپنی طرف سے یہ پیوند لگالیں لاجرم اس پر رَد فرمایا اور اس قدر شدید واشد فرمایا وﷲ الحمد۔
تنبیہ :
کعب احبار تابعین اخیار سے ہیں خلافتِ فاروقی میں یہودی سے مسلمان ہوئے کُتب سابقہ کے عالم تھے۔ اہلِ کتاب کی احادیث اکثر بیان کرتے انہیں میں سے یہ خیال تھا جس کی تغلیط ان اکابر صحابہ نے قرآن عظیم سے فرمادی تو کَذَ ب کعب کے یہ معنی ہیں کہ کعب نے غلط کہا نہ کہ معاذ اﷲ قصداً جھوٹ کہا۔  کذب بمعنی اخطا محاورہ حجاز ہے اور خراش یہودیت بمشکل چھوٹنے سے یہ مراد کہ اُن کے دل میں علمِ یہود بھرا ہوا تھا وہ تین قسم ہے باطل صریح و حق صحیح اور مشکوک کہ جب تک اپنی شریعت سے اس کا حال نہ معلوم ہو حکم ہے کہ اس کی تصدیق نہ کرو ممکن کہ ان کی تحریفات یا خرافات سے ہو، نہ تکذیب کرو ممکن کہ توریت یا تعلیمات سے ہواسلام لا کر قسم اول کا حرف حرف قطعاً اُن کے دل سے نکل گیا۔ قسم دوم کا علم اور مسجّل ہوگیا، یہ مسئلہ قسم سوم بقایائے علم یہود سے تھا جس کے بطلان پر آگاہ نہ ہو کر انہوں نے بیان کیا اورصحابہ کرام نے قرآن عظیم سے اس کا بطلان ظاہر فرمادیا یعنی یہ نہ توریت سے ہے نہ تعلیمات سے بلکہ ان خبیثوں کی خرافات سے تابعین صحابہ کرام کے تابع و خادم ہیں، مخدوم اپنے خدام کو ایسے الفاظ سے تعبیر کرسکتے ہیں اور مطلب یہ ہے جو ہم نے واضح کیا وﷲ الحمد۔
Flag Counter