اسی کے مثل آپ نے کمالین سے نقل کیا، یہاں بھی مکان ومقر سے قطعاً وہی قرار ہے جو کریمہ
فان استقرمکانہ ۔۴
میں تھا ارشاد کا ارشاد مقارھا جاہا ئے قرار اور کشاف کا لفظ تنقلع خاص قابلِ لحاظ ہے کہ اُکھڑ جانے ہی کو زوال بتایا۔
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۷/ ۱۴۳)
(ہ ) سعیدبن منصور اپنے سُنن اور ابن ابی حاتم تفسیر میں حضرت ابومالک غزو ان غفاری کوفی اُستاذ امام سُدّی کبیر وتلمیذ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال قال تحرکت ۔۵
اگرچہ ان کا مکر اس حد تک تھا کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ حرکت کریں۔(ت)
( ۵ ؎ تفسیر القرآن العظیم ( ابن ابی حاتم) تحت آیۃ ۱۴/ ۴۶ مکتبہ نزار مصطفٰی الباز ۷/ ۲۲۵۲ )
اُنہوں نے صاف تصریح کردی کہ زوالِ جبال اُن کا حرکت کرنا جنبش کھانا ہے۔ اسی کی زمین سے نفی ہے۔ وﷲ الحمد۔
(۳) اُوپر گزرا کہ زوال مقابل قرار و ثبات ہے اور قرار و ثبات حقیقی سکون مطلق ہے دربارہ قرار عبارت، امام راغب گزری، اور قاموس میں ہے:
المثبت کمکرم من لاحراک بہ من المرض وبکسرالباء الذی ثقل فلم یبرح الفراش وداء ثبات بالضم معجزعن الحرکۃ ۔۶
مثبت بروزن مکرم وہ شخص ہے جس میں بیماری کی وجہ سے حرکت نہ ہو، اور اگر مثبت یعنی باء کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہوگا وہ شخص جس کی بیماری بڑھ گئی اور وہ صاحبِ فراش ہوگیا۔اور داء کامعنی ثُبات ہوا، ثاء پر ضمہ کے ساتھ، یعنی حرکت سے عاجز کردینے والا مرض (ت)
( ۶ ؎القاموس المحیط فصل التاء والثاء باب التاء مصطفٰی البابی مصر ۱/ ۱۵۰ )
مگر تو سُّعًا قرار و ثبات ایک حالت پر بقاء کو کہتے ہیں اگرچہ اس میں سکون مطلق نہ ہو تو اس کا مقابل زوال اُسی حالت سے انفصال ہوگا۔ یونہی مقرو مستقرو مکان ہر جسم کے لیے حقیقہ وہ سطح یا بعد مجرد یا موہوم ہے جو جمیع جوانب سے اس جسم کو حاوی اور اس سے ملاصق ہے۔ یعنی علمائے اسلام کے نزدیک وہ فضائے متصل جسے یہ جسم بھرے ہوئے ہے ظاہر ہے کہ وہ دبنے سرکنے سے بدل گئی، لہذا اس حرکت کو حرکت اینیہ کہتے ہیں یعنی جس سے دمبدم این کہ مکان وجائے کا نام ہے بدلتا ہے یہی جسم کا مکان خاص ہے اور اسی میں قرار و ثبات حقیقی ہے اس کے لیے یہ بھی ضرور کہ وضع بھی نہ بدلے، کرہ کہ اپنی جگہ قائم رہ کر اپنے محور پر گھومے مکان نہیں بدلتا مگر اُسے قار وثابت وساکن نہ کہیں گے بلکہ زائل و حائل و متحرک ، پھر اسی توسُّع کے طور پر بیت بلکہ دار بلکہ محلے بلکہ شہر بلکہ کثیر ملکوں کے حاوی حصہ زمین مثل ایشیا بلکہ ساری زمین بلکہ تمام دنیا کو مقرو مستقرو مکان کہتے ہیں۔
قال تعالٰی:
ولکم فی الارض مستقر ومتاع الٰی حین ۱
اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے ۔ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۳۶ )
اور اس سے جب تک جُدائی نہ ہو اُسے قرار و قیام بلکہ سکون سے تعبیر کرتے ہیں اگرچہ ہزاروں حرکات پر مشتمل ہو ولہذا کہیں گے کہ موتی بازار بلکہ لاہور بلکہ پنجاب بلکہ ہندوستان بلکہ ایشیا بلکہ زمین ہمارے مجاہد کبیر کا مسکن ہے وہ ان میں سکونت رکھتے ہیں وہ ان کے ساکن ہیں حالانکہ ہر عاقل جانتا ہے کہ سکون و حرکت متبائن مگر یہ معنٰی مجازی ہیں، لہذا جائے اعتراض نہیں۔ لاجرم محلِ نفی میں ان کا مقابل زوال بھی انہیں کی طرح مجازی وتوسُّع ہے اور وہ نہ ہوگا جب تک اُن سے انتقال نہ ہو، کفار کی وہ قسم کہ مالنا من زوال اسی معنٰی پر تھی یہ قسم نہ کھاتے تھے کہ ہم ساکن مطلق ہیں چلتے پھرتے نہیں، نہ یہ کہ ہم ایک شہر یا ملک کے پابند ہیں اس سے منتقل نہیں ہوسکتے بلکہ دنیا کی نسبت قسم کھاتے تھے کہ ہمیں یہاں سے آخرت میں جا نا نہیں
ان ھی الاحیاتنا الدنیا نموت و نحیاوما نحن بمبعوثین ۲ ؎ ۔
(وہ تو نہیں مگر ہماری دنیا کی زندگی کہ ہم مرتے جیتے ہیں اور ہمیں اٹھنا نہیں۔ت)
( ۲ ؎القرآن الکریم ۲۳/ ۳۷)
مولٰی تعالٰی فرماتا ہے:
واقسمواباﷲ جھدایمانھم لایبعث اﷲ من یموت ۔۳
اور انہوں نے اﷲ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش کی کہ اﷲ تعالٰی مردے نہ اٹھائے گا۔ (ت)
( ۳ ؎القرآن الکریم ۱۶/ ۳۸ )
لاجرم تیسری آیہ کریمہ میں زوال سے مراد دنیا سے آخرت میں جانا ہے، نہ یہ کہ دُنیا میں اُن کا چلنا پھرنا زوال نہیں قطعاً حقیقی زوال ہے جس کی سندیں اوپر سُن چکے اور عظیم شافی بیان آگے آتا ہے، مگر یہاں اُس کا ذکر ہے جس کی وہ قسم کھاتے تھے اور وہ نہ تھا مگر دنیا سے انتقال معنی مجازی کے لیے قرینہ درکار ہوتا ہے۔ یہاں قرینہ اُن کے یہی اقوال بعینہ ہیں بلکہ خود اسی آیت صدر میں قرینہ صریحہ مقالیہ موجود کہ روزِ قیامت ہی کے سوال وجواب کاذکر ہے فرماتا ہے:
وانذر الناس یوم یأتیھم العذاب فیقول الذین ظلموا ربّنا اخرنا الٰی اجل قریب نجب دعوتک ونتبع الرسل اولم تکونوا اقسمتم من قبل مالکم من زوال ۔۱
اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جب اُن پر عذاب آئے گا، تو ظالم کہیں گے اے ہمارے رب تھوڑی دیر ہمیں مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں اور رسولوں کی غلامی کریں۔ تو کیا تم پہلے قسم نہ کھا چکے تھے کہ ہمیں دنیا سے ہٹ کر کہیں جانا نہیں۔(ت)
( ۱ ؎القرآن الکریم ۱۴/ ۴۴)
لیکن کریمہ
ان اﷲ یمسک السٰموٰت والارض ان تزولا ۔۲
(بے شک اﷲ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں جنبش نہ کریں۔ت) میں کوئی قرینہ نہیں تو معنی مجازی لینا کسی طرح جائز نہیں ہوسکتا بلکہ قطعاً زوال اپنے معنی حقیقی پر رہے گا۔ یعنی قرار وثبات و سکون حقیقی کا چھوڑنا، اُس کی نفی ہے تو ضرور سکون کا اثبات ہے ایک جگہ معنی مجازی میں استعمال دیکھ کر دوسری جگہ بلاقرینہ مجاز مراد لینا ہر گز حلال نہیں۔