(ا) دیکھو زوال بمعنی حرکت ہے اور قرآن عظیم نے آسمان و زمین سے اس کی نفی فرمائی تو حرکتِ زمین و حرکتِ آسمان دونوں باطل ہوئیں۔
(ب) "زوال" جانا اور بدلنا ہے، حرکت محوری میں بدلنا ہے۔ اور مدار پر حرکت میں جانا بھی ، تو دونوں کی نفی ہوئی۔
(ج) نیز نہایہ و درنثیر امام جلال الدین سیوطی میں ہے:
قرنی مکانہ یقرقرارًا کا معنی یہ ہے کہ شیئ اپنی جگہ ثابت ہو کر ٹھہر گئی۔ یہ اصل میں مشتق ہے قر سے جس کا معنی سردی ہے اور وہ سکون کا تقاضا کرتی ہے جب کہ گرمی حرکت کی مقتضی ہے۔(ت)
( ۳ ؎المفردات فی غرائب القرآن القاف مع الراء نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۴۰۶ )
قاموس میں ہے:
قربالمکان ثبت وسکن کا ستقر ۔۴
قربالمکان کا معنٰی ٹھہرنا اور ساکن ہونا جیسا کہ استقرکا معنٰی بھی یہی ہے۔ت
( ۴ ؎القاموس المحیط فصل القاف باب الراء مصطفٰی البابی مصر ۲/ ۱۱۹ )
دیکھو زوال انزعاج ہے، اور انزعاج قلق مقابل قرار اور سکون ہو تو زوال مقابل سکون ہے اور مقابل سکون نہیں مگر حرکت، تو ہر حرکت زوال ہے۔ قرآن عظیم آسمان و زمین کے زوال سے انکار فرماتا ہی ، لاجرم اُن کی ہر گونہ حرکت کی نفی فرماتا ہے۔
(د) صراح میں ہے:
زائلہ جنبیدہ و روندہ وآئندہ ، ۔۵
زائلہ کا معنی جنبش کرنے والا، جانے والا اور آنے والا ہے۔(ت)
( ۵ ؎ صراح فصل الزاء باب اللام نولکشور لکھنؤ ص ۳۴۳)
زمین اگر محور پر حرکت کرتی جنبیدہ ہوتی اور مدار پر تو آئندہ دروندہ بھی بہرحال زائلہ ہوتی اور قرآن عظیم اُس کے زوال کو باطل فرماتا ہے، لاجرم اس سے ہر نوعِ حرکت زائل۔
(۲) کریمہ
وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال ۔۱
ان کا مکر اتنا نہیں جس سے پہاڑ جگہ سے ٹل جائیں، یا اگرچہ اُن کا مکر ایسا بڑا ہو کہ جس سے پہاڑ ٹل جائیں۔ یہ قطعاً ہماری ہی مؤید اور ہر گو نہ حرکتِ جبال کی نفی ہے۔
(۱ القرآن الکریم ۱۴ /۴۶)
(ا) ہر عاقل بلکہ غبی تک جانتا ہے کہ پہاڑ ثابت ساکن و مستقر ایک جگہ جمے ہوئے ہیں جن کو اصلاً جنبش نہیں۔
تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
ثبوت الجبل یعرفہ الغبی والذکی ۔۲
پہاڑ کے ثبوت و قرار کو کندذہن اور تیز ذہن والا دونوں جانتے ہیں۔(ت)
قرآن عظیم میں ان کو رواسی فرمایا، راسی ایک جگہ جما ہوا پہاڑ ، اگر ایک انگل بھی سرک جائے گا قطعاً زال الجبل صادق آئے گا نہ یہ کہ تمام دُنیا میں لڑھکتا پھرے۔ اور زال الجبل نہ کہا جائے ثبات و قرار ثابت رہے کہ ابھی دنیا سے آخرت کی طرف گیا ہی نہیں زوال کیسے ہوگیا۔ اپنی منقولہ عبارتِ جلالین دیکھئے پہاڑ کے اسی ثبات واستقرار پر شرائع اسلام کو اُس سے تشبیہ دی ہے جن کا ذرہ بھر ہلانا ممکن نہیں۔
(ب)اسی عبارتِ جلالین کا آخر دیکھئے کہ تفسیر دوم پر یہ آیت آیت
و تخرالجبال ھدًّ ا
کے مناسب ہے یعنی ان کی ملعون بات ایسی سخت ہے جس سے قریب تھا کہ پہاڑ ڈھہ کر گر پڑتے ۔
یوں ہی معالم التنزیل میں ہے:
وھومعنی قولہ تعالٰی
وتخرالجبال ھّدا ۔۳
اور یہی معنی ہے اﷲ تعالی کے اس قول کا اور پہاڑ ڈھہ کر گر پڑتے (ت)
یہ مضمون ابوعبید وابن جریر و ابن المنذرو ابن ابی حاتم نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا نیز جو یبر ضحاک سے راوی ہوئے
کقولہ تعالٰی
وتخرالجبال ھدا ۔۴
( جیسا کہ اللہ تعالٰی کا قول اور وہ پہاڑ گر جائیں گے ڈھہ کر۔ ت) اسی طرح قتادہ شاگرد انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ، ظاہر ہے کہ ڈھہ کر گرنا اُس جنگل سے بھی اُسے نہ نکال دے گا جس میں تھا نہ کہ دنیا سے۔ ہاں جما ہوا ساکن مستقر نہ رہے گا تو اُسی کو زوال سے تعبیر فرمایا اور اسی کی نفی زمین سے فرمائی تو وہ ضرور جمی ہوئی ساکن مستقر ہے۔
( ۴؎ جامع البیان عن الضحاک (تفسیرابن جریر) تحت آیۃ ۱۴/۱۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳/۲۹۰)
(ج) رب عزوجل نے سیدنا موسٰی علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم سے فرمایا:
لن ترانی وٰلکن انظر الٰی الجبل فان استقرمکانہ فسوف ترانی ۔۱
تم ہر گز مجھے نہ دیکھو گے ہاں پہاڑ کی طرف دیکھو اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہے تو عنقریب تم مجھے دیکھ لو گے۔
جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی اسے ٹکڑے کردیا اور موسٰی غش کھا کر گرے۔
( ۲ ؎القرآن الکریم ۷/ ۱۴۳ )
کیا ٹکڑے ہو کر دُنیا سے نکل گیا یا ایشیا یا اُس ملک سے۔ اس معنی پر تو ہر گز جگہ سے نہ ٹلا، ہاں وہ خاص محل جس میں جما ہوا تھا وہاں نہ جما رہا، تو معلوم ہوا اسی قدر عدمِ استقرار کو کافی ہے۔ اور اوپر گزرا کہ عدمِ استقرار عین زوال ہے زمین بھی جہاں جمی ہوئی ہے وہاں سے سر کے، تو بے شک زائلہ ہوگی اگرچہ دنیا یا مدار سے باہر نہ جائے۔