Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
47 - 212
اور عجائب نعمائے الہٰیہ سے یہ کہ آیہ کریمہ ان تزولا کی یہ تفسیر اور یہ کہ محور پر حرکت بھی موجب زوال ہے چہ جائے حرکت علی المدار، ہم نے دو صحابی جلیل القدر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، دونوں کی نسبت حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ جو بات تم سے بیان کریں اس کی تصدیق کرو۔ 

دونوں حدیثیں جامع ترمذی شریف کی ہیں۔ اول:
ماحدثکم ابن مسعود فصد قوہ ۔۱؂
جو با ت تم سے ابن مسعود بیان کرے اس کی تصدیق کرو۔(ت)
 ( ۱ ؎  جامع الترمذی  ابواب المناقب مناقب عمار بن یاسر  امین کمپنی دہلی۲/ ۲۲۱)

(مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفۃ بن الیمان المکتب الاسلامی بیروت   ۵/ ۳۸۵ و ۴۰۲)
دوم :
  ماحدثکم حذیفۃ فصدقوہ ۔۲؂
جو بات تم سے حذیفہ بیان کرے اس کی تصدیق کرو۔(ت)
 ( ۲ ؎  جامع الترمذی ابواب المناقب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مناقب حذیفہ ابن الیمان  امین کمپنی دہلی۲/ ۲۲۲)
اب یہ تفسیر ان دونوں حصرات کی نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے مانو اس کی تصدیق کرو والحمدﷲ تعالٰی رب العالمین، ہمارے معنی کی تو یہ عظمتِ شان ہے کہ مفسرین سے ثابت، تابعین سے ثابت، اجلہ صحابہ کرام سے ثابت، خود حضور سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام سے اُس کی تصدیق کا حکم۔

اورعنقریب ہم بفضل اﷲ تعالٰی اور بہت آیات اور صدہا احادیث اور اجماعِ اُمت اور خود اقرار مجاہد کبیر سے اس معنی کی حقیقت اور زمین کا سکونِ مطلق ثابت کریں گے وباﷲ التوفیق۔ آپ نے جو معنی لیے کیا کسی صحابی، کسی تابعی، کسی امام، کسی تفسیر ، یا جانے دیجئے چھوٹی سے چھوٹی کسی اسلامی عام کتاب میں دکھا سکتے ہیں کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ زمین گردِ آفتاب دورہ کرتی ہے، اللہ تعالٰی اسے صرف اتنا روکے ہوئے ہے کہ اس مدار سے باہر نہ جائے لیکن اس پر اسے حرکت کرنے کا امر فرمایا ہے۔ حاش ﷲ ! ہرگز کسی اسلامی رسالہ، پرچے ، رقعہ سے اس کا پتا نہیں دے سکتے سوا سائنس نصارٰی کے۔ آگے آپ انصاف کرلیں گے کہ معنی قرآن وہ لیے جائیں یا یہ ، محبامخلصا! وہ کون سا نص ہے جس میں کوئی تاویل نہیں گھڑ سکتے یہاں تک کہ قادیانی کافر نے  وخاتم النبیین ۱؂ میں تاویل گھڑدی کہ رسالت کی افضلیت اُن پر ختم ہوگئی اُن جیسا کوئی رسول نہیں۔۲؂ نانوتوی نے گھڑدی کہ وہ نبی بالذات ہیں اور نبی بالعرض، اور موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے ان کے بعد بھی اگر کوئی نبی ہو تو ختم نبوت کے خلاف نہیں ۔۳؎  کہ یوں ہی کوئی مشرک لا الٰہ الا اﷲ میں تاویل کرسکتا ہے کہ اعلٰی میں حصر ہے یعنی اﷲ کے برابر کوئی خدا نہیں اگرچہ اس سے چھوٹے بہت سے ہوں جیسے حدیث شریف میں ہے:
لافتٰی الّا علی لاسیف الا ذوالفقار ۔۴؂
نہیں ہے کوئی جو ان مگر علی ( کرم اﷲ وجہہ الکریم اور نہیں ہے کوئی تلوار مگر ذوالفقار ۔ت)
 (۱؂ القرآن الکریم ۳۳/۴۰ ) 

( ۲ ؎ تحذیرالناس کتب خانہ رحیمیہ سہارن پور انڈیا ص ۴)

( ۳ ؎ تحذیر الناس کتب خانہ رحیمیہ سہارن پور انڈیا ص ۲۵)

( ۴ ؎ الاسرارالمرفوعۃحدیث ۱۰۶۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۶۵)
دوسری حدیث :
لاوجع الاوجع العین ولا ھم الا ھم الدّین ۵؂
درد نہیں مگر آنکھ کا درد اور پریشانی نہیں مگر قرض کی پریشانی۔
 ( ۵ ؎الدررالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرہ حرف لا حدیث۴۴۹ المکتب الاسلامی بیروت ص ۱۸۷ )
ایسی تاویلوں پر خوش نہ ہونا چاہئے بلکہ جو تفسیر ماثور ہے اس کے حضور سر رکھ دیا جائے اور جو مسئلہ تمام مسلمانوں میں مشہور ومقبول ہے مسلمان اسی پر اعتقاد لائے ۔

محبی مخلصی! اﷲ عزوجل نے آپ کو پکا مستقل سُنّی کیا ہے آپ جانتے ہیں کہ اب سے پہلے رافضی جو مرتد نہ تھے کاہے سے رافضی ہوئے، کیا اﷲ یا قرآن یارسول یاقیامت وغیرہا ضروریاتِ دین سے کسی کے منکر تھے؟ ہر گز نہیں، انہیں اسی نے رافضی کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی عظمت نہ کی۔ محبا ! دل کو صحابہ کی عظمت سے مملوکرلینا فرض ہے انہوں نے قرآن کریم صاحبِ قرآن صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے پڑھا حضور سے اس کے معانی سیکھے اُن کے ارشاد کے آگے اپنی فہم ناقص کی وہ نسبت سمجھنی بھی ظلم ہے جو ایک علامہ متبحر کے حضور کسی جاہل گنوار بے تمیز کو۔ محبا! صحابہ اور خصوصاً حذیفہ وعبداﷲ ابن مسعود جیسے صحابہ کی یہ کیا عظمت ہوئی اگر ہم خیال کریں کہ جو معنی قرآن عظیم انہوں نے سمجھے غلط ہیں ہم جو سمجھے وہ صحیح ہیں۔ میں آپ کو اﷲ عزوجل کی پناہ میں دیتا ہوں اس سے کہ آپ کے دل میں ایسا خطرہ بھی گزرے۔
فاﷲ خیر حافظا وھوارحم الراحمین ۔۱؂
 ( تو اﷲ تعالٰی سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ہے۔ت)
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴۰)
میں امیدواثق رکھتا ہوں کہ اسی قدر اجمالِ جمیل آپ کے انصافِ جزیل کو بس۔ اب قدرے تفصیل بھی عرض کروں۔
 (۱) زوال کے اصلی معنٰی سرکنا، ہٹنا، جانا، حرکت کرنا، بدلنا ہیں۔ 

قاموس میں ہے:
الزوال الذھاب والاستحالۃ ۔۲؂
زوال کا معنٰی ہے جانا اور ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا ۔ت)
( ۲ ؎ القاموس المحیط  فصل الزاء باب اللام تحت لفظ الزوال مصطفٰی البابی مصر ۳/ ۴۰۲)
اُسی میں ہے۔
کل ماتحول فقد حال واستحال ۔۳؂
ہر وہ جس نے جگہ بدلی تو بے شک اس نے حال بدلا اور ایک حال سے دوسرے حال کیطرف منتقل ہوا۔(ت)
( ۳؎ القاموس المحیط  فصل الحاء من باب اللام تحت لفظ الحول مصطفٰی البابی مصر ۳/ ۳۷۴)
ایک نسخہ میں ہے۔
  کل ماتحرک اوتغیر ۔۴؂
 (ہر وہ جس نے حرکت کی یا تبدیل ہوا۔ت)
 ( ۴ ؎تاج العروس فصل الحاء من باب اللام تحت لفظ الحول داراحیاء الثرات العربی بیروت ۷/ ۲۹۴ )
یوں ہی عُباب میں ہے:
تحول اوتحرک۔۵؂
 (بدلا  یا حرکت کی۔ت)
 ( ۵ ؎تاج العروس بحوالہ العباب فصل الحاء من باب اللام تحت لفظ الحول داراحیاء الثرات العربی بیروت ۷/ ۲۹۴)
تاج العروس میں ہے:
ازال اﷲ تعالٰی زوالہ ای اذھب اﷲ حرکتہ وزال زوالہ ای ذھبت حرکتہ ۔۱؂
 (ازال اﷲ) اﷲ تعالٰی نے اس کے زوال کا ازالہ فرمایا یعنی اس کی حرکت کو ختم فرمادیا۔ اور اس کا زوال زائل ہوا، یعنی اس کی حرکت ختم ہوگئی۔(ت)
 ( ۱ ؎ تاج العروس فصل الزاء من باب اللام داراحیاء التراث العربی بیروت  ۷/ ۳۶۲)
نہایہ ابن اثیر میں ہے:
فی حدیث جندب الجھنی "واﷲ لقد خالطہ سھمی ولوکان زائلۃ لتحرک"  الزائلۃ کل شیئ من الحیوان یزول عن مکانہ ولا یستقر، وکان ھذا المرمی قد سکن نفسہ لایتحرک لئلا یحس بہ فیجھز علیہ ۔۲؂
جُندب جُہنی کی حدیث میں ہے بخدا میرا تیر ا اس میں پیوست ہوگیا، اگر اس میں حرکت کی طاقت ہوتی تو وہ حرکت کرتا زائلہ اس حیوان کو کہتے ہیں جو اپنی جگہ سے ہٹ جائے اور قرار نہ پکڑے۔ جس کو تیرلگا تھا اس نے اپنے آپ کو حرکت سے روک لیا تاکہ اس کے بارے میں پتا نہ چل سکے اور اس کو ہلاک نہ کردیا جائے۔ت)
 ( ۲ ؎ النہایہ فی غریب الحدیث والاثر    باب الزاء مع الواو  تحت لفظ زوال مکتبۃ الاسلامیہ بیروت   ۲/ ۳۱۹)
Flag Counter