بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی بامرہ قامت السماء والارض والصلوۃ والسلام علٰی شفیع یوم العرض واٰلہ وصحبہ وابنہ و حزبہ اجمعین، امین !
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جس کے حکم سے آسمان وزمین قائم ہیں۔ اور درود و سلام ہو روزِ قیامت شفاعت کرنے والے پر اور ان کی آل اصحاب، اولاد اور تمام امت پر ۔ آمین ۔(ت)
مجاہدکبیر، مخلص فقیر، حق طلب حق پذیر سلمہ اللہ القدیر، وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ و برکاتہ۔ دسواں دن ہے آپ کی رجسٹری آئی میری ضروری کتاب کہ طبع ہورہی ہے اس کی اصل کے صفحہ ۱۰۸۸ تک کاتب لکھ چکے اور صفحہ ۱۰۹۰ کے بعد سے مجھے تقریباً چالیس صفحات کے قدر مضامین بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی، یہ مباحث جلیلہ دقیقہ پر مشتمل تھی۔ میں نے ان کی تکمیل مقدم جانی کہ طبع جاری رہے۔ ادھر طبیعت کی حالت آپ خود ملاحظہ فرماگئے ہیں وہی کیفیت اب تک ہے اب بھی اسی طرح چار آدمی کرسی پر بٹھا کر مسجد کو لے جاتے لاتے ہیں، ان اوراق کی تحریر اور ان مباحث جلیلہ غامضہ کی تنقیح و تقریر سے بحمدہ تعالٰی رات فارغ ہوا اور آپ کی محبت پر اطمینان تھا کہ اس ضروری دینی کام کی تقدیم کو ناگوار نہ رکھیں گے۔
آپ نے اپنا لقب مجاہد کبیر رکھا ہے مگر میں تو اپنے تجربے سے آپ کو مجاہد اکبر کہہ سکتا ہوں۔ حضرت مولانا الاسد الاسد الاشد مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا لہجہ جلد سے جلد حق قبول کرلینے والا میں نے آپ کے برابر نہ دیکھا اپنے جمے ہوئے خیال سے فوراً حق کی طرف رجوع لے آنا جس کا میں بار ہا آپ سے تجربہ کرچکا نفس سے جہاد ہے۔ اور نفس سے جہاد جہاد اکبر ہے تو آپ اس میں مجاہد اکبر ہیں۔ بارک اللہ تعالٰی وتقبل امین، امید ہے کہ بعو نہ تعالٰی اس مسئلہ میں بھی آپ ایسا ہی جلداز جلد قبول حق فرمائیں گے۔ کہ باطل پر ایک آن کے لیے بھی اصرار میں نے آپ سے نہ دیکھا وﷲ الحمد۔
اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ زمین و آسمان دونوں ساکن ہیں کواکب چل رہے ہیں۔
کل فی فلک یسبحون ۱
ہر ایک ایک فلک میں تیرتا ہے، جیسے پانی میں مچھلی، اللہ تعالٰی عزوجل کا ارشاد آپ کے پیش نظر ہے۔
ان اﷲ یمسک السموٰ ت والارض ان تزولا o ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعد ہ انہ کان حلیما غفورا ۔۲
بے شک اللہ آسمان و زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکنے نہ پائیں اور اگر وہ سرکیں تو اللہ کے سوا انہیں کوئی روکے ، بے شک وہ حلم والا بخشنے والا ہے۔(ت)
میں یہاں اوّلاً اجمالاً چند حرف گزارش کروں کہ ان شاء اللہ تعالٰی آپ کی حق پسندی کو وہی کافی ہو پھر قدرے تفصیل۔
اجمال یہ : کہ
افقہُ الصَّحابۃ بعد الخلفاء الاربعہ سیدُنا عبدُاللہ ابن مسعود و صاحبُ سِرِّ رسولِ اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہم نے اس آیہ کریمہ سے مطلق حرکت کی نفی مانی، یہاں تک کہ اپنی جگہ قائم رہ کر محور پر گھومنے کو بھی زوال بتایا ۔(دیکھئے نمبر ۲)
حضر ت امام ابو مالک تابعی ثقہ جلیل تلمیذ حضرت عبداللہ بن عباس نے زوال کو مطلق حرکت سے تفسیر کیا ۔ (دیکھئے آخر نمبر ۲)
ان حضرات سے زائد عربی زبان و معانیِ قرآن سمجھنے والا کون !
علامہ نظام الدین حسن نیشاپوری نے تفسیر ر غائب الفرقان میں اس آیہ کریمہ کی یہ تفسیر فرمائی :
(ان تزولا) کراھۃ زوالھما عن مقر ھما ومرکز ھما۱
یعنی اﷲ تعالٰی آسمان و زمین کو روکے ہوئے ہے۔ کہ کہیں اپنے مقرو مرکز سے ہٹ نہ جائیں۔ مقر ہی کافی تھا کہ جائے قرارو آرام ہے، قرار سکون ہے منافی حرکت ۔
( ۱ ؎ غرائب القرآن (تفسیر نیشاپوری ) تحت آیۃ ۳۵/ ۴۱ مصطفٰی البابی مصر ۲۲/ ۸۴)
قاموس میں آتا ہے۔
قر سکن ۲
( ۲ ؎ القاموس المحیط باب الراء فصل القاف مصطفٰی البابی مصر ۲/ ۱۱۹)
مگر انہوں نے اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کا عطف تفسیری مرکز ھما زائد کیا مرکز جائے رکز، رکز گاڑنا، جمانا، یعنی آسمان و زمین جہاں جمے ہوئے گڑے ہوئے ہیں وہاں سے نہ سرکیں۔
نیز غرائب القرآن میں زیر
قولہ تعالی
الذی جعل لکم الارض فراشا
( اور جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔ ت) فرمایا:
لایتم الافتراش علیہا مالم تکن ساکنۃ ویکفی فی ذلک ما اعطا ھا خالقھا ورکزفیھا من المیل الطبیعی الی الوسط الحقیقی بقدرتہ، واختیارہ
ان اﷲ یمسک السموات والارض ان تزولا۔۳
زمین کو بچھونا بنانا اس وقت تک تام نہیں ہوتا جب تک وہ ساکن نہ ہو، اور اس میں کافی ہے وہ جو اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت و اختیار کے ساتھ اس میں وسط حقیقی کی طرف میل طبعی مرتکز فرمایا ہے اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے، بے شک اللہ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سرکنے نہ پائیں۔(ت)
( ۳ ؎غرائب القرآن (تفسیر نیشاپوری تحت آیۃ ۲/ ۲۲ مصطفٰی البابی مصر ۱/ ۱۹۲ و۱۹۳ )
اسی آیت کے نیچے تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی میں ہے ۔
اعلم ان کون الارض فراشا مشروط بکونھاساکنۃ، فالارض غیر متحرکۃ لا بالاستدارۃ ولا بالاستقامۃ ، و سکون الارض لیس الا من اﷲ تعالی بقدرتہ واختیارہ ولہذا قال اللہ تعالٰی
ان اﷲ یمسک السموٰت والارض ان تزولا۔۴
ا ھ ملتقطا
جان لے کہ زمین کا بچھونا ہونا اس کے ساکن ہونے کے ساتھ مشروط ہے ، لہذا زمین نہ تو حرکت مستدیرہ کے ساتھ متحرک ہے اور نہ ہی حرکت مستقیمہ کے ساتھ۔ اور اس کا ساکن ہونا محض اﷲ تعالٰی کی قدرت و اختیار سے ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ، بے شک اﷲ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو روکے ہوئے ہے کہ سر کنے نہ پائیں۔ الخ التقاط (ت)
(۴ ؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۲/ ۲۲ المطبعۃ المصریۃ بمیدان الازہر ۲/ ۳ و ۱۰۲)
قرآن عظیم کے وہی معنی لینے ہیں جو صحابہ و تابعین و مفسرین معتمدین نے لیے ان سب کے خلاف وہ معنی لینا جن کا پتا نصرانی سائنس میں ملے مسلمان کو کیسے حلال ہوسکتا ہے، قرآن کریم کی تفسیر بالرائے اشد کبیرہ ہے جس پر حکم ہے۔
فلیتبوأمقعدہ من النار ۔۱
وہ اپنا ٹھکا نا جہنم میں بنالے۔
( ۱ ؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برایہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹)
یہ تو اُس سے بھی بڑھ کر ہوگا کہ قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بھی نہیں بلکہ رائے نصارٰی کے موافق، والعیاذ باللہ، یہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالٰی عنہما وہ صحابی جلیل القدر ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اسرار سکھائے ان کا لقب ہی صاحبِ سر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سے اسرارِ حضور کی باتیں پوچھتے، اور عبداللہ تو عبداللہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ یہ جو فرمائیں اسے مضبوط تھا مو۔
تمسکوا بعھد ا بن مسعود ۔۲
ا بن مسعود کے فرمان کو مضبوطی سے تھامو۔ ت )
( ۲ ؎ جامع الترمذی باب المناقب مناقب عبداللہ بن مسعود امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۲۱)
(حلیۃ الاولیاء ذکر عبداللہ بن مسعود دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۱۲۸)
اور ایک حدیث میں ارشاد ہے:
رضیت لامتی مارضی لھا ابن ام عبدوکرھت لامتی ماکرہ لہا ابن ام عبد ۔۳
میں نے اپنی امت کے لیے پسند فرمایا جو اس کے لیے عبداللہ ابن مسعود پسند کریں اور میں نے اپنی امت کے لیے ناپسند رکھا جو اس کے لیے ابن مسعود ناپسند رکھیں۔
( ۳ ؎مجمع الزوائد کتاب المناقب مناقب عبداللہ بن مسعود دارالکتاب العربی بیروت ۹/ ۲۹۰ )
اور خود انکے علمِ قرآن کو اس درجہ ترجیح بخشی کہ ارشاد فرمایا:
استقرأو ا القرآن من اربعۃ من عبداللہ ابن مسعود۔۴ الحدیث ۔
قرآن چار شخصوں سے پڑھو۔ سب میں پہلے عبداللہ ابن مسعود کا نام لیا۔ یہ حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بروایت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے۔
( ۴ ؎ صحیح البخاری کتاب المناقب مناقب عبداللہ بن مسعود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۳۱)
(صحیح مسلم کتاب الفضائل فضائل عبداللہ بن مسعود قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۹۳)