Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
45 - 212
رسالہ

نزول اٰیاتِ فرقان بسکونِ زمین واٰسمان

زمین اور آسمان کے ساکن ہونے کے بارے میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی

 (قرآن مجید کی) آیتوں کا نازل ہونا)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلّی علی رسولہ الکریم
مسئلہ۳۱ : ازموتی بازار لاہور مسئولہ مولوی حاکم علی صاحب ، ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ

یاسیّدی اعلٰیحضرت سلمکم اﷲ تعالٰی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
 امابعد ھٰذا من تفسیر جلالین (ان اﷲ یمسک السموات والارض ان تزولا) ای یمنعھمامن الزوال۔۱؂ وایضا (اَوَلم تکونوااقسمتم) حلفتم (من قبل) فی الدنیا (مالکم من زائدۃ (زوال) عنھا الی الاخرۃ ۔۱؂ وایضا(وان) ما (کان مکرھم) وان عظم (لتزول منہ الجبال) المعنی لایعبأ بہ ولا یضرالاانفسھم والمراد بالجبال ھنا قیل حقیقتاً وقیل شرائع الاسلام المشبھۃ بھا فی القراء والثبات وفی قراء ۃ بفتح لام لتزول ورفع الفعل فان مخففۃ والمراد (عہ) تعظیم مکرھم وقیل المراد بالمکرکفر ھم ویناسبہ علی الثانیۃ تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا وعلی الاوّل ما قرئ وما کان۲؂
بعد ازیں یہ تفسیر جلالین کی عبارت ہے۔ (بے شک اﷲ تعالٰی روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں) یعنی ان کو زوال سے روکے ہوئے ہے۔ یہ بھی اس میں ہے ( تو کیا تم پہلے قسم نہ کھاچکے تھے) دنیا میں ( نہیں ہے تمہیں) من زائدہ ہے۔(ہٹ کے کہیں جانا) دنیا سے آخرت کی طرف۔ اور یہ بھی اسی میں ہے (اور نہیں ہے ان کا مکر) اگرچہ بہت بڑا ہے۔(کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں) معنٰی یہ ہے کہ اس کا کوئی اعتبار نہیں اور اُن کا نقصان خود انہی کو ہے۔ اور یہاں پہاڑوں سے مراد ایک قول کے مطابق حقیقتاً خود پہاڑ ہیں، اور ایک قول کے مطابق احکام شرع ہیں جن کو قرار و ثبات میں پہاڑوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ اور جس قراء ۃ میں لتزول کا لام مفتوح اور فعل مرفوع ہے اس قراء ۃ میں "ان" مخففہ ہوگا اور مراد ان کے مکرکی بڑائی۔اور کہا گیا کہ مکر سے مراد ان کا کفر ہے۔ اور قراء ۃ ثانیہ کی صورت میں اس قول کی تائید قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ کرتی ہے۔ ( قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پریں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھہ کر) اور اول کی صورت میں جو پڑھا گیا ہے وما کان یعنی نہیں تھا۔ (ان کا مکر)
عہ: والمعنی ولان کان مکرھم من الشدۃ بحیث تزول عنھا الجبال وتنقطع عن اماکنھا ۳؂ ۱۲ کمالین ۔معنی یہ ہے کہ ان کامکر اس قدر شدید ہے کہ اس سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں ۔ ۱۲ کمالین (ت)
 ( ۱ ؎ تفسیر جلالین  تحت آیۃ ۳۵/ ۴۱   مطبح مجتبائی دہلی           حصہ دوم  ص ۳۶۵)

( ۱ ؎ تفسیر جلالین  تحت آیۃ ۱۴/ ۴۴ مطبح مجتبائی دہلی           حصہ اول ص ۲۰۸)

(۲؎تفسیر جلالین  تحت آیۃ  ۱۴/۴۶ مطبح مجتبائی دہلی           حصہ اول ص ۲۰۸)

(۳؎کمالین  علی ہامش جلالین تحت آیۃ  ۱۴/۴۶  مطبح مجتبائی دہلی          نصف اول ص ۲۰۸)
وسردارِ من دامت برکاتکم و این است از تفسیر حسینی (ان اﷲ) بدرستیکہ خدائے تعالیٰ (یمسک السمٰوٰت والارض) نگاہ میدارد آسمانہاوزمین را (ان تزولا) برائے آنکہ زائل نہ شوند ازاماکن خود چہ ممکن رادرحال بقاناچار است ازنگاہ دارندہ آور دہ اندکہ چوں یہود و نصارٰی عزیر وعیسی رابفرزندی حق سبحنہ نسبت کردند آسمان وزمین نزدیک بآں رسید کہ شگافتہ گرددحق تعالٰی فرمود کہ من بقدرت نگاہ می دارم ایشاں را تازوال نیا بند یعنی از جائے خود نروند۱؂ ایضا (اولم تکونوا) درجواب ایشاں گویند فرشتگان آیا نبودید شما کہ ازروئے مبالغہ (اقسمتم من قبل) سوگندمے خوردید پیش ازیں دردنیا کہ شما پایندہ وخوابیدہ بودید ( مالکم من زوال) نبا شد شماراہیچ زوالے مراد آنست کہ می گفتند کہ مادر دنیا خواہیم بودو بسرائے دیگر نقل نخواہیم نمود۲؂ وایضاً (وان کان مکرھم) وبدرستیکہ بودمکر ایشاں در سختی و ہول ساختہ پرداختہ (لتزول) تاازجائے برود ( منہ الجبال ) زاں مکر کوہ ہا۔۳؂
اور میرے سردار آپ کی برکتیں ہمیشہ رہیں، یہ ہے تفسیر حسینی کی عبارت (انّ اﷲ ) بے شک اللہ تعالٰی (یمسک السمٰوت والارض) محفوظ رکھتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو ( ان تزولا)اس واسطے کہ اپنی جگہوں سے زائل نہ ہوجائیں کیونکہ ممکن کے لیے حالت بقاء میں کسی محافظ کا ہونا ضروری ہے، منقول ہے کہ جب یہودو نصارٰی نے حضرت عزیر او ر حضرت عیسی علیہما السلام کو اﷲ تعالٰی کا بیٹا قرار دیا تو آسمان و زمین پھٹنے کے قریب ہوگئے۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ میں اپنی قدرت کے ساتھ ان کو محفوظ رکھتا ہوں تاکہ یہ زوال نہ پائیں یعنی اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں۔ اُسی میں ہے  اولم تکونوا اقسمتم من قبل) ان کے جواب میں فرشتے بطور مبالغہ کہیں گے کہ کیا تم نے اس سے پہلے دنیا میں قسمیں نہیں کھائی تھیں کہ تم دنیا میں ہمیشہ رہو گے اور سوئے رہو گے  مالکم من زوال  تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہوگا۔ مراد یہ کہ وہ کہتے تھے کہ ہم دنیا میں ہمیشہ رہیں گے اور دوسرے جہاں میں منتقل نہیں ہونگے۔ اور اسی میں ہے۔(وان کان مکرھم) یقینا ان کا مکر سختی وہولناکی میں اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ (لتزول منہ الجبال)اس کی وجہ سے پہاڑاپنی جگہ سے ہٹ جاتے(ت)
 ( ۱ ؎ تفسیر حسینی قادری  تحت آیۃ ۳۵/۴۱ مطبع محمدی واقع بمبئی انڈیا ص ۷۰۵)

( ۲ ؎تفسیر حسینی قادری تحت آیۃ ۱۴/۴۴  مطبع محمدی واقع بمبئی انڈیا ص ۴۱۹ )

( ۳ ؎  تفسیر حسینی قادری  تحت آیۃ ۱۴/۴۶ مطبع محمدی واقع بمبئی انڈیا ص ۴۱۹)
اے محبوب ومحبِ فقیر ایّدکم اﷲ تعالٰی فی کل حال (اﷲ تعالٰی ہر حال میں آپ کی مدد فرمائے۔ت) جب کافروں کے زوال کے معنٰی ان کا اس دنیا سے دارالاخرۃ میں جانا مسلم ہوا تو معاملہ صاف ہوگیا کیونکہ کافر زمین پر پھرتے چلتے ہیں،اس پھرنے چلنے کا نام زوال نہ ہوا کہ یہ ان کا چلنا پھرنا اپنے اماکن میں ہے کہ جہاں تک اﷲ تعالٰی نے اُن کو حرکت کرنے کا امکان دیا ہے وہاں تک ان کا حرکت کرنا اُن کا زوال نہ ہوا۔یہی حال پہاڑوں کا ہوا کہ ان کا اپنے اماکن سے زائل ہوجانا ان کا زوال ہوا۔ جب یہ حال ہے تو زمین کا بھی ، اپنے اماکن سے زائل ہوجانا اس کا زوال ہوگا اور اپنے اماکن میں اس کا حرکت کرنا زوال نہیں ہوسکتا۔شکر ہے اس پروردگار کا کہ کسی صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی مجھے گریزنہ ہوا اور میری مشکل بھی ازبارگاہ حل المشکلات حل ہوگئی ببرکت کلام کریم
ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب ۱؂
اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا۔ اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔(ت)
 (۱؂القرآن الکریم  ۶۵/ ۳ و۲ )
اور یہ اس طرح ہوا کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آسمان کے سکون فی مکان کی تصریح فرمادی مگر زمین کے بارے میں ایسا نہ فرمایا، یعنی آسمان کی تصریح کی طرح تصریح نہ فرمائی یعنی خاموشی فرمائی قربان جاؤں احسن الخالقین تبارک و تعالٰی کے اور باعثِ خلق عالم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اور حضرت معلم التحیات رضی اللہ تعالٰی عنہ کے کہ سائنس کی سرکوبی کے لیے زمین کے زوال اس کے اماکن سے کَے معنٰی آپ کے اس تابعدار مجاہدکبیر پر عیاں فرمائے کہ زمین کے زوال نہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جن اماکن میں اﷲ تعالٰی نے اس کو امساک کیا ہے اس سے یہ باہر نہیں سرک سکتی مگر ان اماکن میں اس کو حرکتِ امر کردہ شدہ عطا فرمائی ہوئی ہے جیسے کہ اس پر کافر چلتے پھرتے ہیں اوریہ اُن کا زوال نہیں ہے، اسی طرح سے اپنے مدار میں اور سورج کی ہمراہی میں امساک کردہ شدہ ہے اور جاذبہ اور رفتار کیا ہے صرف اللہ پاک کے امساک کا ایک ظہور ہے اور کچھ نہیں، اب چاہیں تو جاذبہ اور رفتار دونوں کو معدوم کردیں اور ہر چیز کو اس کے حیز میں ساکن فرمادیں اس سے زائل نہیں ہوسکتی جیسے کہ سورج
والشمس تجری لمستقرلھا۲؂
 (اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے۔ت)کی رُو سے اپنے مجرے میں امساک کیا گیا ہوا ہے اور اپنے مجرے میں چل رہا ہے مگر اس کے اس چلنے کا نام زوال نہیں بلکہ جریان ہے تو زمین کا بھی اپنے مدار میں اور سورج کی ہمراہی میں چلنا اس کا جریان ہے نہ کہ زوال۔
 (۲؂القرآن الکریم  ۳۶/۳۸)
ذٰلک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء ۔۱؂
یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے جسے چاہے دے۔
 (۱؂القرآن الکریم  ۵۷/۲۱ )
فالحمدﷲ ربّ العٰلمین والشکروالمنۃ۔
اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا اور اس کا شکر اور احسان ہے۔(ت)

غریب نواز ! کرم فرما کر میرے ساتھ متفق ہوجاؤ تو پھر اِن شاء اﷲ تعالٰی سائنس کو اور سائنسدانوں کو مسلمان کیا ہوا ہاں
الم نجعل الارض مھا دا ۔۲؂
 ( کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا۔ت) کے بجائے
الذی جعل لکم الارض مھدا۳ ؂ الخ
 ( وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا۔ت)
(۲؂القرآن الکریم  ۷۸/۶) (۳؂القرآن الکریم  ۴۳/۱۰)
درج فرمادیں دیباچہ میں، سب کو سلام مسنون قبول ہو۔
Flag Counter