Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
44 - 212
عزیزو! احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حِبان، حاکم بیہقی ، عبدبن حمید بغوی باسانید، صحیحہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان العبداذا اخطاخطیئۃً نکتت فی قلبہ نکتۃ سوداء فان ھونزع واستغفر وتاب صقل قلبہ، وان عاد  زید فیھا حتّٰی تعلو علی قلبہ ، وھو الرّأن الذی ذکر اﷲ تعالٰی
کلا  بل ران علی قلوبھم ماکانوایکسبون  ۱؂۔
جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ دھبّا پڑ جاتا ہے ، پس اگر وہ اس سے جُدا ہوگیا اور توبہ استغفار کی تو اس کی دل پر صیقل ہوجاتی ہے۔ اور اگر دوبارہ کیا تو سیاہی بڑھتی ہے یہاں تک کہ اُس کے دل پر چڑھ جاتی ہے۔اور یہی ہے وہ زنگ جس کا اللہ تعالٰی نے ذکر فرمایا کہ : یوں نہیں بلکہ زنگ چڑھادی ہے اُن کے دلوں پر انکے گناہوں نے کہ وہ کرتے تھے۔
 (۱؂۔کنزالعمال برمزحم  ت   ہ   حب   ن   ھب   عن ابی ہریرہ حدیث  ۱۰۱۸۹  موستہ الرسالہ بیرت  ۴ /۲۱۰)

(جامع الترمذ ی ابواب التفسیر سورۃ ویل للمطففین امین کمپنی دہلی  ۲ /۱۶۸  و  ۱۶۹)

(مواد والظمآن کتاب التفسیر سورۃ ویل للمطففین   حدیث ۱۷۷۰ المکتبۃ السلفیہ   ص ۴۳۹)

(موادوالظمآن  کتاب التوبہ باب ماجاء فی الذنوب   حدیث ۲۴۴۸  المکتبۃ السلفیہ ص ۶۰۷)
دیکھو ایسا نہ ہو کہ یہ فلسفئہ مزخرفہ تمہارے دلوں پر زنگ جمادے کہ پھر علوم حقّہ صادقہ ربّانیہ کی گنجائش نہ رہے گی۔ کہتے یہ ہو کہ ، اس کے آنے سے وہ خود آجائیں گے۔ حاشا! جب یہ دل میں پیر گیا وہ ہر گز سایہ تک نہ ڈالیں گے کہ وہ محص نور ہیں۔ اور نور نہیں چمکتا مگر صاف آئینہ میں۔

عزیزو ! اسی زنگ کا ثمرہ ہے کہ منہمکانِ تفلسف علوم دینیہ کو حقیر جانتے، اور علمائے دین سے استہزاء کرتے ۔ بلکہ انہیں جاہل اور لقب علم اپنے ہی لیے خاص سمجھتے ہیں۔
اگر آئینہ دل روشن ہوتا تو جانتے کہ وہ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وارث و نائب ہیں۔ وہ کیسی نفیس دولت کے حامل وصاحبِ ہیں جس کے لیے خدانے کتابیں اتاریں، انبیاء نے تفہیم میں عمریں درازیں_____وہ اسلام کے رکن ہیں_____ وہ جنت کے عماد ہیں_____ وہ خدا کے محبوب ہیں_____وہ جانِ رشاد ہیں_____ رہا اُن کے ساتھ استہزا، اُس کا مزہ آج نہ کھلا تو کل قریب ہے_____
وسیعلم الذین ظلموا ایَّ منقلب ینقلبون  ۱؂۔
( اور اب وہ جانا چاہتے ہیں ظالم کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷ )
عزیزو ! نفس خودی پسند آزادانہ اَقُولُ کا مزہ پا کر پھول گیا_____ اور قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں جو دل کا سرور اور آنکھوں کا نُور ہے اُسے بھول گیا۔

ہیہات ! کہاں وہ فن جس میں کہا جائے " میں کہتا ہوں"  یا نقل بھی ہو تو ابن سینا گفت ( ابن سینا نے کہا ت۔)

اور وہ فن جس میں کہا جائے  "خدا فرماتا ہے۔ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں"۔

جتنا میں اور مصطفٰی میں فرق ہے اُتنا ہی اس اقول و قال اور دونوں علموں میں۔ کیا خوب فرمایا عالم قریشی سیدنا اما م شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ۔
کل العلوم سوی القراٰن مشغلۃ	                     الا الحدیث والاّ الفقہ فی الدین

العلمُ ماکان فیہ قال حدثنا 	                     وما سوٰی فوسواس الشیاطین  ۱؂
 (قرآن کے علاوہ تمام علوم ایک مشغلہ ہیں سوائے حدیث کے اور سوائے حدیث کے اور سوائے فقہ کے دین میں۔
 ( ۲ ؎۔ ابجد العلوم المقدمۃ فی بیان اسماء العلوم الخ        المکتبۃ القدوسیہ لاہور   ۲ /۸ )
علم تو وہ ہے جس میں کوئی شخص کہے کہ ہمیں حدیث بیان کی اور اس کے ماسوا شیطانوں کا وسوسہ ہے۔(ت)
انچہ   قال اﷲ  ونے    قال   الرسول

فُضلہ باشد، فضلہ می خواں اے فضول
 ( وہ کہ اللہ نے فرمایا نہ رسول نے ، فضلہ ہوگا فضلہ پڑھتا ہے، اے فضول ت)
عزیزو! خدا را غور کرو، قبر میں حشر میں تم سے یہ سوال ہوگا کہ عقائد کیا تھے اور اعمال کیسے ؟ یا یہ کہ وہ کلی طبعی خارج میں موجود ہے یا معدوم؟ اور زمانہ غیر قارو حرکۃ بمعنی القطع کائن فی الاعیان ہیں یا آنِ سیّال و حرکت بمعنی التوسط سے موہوم ۔

عزیزو ! میں نہیں کہتا کہ منطقِ اسلامیاں _____ریاضی ، ہندسہ وغیرہا اجزائے جائزہ فلسفہ _____ نہ پڑھو ۔ پڑھو، مگر بقدر ضرورت _____ پھر ان میں انہماک ہر گز نہ کرو_____ بلکہ اصل کار علوم دینیہ سے رکھو۔  راہ یہ ہے _____  اور آئندہ کسی پر جبر نہیں۔
واﷲ یہدی من یشاء الٰی صراط مستقیم ۳؂۔
 ( اور اللہ تعالٰی جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔ت)
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۲ /۲۱۳ )
ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ اِنّک انت الوھاب ۱؂۔
اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر کہ تُو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بے شک تُو ہی بڑا دینے والا ہے(ت)
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم۳/۸)
وقع الفراغ من تسوید ھٰذہ الاوراق لسبعٍ (عہ) خلون من الشھرا السابع ، من العام الرابع، من المائۃ الرابعۃ ، من الالف الثانی من ھجرۃ سراج الافق، امام الخلق ، نبی الرفق، ذی العلم الحق، الحکیم الربانی، صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ وکل مشتاق الیہ، برحمتک یا ارحم الراحمین، والحمد ﷲ ربّ العٰلمین ، و اﷲ تعالٰی اعلم، وعلمہ جَلَّ مَجدہ اتم واحکم ۔
ان اوراق کے مسودہ سے فراغت ماہِ ہفتم کی سات تاریخ کو ہوئی جب کہ تمام جہانوں کے سورج، تمام مخلوق کے امام، نرمی والے نبی، علمِ حق رکھنے والے حکیم ربانی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ہجرت اقدس کو تیرہ سو چار سال گزر چکے ہیں۔(یعنی ۷ رجب۱۳۰۴ھ) اللہ تعالٰی کی رحمتیں اور سلام ہو آپ پر، آپ کی آل پر، آپ کے صحابہ پر اور ہر ایسے شخص پر جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا مشتاق ہے۔ تیری رحمت کے ساتھ اے بہترین رحم فرمانے والے۔ اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور اس کا علم تام و مستحکم ہے۔(ت)
عہ : یعنی ہفتم شہر رجب ۱۳۰۴ ہجریہ علٰی صاحبہا الصلوۃ والتحیّۃ ۱۲ ، سلطان احمد خان عفا عنہ اﷲ تعالٰی۔
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی

عفی عنہ بمحمدن المصطفٰی النبی الامی

صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

 ﷲ درالمجیب حیث اتی بتحقیق انیق نمقہ العبدالمذنب الاوّاہ محمد لطف اﷲ
بلاشبہ مضامینِ رسالہ منطق الجدید جو مجیب مصیب نے نقل کیے اس پر خلاف شرع شریف اور مخالف عقائد حقہ اہل اسلام سلفاً و خلفاً ہیں۔ اور مجیب مصیب نے قباحتیں اور شناعتیں اس کی بہ وجہ احسن بیان فرمائیں۔
جزاہ اﷲ سبحنہ عن المسلمین احسن الجزاء
27_2.jpg
27_3.jpg
Flag Counter