| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
تنبیہ اوّل : اے عزیز ! آدمی کو اس کی اَنانیت نے ہلاک کیا، گناہ کرتا ہے، اور جب اس سے کہا جائے توبہ کر، تو اپنی کسر شانِ سمجھتا ہے۔ عقل رکھتا تو اصرار میں زیادہ ذلّت و خوار ی جانتا۔ یا ھٰذا۔ہرگز منصبِ علم کے منافی نہیں کہ حق کی طرف رجوع کیجئے۔ بلکہ یہ عین مقتضائے علم ہے اور سخن پروری ہر جہل سے بدتر جہل____ وہ بھی کاہے میں؟ کفریات میں۔ والعیاذ باللہ(اللہ کی پناہ ۔ت) یا ھٰذا صغیرہ پر اصرار اُسی کبیرہ کردیتا ہے ____ کفریات پر اِصرار کس قعر نار میں پہنچائے گا۔ یاھٰذا تیرا رب ایک شخص کی مذمت کرتا ہے :
واذا قیل لہ اتق اﷲ اخذتہ العزۃ بالاثم فحسبہ جھنم ولبئس المھاد ۱۔
یعنی جب اس سے کہا جائے خدا سے ڈر، تو اُسے غرور کے مارے گناہ کی ضد چڑھتی ہے۔ سو کافی ہے اُسے جہنم اور بے شک کیا بُرا ٹھکانا ہے۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲ /۲۰۶ )
ﷲ ! اپنی جان پر رحم کر، اور اس شخص کا شریکِ حال نہ ہو۔
یاھٰذا تیرا مالک ایک قوم پر رَد فرماتا ہے :
واذاقیل لھم تعالوا یستغفر لکم رسول اﷲ لوّوا رُءُ وسھم و رأیتھم یصدّون وھم مستکبرون ۱۔
جب اُن سے کہا جائے آو تمہارے لیے بخشش خدا کا رسول، تو اپنے سر پھیرلیتے ہیں تو انہیں دیکھے کہ باز رہتے ہیں تکبُّر کرتے ہوئے۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶۳ /۵ )
ہاں بھی تجھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف بلاتا ہوں، خدا کو مان، اور منہ نہ پھیر۔ یا ھٰذا تُو سمجھتا ہے، اگر میں تسلیم کرلوں گا تو لوگوں کی نگاہ میں میری قدر گھٹ جائے گی اور میرے علم فلسفی میں بٹا لگے۔ حالانکہ یہ محض وسوسہ شیطان ہے۔ لاحول پڑھ ، اور خدا کی طرف جھک ، کہ اس سے اللہ تعالٰی کے یہاں تیری عزت ہوگی۔ اور خلق میں بے قدری بھی بھی غلط، بلکہ تجھے منصف و حق پسند جانیں گے اور نہ مانے گا تو متکبر و شریر ولوند ۔ یاھٰذا کیا یہ ڈرتا ہے کہ مان جاؤں گا تو اِس مجیب کا علم مجھ سے زیادہ ٹھہرے گا؟_______ حاش ﷲ ! واﷲ کہ اگر کوئی بندہ خدا میرے ذریعہ سے ہدایت پائے تو اس میں میری آنکھ کی ٹھنڈک اُس سے ہزار درجہ زائد ہے کہ میرا علم کسی سے زیادہ ٹھہرے۔ ہاں ! ہاں !! اگر تو اعلان توبہ کرے تو میں اپنے جہل اور تیرے فضل کا نوشتہ لکھ دوں۔ یاھٰذا اِک ذرا تعصب سے الگ اور تنہائی میں بیٹھ کر سوچ کہ کفریات پر اصرار کی شامت تیرے حق میں بہتر ہے یا بعدِ رجوع و توبہ بعض جُہّال کی تحقیر و ملامت ؟ ھیھات،ھیھات،اﷲ کا عذاب بہت سخت ہے_____
وَاِنَّہ، لَاٰت
(اور وہ بلاشبہہ آنے والا ہے۔ت) میں تیرے بھلے کی کہتا ہوں ، عار پر نار کو اختیار نہ کرنا۔
الہٰی ! میرے بیان میں اثر بخش! اور اپنے اس بندہ کو ہدایت دے اور ہمارے قلوب دین حق پر قائم رکھ۔
یاواجد، یاماجد، لاتزل عنی لعمۃ نعمتہا علیّ ، بجاہ من ارسلتہ رحمۃ للعٰلمین ، واقمتہ شفیعا المذنبین المتلوثین الخطّائین الھالکین، صلی اللہ تعالٰی علیہ و علٰی اٰلہ وصحبہ اجمعین، امین ۔
اے محب ! اے کمال بزرگی والے ! جو نعمت تُو نے مجھے عطا فرمائی ہے وہ مجھ سے سلب نہ فرما، اس کے صدقے میں جسے تُو نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اور تُو نے اُسے ہلاکت میں پڑنے والے خطاکاروں اور لتھڑے ہوئے گنہگاروں کے لیے شفیع بنایا ہے۔ اﷲ تعالٰی آ پ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے تمام اصحاب پر رحمت نازل فرمائے۔(آمین)(ت)
تنبیہ دوم : مبادا اگر رگِ تعصب جوش میں آئے۔ اور خدا ایسا نہ کرے، تو اِس قدر یاد رہے کہ عقائد اسلام و سنت کے مقابل ہم پر فلاں ہندی و بہمانِ سندی کسی کا قول سند نہیں_____ نہ احکامِ شرعیہ شخص دون شخص سے خاص _____ اَلْعِزَّۃُ ﷲ (عزت اﷲ تعالٰی کے لیے ہے۔ت) _____ شرح سب پر حجت ہے_____وہ کون ہے جوشرع پر حجت ہوسکے؟_____ اس قسم کی حرکت جس سے صادر ہوگئی، وہ بقدر اپنے سیئہ کے حکم کا مستہق ہوگا،
کسے باشد کائناً مَّنْ کانَ
( جو بھی ہو۔ت) _____
اِین وآں، سے ہمیں موافقت اُسی وقت تک ہے جب تک وہ دینِ حق سے جدا نہیں۔ اور اس کے بعد، عیاذاباﷲ (اﷲ کی پناہ ۔ت) ع۔
سایہ اش دور باد از ما دُور
(اس کا سایہ ہم سے دُور ہو۔ت)
جس کا قول ہم اسلام و سنّت کے موافق پائیں گے تسلیم کریں گے۔ نہ اس لیے کہ اُس کا قول ہے۔ بلکہ اس لیے کہ صراطِ مستقیم سے مطابق ہے_____ اور جس کی بات خلاف پائیں گے۔ زید ہو یا عمرو، خالد ہو یا بکر، دیوار سے مار کر رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رِکاب سے لپٹ جائیں گے_____ اﷲ ان کا دامن ہم سے نہ چھڑائے دنیا میں نہ عقبٰی میں_____ آمین ! الہٰی امین ۔
محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسراست کسے کہ خاکِ درش نیست خاک برسراُو
(محمد عربی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دونوں جہانوں کی آبرو ہیں، جو انکے درِ اقدس کی خاک نہیں ہے اس کے سر پر خاک ہو۔ت)