Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
41 - 212
بالجملہ حکمِ اخیر یہ ہے :
کہ زیدکے اقوال مذکورہ بعض حرام وگناہ______ اور بعض بدعت و ضلالت______ اور اکثر خاص کلماتِ کفر
والعیاذ باللہ تعالٰی
( اور اللہ تعالٰی کی پناہ ۔ت)
اور زید بَہ حکم شرع فاسق، فاجر، مرتکب کبائر، بدعتی خاسر، گمراہ غادر______ اس قدر پر تو اعلٰی درجہ کا یقین اس کے سوا اس پر حکم کفر وارتداد سے بھی کوئی مانع نظر نہیں آتا______ حنفیہ، شافعیہ ، مالکیہ، حنبلیہ سب کے کلمات ______بلکہ صحابہ و تابعین سے لے کر اِس زمانہ تک کے افتاء وقضیات، بالاتفاق یہی افادہ کرتے ہیں____
کما بیّنا فی "البارقۃ اللمعا"
 (جیسا کہ اس کو ہم نے البارقۃ اللمعا میں بیان کردیا۔ت)
بالفر ض اگر بہ ہزار دِقت کوئی بچتی ہوئی صورت نکل بھی سکی تو یہ بالجزم بین و مبین وصریح وظاہر کہ وہ اپنے ان اقوال کے سبب عامہ علمائے دین وجماہیر آئمہ کاملین کے نزدیک کافر، اور اس پر احکامِ ارتداد جاری اور بے توبہ مرے تو جہنمی ناری ۔
والعیاذ باﷲ القدیر الباری
 (اور اﷲ کی پناہ جو قدرت والا پیداکرنے والا ہے۔ت)
العظمۃ للہ !
( بڑائی اللہ کے لیے ہے، ت ) اس قدر کیا کم ہے۔
اعلام میں فرماتے ہیں۔
لوتشبّہ بالمعلمین فاخذ خشبۃ وجلس القوم حولہ کالصبیان فضحکوا واستھزاء وا  کفر، زاد فی الروضۃ ، الصواب لا، ولا یغترّ بذلکٰ فانہ یصیر مرتدّا علٰی قولِ جماعۃ ، وکفٰی بہذا خسارًا وتفریطا اھ  ۱؂ملتقطاً
اگر کوئی معلمین کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے تخت پر بیٹھا اور لوگ مثل بچوں کے اس کے اردگرد بیٹھ گئے اور ہنسی مذاق کرنے لگے تو وہ کافر ہوجائیں گا۔ روضہ میں یہ اضافہ کیا کہ درست بات یہ ہے کہ کافر نہ ہوگا۔ اور تجھے یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے اس لیے کہ ایک بڑی جماعت کے قول پر وہ مرتد ہوجائے گا، اوراُسے یہ خسارہ و نقصان کافی ہے اھ التقاط (ت)
( ۱ ؎۔اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ   الفصل الاوّل مکتبۃ الحقیقۃ دارالشفقۃ ترکی ص ۳۶۲ )
مع ہذا،شِفا شریف سے، اوپر منقول ہوا کہ: بعض اقوال اگرجہ فی نفسہ کفر نہیں مگر بار بار بہ تکرار اُ ن کا صدقہ دلیل ہوتا ہے کہ قائل کے قلب میں اسلام کی عظمت نہیں۔ اُس وقت اس کے کفر میں زنہار شک نہ ہوگا۔ ۲؂
 ( ۱ ؎۔الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی  فصل واما من تکلم من سقط الخ     المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ     ۲ /۲۸۳ )
سُبحٰن اﷲ !
پھر کفریاتِ خالصہ کا بہَ ایں زور وشور، صُدور کیونکر کفرِ قائل پر بُرہان کامل نہ ہوگا! ______
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العزیز الحکیم۔
زید پر ہر فرض سے بڑھ کر ازسرِ نور مسلمان ہو اور ان کفریات و ضلالات سے علی الاعلان توبہ کرے، اور صرف بہ طورِ عادت کلمہ شہادت زبان پر لانا ہر گز کافی نہ ہوگا کہ اس قدر تووہ قبل از توبہ بھی بھی بجالاتا تھا۔ بلکہ اس کے ساتھ تصریح کرے کہ وہ کلمات کفریہ تھے اور میں نے ان سے توبہ کی۔اُس وقت اہل اسلام کے نزدیک اُس کی توبہ صحیح ہوگی______ اور ایمان لائے کہ اﷲ جل جلالہ کے سوا کوئی خالق نہیں، نہ اس کا غیر قدم کے لائق______او ر ایمان لائے کہ وہ تمام عالم کامدبر اور ہرچیزپرقادر ہے۔ اور عقول مخترعہ فلاسفہ باطل______
الٰی غیر ذلک ممّا یظہربالمر اجعۃ الٰی ما قدمنا من المسائل
( اس کے علاوہ جو کچھ ظاہر ہے اُن مسائل کی طرف رجوع کرنے سے جن کو ماقبل میں ہم نے بیان کیا ہے۔ت)
بحرالرائق میں ہے  :
اتٰی بالشھادتین علٰی وجہِ العادۃ ینفعہ مالم یرجع عمّا قال اذلا یرتفع بھما کفرہ، کذا فی البزاز یۃ و جامِع الفصولین اھ ۱؂۔
بطورِ عادت شہادتیں کو لایا۔(کلمہ شہادت پڑھا) تو اُس کو نفع نہ دے گا جب تک اپنے قول سے رجوع نہ کیونکہ اتیانِ شہادتیں سے اُس کا کفر مرتفع نہ ہوگا بزازیہ اور جامع الفصولین میں یونہی ہے اھ (ت)
 ( ۱ ؎۔البحرالرائق   کتاب السیر    باب احکام المرتدین    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۵ /۱۲۸ )
اور ضرور ہے کہ جس طرح کتاب چھاپ کر اِن کفریات و ضلالات کی اشاعت کی یوں ہی اِن سے بّری اوراپنی توبہ کا اعلان کرے کہ آشکارا گناہ کی توبہ بھی آشکارا ہوتی ہے۔ امام احمد کتاب الزہد، اور طبرانی معجم کبیر میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سیدنا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
  اذا عملت سیّئۃ فاحدث عندھا توبۃ، السّر بالسّروالعلانیۃ بالعلانیۃ  ۲؂
جب تو کوئی گناہ کرے تو فوراً تو بہ بجالا، پوشیدہ کی پوشیدہ اور ظاہر کی ظاہر۔
 ( ۲ ؎۔الزہد الامام احمد بن حنبل  حدیث ۱۴۱  دارالکتاب العربی بیروت ۔ص ۴۹ )

(المعجم الکبیر عن معاذ بن جبل  حدیث ۲۳۱  المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت  ۲۰ /۱۵۹)
قلتُ :  واسنادہ حسنع لٰی اصول الحنیفۃ ۔
میں کہتا ہوں اصولِ حنیفہ کے مطابق اس کا اسناد حسن ہے۔(ت)
اور اِس کتاب تباہ خراب کی نسبت میں وہ نہیں کہتا جو بعض علمائے حنیفہ وشافعیہ کتب منطقیۃ کی نسبت فرماتے ہیں کہ ان کے جو ورق نامِ خدا ورسول اللہ سے خالی ہوں ان سے استنجاء روا۔
شرح فقہ اکبر میں ہے :
لوکان الکتاب فی المنطق ونحوہ، تجوزا اھانتہ فی الشریعۃ ، حتّٰی افتٰی بعض الحنفیۃ وکذا بعض الشافعیۃ بجواز الاستنجاء بہ اذا کان خالیا عن ذکر اﷲ تعالٰی مع الاتفاق علٰی عدم جواز الاستنجاء بالورق الابیض الخالی عن الکتابۃ اھ  ۱؂ مُلَخَّصًا
اگر منطق وغیرہ میں کوئی کتاب ہو تو شریعت میں اس کی توہین کرنا جائز ہے یہاں تک کہ بعض حنفیوں نے یوں ہی بعض شافیوں نے اس کے ساتھ استنجاء کے جواز کا فتوٰی دیا ہے بشرطیکہ وہ اﷲ تعالٰی کے ذکر سے خالی ہو باوجود یہ کہ کتاب سے خالی سفید کاغذ کے ساتھ استنجاء کے عدمِ جواز پر اتفاق ہے اھ تلخیص (ت)
 ( ۳ ؎  منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر  فصل فی العلم والعلماء   مصطفٰی البابی مصر  ص ۱۷۴)
ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ اب اس کی اِشاعت سے باز رہے۔ اور جس قدر جلدیں باقی ہوں، جَلادے اور حتی الوسع اُس کے اِخمادِ نا رو اِماتتِ اذکار میں سعی کرے کہ منکر باطلِ اسی کے قابل،
قال اﷲ تعالٰی :
انّ الذین یُحبّون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین اٰمنوالھم عذابالیمالدنیا والاخرۃ واﷲ یعلم وانتم لاتعلمون ۱؂
بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ بے حیائی پھیلے مسلمانوں میں، اُن کے لیے دکھ کی مار ہے دنیا و آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲۴ /۱۹ )
سُبحٰن اﷲ !
اشاعتِ فاحشہ پر یہ ہائل وعید____  پھر اشاعتِ کفر کس قدر شدید____
والعیاذ باللہ العلی الحمید
(بلندی والے سراہے ہوئے معبود کی پناہ ۔ ت)
خاتمہ  رزقنا اﷲ حُسنھا
(اللہ تعالٰی ہمیں اچھا خاتمہ عطا فرمائے۔ ت)
Flag Counter