| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
واعلم اَنّ العبدالضعیف لطفَ بہ المولی اللطیف لما وصل الی ھذا المقام ÷ وحان اوان الحکم علی المتکلم بذالک الکلام، تعرضّت لہ، حشمۃ کلمۃ الاسلام، فاستعظم الجزم بالاکفار اَیّمَا استعظام÷ فرقاً من ان تکون ھناک دقیقۃ عمیقۃ لم یصلہا فھمی، او شاذۃ فاذّۃ لم یحط بھا علمی ÷ فاستخرت المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی و جعلت اراجع الکتب واقلب الاوراق ÷ حتی اکملت الجد وانھیت الجھد حسب مایطاق ÷ وصرفت فیہ یومین کاملین ÷ فلم ارشیئا تقرُّ بہ العین ÷ بل کلمّا تو غلّت فی تتبع الاسفار ÷ تتابع الاقوال تؤید الاکفار ÷ الٰی ان وقفت علی معظم المسائل ÷ وعامۃ الفروع فی کتاب الاماثل ÷ من اصحابنا الحنفیۃ ÷ وعمائد الشافعیۃ ÷وزعائم المالکیۃ ÷ والذی تیسر من کلمات الحنبلیۃ ÷ فاذاھی جمعا کما ھی علیحدۃ ÷ کانھا ترمی عن قوس واحدۃ ÷ فایقنت ان لیس للرّجل محیص ÷ ولا عن الحکم بالاکفار مفیص ÷ اللھم الا حکایۃ ضعیفۃً عن بعض علمائنا فی الجامع الاصغر ÷ انّ عقد الخَلد ھوالمعتبر ÷ اوردھا ثم ردّھا ثم ردھا ______ ولکن زدتُّ بھا تلعثما÷ وودِدت الوقوف ھناک تاثُّما علماً منی بان الخلاف وان کان ضعیفا ھھنا کافٍ فامعنت النظر وانعتم الفکر ÷ حتی فتح المولٰی تبارک و تعالی ان الاکفار علیہ الاجماع ÷ و انما وقع فی الکفر النزاع ÷ فلا شک ولا ارتیاب ان من تکلم بکلمۃ الکفر طائعاً عالماً عامدًا صاحیاً فہو کافر عندنا قطعاً لاینتطح فیہ عنزان ، و نجری علیہ احکام الردۃ ویحرم علٰی امراتہ ان یمکنہ من نفسھا، ویجوز لھا ان تنکح من دون طلاقٍ من تشاء والقائل نحبسہ ثلاثاندبا (عہ) ونمھلہ لیرزق توبا، فان تاب و الا قتل ورمی بجیفۃ کجیفۃ الکلاب، من دون غسل ولا کفن ÷ ولا صلوۃ ولا دفن ÷ وقطعنا میراثہ عن مورثیہ المسلمین ÷ وجعلنا کسب ردّتہ فیئًا لجمیع المؤمنین، الٰی غیر ذلٰک من الاحکام المشرحۃ فی الکتب الفقھیۃ۔
تُو جان لے کہ عبدِ ضعیف ( اس پر مہربان مولٰی مہربانی فرمائے۔ جب اس مقام پر پہنچا اور اس کلام کی وجہ سے متکلم پر حکم لگانی کا وقت آیا تو اُسی کلمہ اسلام کی عظمت و جلالت دامنگیر ہوئی، چنانچہ اس نے تکفیر کو بہت ہی عظیم معاملہ سمجھا اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ ہوسکتا ہے یہاں گہرا باریک علمی نکتہ ہو جس تک میری دانش نہ پہنچی ہو یا کوئی الگ تھلگ ، علمی بات جس کو میرا علم حاوی نہ ہوا ہو، تو میں نے مولٰی سبحنہ، وتعالٰی سے استخارہ کیا اور کتابوں کی طرف مراجعت اور ورق گردانی کرنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اپنی پوری کوشش کرلی اور مقدور بھر انتہائی محنت و مشقت کو بروئے کار لایا۔ اور اس میں پورے دو دن صرف کردیئے۔ اس کے باوجود میں نے کوئی ایسی شے نہ پائی جس سے آنکھ ٹھنڈی ہوتی بلکہ جب بھی کتابوں کی تلاش میں منہمک ہوا، پے درپے تکفیر کے مؤید اقوال ہی پائے۔ یہاں تک میں نے حنفی ، شافعی، مالکی اور حنبلی فقہاء کرام اور علماء عظام کی کتب میں بہت سے عظیم مسائل اور عام فروع پر واقفیت حاصل کی تو وہ مجموعی طور پر بھی ایسے ہی ہیں جیسے الگ الگ گویا کہ وہ سب ایک ہی کمان سے تیر اندازی کرتے ہیں۔ چنانچہ میں نے یقین کرلیا کہ اُس شخص کے لیے کوئی جائے فرار نہیں اور نہ ہی حکم تکفیر سے ہٹنے کی گنجائش ہے۔ اے اللہ ! مگر ایک ضعیف روایت جو ہمارے بعض علماء سے جامع اصغر میں منقول ہے وہ یہ کہ ارادہ قلبی معتبر ہے، جامع اصغرمیں اس کو وارد کیا پھر اُس کا خوب رَد کیا۔ لیکن میں نے اُس میں زیادہ سوچ بچار کی اور گناہ سے بچنے کے لیے توقف کو پسند کیا یہ سمجھتے ہوئے کہ مخالفت اگرچہ کمزور ہے مگر یہاں کافی ہے۔ چنانچہ میں نے گہری نظر ڈالی اور فکر میں مبالغہ کیا یہاں تک کہ مولٰی تبارک و تعالٰی نے مجھ پر آشکارا فرمادیا کہ تکفیر پر اجماع ہے، نزاع توفقط کفر میں ہے۔اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ جس نے بخوشی جان بوجھ کر بقائمی ہوش وحواس کلمہ کفر بولا وہ ہمارے نزدیک قطعی طور پر کافر ہے۔ اس میں دو بکریاں سینگ نہیں لڑائیں گی۔ ہم اُس پر مرتد ہونے کے احکام جاری کریں گے۔ اُس کی بیوی پر حرام ہوگا کہ وہ خود کو اس کے قابو میں دے اور اس کے لیے جائز ہوگا۔ بغیر طلاق جس کے ساتھ چاہے نکاح کرلے اور کلمہ کفر کہنے والی کو ہم بطور استحباب تین دن محبوس رکھیں گے اور اُس کو مہلت دیں گے تاکہ اُسے توبہ کی توفیق ملے۔ اگر اس نی توبہ کرلی تو ٹھیک ورنہ قتل کرکے اس کے لاش کو کتے کے لاش کی طرح غسل، کفن، نماز جنازہ اور دفن کے بغیر پھینک دیں گے مسلمان مورثوں سے اس کی میراث منقطع کردیں گے۔ اور اس کی حالت ِ ارتدادکی کمائی کو تمام مسلمانوں کے لیے غنیمت بنادیں گے۔ اسی طرح اس کے علاوہ دیگر احکام جاری کریں گے جو کتب فقہ میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔
عہ : الا اذا استمھل فیجب فی ظاھرالروایۃ ۱۲ منہ۔
مگر جب وہ مہلت طلب کرے تو پھر ظاہرالروایہ میں واجب ہے ۱۲منہ (ت)۔
اماانہ ھل یکفر بذلک فیما بینہ وبین ربّہ تبارک وتعالٰی فقیل، مالم یعقد الضمیر علیہ ، لانّ التصدیق محلہ القلب وھذہ ھی الحکایۃ التی اشرنا الیھا ، وقال عامۃ العلماء و جمھورالامناء ، نعم، وان لم یعقد ، لانّہ متلاعب بالدّین ، وھوکفربیقین وقدقضی اﷲ تعالٰی انّ مثل ذٰلک لایقدم علیہ الامن نزع اﷲ الایمان من قلبہ، عوذا بہ سبحٰنہ وتعالٰی،
رہا یہ مسئلہ کہ کیا وہ اس کلمہ کے ساتھ عنداﷲ کافر ہوجائے گا یا نہیں، تو ایک قول یہ ہے کہ نہیں ہوگا جب دلی ارادہ نہ پایا جائے کیونکہ تصدیق کا محل دل ہے یہی وہ حکایت ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے جب کہ عام علماء کرام اور جمہورا امنا نے کہا ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا اگرچہ دلی طور پر عزم نہ پایا جائے کیونکہ وہ دین کے ساتھ کھیلنے والا ہے۔ اور یہ یقینا کفر ہے۔ تحقیق اﷲ تعالٰی نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ اس جیسے فعل کا ارتکاب صرف وہی کرے گا جس کے دل سے اﷲ تعالٰی ایمان سلب کرلیتا ہے، اللہ سبحنہ و تعالٰی کی پناہ۔
قال تعالٰی :
ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قل اباﷲ واٰیتہ ورسولہ کنتم تستھزء ون oلاتعتذروا قد کفر تم بعد ایمانکم ۱ ۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم نے یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو، بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے ہو مسلمان ہو کر۔
( ۱ ؎القرآن الکریم ۹/ ۶۵۔ ۶۶ )
وھذا ھوا لصحیح الرجیح المذیل بطراز التصحیح فھنالک عملت فی ذلک رسالۃً جلیلۃً وعجالۃً جمیلۃً تشتمل علٰی غررالفوائد والدُّررالفرائد ، سمّیتھا البارقۃ اللمعا فی سوء من نطق بکفرٍ طوعا لیکون العلم علماً علی التاریخ کرسالتنا ھذہ التی نحن الان مفیضون فیھا سمینا ھا "مقامع الحدید علٰی خدّا المنطق الجدید۱۳۰۴ھ"۔
اور یہی صحیح وراجح ہے جو تصحیح کے نقش ونگار سے مزین ہے، تو یہاں سے ہی میں نے ایک خوبصورت جلیل القدر رسالہ بنادیا جو چمک دار فوائد اور بڑے بڑے موتیوں پر مشتمل ہے میں نے اس کا نام البارقۃ اللمعافی سوء من نطق بکفر طوعا (۱۳۰۴ھ) رکھا تاکہ نام سے رسالہ کی تاریخ تصنیف کا علم ہوجائے ہمارے اس رسالے کی طرح جس میں اب ہم مشغول ہونے والے ہیں اُس کا نام ہم نے مقامع الحدید علٰی خدالمنطق الجدید رکھا ۔
فعلیک(عہ) بھا فانی حققت فیھا اَنَّ اکفار الطائع ھو الاجماع من دون نزاعٍ واقمت علٰی ذلک دلائل ساطعۃ لاترام ÷ و براھین قاطعۃ لاتضام ÷ فسکن الصدر ÷ واستقرالامر ÷ وبان الصواب ÷ وانکشف الحجاب ÷ والحمد اﷲ رب العلمین ۔
تجھ پر اُس رسالہ ( البارقۃ اللمعا) کا مطالعہ لازم ہے کیونکہ میں نے اس میں تحقیق کی ہےکہ برضا ورغبت کفریہ کلمہ بولنے والے کی تکفیر پر اجماع ہے اُس میں کوئی نزاع نہیں، میں نے اس پر ایسے بلند دلائل قائم کیے ہیں جنہیں جھکایا نہیں جاسکتا ۔ اور ایسے قطعی براہین قائم کیے ہیں جن میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ دل مطمئن معاملہ ثابت ، درستگی ظاہر اور حجاب منکشف ہوگیا۔ اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا (ت)
عہ: الضمیر یرجع الی "البارقۃ اللمعا" فانہا التی اشبع فیھا الکلام حول ذاالموضوع ۱۲ محمد احمد)