Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
39 - 212
تنبیہ النّبیہ (عظیم الشان تنبیہ)
اِعلَم ، اَکرمنی اﷲ تعالٰی وایّاک، ووقانا جمیعا مواقع الھلاک ، انّ ھٰذاالکلام النفیس الموجزکان متعلقا بنفس الاقول ÷ والاٰن اٰن ان نتکلم علی المتکلم الردی، الحال،فاقول : وعلی اﷲ الوُکول بان لک ممّا بیّنا انّ اقوال زید وان لم تخرج بحذا فیرھا عن دائرۃ الاکفار واشدّ البوار،لادقّھا ولاجلّھا ولا کُثر ھا و لا قُلّھا۔ فما منھا من قال ولا قیل ÷ اِلّا و اللکفرالیہ سبیل ÷ لکنّہا فی تنوّع الموارد ÷ اذلم یکن نسجھا علٰی منوالٍ واحدٍ ÷۔
تُوجان لے اللہ تعالٰی مجھے اور تجھے عزت عطا فرمائے اور ہمیں ہلاکت کی جگہون سے بچائے کہ بیشک یہ عمدہ مختصر کلام نفس اقوال سے متعلق ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم ردی حال والے متکلم پر گفتگو کریں۔چنانچہ میں کہتا ہوں اورا ﷲ تعالٰی ہی پر بھروسہ ہے، ہمارے بیان سے تجھ پر عیاں ہوگیا کہ اگر زید کے چھوٹے، بڑے، کثیر وقلیل تمام اقوال دائرہ تکفیر اور شدید ترین ہلاکت سے خارج نہیں،ان میں کوئی قیل و قال ایسی نہیں جس کا کفر کی طرف راستہ نہ ہو لیکن ان کے مواضع استعمال مختلف انواع کے ہیں کیونکہ اُن کو ایک ہی سانچے پر نہیں بُنا گیا۔
فمنہا ماتنازعَت فیہ اٰراء العلماء ویرد موردہ کفر لایعطیہ منطوق المقال وانما یتطرق الیہ من جھۃ الزوم کالّذی الزمناہ علی القول السابع من خلوم الکافر المتلبس بکفرہ فی الجنّۃ۔ فھٰذا مما یتوار دعلیہ النفی والاثبات ÷ من الائمۃ الاثبات____ فمن الزمہ بموجب کلامہ اکفر، ومن لافلا ____کمافی الشفاء للامام نسیم الریاض ، من قال (من اھل السنۃ) بالمال لما یؤدیہ الیہ قولہ کفرّہ ____فکانھم صرّحوا (عندالمکفّرلھم) بما اَدّٰی الیہ قولھم____ ومن لم یر اخذھم بماٰل قولھم لم یراکفار ھم (لشمول معنی الایمان لھم بحسب الظاھر ) قال لانھم اذاوُقفوا علٰی ھذا قالوا نحن ننتفی من القول الذی الزمتموہ لنا ونعتقدنحن وانتم انہ کفر ____ بل نقول انّ قولنا لایؤول الیہ علی ما اصلناہ، فعلٰی ھٰذین الماخذین اختلف الناس (من علماء الملّۃ واھل السنّۃ ) فی اکفار اھل التاویل____ والصواب (عند المحقِّقین) ترک اکفار ھم لٰکن یغلّظ علیھم بوجیع الادب، وشدید الزجروالھجر، حتی یرجعوا عن بِدَعِھم ____ وھٰذہ کانت سیرۃ الصدر الاوّل (من الصحابۃ والتابعین ومن قرب منھم) فیھم ، ماازاحوالھم قبراً، ولا قطعوا لھم میراثا، لکنّھم ھجروھم وادّبوھم بالضرب والنہ القتل علٰی قدراحوالھم، لانھم فساق ضُلاّل(اھل بدع، واﷲ المُوَفّقُ اھ ملتقطا ۱؂۔
ان میں سے بعض ایسے اقوال ہیں جن میں علماء کی آراء باہم مختلف ہیں۔ ان پر نفس کلام سے کفر وارد نہیں ہوتا مگر اس سے کفر لازم آتا ہی جیسے ہم نے قول ہفتم پر اُسی الزام دیا کہ اس سے کافر کا کفر کے ساتھ ملبس ہوتی ہوئے ہمیشہ جنت میں رہنا لازم آتاہے۔ یہ ان اقوال میں سے ہے جن پر متبحرائمہ اکرام سے کفر کی نفی واثبات دونوں وارد ہیں۔ چنانچہ جس نے اس کو کلام کے موجب سے الزام دیااور جس نے ایسا نہیں کیا ، اُس نے کافر قرار نہیں دیا جیسا کہ امام قاضی عیاض کی تصنیف الشفاء اور اس کی شرح نسیم الریاض میں ہے، اہل سنت میں سے جس نے اس کے کلام کے مآل کو دیکھا اس نے اسے کافر قرار دے دیا انہوں نے (تکفیر کرنے والے کے نزدیک) اُ س مآل کی تصریح کی جس کی طرف قائلین کا کلام پہنچاتا ہے۔ اور جس نے مآل کلام کی بنیاد پر مؤاخذہ کو روانہ سمجھا اس نے ان کی تکفیرنہ کی ( کیونکہ بظاہر معنی ایمان انہیں شامل ہے)اس نے کہا عدم تکفیر کی وجہ یہ ہے کہ جب انہیں مآلِ کلام سے آگاہ کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس قول سے انکاری ہیں جس کا الزام تم نے ہمیں دیا۔اور ہم اور تم اُس کو کفر جانتے ہیں، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے قول کی جو بنیاد رکھی ہے اُس اعتبارسے ہمارے قول کا مآل وہ نہیں(جو تم نے بتایا ) ان دو مآخذوں کی بنیاد پر لوگوں ( یعنی علماء ملت و اہلسنت) میں اہل تاویل کی تکفیر میں اختلاف واقع ہوا۔اور (محققین کے نزدیک) درست یہ ہے ان کی تکفیر نہ کی جائے لیکن مارپیٹ، سخت ڈانٹ ڈپٹ اور بائیکاٹ کے ذریعے ان کو سزا دی جائے یہاں تک کہ وہ اپنی بدعتوں سے رجوع کرلیں۔ یہ طریقہ ان کے بارے میں صدر اول (عہد صحابہ و تابعین وتبع تابعین میں تھا۔ صدر اوّل کے مسلمانوں نے اہل تاویل کو نہ تو قبروں سے محروم کیا اور نہ ہی میراث سے منقطع کیا لیکن ان سے قطع تعلق کیا اور انکے حالات کے مطابق مار پیٹ، جلاوطنی اور قتل کے ذریعے انہیں سزائیں دیں کیونکہ وہ فاسق ، گمراہ اور اہل بدعت ہیں۔اور اللہ تعالٰی ہی توفیق دینے والا ہے اھ۔ التفاد(ت)
(۱؂ الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی ۲ /۷۸ ۔ ۲۷۸   ونسیم الریاض برکات رضا گجرات ہند ۴ /۵۲۸ تا ا۵۳)
ومنہامالا امتراء فی کونہ کفرا____ لکن نشافی مطاوی المقال مااخرجہ عن حدّالافصاح ÷ ووقع بہ التجاذب فی اِعطاء الکفرالبواح÷ کلفظۃ "عندھم" فی القول السادس ____ فربما جاء للتبری ، وان کان الظاھر ثمّہ خلاف ذٰلک ، عندالعارف باسالیب الکلام ____ وھٰذان القسمان لااکفار بھما عند المحققین ۔
اور بعض اقوال ایسے ہیں جن کے کفر ہونے میں کوئی شک نہیں، لیکن اثناء کلام میں کوئی ایسا قرینہ پایا گیا جو اس کو کفرصریحی کی حد سے خارج کردیتا ہے۔ اور اس کی وجہ سے قائل پر ظاہری کفر کا حکم لگانے میں باہم کشمکش واقع ہوجاتی ہے جیسے قول ششم میں لفظ "عندھم" بسا اوقات یہ لفظ برا ء ت کے لیے آتا ہے ، اگر چہ اسالیب کلام کے ماہر کے نزدیک وہاں بظاہر اس کے خلاف ہے۔ ان دونوں قسموں پر محققین کے نزدیک تکفیر نہیں کی جاتی۔
امّا الثانی :  فواضح، لان من یشھدبالشہادتین فقد ثبت اسلامہ بیقین، والیقین لایزول بالشک ۱ ؎____  وقد روی  ذٰلک عن ائمتنا ، کما فی حاشیۃ السیداحمد الطحطاوی عن البحرالرائق عن جامع الفصولین عن الامام الطحاوی عن الاجلۃ الاصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم،
قسم ثانی تو واضح ہے کیونکہ جو توحید و رسالت کی شہادت دے دے اس کا اسلام یقینی طور پر ثابت ہوجاتا ہے۔  اور یقین شک کے ساتھ زائل نہیں ہوتا۔ تحقیق ہمارے آئمہ کرام سے یہی مروی ہے جیسا کہ سید احمد طحطاوی کے حاشیہ میں البحرالرائق سے بحوالہ جامع الفصولین مذکور ہے، جامع الفصولین نے امام طحاوی سے اور انہیں جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔
( ۱ ؎۔ الاشباہ والنظائر      الفن الاول    القاعدۃ الثالثۃ       ادارۃ القرآن کراچی     ۱ /۸۴ )
واما الاول فلما صرّح الائمۃ الاثبات ان التکفیرا مرعظیم، وخطرالاثبات ان التکفیرامرعظیم، وخطرجسیم کلحم جمل غثّہ علٰی راس جبل وعر، لاسھل فیرتقی، ولا سمین فینتقی ____ مسالکہ عسیرۃ ومھالکہ کثیرۃ ____ فالذی یحتاط لدینہ لایتجاسرعلیہ الابدلائل کشموس بل اَجلٰی ، حتّٰی انّ المسئلۃ ان کانت لہا وِجھۃ الی الاسلام وتسع وتسعون  وجھۃ الی الکفر فعلی المفتی ان یمیل الی الوِجہۃ الاولٰی ، فانّ الاسلام یَعلو ولا یُعلٰی____ و ان کان ھذا لاینفع القائل عند اﷲ تعالٰی ان کان اراد وِجہۃً اُخرٰی۔
رہی قسم اول تو وہ اس لیے کہ متجرائمہ کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ بے شک تکفیر ایک عظیم اور بہت زیادہ ہلاکت میں ڈالنے والا معاملہ ہے۔ جیسے لاغروانٹ کا گوشت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر پڑا ہو، نہ راستہ آسان کہ چڑھاجائے اور نہ ہی وہ گوشت طاقتور کہ اس کے لیے مشقت اٹھائی جائے، اس کے راستے دشوار اور اس کی ہلاکتیں کثیر ہیں۔ جو شخص اپنے دین میں محتاط ہے وہ تکفیر پر جسارت نہیں کرتا۔ جب تک سورج کی مثل بلکہ اس سے بھی زیادہ روشن دلائل موجود نہ ہوں، یہاں تک کہ اگر کسی مسئلہ میں ایک جہت اسلام کی اور ننانویں جہتیں کفر کی نکلتی ہوں تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ پہلی جہت کی طرف میلان کرے کیونکہ اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا اگرچہ یہ قائل کے لیے عنداﷲ نافع نہیں اگر اس نے دوسری جہت یعنی جہتِ کفر کا ارادہ کیا ہے۔
وقد قال المولٰی العلامۃ زین بن نُجَیم المصری فی البحر ، والذی نحرّر انہ لایُفتٰی بتکفیر مسلمٍ امکن حمل کلامہ علی محمل حسن، اوکان فی کفرہ اختلاف ولو روایۃ ضعیفۃ ____ قال رحمۃ اﷲ تعالٰی ____فعلٰی ھذا اکثر الفاظ التکفیر المذکورۃ لایفنٰی بالتکفیر بہا، ولقدالزمت نفسی ان لا افتی بشیئ منھا اھ  ۱؂
مولانا علامہ زین بن نحیم مصری نے البحرالرائق میں فرمایا اور وہ جسے ہم تحریر کرتے ہیں یہ ہے کہ کسی ایسے مسلمان کی تکفیر کا فتوٰی نہ دیا جائے جس کے کلام کو اچھے معنی پر محمول کرنا ممکن ہو یا جس کے کفر میں اختلاف پائے جائے ۔ اگرچہ ضعیف روایت کی وجہ سے ہو۔ علامہ مصری علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اسی وجہ سے مذکورہ الفاظ تکفیر میں سے اکثر پر تکفیر کافتوٰی نہیں دیاجاسکتا اور میں نے خود پر لازم کرلیا ہے کہ ان میں سے کسی کے ساتھ کفر کا فتوٰی نہیں دوں گااھ)
 ( ۱ ؎۔ البحرالرائق   کتاب السیر     باب احکام المرتدین     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی  ۵ /۱۲۵ )
قال الحِبرالخیراالرمل ، اقول : ولو کانت الروایۃ لغیر مذھبنا، ویدلّ علٰی ذلک اشتراط کون مایوجب الکفر مجمعاً علیہ۔۲؎  اھ تابعہ علیہ ابوالسعود فی شرح الاشباہ ۔
عالم صالح خیر الدین رملی نے فرمایا ، میں کہتا ہوں اگرچہ وہ روایت ہمارے مذہب کے غیر کی ہو، اور موجب کفر کے متفق علیہ ہونے کی شرط لگانا۔ اس پر دلالت کرتا ہے۔،اھ ابوالسعود نے شرح اشباہ میں اس کی متابعت کی ہے۔
 ( ۲ ؎ردالمحتار   کتاب الجہاد باب المرتد  داراحیاء التراث العربی بیروت   ۳ /۲۸۹)
وقد فصّل الکلام ، فی ھٰذا المرام تاج المحققین ، سراج المدققین ، سیّدنا الوالدقُدِّس سِرُّہُ الماجد فی بعض فتاواہ التی شدد فیہا النکیر علٰی بعض اعلامہ عصرہ فلم یردّو شیئا، و کانوالہ مُذعنین۔
تحقیق اس مقصد میں کلام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے میرے والد ماجد قدس سرہ، نے جو محققین کے تاج اور مدققین کے چراغ ہیں اپنے اُن بعض فتاوٰی میں جن میں آ پ نے اپنے ہمعصر مشاہیر پر سخت تنقید کی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ آپ کی اطاعت کرنے والے تھے۔
ومنھا وھوالاکثر ما لاعذر فیہ لِزیدٍ ولا مھلا ولا روید، کالا قوال الاربعۃ الاول وغیرھا ، فانہ قد ناضل فیھا ضروریات الدین، وخلع من رقبتہ ربقۃ الیقین واتٰی بما لا تغسلہ البحار ولاتساعد الحیل والا عذار______و قدعلمت انہ، اذا کان عن علم وعمدٍ وطوع______ ولاریب فی وجودھا فھنا فلاتنفع العزائم ولا تمنع التمائم، ولاحول ولاقوۃ باﷲ العلی العظیم۔
اور بعض اقوال جو کہ اکثر ہیں ایسے ہیں کہ ان میں زیدکے لیے عذر نہیں، نہ ان میں کوئی مہلت ہے نہ ڈھیل جیسے پہلے چار اقوال وغیرہا کیونکہ ان میں اس نے ضرویات دین پر تیر اندازی کی اور یقین کا پھندا اپنی گردن سے اتار پھینکا اور ایسے غلیظ کلمات واقوال لایا کہ انہیں کئی سمندر بھی نہیں دھوسکتے اور نہ ہی حیلے بہانے اس کی مواققت کرتے ہیں۔تحقیق تُوجان چکا ہے کہ اگر وہ اقوال جانتے بوجھتے بخوشی کہے گئے جیسا کہ یہاں ان امور کی موجودگی میں کوئی شک نہیں تو نہ ارادے نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی تعویذات دفاع کرسکتے ہیں۔اور نہیں ہے برائی سے بچنے کی طاقت اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلند ی و عظمت والے معبود کی توفیق سے۔
Flag Counter