Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
37 - 212
وجہ سوم : یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ اس ناطق سے کہ برتقدیر لام ،  اور لوگ مثلاً طلبہ منطق و ناظرین کتاب مراد لینا بھی نجات نہ دے گا کہ یہ تشبیہ جیسے اپنے نفس کے لیے ناجائز ہے یونہی ان کے لیے
کمالایخفی ۔
وجہ چہارم : ہاں اگر یوں جان بچایا چاہے کہ میں نے ناطق النّالہ الحدید سے خود جناب سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کو مراد لیا ہے۔ تو بے شک اس صورت میں یہ اضافت نہایت حسن و بجا_____ مگر اب وہ آفتیں رجعت قہقری کریں گی کہ نبی اﷲ پر تہمت رکھی اور اس کے علمِ عزیز کی تحقیر کی_____
کما یظھرُ ممّا قرّرنا انفا
جیسا کہ اُس تقریر سے ظاہر ہوتا ہے جو ہم نے ابھی ابھی کی ہے۔ت) اگر تہمت سے یوں بچے کہ حقیقتِ نسبت مقصود نہیں، بلکہ اس طور پر کہا جیسے بے باک لوگ خوش آوازوں کے گاؤں کو "نغمہ داؤدی"  یا  "الحانِ داؤد"  کہتے ہیں _____ تو اب وہ بلائے تشبیہ ،  جگر دوزی و جاں گدازی کو بس ہے۔

غرض کوئی شکل مفر کی نہیں _____
والعیاذ باﷲ سبٰحنہ و تعالٰی
 (اﷲ تعالٰی کی پناہ ت)
اب برتقدیر توصیف چلیے ،  یعنی ناطق کو تنوین دے کر _____ اس صورت میں من تواصلاً چسپاں نہیں ،  مگر بہ ارتکابِ تمحل کہ تعلیلیہ ٹھہرائیں اور لاجل کے معنی میں لے کر لناطِق کے قریب لے جائیں۔

بہرحال اس ترکیب میں النّالہ الحدید کی ضمیر متکلم سے ذاتِ مصنف مراد ہوگی، کما لایخفٰی( جیسا کہ پوشیدہ نہیں ت) اور ناطق سے وہی طلبہ ونُظار _____  اور حدید سے مطالب عولصیہ ،  اور انکی الانت سے ایضاح وابانت_____ حاصل یہ کہ "منطق جدید اُس ناطق کے لیے ،  جس کے واسطے ہم نے مطالبِ مُشکلہ حل کردیئے"۔ 

اس معنی میں ناواقف کو کوئی محذور نظر نہ آئے مگر ہیہات ۔۔۔(عہ)۔۔۔ یہاں محذور شدید باقی ہے _____ کلام الہی تعالت عظیمتہ  (جس کی عظمت بلند ہے۔ ت ) کا اپنے کلام کے عوض ایسا استعمال شرعاً حرام و وبال و نکال _____ یہاں تک کہ بہت فقہائے کرام نے حکم کفر دیا۔ والعیاذ باﷲ سبحنہ وتعالٰی  ( اور اﷲ سبحنہ و تعالٰی کی پناہ۔ ت) _____ اور وجہ تحریم ظاہری وواضح۔
عہ:  لایبدو وما ھنا فی المخطوطۃ صافیا ۱۲ محمد احمد)
ذرا اپنے رب تبارک و تعالٰی کی عظمت پیش نظر رکھ کر خیال کرے کہ النالہ الحدید کس نے فرمایا ؟ اور ضمیر نا سے کون سی ذاتِ پاک مراد ؟ اور لہ میں کس جلیل القدر کی طرف ضمیر ، اور مضمون جملہ کس امر عظیم سے تعبیر ؟ _____اب اُسی کلام کو کون شخص کس طرح اپنے استعمال میں لاتا، اور ضمیر نَا سے خدا کے عوض کس ذلیل حقیر کو مراد لیتا ۔ اور کنایہ لہ نبی اﷲ کے بدلے کس کی طرف پھیرتا۔ اور عز ت والی بات کو ، جس کی قدر خدا اور رسول ہی خوب جانتے ہیں ،  کس بے ہودہ بات پر ڈھالتا ہے۔
ع۔۔۔۔۔۔ حقّا کہ تاج شاہی کناس رانہ زبید
 (حق یہ ہے کہ بادشاہ کا تاج جھاڑو پھیرنے والے کے سر پر زیب نہیں دیتا)
یاھذا : حق بات اپنے مقابل کم سمجھ میں آتی ہے کہ نفس آمادہ رفع وانتصار ہوتا ہے۔ دوسروں پر خیا ل کرکے دیکھ۔ مثلاً زید عمرو کو مالِ کثیر دے کر کہے کہ
انّا اعطینٰک الکوثر  ۔۱؂
 (اے محبوب ! ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائے۔ ت) کیا نہ کہا جائے گا کہ اس نے خدا و کلام خدا اور رسول خدا کی قدر نہ جانی ۔
 ( ۱ ؎ القرآن ۱۰۸ /۱)
حاش اﷲ کہاں خدا ، کہاں زید _____  کجا حضور ، کجا عمرو _____  کہاں کوثر ، کہاں زر _____! 

یا عمرو نے زید کو کہیں بھیجا_____بکر نے پوچھا کس کے حکم سے گیا تھا؟_____ عمرو بولا :
امرامن عندنا انّا کنّا مرسلین ۲؂۔
(ہمارے پاس کے حکم سے بے شک ہم بھیجنے والے ہیں۔ت)
 ( ۲ ؎ ۔ القرآن الکریم ۴۴ /۵)
وعلٰی ھذا قیاسُ غیر ذٰلک من اراجیف جہلۃ النّاس
  ( اس کے علاوہ جاہل لوگوں کی منگھڑت باتوں کو اسی پر قیاس کرلو۔ت)
ہاں ہاں قطعاً اِس طرح کا استعمال مستلزم کفرواستخفاف۔ پھر جس نے الزام بہ لازم کیا کافر کہا۔ اور محققین نے عدِم التزام پاکر صرف حرام ٹھہرایا۔
فاتقن ھذافانہ مفید ÷ وتحقیق المقام یقتضی المزید  ÷  وانّ لہ عند العبد الضعیف  ÷  یفضل المولٰی القوی اللطیف  ÷  تنقیحاً وبسطاً  ÷  توضیحاً وضبطاً  ÷  یطلب ھو وامثالہ من مجموعنا المبارک ان شاء اﷲ تعالٰی  ÷  العطایا النبویہ فی الفتاوٰی الرضویہ ______ وبھٰذا القدر ، وضع الامر ۔ وبان الفرق بینہ وبین التضمین ،  فانّہ سائغ عند الاکثرین ،  وان ذھب ناس الی التحریم  ÷  واﷲ تعالٰی سبحٰنہ بالحق علیم۔
اس کو پختہ کرے کیونکہ یہ مفید ہے۔ اس مقام کی تحقیق مزید کا تقاضا کرتی ہے اور اس کے لیے قوت ولطف والے مولٰی تعالٰی کے فضل سے عبدضعیف کے پاس تنقیح وتفصیل اور توضیح و ضبط ہے۔اُس کو اور اس کی مثال کو اِ ن شاء اﷲ تعالٰی ہمارے بابرکت مجموعے  "العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ" سے طلب کیا جاسکتا ہے۔ اس قدر سے معاملہ کی وضاحت ہوگئی۔ اور اس کے درمیان اور تضمین کے درمیان فرق ظاہر ہوگیا کیونکہ اکثر کے نزدیک وہ جائز ہے اگرچہ کچھ لوگ اس کے حرام ہونے کی طرف گئے ہیں۔ اور اﷲ سبحنہ و تعالٰی حق کو خوب جانتا ہے۔(ت)
فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
جمع اھل موضع وقال : فجمعنھٰم جمعاً اوقال : وحشر نٰھم فلم نغادِر منھم احدا oکفر  ۱؂اھ ملتقطاً ۔
کسی نے شہر والوں کو جمع کیا اور کہا فجمعنٰھم جمعاً  ( تو ہم ان سب کو اکٹھا کر لائیں گے) یا کہا وحشر نٰھم فلم نغادرمنھم احدًا  اور ہم اُن کو جمع کردیں گے تو ہم ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے) تو وہ کافر ہوگیا اھ التقاط (ت)
( ۱ ؎ ۔ا لفتاوٰی الھندیۃ    کتاب السیر       الباب التاسع       نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۲۶۷)
اسی میں ہے :
اذا قال لغیرہ خانہ چناں پاک کردہ کہ چوں
والسماء والطارق o
قیل یکفر ،  وقال الامام ابوبکر بن اسحٰق رحمۃ اﷲ تعالٰی ان کان القائل جاھلا ،  لایکفر ،  وان کان عالما یکفر۔ واذقال :
قاعاً صفصفا
شدہ است فھٰذہ مخاطرۃ عظیمۃ ۔ واذ قال لباقی القدر :
والبقٰیت الصّٰلحٰت۔
فھٰذہ مخاطرۃ عظیمۃ ، کذا فی الفصول العمادیۃ  ۔۱؂
جب دوسرے شخص کو کہا کہ گھر کو تُو نے ایسا پاک کردیا ہے کہ جیسے
والسماء والطارق
 ( آسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی) تو کہا گیا ہی کہ کافر ہوجائے گا۔ اور امام ابوبکر بن اسحاق علیہ الرحمۃ نے کہا کہ اگر قائل جاہل ہے تو کافر نہ ہوگا اور اگر عاصم ہے تو کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کہا کہ
قاعا صفصفا
(کھلا ہموار میدان ) ہوگیا ہے تو یہ خود کو عظیم خطرہ میں ڈالنا ہے۔ اور جب ہنڈیا کی کھرچن یا بقیہ کے کے بارے میں کہا
والباقیات الصالحات
( باقی رہنے والے نیک کام ) تو یہ خود کو عظیم خطرہ میں ڈالنا ہے۔ فصول عماویہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
 ( ۱ ؎ ۔ الفتاوٰی الھندیۃ   کتاب السیر الباب التاسع    نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۲۶۷)
Flag Counter