Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
36 - 212
ثالثاً ہنوز نجات نہیں۔ اب وہ مُلابَست پوچھی جائے گی کہ حق جلا جلالہ کے اس کلام پاک سے ،  جس میں وہ اپنے ایک نبی جلیل کو اپنی قدرتِ کاملہ سے ایک معجزہ عظیمہ عطا فرمانا۔ ارشاد کرتا ہے۔ تجھے کیا مناسبت ومُلَابَسَت ہے جس کے سبب یہ اضافت رَوا ہوئی۔

اگر کہے کہ میں نے مضامین مغلقہ کو  "حدید"  اور اُن کی توضیح کو  "اِلانت"  سے تشبیہ دے کر ایسا کہا تو____ سخت مغرور ،  اور مقامِ رفیع و منصب منیع نبوت پر جری وجسور۔

سُبٰحن اﷲ ! کہاں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا اِعجاز اور کہاں یہ ناپاک مضامین مجمع ہر گونہ اَنْجاس وارجاز ،
ع	                 		چہ نسبت خاک را باعالم پاک
مٹی کو عالم پاک سے کیا نسبت ہے۔ ت
ع                        وَاَین  الثریا  واین  الثرٰی
کہاں ثریّا اور کہاں کیچڑ ۔ت
ع	                 		وَمَا التّنَا سُبُ بَیْنَ الْبَوْلِ  وَالْعَسَلِ
پیشاب اور شہد میں کیا مناسبت ہے ۔ت
ملائکہ سے تشبیہ کا حکم اُوپر گزرا_____ پھر انبیاء علیہم الصلوۃ والثنا تو اُن سے افضل ہیں_____آئمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ ایسا شخص تو قیر نبوت و تعظیم رسالت سے برکراں ،  اور مستحق زجرو نکیر و ضرب وتعزیرو قید گراں ہے۔ اور فرماتے ہیں : یہ احمق ایسی باتوں کو سَہل سمجھتے ہیں مگر وہ بوجہ گناہِ کبیرہ ہونے کے اللہ جل جلالہ کے نزدیک شدید ہیں اگرچہ قائل کو اہانتِ بنی منظور نہ ہو۔
شِفائے عیاض ونسیم الریاض میں ہے :
الوجہ الخامس ان لایقصد نقصاً و لایذکرعیباً ولا سبّا ولٰکنّہ ینزع بذکر بعض اوصافہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  علٰی طریق التشبّہ بہ اوعلٰی سبیل التمثیل وعدم التوقیر لنبیّہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ( لتشبیہ نفسہ بہ واین الثریاواین الثرٰی ) یحسبونہ ھیّنا و ھو عنداﷲ عظیم (لانّہ من الکبائر ) فان ھذہ  وان لم تتضمن سبّا، ولا اضافت الٰی الملئکۃ والانبیاء نقصاً ، ولا قصد قائلھا اِزراءً ولا غَضّا ،  فماوقر النبوۃ ولا عظّم الرسالۃ ،  حتی شبّہ من شبّہ فی کرامۃٍ نالھا اوضرب مثل بمن عظم اﷲ خطرہ ،  وشرّف قدرہ ،  والزم توقیرہ ،  وبّرہ ،  فحق ھذا (القائل) اِن دُرِئ عنہ القتلُ ، الادْبُ (بضرب اولوم  او زجرٍ) والسِّجنُ ۔ ولم یزل المتقدمون (من السلف وکبارِ الائمۃ) ینکرون مثل ھذا ممّن جاءَ بہ (فلیحذر من ارتکاب ھذہ القبائح الشدیدۃِ الوِزر ،  العظیمۃ الاثمِ ،  فانّھا ربما جرّت الی الکفر نعوذ باﷲ من ذٰلک) وقد انکرالرشید علی اَبی نُوَاسٍ فی قولہ ÷ فان عصا موسٰی بکف خصیب (خصیب عبد للرشید ولاّہ مصر ،  استعار عصا موسٰی لسیاسۃ حاکمھم وقمع ظلمھم ففیہ استعارۃ وتشبیہ بدیع ،  لٰکن فیہ سُوءُ ادبٍ لما فیہ من جعل العصا التی ھی معجزۃ لرسول بکف عبدٍ من عَبِیْدِ الخلفاء وجعل ذلک العبد کرسول من اولی العزم) وقال لہ (ای الرشید لابی نواس) یاابن اللخناء ! ھذا مماتشتم بہ العرب ،  واللخنا ھنا امہ من اللخن ،  وھوالنتن فاستعیر للفاحشۃ اوللمراۃ التی لم تختن،  ای یادنیّ الاصل ولئیم الام ! اتستھزئ بعصاموسٰی (وھی معجزۃ نبی عظیم) وامرباخراجہ من عسکرہ من لیلتہ ۱؂ اھ ملتقطاً۔
پانچویں وجہ یہ کہ متکلم نقص کا ارادہ نہ کرے اور نہ ہی عیب اور سبّ وشتم کو ذکر کرے لیکن نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعض اوصاف بطور تشبہ یا بطور تمثیل وعدم توقیر ذکر کرے تاکہ اپنی ذات کو آپ کے ساتھ تشبیہ دے کر( کہاں ثریا اور کہاں کیچڑ) وہ اسے ہلکا جانتے ہیں حالانکہ اللہ تعالٰی کے ہاں وہ بہت عظیم ہے( کیونکہ وہ کبیر گناہوں میں سے ہے) اس لیے کہ یہ مثالیں اگرچہ سب وشتم کو متضمن نہیں اور نہ ہی انہوں نے ملائکہ و انبیاء کی طرف کسی نقص کی نسبت کی اور اُن کے قائل نے بھی جسارت و تنقیص کا ارادہ نہیں کیا۔ مگر اس کے باوجود اُس نے نبوت کی توقیر اور رسالت کی تعظیم کما حقہ ، نہ کی ،  یہاں تک کہ کسی تشبیہ دینے والے نے اپنے ممدوح کو کسی کرامت کے حاصل ہونی کی وجہ سے یا بطور ضرب المثل اُس عظیم الشان شخصیت سے تشبیہ دے دی جس کی شان کو اﷲ تعالٰی نے معظم اور اس کی قدرو منزلت کو مشرف کیا ،  اس کی توقیر اور اس کے ساتھ نیکی کرنے کو لازم قرار دیا ،  چنانچہ اس قائل کو اگر قتل کی سزا نہ بھی دی جائے مگر وہ مار پیٹ ،  ملامت اور زجرو توبیخ کے ساتھ تعزیر اور قید کا حقدار ہے ،( اسلاف و آئمہ کبار میں سے) متقدمین ایسی مثالوں میں اُن کے قائل پر سخت ناراضگی و ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے (لہذا اس قسم کی قبیح مثالوں سے بچنا چاہیے جن کا وبال شدید  اور گناہ عظیم ہےکیونکہ بسا اوقات یہ کفر تک پہنچا دیتی ہیں۔ ہم اس سے اللہ تعالٰی کی پناہ چاہتے ہیں) تحقیق رشید نے ابو نواس پر ناراضگی کا اظہار کی جب ابو نواس نے یہ کہا کہ بے شک عصا موسٰی خصیب کے ہاتھ میں ہے۔(خصیب رشید کا ایک غلام تھا جس کو رشید نے مصر کا حاکم بنادیا تھا۔ ابونواس نے اہل مصر کے حاکم کی سیاست اور ان سے ظلم کو مٹانے کے لیے عصاء موسٰی کا استعارہ کیا ، اُس کے کلام میں عمدہ تشبیہ اور استعارہ ہے لیکن اس میں بے ادبی ہے کیونکہ اُس نے عصاء موسٰی کو خلفاء کے غلاموں میں سے ایک غلام کے ہاتھ میں قرار دیا حالانکہ وہ عصا ایک عظیم الشان رسول کا معجزہ ہے اور اُس نے غلامِ مذکورکو اولو العزم رسولوں میں سے ایک رسول کی مثل قرار دیا) اس نے کہا۔(یعنی رشید نے ابونواس کو کہا) اے لخناء کے بیٹے (اس کلمہ کے ساتھ اہلِ عرب گالی دیتے ہیں ، یہاں لخناء سے مراد اس کی ماں ہے۔ یہ لفظ لخن بمنی بدبو سے مشتق ہے۔ یہ لفظ فاحشہ یا غیر مختونہ عورت کے لیے بطور استعارہ بولا جاتا ہے۔(یعنی ایک گھٹیا نسب یا کمینی ماں والے) کیا تو عصاء موسٰی کا مذاق اڑاتا ہے۔(حالانکہ وہ ایک عظیم نبی کا معجزہ ہے) اور رُشید نے اُسی رات ابو نواس کو اپنے لشکر سے نکالنے کا حکم دے دیا ا ھ التقاط ۔ (ت)
 (۱؂نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل الوجہ الخامس    مرکز اہلسنت برکات رضا    ۴/ ۴۰۳ تا ۴۱۱)

(الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القاضی عیاض  فصل الوجہ الخامس    المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ بیروت ۲ /۲۲۸  تا  ۲۳۱)
بالجملہ کون مسلمان گوارا کرے گا کہ وہ آیت جس میں ایک نبی کریم کی مدح بیان فرمانی ہو تشبیہ وتمثیل کے زور لگا کر اپنے اوپر ڈھال لائے۔ اور سلطان عظیم القدر جلیل الشان کا تاج لے کر ایک چمار کو پہنائے۔
نسأل اﷲ العافیۃ
(ہم اﷲ تعالے ٰ سے عافیت مانگتے ہیں۔ ت)
Flag Counter