رابعاً : حضرت حق جلَّ وعلا کو "ناطق" کہنا جائز نہیں کہ یہ لفظ شرح سے ثابت نہ ہوا ، اسمائے الہٰیہ توقیفیہ ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی جل جلالہ ، کا جواد ہونا اپنا ایمان مگر اسے سخی نہیں کہہ سکتے کہ شرع میں وارد نہیں۔
والمسئلۃ شھیر وفی الکتب سطیر ۔ وقد یمثل بجواز الشافی دون الطبیب العدم الورود ۔اقول ولکن قدوردفی الحدیث اﷲ الطبیب ، وانت الرفیق۲ ____ وعن ابی بکر ان الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ : اَلطَّبِیْبُ اَمْرَضَنِیْ۳ _______فلیحرَّر ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ مشہور ہے ، اور کتابوں میں لکھا ہوا ہے ، اور کبھی یوں اس کی مثال دی جاتی ہے کہ اللہ تعالٰی کو شافی کہنا جائز اور طبیب کہنا ناجائز ہے کیونکہ شرع میں اُس کے لیے طبیب وارد نہیں ہوا۔ میں کہتا ہوں حدیث میں آیا ہے اللہ طبیب ہے اور تو رفیق ہے ، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ طبیب نے مجھے بیمار ی میں مبتلا کیا۔ اس کو لکھنا چاہیے۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت)
( ۲ ؎۔مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابی امثہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۶۳)
( ۳ ؎۔ الجامع الاحکام القرآن (تفسیر القرطبی) تحت الآیۃ ۱۶ / ۶۹ درااحیاء التراث العربی بیروت ۱۰ /۱۳۹ )
خامساً ، اس کے اِطلاق پر ایہام نقص بھی ہے کہ نُطْق کلام باحروف و آواز کو کہتے ہیں۔ قاموس میں ہے۔
نطق ینطق نطقا کا معنٰی ہے کہ اُس نے آواز و حروف کے ساتھ تکلّم کیا جن حروف کا معٰنی پہنچانا جاتاہے۔(ت)
( ۴ ؎ ۔ القاموس المحیط باب القاف فصل النون مصطفٰی البابی مصر ۳ /۲۵۹)
فائدہ : یہاں سے ظاہر ہوا کہ عدم وُرُود سے قطع نظر کرکے اِطلاقِ "نطق" باری عزوجل پر لُغۃً بھی غلط۔ بخلاف کلام و قول کہ ان میں حرف و صورت شرط نہیں۔
امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ حدیث ثقیفہ میں فرماتے ہیں :
زَوَّرْتُ فِیْ نَفْسِیْ ، مَقَالَۃً ۱ ۔
میں نے اپنی دل میں ایک مقالہ تیار کیا(ت)
( ۱ ؎۔ فتح الباری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الخ مصطفٰی البابی مصر ۱۷ /۲۳۴ )
اخطل کا شعر ہے: ؎
اِنّ الکلام لی الفؤادو انَّما
جُعِل اللسان علی الفؤاد دلیلا ۔۲
(بے شک کلام دل میں ہوتا ہے ، زبان کو توفقط دل پر دلیل بنایا گیا ہے۔(ت)
ولہذا نَطقْتُ فی نفسی نہیں کہہ سکتے۔ حقیقتہً نُطقِ اس بولی کا نام ہی جیسے صَہیل و نہیق آواز مخصوصِ اسپ و خرکا، اِسی لیے سفہائے فلسفہ نے انسان کی تعریف حیوانِ ناطق سے کی۔جس طرح فرس و حمار کی ، حیوانِ صاہل و ناہق سے۔ پھر اُسی حدِّ تام بنانے کے لیے متاخرین نے نُطق کے معنی ادراک کلیات گھڑے مگر صہیل و نہیق میں کوئی تراش نہ کرسکے۔
ذٰلک مَبْلَغُھُم من العلم ۳ ان ھُم الایخرصون ۔۴ ۔
(یہاں تک ان کے علم کی پہنچ چکی ہے ، یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ ت)
اگر مصنف کتاب دور از کار ، اضافت بہ ادنٰی ملابست مان کر ،اس لفظ سے اپنی ذات مراد بتائے ۔تو البتہ نسبت صحیح ومحذورات مذکورہ مندفع ____مگر :
اولا : بے داعی شرعی، روزمرہ باہمی میں ، خلاف متبادرمراد لینے کو علامہ آفات لسان سے شمار کرتے ہیں ۔
طریقہ وحدیقہ میں ہے :
الخامس من آفات اللسان ارادۃ غیر ظاھر المتبادر من الکلام (الذی یفھمہ ، کل احد ) وھو جائز عند الحاجۃ الیہ (کالکذب علی الزوجۃ وبین الاثنین وفی الحرب وما الحق بذٰلک) ویکرہ (کراھۃ تحریم) بدونھا ۔۱ اھ ملخّصاً ۔
آفات زبان میں سے پانچویں آفت کلام کے ظاہر ومتبادر معنی جس کو ہرکوئی سمجھتاہے کے غیر کا ارادہ کرنا ،اور بوقت ضرورت جائز ہے جیسے جھوٹ بولنا بیوی کی دلجوائی کے لیے ، دو شخصوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے ، جنگ اور اس کے ملحقات کے لیے ، اور بلا ضرورت ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ تلخیص (ت)
( ۱ ؎۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الخامس المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۲ /۲۱۶ )
نہ کہ ایسی جگہ جس کا ظاہر وہ کچھ مجمع آفات ہو۔
ثانیاً : مجّرد ایہام ، منع میں کافی __ رِدُّ المحتار میں ہے :
مجرد اِیھام المعنی المحال کافٍ فی المنع عن التلفُّظ بھٰذا الکلام وان احتمل معنیً صحیحا ، ولذا عللّ المشایخ بقولھم لانّہ یوھِم الخ۔ ونظیرہ ماقالوا فی انا مؤمن اِن شاءَ اﷲ ، فانَّھم کرِھُوا ذٰلک وان قصدالتبرک دون التعلیق ، لما فیہ من الایھام ، کما قرّرہ العلاّمۃ التَّفْتَازَانی فی شرح العقائد ، وابنُ الھُمام فی المُسایَرۃِ ۔۲
محض معنی محال کا ایہام اُس کلام کے ساتھ تلفظ سے ممانعت کے لیے کافی ہے ، اسی لیے مشائخ نے علّت ممانعت بیان کرتےہوئے کہا اس لیے کہ وہ وہم میں ڈالتا ہے ، الخ اور اس کی نظیر وہ ہے جو مشائخ نے کسی ایسے شخص کے بارے میں کہا۔ جو کہے میں مومن ہوں اگر اللہ چاہے ، کیونکہ انہوں نے اس قول کو ناپسند جانا اگرچہ وہ تبرک کا ارادہ کرے نہ کہ تعلیق کا ، اس لیے کہ اس میں ایہام ہے جیسا کہ علامہ تفتازانی نے شرح العقائد اور علامہ ابن الہمام نے مسایرہ میں میں اس کی تقریر فرمائی ہے۔(ت)
( ۲ ؎ردّالمحتار کتاب الخطر والا باحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۵۳ )