Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
34 - 212
اب نہ باقی رہا مگر نامِ کتاب
جس کے حکم سے بعض
خُلَّص اعزّہ کان حفظ اﷲ لہ نصیرا حسناً
(اﷲ تعالٰی کی حفاظت اس کے لیے اچھی مددگار ہو۔ت) نے اس مسئلہ کے وردو سے پیشتر سوال کیا تھا۔ت)
فاقول : وبعون اﷲ اَجُول
  ( چنانچہ میں کہتا ہوں اور اللہ تعالٰی کی مدد سے گھومتا ہوں ،  ت) اس میں بہ اعتبار اختلاف اضافت و توصیفِ لفظ  ناطق  احتمالات عدیدہ پیدا ۔ مگر کوئی مخذور شرعی سے خالی نہیں۔
برتقدیر اضافت :__________ عام ازاں کہ نام میں لام ہو یا من __________ظاہر و متبادر "ناطق
اَلنَّالَہُ الحَدید
" سے جناب الہٰی ہے تعالٰی وتقدس __________کہ اس کا صریح ترجمہ
اَلَنَّا لَہُ الحدید
کہنے والے کا منطق جدید____  یا_____ اس کی طرف سے منطق جدید۔ اور پُر ظاہر کہ اس کلام کا فرمانے والا کون ہے؟__________ ہمارا مولٰی تبارک و تعالٰی اس تقدیر پر متعدد شناعاتِ شدید ہ لازم ۔
اوّلاً : مضامین کتاب کو حضرت عزت تبارک مجدہ ، کی طرف نسبت کرنا ، کہ جناب الہٰی جل ذکرہ پر کھلا افترا حق عزّمن قائل فرماتا ہے  :
انّ الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون۱؂۔
بے شک جو لوگ اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں مراد کو نہ پہنچیں گے۔
 ( ۱ ؎۔ القرآن الکریم ۱۰ /۶۹ )
اور فرماتا ہے۔
فمن اظلم من افتری علی اﷲ کذبا ، ۔۲؂
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ پر بہتان اٹھائے یہاں تک کہ جمہور علماء ایسے شخص کو مطلقاً کافر کہتے ہیں۔
 ( ۱ ؎۔ القرآن الکریم ۶/ ۱۴۴۔ ۷ /۳۷ ۔ ۱۰ / ۱۷ و ۱۸ /۱۵ )
شرح فقہ اکبر میں ہے :
فی الفتاوی الصغرٰی من قال "یعلم اﷲ انی فعلت ھذا"  وکان لم یفعل کفر ،  ای لانہ کذب علی اﷲ ۳؂۔
فتاوٰی صغرٰی میں ہے جس نے کہا اﷲ تعالٰی جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ اس نے وہ کام نہ کیا ہو تو کافر ہوجائے گا۔ کیونکہ اس نے اللہ تعالٰی پر جھوٹ باندھا ہے۔(ت)
 ( ۳ ؎ ۔ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص ۱۹۱)
محیط میں ہے :
  فمن قیل لہ یا احمر قال خلقنی اﷲ من سویق التفاح ،  وخلقک من الطین او من الحمأۃ وھی لیست کالسویق کفر۱؂۔
جس شخص کو کہا گیا اے احمر  تو اس نے کہا مجھے اللہ تعالٰی نے سیب کی شراب سے بنایا ،  جب کہ تجھے کیجڑ یا گارے سے بنایا ہے اور وہ شراب کی مثل نہیں تو کافر ہوجائے گا۔(ت)
 ( ۱ ؎۔منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ المحیط   فصل فی الکفر صریحاً و کنایۃً   مصطفی البابی مصر ص۱۸۲)
فاضل علی قاری نے فرمایا  :
ای لافترائہ علی اﷲ تعالٰی مع احتمال انہ لایکفر بناء علی انہ کذب فی دعواہ ۔۲؂
یعنی وہ اﷲ تعالٰی پر افتراء باندھنے کی وجہ سے کافر ہوجائے گا باوجود یہ کہ یہ احتمال موجود ہے کہ وہ کافر نہ ہو اس بنیاد پر کہ وہ اپنے دعوٰی میں جھوٹا ہے۔(ت)
 ( ۲ ؎۔منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ المحیط ۔    فصل فی الکفر صریحاً و کنایۃً    مصطفی البابی مصر ص ۱۸۲ )
دُرِّ مختار میں ہے :
ھل یکفر بقولہ  "اللہ یعلم اویعلم اﷲ انہ فعل کذا ،  اولم یفعل کذا"  کاذبا؟ قال الزاھدی الاکثر نعیم ،  وقال الشمنی الاصَحُّ لا  ۔۳؂
کیا کوئی شخص جھوٹ بول کر یہ کہنے سے کافر ہوجاتا ہے کہ اللہ جانتا ہے میں نے یہ کام کیا ہے یا اللہ جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔ زاہدی کا کہنا ہے کہ اکثر نے کہا ہے ہاں( یعنی کافر ہوجائے گا) اور شمنی نے کہا۔ اصح یہ ہے کہ کافر نہیں ہوگا۔(ت)
 ( ۳ ؎ ۔ الدر المختار    کتاب الایمان    مطبع مجبتائی دہلی   ۱ /۲۹۲)
ردالمحتارمیں ہے۔
ونُقل فی نور العین عن الفتاوٰی تصحیح الاول  ۔۴؂
نورالعین میں فتاوٰی سے پہلے قول کی تصحیح منقول ہے۔(ت)
( ۴ ؎ ۔ ردالمحتار    کتاب الایمان     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۵۶)
ثانیاً : یہود و نصارٰی سے کامل مشابہت۔
قال تعالٰی :
ویل اللذین یکتبون الکتب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عنداﷲ لیشتروابہ ثمناً قلیلاً فویل لھم مما کتبت ایدیھم و ویل لھم مما یکسبون۱؂۔
سو خرابی ہے ان کے لیے جو اپنے ہاتھوںکتاب لکھے ہیں پھر کہتی ہیں یہ اللہ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے بدلے تھوڑی قیمت لیں۔ سو خرابی ہے انہیں ان کے ہاتھوں کے لکھے سے۔ اور خرابی ہے انہیں اس چیز سے جو کماتے ہیں۔
 ( ۱ ؎۔القرآن الکریم ۲ /۷۹ )
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَمِنْھُم اخرجہ احمد وابوداؤد۔۲؂ ابویعلٰی والطّبرانی فی الکبیر عن ابن عمر باسنادٍ حسنٍ ،  وعلقہ خ واخرجہ الطبرانی فی الاوسط بسندٍ حسنٍ عن حذیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم ۔
جو کسی قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ (احمد ،  ابوداؤد ،  ابویعلٰی اور طبرانی نے معجم کبیر میں اسناد حسن کے ساتھ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے تخریج کی۔ اور خ نے اس کو بطور تعلیق بیان کیا۔ اور طبرانی نے معجم اوسط میں اسناد حسن کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے تخریج کی ہے۔ت)
 ( ۲ ؎۔سنن ابی داؤد    کتاب اللباس    باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۲۰۳)

(المعجم الاوسط    حدیث ۸۳۲۳    مکتبۃ المعارف ریاض    ۹ /۱۵۱ )
ثالثاً :  علماء نفس منطق کے لیے فرماتے ہیں۔ جو اُسے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعلیم بتائے کافر ہے کہ اس نے علم اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تحقیر کی۔ 

حدیقہ ندیہ میں ہے :
  الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم لم یکونوا لیشغلوا انفسھم بھذاالفشار الذی اخترعہ الحکماء الفلاسفۃ ____ بل من اعتقدفی النبی  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  انہ کان یعلم الصحابۃ ھذہ الشقاشق والہذیانات المنطقیبہ فہو کافر لتحقیرہ علم النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  ۔۱؂
صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی یہ شان نہیں تھی کہ وہ خود کو ایسے چھلکوں میں مشغول کرتے جن کو فلاسفہ نے گھڑا ہے۔ بلکہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو یہ جھاگ اور منطق کی نامعقول باتیں سکھاتے تھے وہ کافر ہے کیونکہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علم کی تحقیر کی(ت)
( ۱ ؎ ۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثانی المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۱ /۳۳۸)
سبحٰن اﷲ ! پھر یہ منطق مُزَخْرَف کہ صدہا وساوس ابالِسَہ ودَسَائسِ فلاسفہ پر مشتمل ، اسے اﷲ جل جلالہ کی طرف سے ٹھہرانا کیونکرجناب الہٰی کی تحقیر و اہانت نہ ہوگی۔ !
والعیاذُ باﷲ تعالٰی ۔
Flag Counter