ثالثا : ہم پوچھتی ہیں زید اِن کفریات کو کفر جانتا ہے یا نہیں؟____ اگر کہے نہ ، تو خود اپنے کفر (عہ)کا مقر____ اور کہے ہاں ____ تو اس تالیف و تحریر ، اور اس کی طبع و تشہیر کو بروجہ اشتمال کفریات و اشاعتِ ضلالات ، لا اقل حرامِ قطعی مانتا ہے یا نہیں؟ اور اگر کہے نہ ، تو وہ ایسے اشدالکبائر کا مستحل ہوا____ اور استحلال کبیرہ کفر____ اور کہے ہاں تو اس نے ایسے حرام شدید التحریم کی مدح و تکریم کی۔اب اس پر وہ مسائل فقہ وارد ہوں گے کہ حرام قطعی کی تعریف و تحسین کفر مبین____
والعیاذ باﷲ رب العلمین
(ا ﷲ رب العالمین کی پناہ ت)
عہ: کما امراٰنفا من الشفاء ۱۲ منہ -
جیسا کہ ابھی بحوالہ شفاء گزرا۔۱۲ منہ ت)
امام عبدالرشید بخاری تلمیذ امام علامہ ظہیر ی و امام فقیہ النفس قاضی رحمہم اﷲ تعالٰی خلاصۃ الفتاوٰی میں فرماتے ہیں :
من قال احسنت لما ھو قبیح شرعاً او جَوّدت کفر ، ۔۳
قبیح شرعی پر کہا کہ تُو نے اچھا کیا یا تو نے خوب کیا تو کافر ہوگیا۔(ت)
( ۳ ؎منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ الخلاصۃ فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً مصطفٰی البابی مصرص ۱۸۹)
طریقہ محمدیہ میں ہے :
کل تحسین للقبیح القطعی کفر ۱۔
جو قطعی طور پر قبیح ہو اس کی تحسین کفر ہے۔(ت)
(۱؎ الطریقۃ المحمدیۃ السابع عشر الغناء التغنی حرام فی جمیع الادہان مکتبہ حنیفہ کوئٹہ ۲ /۱۴۰ )
اُسی میں امام ظہیر الدین مرغینانی سے مروی :
من قال لمقرئ زماننا احسنت عند قراء تہ یکفر ۲۔
ہمارے زمانے کے نغمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے والے کو کسی نے کہا تو نے اچھا کیا ہے تو کافر ہوجائے گا۔(ت)
( ۲ ؎۔الطریقۃ المحمدیۃ السابع عشر الغناء التغنی حرام فی جمیع الادہان مکتبہ حنیفہ کوئٹہ ۲ /۱۴۰ )
محیط میں ہے :
اذا شرع فی الفاسد و قال لا صحابہ "بیائید تایکے خوش بزیم" کفر ۳ ۔
فساد شروع کیا اور اپنے ساتھیوں کو کہا کہ آؤ بخوشی جئیں ، تو کافر ہوگیا۔(ت)
( ۱ ؎۔الفتاوٰی الھندیۃ بحوالہ المحیط کتاب اسیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۷۳)
اور اس اصل کی فروع ، کلمات علما میں پیش از بیش ہیں۔
نسأل اﷲ العافیۃ
( ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت مانگتے ہیں۔ ت)
رابعاً : اطرا واغراق کا طوفانِ مُغرق فوران موبق تماشے کے لائق کہ یہ کتاب فرشتہ اثر بلکہ فرشتہ گر ہے۔
سبحان اﷲ ! کفریات و ضلالات و بطالات کا مجموعہ ، اور یہ بڑا دعوی کہ آدمی کو فرشتہ (عہ)بنادیتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں ملائکہ سے تشبیہ دینا نہ چاہیے۔ اور اس پر اصرار ، مورثِ اکفار ، و العیاذ باﷲ تعالٰی ۔
عہ : یارب ! مگر وہ قول مرجوع و مہجور اختیار کیا گیا ہوگا کہ ابلیس بھی ایک صنف ملکی سے تھا اس بنا پر "شیطان گر" کی جگہ "فرشتہ گر" کا اطلاق کیا ، یا منطق جدید تو ہے ہی۔ نئی بولی میں شاید شیطان کو فرشتہ کہتے ہوں گے۔ ۱۲ سلطان احمد عفا عنہ و سلمہ رب ،
شِفا ونسیم میں ہے :
من یمثل بعض الاشیاء ببعض ما عظم اﷲ من ملکوتہ (من الملٰئکۃ والعرش ونحوہ) غیر قاصد الاستخفاف فان تکور ھذا منہ وعرف بہ دل علی تلاعبہ بدینہ ، وھذا کفر لا مرید فیہ اھ ملخصا۱۔
جس نے بعض اشیاء کو ایسی بعض اشیاء کے ساتھ تشبیہہ دی جن کو اللہ تعالٰی نے عظمت بخشی( ملائکہ و عرش وغیرہ) اور انحالیکہ تخفیف و تحقیر کے ارادہ سے نہ ہو۔تو اگر وہ اس کا تکرار کری اور اس کا عادی ہو تو یہ اس کے دین میں لہو و لعب کی دلیل ہے اور یہ کفر ہے، اس میں کوئی شک نہیں ا ھ ملخصاً (ت)
( ۱ ؎ ۔الشفابتعریف حقوق المصطفٰی فصل وامامن تکلم من سقط المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۳۸۳)
(نسیم الریاض فی شرح القاضی عیاض فصل وامامن تکلم من سقط مرکز اہلسنت برکات رضا ۴ /۴۱۔ ۵۴۰)
سبحٰن ا ﷲ ! پھر ایسے مجموعہ چنیں و چنان کو فرشتہ اثر کہنا کس درجہ سخت ہوگا۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
رجل قال لاخر من "فرشتہ توام" فی موضع کذا اعینک علٰی امرک ، فقد قیل انّہ لایکفر وکذا اذا قال مطلقا انا ملک بخلاف ما اذا قال "انانبی" کذا فی التارخانیۃ ۔۲
ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ میں تیرا فرشتہ ہوں ، فلاں جگہ تیرے کام میں تیری مدد کوں گا۔ تو کہا گیا ہے کہ وہ کافر نہیں ہوگا۔ یوں ہی اگر ملطلقاً کہا کہ میں فرشتہ ہوں ، بخلاف اس کے کہ کہے "میں نبی ہوں" یوں ہی تتارخانیہ میں ہے۔(ت)
( ۲ ؎۔ الفتاوٰی الھندیہ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۶۶ )
محل غور ہے کہ فرشتہ بننا ایسی ہی خطرناک بات تھی جب تو بات مکفرات سے اسے مناسبت اور علماء کو اظہار حکم کی حاجت ہو ، وہ بھی ایسے الفاظ سے جو غالباً مشعر ضعف یا اختلاف ___ تو فرشتہ گر بننا کس قدر اشد و اعظم ہوگا!
نسأل اﷲ العافیۃ ÷ وتمام العافیۃ ÷ و دوام العافیۃ ÷ والشکر علی العافیۃ ÷ وحسن العاقبۃ ÷ وکمال الایمان ÷ واﷲ المستعان علیہ التکلان ÷
ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت طلب کرتے ہیں ، عافیت تامہ ، عافیت دائمہ ، عافیت پرشکر ، اچھی عاقبت اور ایمان کامل مانگتے ہیں ، اور ا اللہ تعالٰی ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے ، اور اس پر بھروسہ ہے ۔(ت)