Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
33 - 212
ثالثا : ہم پوچھتی ہیں زید اِن کفریات کو کفر جانتا ہے یا نہیں؟____ اگر کہے نہ ، تو خود اپنے کفر (عہ)کا مقر____ اور کہے ہاں ____ تو اس تالیف و تحریر ،  اور اس کی طبع و تشہیر کو بروجہ اشتمال کفریات و اشاعتِ ضلالات ،  لا اقل حرامِ قطعی مانتا ہے یا نہیں؟ اور اگر کہے نہ ،  تو وہ ایسے اشدالکبائر کا مستحل ہوا____ اور استحلال کبیرہ کفر____ اور کہے ہاں تو اس نے ایسے حرام شدید التحریم کی مدح و تکریم کی۔اب اس پر وہ مسائل فقہ وارد ہوں گے کہ حرام قطعی کی تعریف و تحسین کفر مبین____
والعیاذ باﷲ رب العلمین
(ا ﷲ رب العالمین کی پناہ ت)
عہ: کما امراٰنفا من الشفاء ۱۲ منہ -
جیسا کہ ابھی بحوالہ شفاء گزرا۔۱۲ منہ ت)
امام عبدالرشید بخاری تلمیذ امام علامہ ظہیر ی و امام فقیہ النفس قاضی رحمہم اﷲ تعالٰی خلاصۃ الفتاوٰی میں فرماتے ہیں :
   من قال احسنت لما ھو قبیح شرعاً او جَوّدت کفر ، ۔۳؂
قبیح شرعی پر کہا کہ تُو نے اچھا کیا یا تو نے خوب کیا تو کافر ہوگیا۔(ت)
 ( ۳ ؎منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ الخلاصۃ فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً مصطفٰی البابی مصرص ۱۸۹)
طریقہ محمدیہ میں ہے :
کل تحسین للقبیح القطعی کفر ۱؂۔
جو قطعی طور پر قبیح ہو اس کی تحسین کفر ہے۔(ت)
(۱؎ الطریقۃ المحمدیۃ السابع عشر الغناء  التغنی حرام فی جمیع الادہان مکتبہ حنیفہ کوئٹہ  ۲ /۱۴۰ )
اُسی میں امام ظہیر الدین مرغینانی سے مروی  :
من قال لمقرئ زماننا احسنت عند قراء تہ یکفر  ۲؂۔
ہمارے زمانے کے نغمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے والے کو کسی نے کہا تو نے اچھا کیا ہے تو کافر ہوجائے گا۔(ت)
 ( ۲ ؎۔الطریقۃ المحمدیۃ السابع عشر الغناء  التغنی حرام فی جمیع الادہان مکتبہ حنیفہ کوئٹہ    ۲ /۱۴۰ )
محیط میں ہے :
اذا شرع فی الفاسد و قال لا صحابہ "بیائید تایکے خوش بزیم" کفر ۳ ؂۔
فساد شروع کیا اور اپنے ساتھیوں کو کہا کہ آؤ بخوشی جئیں ،  تو کافر ہوگیا۔(ت)
 ( ۱ ؎۔الفتاوٰی الھندیۃ بحوالہ المحیط     کتاب اسیر    الباب التاسع     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۳۷۳)
اور اس اصل کی فروع ، کلمات علما میں پیش از بیش ہیں۔
نسأل اﷲ العافیۃ
( ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت مانگتے ہیں۔ ت)
رابعاً :  اطرا واغراق کا طوفانِ مُغرق فوران موبق تماشے کے لائق کہ یہ کتاب فرشتہ اثر بلکہ فرشتہ گر ہے۔

سبحان اﷲ ! کفریات و ضلالات و بطالات کا مجموعہ ،  اور یہ بڑا دعوی کہ آدمی کو فرشتہ (عہ)بنادیتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں ملائکہ سے تشبیہ دینا نہ چاہیے۔ اور اس پر اصرار ،  مورثِ اکفار ، و العیاذ باﷲ تعالٰی ۔
عہ : یارب ! مگر وہ قول مرجوع و مہجور اختیار کیا گیا ہوگا کہ ابلیس بھی ایک صنف ملکی سے تھا اس بنا پر "شیطان گر"  کی جگہ  "فرشتہ گر"  کا اطلاق کیا ،  یا منطق جدید تو ہے ہی۔ نئی بولی میں شاید شیطان کو فرشتہ کہتے ہوں گے۔ ۱۲ سلطان احمد عفا عنہ و سلمہ رب ،
شِفا ونسیم میں ہے :
من یمثل بعض الاشیاء ببعض ما عظم اﷲ من ملکوتہ (من الملٰئکۃ والعرش ونحوہ) غیر قاصد الاستخفاف فان تکور ھذا منہ وعرف بہ دل علی تلاعبہ بدینہ ،  وھذا کفر لا مرید فیہ اھ ملخصا۱؂۔
جس نے بعض اشیاء کو ایسی بعض اشیاء کے ساتھ تشبیہہ دی جن کو اللہ تعالٰی نے عظمت بخشی( ملائکہ و عرش وغیرہ) اور انحالیکہ تخفیف و تحقیر کے ارادہ سے نہ ہو۔تو اگر وہ اس کا تکرار کری اور اس کا عادی ہو تو یہ اس کے دین میں لہو و لعب کی دلیل ہے اور یہ کفر ہے، اس میں کوئی شک نہیں ا ھ ملخصاً (ت)
 ( ۱ ؎ ۔الشفابتعریف حقوق المصطفٰی    فصل وامامن تکلم من سقط   المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ   ۲ /۳۸۳)

(نسیم الریاض فی شرح القاضی عیاض     فصل وامامن تکلم من سقط   مرکز اہلسنت برکات رضا    ۴ /۴۱۔ ۵۴۰)
سبحٰن ا ﷲ ! پھر ایسے مجموعہ چنیں و چنان کو  فرشتہ اثر کہنا کس درجہ سخت ہوگا۔ 

فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
رجل قال لاخر من "فرشتہ توام" فی موضع کذا اعینک علٰی امرک ،  فقد قیل انّہ لایکفر وکذا اذا قال مطلقا انا ملک بخلاف ما اذا قال  "انانبی"   کذا فی التارخانیۃ ۔۲؂
ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ میں تیرا فرشتہ ہوں ،  فلاں جگہ تیرے کام میں تیری مدد کوں گا۔ تو کہا گیا ہے کہ وہ کافر نہیں ہوگا۔ یوں ہی اگر ملطلقاً کہا کہ میں فرشتہ ہوں ،  بخلاف اس کے کہ کہے "میں نبی ہوں" یوں ہی تتارخانیہ میں ہے۔(ت)
 ( ۲ ؎۔ الفتاوٰی الھندیہ کتاب السیر    الباب التاسع    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲ /۲۶۶ )
محل غور ہے کہ فرشتہ بننا ایسی ہی خطرناک بات تھی جب تو بات مکفرات سے اسے مناسبت اور علماء کو اظہار حکم کی حاجت ہو ، وہ بھی ایسے الفاظ سے جو غالباً مشعر ضعف یا اختلاف ___ تو فرشتہ گر بننا کس قدر اشد و اعظم ہوگا!
  نسأل اﷲ العافیۃ ÷  وتمام العافیۃ  ÷    و دوام العافیۃ  ÷    والشکر علی العافیۃ  ÷    وحسن العاقبۃ  ÷    وکمال الایمان  ÷    واﷲ المستعان علیہ التکلان  ÷
ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت طلب کرتے ہیں ، عافیت تامہ ،  عافیت دائمہ ،  عافیت پرشکر ،  اچھی عاقبت اور ایمان کامل مانگتے ہیں ،  اور ا اللہ تعالٰی ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے ،  اور اس پر بھروسہ ہے ۔(ت)
Flag Counter