کی شناعت اقوالِ سَبعہ سابقہ کے حکم سے خود ہی روشن ہوگئی۔ع
قیاس کُن زگلستانِ اُوبہارش را
(اس کے گلستان سے اس کی بہار کا اندازہ کرو۔ت)
یہ کفریات تھے جن پر اس قدر ناز ہے ____ یہ گمراہیاں تھیں جن کا اتنا وقار و اِعزاز ہے۔ اور ہر مسلمان پر واضح کہ ایسی چیز کی مدح و ستائش کس اعلٰی درجہ خباثت پر ہوگی۔
واِنْ بَغَیْتَ التفصیل فاقول وعلی اﷲ التعویل
( اگر تو تفصیل چاہتا ہے تو میں کہتا ہوں اور اللہ تعالٰی ہی پر بھروسہ ہے ۔ت)
اولاً : وہ اس کتاب کو تدقیق فصیح و تحقیق صریح و اکتناہ حقائق کہتا ہے۔ اور یہ الفاظ تصحیح مضامین کتاب میں نص صریح ____اور معلوم کہ وہ مذاہب مُکفرہ فلاسفہ سے مشحون____ اور علماء فرماتے ہیں جو مذاہب کفا ر سے کسی مذہب کی تصحیح کرے خود کافر____ اگرچہ مذہب اسلام کا معتقدو مقر ، اور اعلٰی الاعلان اس کا مظہر ہو۔
شفا شریف میں ہے :
تکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل اووقف فیھم اوشک اوصحح مذھبھم وان اظھرمع ذٰلک الاسلام واعتقد بطالِ کل مذہب سواہ فھو کافرباظھارہ ما اظھر من خلاف ذٰلک ۱۔
ہم اُس شخص کی تکفیر کرتے ہیں جس نے ملتِ مسلمین کے علاوہ کوئی دین اختیار کیا یا ان کے بارے میں توقف کرے یا شک کرے یا ان کے مذہب کو صحیح قرار دے اگرچہ وہ اسلام کو ظاہر کرے اور اس کا اعتقاد رکھے اور اس کے سوا ہر مذہب کے باطل ہونے کا معتقد ہو ، تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے ایسی چیز کا اظہار کیا۔جو اسلام کے مخالف ہے۔(ت)
( ۱ ؎۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ماھو من المقالات کفر المکتبۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲/۲۷۱)
اسی طرح امامِ اجل ابوزکریا نووی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے روضہ میں نقل فرمایا اور مقرر رکھا، بلکہ فرماتے ہیں : جو کافروں کے کسی امر کی تحسین کرے بالاتفاق کافر۔
علامہ سید احمد حموی غمزالعیون میں فرماتے ہیں :
اتفق مشایخنان انّ من راٰی امر الکفار حسناً فقد کفر ، حتّٰی قالوا فی رجلٍ قال "ترک الکلام عند اکل الطعام حسن من المبحوس ، اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن" فھو کافر ۱اھ و مثلہ فی البحرالرائق وغیرہ ۔
ہمارے مشائخ کا اس پر اتفاق ہے کہ جو کافروں کے کسی کام کی تحسین کرے وہ کافر ہے ، یہاں تک انہوں نے اس شخص کے بارے میں کہا کہ وہ کافر ہے جس نے یوں کہا کیا مجوسیوں کا کھانے کےوقت کلام کو ترک کرنا حسن ہے یا حالتِ حیض میں ان کا بیوی کے ساتھ ہم بستری کو ترک کرنا حسن ہے اھ بحرالرائق وغیرہ میں اس کی مثل ہے۔(ت)
( ۱ ؎ غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵)
اعلام میں ہمارے علما سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول :
اوصدق کلام اھل الاھواء اوقال عندی کلامھم کلام معنوی او معناہ صحیح او حسن رسوم الکفار اھ ۲؎ ۔
یااُس نے بدمذہبوں کے کلام کی تصدیق کی یا کہا کہ میرے نزدیک ان کا کلام بامعنی ہے یا اس کا معنی صحیح ہے یا کافروں کی رسموں کی تحسین کی اھ ت ۔
(۲؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ الفصل الاول مکتبہ الحقیقۃ دار الشفقۃ اتنبول ترکی ص ۳۷۱)
حمل العلامۃ ابن حجر اھل الاھواء علی الذین نکفرھم فی بدعتھم ، قلت وھو کما افاد ، ولا یستقیم التخریج علی قول من اطلق الکفار بکل بدعۃ ، فان الکلام فی الکفر المتفق علیہ ، فلینبہ ۔
امام ابن حجر نے بدمذہبوں کو ان لوگوں پر محمول کیا ہے جن کو ان کی بدعات کی وجہ سے ہم کافر قرار دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ایسا ہی ہے جیسا امام ابن حجر نے افادہ فرمایا۔ اور اس شخص کے قول پر تخریج درست نہ ہوگی جو ہراہل بدعت کو مطلقاً کافر کہتا ہے کیونکہ کلامِ اُس کفر میں ہے جو متفق علیہ ہے۔خبردار ہونا چاہیے ۔ت)
ثانیاً : ابوبکر بن ابی الدنیا کتاب ذمّ الغیبۃ اور ابویعلی اپنی مسند اور بیھقی شعب الایمان میں سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ، اور ابن عدی کامل میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے رب غضب فرماتا ہے او ر اس کے سبب عرش خدا ہل جاتا ہے۔
( ۱ ؎شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۲۳۰ )
(الکامل لابن عدی ترجمہ سابق بن عبداﷲ الرقی دارالفکر بیروت ۳ /۱۳۰۷)
عُلما فرماتے ہیں ، وجہ اس کی یہ ہے کہ رب تبارک و تعالٰی نے اس سے بچنے اور اسے دور کرنا کا حکم فرمایا۔
افادہ المناوی ۲ ؎
خلاصہ یہ کہ وہ شرعاً مستحقِ اہانت ہے اور مدح میں تعظیم۔
( ۲ ؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث اذا مدح الفاسق مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۱۲۹)
وھنالک فلیتقطع قلوب المتھدرین
اور یہاں سے جسارت کرنے والوں کے دلوں کو دھُل جانا چاہیے۔(ت)
کہ جب فاسق کی مدح بہ وجہِ اشتمالِ معاصی اس درجہ سخت ٹھہری تو وہ کتاب جو صریح کفریات کو متضمن ہو اس کی مدح کس قدر غضب الہی کی سزا وار اور عرش رحمن کو ہلانے والی ہوگی____ اول تو وہاں گناہ ____ یہاں کفر دوسرے وہاں اتصاف ، یہاں تضمن یعنی گناہ فاسقوں کے جزو بدن یا داخل روح نہیں ہوتے ،اور یہ کفریات تو اس کتاب کے اجزا اور اس کے مضمون و مفہوم و قراء ت و کتابت سب میں داخل ہیں____