| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
قدعلمنا انّ الکلام ھٰھنا سینجرُّ الٰی مسئلہ عویصۃٍ فی العلم ___ ولکّھاانما تعتاص علی الذین جعلوا قلوبھم وراء ظنونھم ، اواعتادو الجدال ÷ وقیل وقال ÷ وکثرۃ السؤال ÷ ورکض البغال(عہ۱) ÷ فی مضیق المجال ÷ امَّا اھل السنۃ فھم بحمد اﷲ اٰمنون فرحون ÷ بفضل اﷲ مستبشرون ، لایصعب علیھم شیئ من مسائل الذات ÷ ودقائق الصافات ÷ کیف وانھم اصلوا اصلاً فی اصول الدین ÷ فہووردھم وھو صدر ھم فی کل حین ÷ وذٰلک ان ما اثبتہ الشرع ، فسمعاو طاعۃ ، وماردّہ فالیک عنّا ، ومالم یخبر فعلمہ الی اﷲ _____ وھم لایجزون (عہ۲) التقول علی اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی من دونِ ثبت اواثارۃ من علم ،
سبحٰنک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم ۔۳
تحقیق ہمیں معلوم ہےکہ کلام ایک مشکل علمی مسئلہ کی طرف بڑھے گا۔ لیکن وہ مسئلہ اُن لوگوں پر دشوار اور پیچیدہ ہوگا۔جنہوں نے اپنے دلوں کو گمانوں کے پیچھے کردیا۔ یا وہ جھگڑے ، قیل وقال ، کثرتِ سوال اور تنگ میدان میں خچروں کو ایڑلگانے کے عادی ہیں۔ رہے اہل سنت و جماعت تو وہ بحمداﷲ ایمان لانے والے ، خوش ہونے والے اور اللہ تعالٰی کے فضل پر خوشیاں منانے والے ہیں۔ ان پر مسائل ذات اور وقائق صفات میں سے کچھ بھی دشوار نہیں ، کیسے دشوار ہوسکتا ہے جب کہ خود انہوں نے دین کے اصول بیان کیے ہیں اور دین میں وہی گھاٹ ہے جس پر ہر وقت ان کا آنا جانا ہے۔ او ریہ اس لیے کہ جس کو شرع نے ثابت کیا ہم اسی کو سنتے اور مانتے ہیں۔ اور جس کو شرع نے رد کردیا تو وہ ہماری طرف سے تیری طرف لوٹا اور جس کی خبر شرع نے نہ دی تو اس کا علم اﷲ تعالی کو ہے۔ وہ اﷲ سبحنہ و تعالٰی کے بارے میں دلیل و علم کے بغیرگفتگو کو روا نہیں رکھتے۔ پاکی ہے تجھے ، ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا ، بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔(ت)
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۳۲)
عہ۱ : خصھا بالذکرلاجا تصلح لکرو لافی ۱۲ منہ (قدس سرہ) ۔ بطور خاص اس کا ذکر کیا کیونکہ یہ کروفر کی صلاحیت نہیں رکھتا۔۱۲ منہ (ت) عہ۲ : کذا فی نسختنا المخطوطۃ (لایجزون) یصلح معناہ ایضاً ۔لکن یخالج صدری انہ لایجیزون وسقطت الیاء من قلم الناسخ ، فان الاخطاء وقعت من کثیرا وصوبنا الصعوبات یطولہ بالصورت یطول یطول ذکر ھا ۱۲ محمد احمد المصباحی۔
واخرج الطَّبرانی فی الاوسط و ابنُ عَدیٍّ والبیھقی وغیرھم عن ابنِ عمر عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : تفکروافی الاء اﷲ ، ولا تفکروا فی اﷲ ۱۔
طبرانی نے اوسط میں ، ابن عدی نے اور بہیقی وغیرہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمایا کہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں میں غور کرو اور اﷲ تعالٰی کی ذات میں غور مت کرو۔-(ت)
( ۱ المعجم الاوسط حدیث ۶۳۱۵ مکتبۃ المعارف ریاض ۷ /۱۷۲) (شعب الایمان حدیث ۱۲۰ ۔ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۶) (الکامل لابن عدی ترجمہ وازغ بن نافع العقیلی دارالکفر بیروت ۷ /۲۵۵)
واخرج ابونعیم فی الحلیۃ عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : تفکروافی خلقِ اﷲ ولا تفکروا فی اﷲ ۔۲
ابونعیم نے حلیہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور انہوںنے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اﷲ تعالٰی کی مخلوق میںغور کرو ، اور اﷲ تعالٰی کی ذات میں مت غور کرو۔(ت)
(۲کشف الخفاء حدیث ۱۰۰۳ ۱ /۲۷۸)
واخرج ابوالشیخ فی العظمۃ عن ابن عباس : تفکروا فی کل شیئ ، ولا تفکروا فی ذات اﷲ ، فان بین السماء السابعۃ الٰی کرسیّہ سبعۃ اٰلافِ نورٍ ، وھو فوق ذلک۳۔
ابوالشیخ نے عظمت میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ ہر شے میں غور کرو اور اﷲ تعالٰی کی ذات میں مت غور کرو ، اس لیے کہ ساتویں آسمان اور اس کی کرسی کے درمیان سات ہزار نور ہیں اور وہ اس سے فوق ہے ۔ ت)
(۳کشف الخفاء حدیث ۱۰۰۳ ۱/۲۷۸ وکنزالعمال حدیث ۵۷۰۴ ۳ / ۱۰۸)
واخرج ایضاً عن ابی ذرّعن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کلفظ الحلیۃ وزاد فتہلکوا۴؎ نسأل اﷲ العفو و العافیۃ ۔
نیز اس نے ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے حلیہ کے لفظوں کی مثل روایت کی اور اس میں یہ لفظ بڑھایا "فتہلکوا" یعنی تم ہلاک ہوجاؤ گے ۔ ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت طلب کرتے ہیں۔(ت)
( ۴ ؎ کنزالعمال حدیث ۵۷۰۵ موسستہ الرسالہ بیروت ۳ /۱۰۸)