Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
30 - 212
ثانیاً جب وعائے دہر میں باقی رہنا حقیقۃً وجود ٹھہرا ،  اور اَعدامِ زمانیہ محض حجاب وخفا ،  تو لازم آیا کہ حضرت حق جل وعلا کسی موجود کو معدوم نہ کرسکے۔ اور اس کی مخلوق پر اس کا قابو نہ رہے کہ غایت درجہ انہیں غائب کرسکتا ہے ،  صفحہ دہر سے مٹانا کیونکر ممکن؟ کہ اَن ہوئی کبھی نہ ہوگی۔  _______
وھذا بیّن جِدّاً
 ( اور یہ خوب ظاہر ہے۔ت)
  والحاصل اَنّ العدم الحقیقی علٰی ھذا ،  ھوالارتفاعُ عن صفحۃِ الدھر ،  کما اعترف بہ ،  وکل ماوجد اویوجدفانّہ مرتسم فیہا۔ وانما المرتفع مالم یتناولم اسم الوجود من ازل الازال الٰی ابدالاُبود۔ فما دخل فی الکونِ ولواٰناً قدتناولہُ اسم الوجود _____ لایمکن ولواٰناً قدتنا ولہ اسم الوجود۔ لایمکن ان یصیر التناولُ لاتناولاً فاستحال العدمُ الحقیقی والعیاذ باﷲ تعالٰی ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس نظریے کی بنیاد پر عدم حقیقی صفحہ دہر سے مرتفع ہونے کا نام ہے ،  جیسا کہ زید نے اس کا اعتراف کیا ہے ، جو شے بھی پائی گئی پائی جائے گی کہ وہ اس میں مرتسم ہے۔ مرتفع تو فقط وہ ہے جو ازل سے ابد تک اسم وجود سے موسوم نہ ہو۔ لہذا جوشیئ کون میں ایک آن کےلیے بھی داخل ہوئی اسم وجود اس کو متناول ہوگیا اور تناول کا لاتناول ہونا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ عدم حقیقی محال ہوا۔ اور اﷲ تعالٰی کی پناہ (ت)
ثالثاً جو مسلمان بہ شفاعتِ سیدالشافعین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا بہ محض رحمت ارحمُ الراحمین جلّت عظمتہ ،  جہنم سے نکل کر جنت میں جائیں ، اس مذہب پر لازم کہ وہ واقع ونفس الامر میں جہنم میں ہوں اور اس نکلنے کا صرف یہ حاصل کہ اُن کا دوزخ میں ہونا مخفی ہے۔

یوں ہی ابلیس قبل انکار سجود جنت میں تھا،
قال تعالٰی :
فاھبط منہا فمایکون لک ان تتکبّر فیھا ،  ۔۱؂
اُتر جنت سے کہ تیرے لیے یہ نہ ہوگا کہ تو اس میں غرور کرے۔
 ( ۱ ؎۔القرآن الکریم  ۷ /۱۳ )
تو لازم کہ واقع و نفس الامر میں وہ جنت میں ہے اور یہ نکالنا فقط اُس امر کا چھپا ڈالنا۔

اگر کہیے اُن مسلمانوں کو عذاب و عِقاب کی تکلیف نہ رہے گی _______ ہم کہیں گے تمہارے طور پر بے شک رہے گی _______ نہایت یہ کہ چھپے چوری  _______
واستغفراﷲ العظیم
( میں عظمت والے اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں ت)۔

اس طرح شیطان کا التذاذ۔

غرض یہ کہ کسی قدر کوشش کیجئے خفاء وظہور سے بڑھ کر کوئی بات نہ نکلے گی۔ اور کام واقع و نفس الامر  سےہے۔
رابعاً :  لازم کہ کافر ( عہ) بحالت کفر داخل جنت ہو _______مثلاً زید کا فر تھا اب اسلام لایا تو اس کے کفر پر صرف عدم زمانی طاری ہوا جس کا محصَّل اِختفاسے زیادہ نہیں _______ وجود حقیقی کی نفی نہیں کرسکتا _______ اور کفر طبیعت ناعتیہ ہے کہ اپنے قیام کو طالبِ موضوع اور تبدل موضوع بہ اجماعِ عُقلا ممنوع  :
  فان القائم  بھذا غیرُ القائم بذاک  ۔
اس لیے کہ جو اس کے ساتھ قائم ہے وہ اور ہے ،  اور جو اُس کے ساتھ قائم ہے وہ اور ہے۔(ت)
عہ:  یوں ہی لازم کہ مسلمان باوصفِ اسلام مخلد فی النار ہو کما فی الارتداد ،  والعیاذ باﷲ والبیان البیان (جیسا کہ ارتعداد میں ہوتا ہے۔اور اللہ کی پناہ۔ جو بیان تمہارا وہی بیان ہمارا۔ت۱۲ منہ۔
تو بالضرور وہ کفر کہ واقع و نفس الامر میں موجود ہے۔ زید ہی کی ذات سی قائم۔ اور قیام مبدء صدق مشتق کو مستلزم تو حقیقتہ وہ کافر بھی ہے۔

اور ہر کافر کہ مسلمان ہوجائے بہ حکم شرع داخل جنگ ہوگا۔ تو بالضرورۃ لازم کہ یہ کافر باوصفِ کفر داخل جنت ہو _______ نہایت کارد یہ کہ وہ کفر اس کا ،  بہ وجہ عدم زمانی پوشیدہ ہے اور اسلام آشکار۔
خامساً : جب سابق ولا حق اعدامِ زمانیہ سب احتجاب و خفا تو لازم کہ عالم ایجاد کا ذرہ ذرہ ازلی ابدی ہو۔ زید کل تک نہ تھا ، یعنی پوشیدہ تھا_______ پرسوں نہ رہے گا یعنی چھپ جائے گا_______ وجود حقیقی ،  دائم و سرمدی _______  اس سے بڑھ کر کون سا کفر ہوگا !
  تقریرہ ان القدم الذی نخصّہ بالملک ،  العزیز جل جلالہ وصفاتہ العلیٰی لیس بمعنی ان لایمرّز مان الا وھو فیہ ،  اولا یخلوعنہ جزء من اجزاء الزمان ،  فانہ سبٰحنہ وتعالٰی متعالٍ عن الزمان ،  لایمرّ علیہ زمان کمالایحیط بہ مکان ،  فہو مع کُلّ زمان لکن لیس فی الزمان ،  وکذلک صفاتہ جلّت اسماء ہ ،  الا تری انّ الفلاسفۃ قالوابقدم العقول

فاکفرنا ھم ،  مع انھم لایعتقدون قدمھا بالمعنی المذکور لانھا ایضاً لیست عندھم من الزمانیات ،  فاذن لانعنی بہ الا انّ الشیئ لابدایۃ لوجودہ کما نقصد بالابدیۃ ان لانھایۃ لخلودہ ،  وھذا ظاھر جلی وقد صرّح بہ آئمۃ الکلام کالامامِ الرّازی وغیرہ۔
اس کی تقریر یہ ہےکہ جو قدم ہم اللہ تعالٰی کی ذات اور اُس کی صفاتِ عالیہ کے ساتھ مختص کرتے ہیں اُس کا یہ معنی نہیں کہ کوئی زمانہ نہیں گزرتا مگر وہ اس میں ہوتا ہے یا یہ کہ اجزاء زمانہ میں سی کوئی جز اس سے خالی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ اللہ سبحنہ و تعالٰی زمان سے برتر ہے۔ اس پر زمان کا مرور نہیں ہوسکتا جیسا کہ مکان اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ چنانچہ وہ ہر زبان کے ساتھ ہے لیکن ہر زمان میں نہیں ہے۔ یونہی اس کی صفاتِ جلیلہ ہیں۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ فلاسفہ نے عقول کو قدیم کہا تو ہم نے انہیں کافر قرار دیا باوجود یہ کہ وہ معنی مذکور کے ساتھ عقول کے قدیم ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتے ،  کیونکہ ان کے نزدیک عقول بھی زمانیات میں سے نہیں ہیں۔ تو اب قدیم ہونے سے ہماری مراد فقط یہ ہے کہ شیئ کے وجود کی ابتداء نہ ہو جیسا کہ ہم ابدیت سے اس معنی کا قصد کرتے ہیں کہ اس کی خلود کی انتہا نہ ہو۔ اور یہ خوب ظاہر ہے۔تحقیق اس کی تصریح فرمائی ہے آئمہ کلام نے جیسے امام رازی وغیرہ ۔
وآذاکان الامر کما وصفنالک ،  والاعدام الزماتیّۃ لاتزید عندک علٰی غیبۃٍ وخفاءٍ فاذن ما نظنہ اٰن الحدوث  واٰن الفَناء لیسا بھما ،  ولا بھما بدایۃ الوجود ونھایتہ وانما ھما اٰنابدایۃ الظھور وانتھاءہ ،  امّا الوجود الواقعی فلا اول لہ ولا اٰخر ،  اذلیس فی الدھر علی القول بہ امکان یسع "یکون وقد کان" فماخلت عنہ الصفحۃ لایرتسم فیھا ابدا ، وما ارتسم فیھا مرّۃً لاینمحقُ عنھا اصلا ،  فلابد انّ کل موجودٍ کان مستقرًا فیھا من الازل ، ویبقٰی مستمرًّا الی الابد ،  فثبت ان لابدایۃ لوجودالعالم ولانھایۃ ،  وھذا ما اردنا الالزام بہ ،  یقول العبدالضعیف لطف بہ المولٰی اللطیف  : انا لو اوسعنا المقال، فی ابطال ھذاالمحال فعندنا بحمداﷲ تعالٰی شوارق بوارق تبھر العماء (عہ) ÷  وسحائب قواضب تمطر الدّماء ، ولئن تضرعنا الی القریب المجید ÷  لرجونا المزید÷ ونلنا البعید ÷  ولکن فیما ذکرنا کفایۃ ÷  لاھلِ الدّرایۃ ÷  والحمداﷲ علٰی حُسن الہدایۃ ÷
اور جب معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ہم نے تیرے لیے بیان کیا اور اعدام زمانیہ تیرے نزدیک حجاب و خفاء سے بڑھ کر نہیں ہیں تو اس صورت میں لازم آئے ا کہ جس کو ہم آنِ حدوث اور آنِ فناء گمان کرتے ہیں وہ آن حدوث و آنِ فناء نہ ہوں اور نہ ہی اُن سے وجود کی ابتداء وانتہاء ہو بلکہ وہ تو ظہور کی آن ہدایت و آن نہایت ہوں گی۔ رہا وجودِ واقعی تو اس کا نہ اول ہے نہ آخر ،  کیونکہ اس قول کی بنیاد پر دہر میں کوئی امکان نہیں جو ہوسکتا ہو اور ہوچکا ہو۔ چنانچہ جس شے سے صفحہ دہر خالی ہے وہ کبھی بھی صفحہ دہر میں مرتسم نہیں ہوگا اور جو اس میں ایک مرتبہ مرتسم ہوگیا ہے وہ کبھی بھی اس سے نہیں مٹے گا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہر موجود اس میں ازل سے مستقر ہواور ابد تک مسلسل باقی رہے۔ تو ثابت ہوگیا کہ وجود عالم کی نہ ابتداء ہے نہ انتہاء۔اور یہ ہی وہ الزام ہے جس کا ہم نے ارادہ کیا تھا۔ عبدضعیف کہتا ہے۔ اللہ مہربان اس پر مہربانی فرمائے کہ اگر ہم اس محال کو باطل کرنے میں کلام کو وسعت دیں تو اللہ تعالٰی کی مہربانی سے ہمارے پاس ایسی چمکدار بجلیاں ہیں جو بلند بادل پر غالب آجائیں اور ایسی تیز برسنے والی بدلیاں ہیں جو خون برسادیں۔ اور اگر ہم اپنی قریب بزرگی والے رب کی بارگاہ میں فریاد کریں تو مزید کی امید ہے اور ہم بعید کو بھی پالیں۔ لیکن جس قدر ہم نے ذکر کیا ہی اس میں سمجھدارون کے لیے کفایت ہے اور اچھی ہدایت پر اﷲ تعالٰی کے لیے تمام حمدیں ہیں۔(ت)
عہ : ھو اللجاج لانھم قلیلا ما یبتھون  ۱۲ منہ
اے مسکین ! البتہ یہ شان ہمارے نزدیک علمِ باری عزمجدہ کی ہے کہ ازلاً وابداً تمام کو ائن ماضیہ و آتیہ کو محیط ،  اور زمانہ سے منزہ ______
لایعزب عنہ مثقال ذرّۃٍ فی السموات و لا فی الارض   ۔۱؂
اس سے غائب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔(ت)
عالم جب تک نہ بنا تھا ذرہ ذرہ اس کے علم میں تھا ۔ اب کہ بنا ،  اب بھی بدستور ہے۔ جب فانیات پر وعدہ الہیہ آئے گا اس وقت بھی ہر چیز اسی کے علم میں ہوگی۔ عالم بدلتا ہے اور اس عالم کا علم نہیں بدلتا۔شے پر تین حال گزرے ۔ عدم ،  حدوث ،  فنا ۔  وہ اسے ان تینوں حالوں پر تفصیلاً ازل سے جانتا ہے۔ اور ابد تک جانے گا۔ معلوم میں تغیر آیا اور علم میں اصلاً تغیر نہ ہوا ۔ البتہ صرف ہماری زبان میں کہ دائرۃ زمان سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی۔ اس علم سے تعبیریں متعدد ہوگئیں۔ یعنی
یُوجدُ ،موجود ،کان وُجِدَ۔
غرض یہی ہےوہ نحو وجود جس میں تبدُّ ل کو راہ نہیں۔ اب چاہے اسے تم اپنی اصلاح میں  "وعائے" دہر کہو ،  یا "حاقِ واقع" یا کچھ اور______   مگر حاشا کہ یہ اشیاءکا وجود حقیقی ذاتی نہیں ،  نہ اس میں حصول سے شے کو فی نفسہ موجودکہیں ،  ورنہ وہی استحالے لازم آئیں۔

زمانیات کا وجود وعدم حقیقۃً یہی ہے جسے زید ظہور و خفا کہتا ہے _____ کافر مسلمان ہوا ،  قطعاً اسکا کفر نفس الامر میں منعدم ہوگیا کہ وہ زنہار اب اس کی ذات سے قائم نہیں ،  اور اس کا کون فی نفسیہ نہیں مگر کون فی الموضوع ،  مسلمان دوزخ سے نکلا ،  یقیناً وہ حالت معدوم ہوگئی۔ کہ یہ بھی عرض ہے اور بعد زوال باطلِ ومرفوع _____   وعلٰی ہذا القیاس۔
یاھٰذا اگر صرف وجود علمی ،  وجودِ واقعی ہو تو ممنعات کے سوا کوئی معدوم نہ رہے کہ علم میں حجر نہیں۔ موجود ومعدوم سب سے متعلق ہوتا ہے۔ مع ھٰذا ہر عاقل جانتا ہے کہ علم عالم میں وجود شے سے شے کو موجود نہیں کہہ سکتے_____ طوفان نوح مفقود ہے اور ہمارے علم میں موجود۔ قیامت ہنوز معدوم ہے اور ہمارے ذہن کو معلوم
ولن یقاس العلم بالواقع ،  فاین الحکایۃ من المحکی عنہ
(علم کا اندازہ واقع سے نہیں لگایا جاتا تو کہاں حکایت اور کہاں محکی عنہ ت)۔
اے نادان! یہ دقتیں جو تجھے پیش آئیں اس سفاہت کا ثمرہ تھیں کہ اس وعائے مخترع کا نفس الامر نام رکھ کر اس میں بقا واستمرار کو حقیقتہٍ وجود اشیاء مانا اور اعدام سابقہ ولا حقہ زمانیہ کو محض احتجاب وخفاجانا ۔ع
ع۔  فَلَیْتَ النَّمْلَ لَمْ تَطر
 (کاش ! چیونٹی نہ اڑتی ت)

اوراُس پر طُرہ یہ ہے کہ وعائے دہر کو ظرف ِ حقیقی جُداگانہ ٹھہرایا۔ اور زمانیات کا وجود دہری وجود زمانی سے علیحدہ بتایا ،  یہاں تک کہ تمام اجزائے زمان سے انعدام پر بھی بقا باقی رکھی۔ اور اس تقریر پر منہج عقل سے بھی جو استحالات قائم ،  مشتعلان فلسفہ وکلام ومعتادان جدال و خصام پر مختفی نہیں۔ مگر ہم ان میں سے اِضاعتِ اوقات نہ کریں گے کہ شان فتوٰی واجب الاعظام نہ یہ چپقلش ہمارا کام۔
ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ  ۔۱؂
 (آدمی کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی باتوں کو چھوڑ دے۔(ت)
 (۱؂جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ یضحک الناس امین کمپنی دہلی  ۲ /۵۵)

(سنن ابن ماجہ ابواب الفتن باب کف اللسان فی الفتنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۔ص ۲۹۵)

(مسند احمد بن حنبل عن حسین رضی اللہ عنہ    المکتب الاسلامی بیروت   ۱ /۲۰۱)
Flag Counter