Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
29 - 212
قولِ ہفتم
میں اس کفرِ  بواح کو خوب چمکایا اور روئے ریا سے پردہ حیات اٹھا کر حق مبین و قول محققین ٹھہرایا صاف لکھا کہ۔ عدمِ زمانی حقیققہً عدم نہیں جس نے کسی وقت میں خلعتِ وجود پایا یا پائے گا۔ وہ نہ معدوم تھا ، نہ معدوم ہو ،  بلکہ یہ فقط پر دہ وحجاب ہیں۔ پہلے نہ تھا ،  یعنی پوشیدہ تھا۔ اور اب نہ رہا۔ یعنی چھپ گیا ۔ ورنہ حقیقتہً وہ واقع و نفس الامر میں وجود سے مُنفک نہیں۔
  اِنّا اﷲِ وانّآ الیہ راجعون
( بے شک ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی طرف پھرنا ہے۔ت)

اس قولِ شنیع پر جو شناعاتِ شدیدہ لازم ،  حَدِّعدّ سے خارج۔

وٰلکن مالایُدرکُ کُلُّہ لایترک کلہ
( لیکن جو چیز مکمل طور پر پائی نہ جاسکتی ہو وہ مکمل طور پر چھوڑ ی نہ جائے گی۔ت)
فاقول :  وباﷲ التوفیق :
( تو میں کہتا ہوں ،  اور اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ ت) : اوّلاً نصوص صریحہ قرآنیہ کا خلاف ، 

 اﷲ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے۔
اَوَلا یذکر الانسان انّا خَلقنٰہ من قبل ولم یک شیئا۱؂۔
کیا آدمی یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اُسے بنایا اس سے پہلے ،  اور وہ کچھ نہ تھا۔
 ( ۱؎ القران الکریم    ۱۹ / ۶۷ )
زید مُتفلسف کہتا ہے ۔ تھا کیوں نہیں؟ البتہ پوشیدہ تھا۔
حق جل و علا فرماتا ہے :
وانہ اھلک عادا ن الاولیo وثمودَ فما ابقی۔۲؂۔
اللہ نے ہلاک کردیا اگلی قومِ عاد کو اور ثمود کو ، سو ان میں کوئی باقی نہ رکھا۔
( ۲ ؎ القران الکریم    ۵۳/ ۵۰  و  ۵۱ )
زید متفلسف کہتا ہے ، باقی کیسے نہیں؟ واقع و نفسُ  الامر میں رُوحیں بدن سے متعلق ہیں۔ ہاں نگاہوں سے چھپ گئے۔

رب تعالٰی وتقدس فرماتا ہے :
کل من علیھا فان oویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام   ۔۱؂
جتنے زمین پر ہیں سب فنا ہونے والے ہیں اور باقی رہے گا تیرے رب کا وجہ کریم عظمت و تکریم والا۔
( ۱ ؎ ۔القران الکریم ۵۵/ ۲۶   ۲۷)
زید متفلسف کہتا ہے ،  باقی تو سبھی رہیں گے مگر _______ اور پردہ میں ، اور توظاہر۔

اسی طرح صدہا آیات و احادیث ہیں جن سے زنہار زید کو جواب ممکن نہیں۔ مگر یہ کہ جہاں جہاں قرآن و حدیث میں خکلق و ایجاد و ابداع و تکوین واقع ہوئے ہیں ، انہیں بمعنی ظہور ،  اور اماتت و اہلاک و افنا واعدام کو بمنی تغییب اور عدم وفنا و موت و ہلاک کو بمعنی غیبوبت (کہے عہ)
عہ : سقط من نسختنا المخطوطۃ ولابد منہ اومن نحوہ ۱۲ محمد احمد۔
اور پُر ظاہر کہ یہ تاویل نہیں ، تبدیل ہے ، کہ ہر گز لغت و عرف کچھ اس کے مساعد نہیں _______ اشقیائے فلاسفہ قرآن عظیم میں یوں ہی تحریف معنوی کرتے ہیں _______ جنت کیا ہے؟ لذت ِ نفسانی _______ نار کیا ہے؟ اَلَمِ روحانی _____
تطلع علی الافئدۃ ۲؎
 (وہ آگ جو دلوں پر چڑھ جائے گی۔ ت) دیکھا
فی عمد ممدۃ ۳؂۔
 (لمبے لمبے ستونوں مین ان پر بند کردی جائے گی۔(ت) سے کام نہیں ۔ عِیاذًا باﷲ ( اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ ت)

وہ دن قریب آتا ہے کہ
یُدَعُّونَ الٰی نارجہنم دعا۔۴؂
 ( جس دن جہنم کی طرف دھکادے کر دھکیلے جائیں گے۔(ت) جہنم میں دھکادے کر پوچھا جائے گا۔
افسحر ھذا ام انتم لاتبصرون ۵ ؎ ۔
کیوں بھلا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں؟ _______ اُس وقت اِن تاویلوں کا مزہ آئے گا۔
فانتظروا انّی معکم من المنتظرین ۶ ؎
(تو راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں۔ت)
اور ایک انہیں پر کیا ہے ،  دنیا بھر کے بدعتی نصوص شرع کے ساتھ یوں ہی کھیلتے ہیں۔ خود اصل بدعتِ و منشاء ضلالت اسی قسم کی تاویلیں ہیں۔ معتزلہ کہتے ہیں :
والوزن یومئذن الحق ۔ ۷ ؎
تول اُس دن حق ہے _______ یعنی جانچ ہوگی ،  میزان کچھ نہیں۔
وجوہ یومئذنا ضرۃ o الٰی ربھانا ظرۃ  ۱؂
کچھ منہ اُس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے۔
( ۲ ؎ ۔القران الکریم ۱۰۴ /۷)     ( ۳ ؎ ۔القران الکریم ۱۰۴/ ۹)

( ۴؎ ۔القران الکریم ۵۲/ ۱۳)   ( ۵ ؎ ۔القران الکریم ۵۲ /۱۵)

( ۶ ؎ ۔القران الکریم ۷ /۷۱۔۱۰ /۲۰۔۱۰ /۱۰۲)

( ۷ ؎۔القرآن الکریم    ۷ /۸ )

 ( ۱ ؎ ۔القرآن الکریم ۷۵ /۲۲۔۲۳)
یعنی اُس کی رحمت کی اُمید رکھتے رُویت الہی نہ ہوئے ،
  الٰی غیر ذٰلک من الجھالات الکثیفۃ والضلالات الخسیفۃ
  (اس کے علاوہ بھاری جہالتوں اورذلیل گمراہیوں سے۔ت)۔
پھر کیا یہ تاویلیں اُن کے کام آئیں اور انہیں بدعتی ہونے سے بچالیا؟ _______ تاہم وزن سے جانچ اور منہ دیکھنے سے امید واری مراد ہونا اتنا بعید نہیں جس قدر بے لگاؤ تحریفیں اس مُتفلسف کو کرنی پڑیں گی۔
کما لایخفٰی _______ واﷲ الھادی
 (جیسا کہ پوشیدہ نہیں ،  اور اﷲ ہی ہادی ہے۔ت)
شِفا شریف میں باطنیہ وغیرہم غُلَاۃ کو ذکر کرکے فرماتے ہیں :
  زعموا انّ ظواھر الشرع لیس منھا شیئ علٰی مقتضٰی ومفھوم خطابھا وانما خاطبوابھا الخلق علٰی جہۃ المصلحۃ لھم اذلم یمکنھم التصریح لقصور افھامھم فمضمن مقالاتھم ابطال الشرائع وتکذیب الرسل والارتیابُ فیما اتوابہ اھ ملخصاً ۲؂۔
انہیں (باطنیہ) نے گمان کیا کہ نصوصِ شرع اپنے ظاہر ی الفاظ و خطاب کے مقتضٰی پر نہیں ، ر سولوں نے تو مخلوق کو محض ان کی مصلحت کے اعتبار سے خطاب کیا کیونکہ مخلوق کی کم فہمی کی و جہ سے رسولوں کے لیے تصریح کرناممکن نہ تھا۔ ان لوگوں کو( باطنیہ) کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ احکامِ شرع باطل ہوجائیں ،  رسولوں کی تکذیب ہوجائے اور رسولوں کے لائے ہوئے احکام میں شک و شبہ پیدا ہوجائے اھ تلخصیص (ت)
( ۱ ؎۔ الشفا بتعریف حقوق المصطفٰے فصل فی بیان ماھومن المقالات کفر المکتبۃ الشرکۃ الصحافیہ   ۲ /۲۶۹ )
اہل سنت کا اجماع ہے کہ نصوص اپنے ظاہر پر حمل کیے جائیں اور ان میں پھر پھار حرام و نابہ کار
کماصُرِّحَ بِہ فی کتب العقائد متناً وشرحاً
( جیسا کہ کتب عقائد چاہے متن ہوں یا شرح میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت)
Flag Counter