میں اس کفرِ بواح کو خوب چمکایا اور روئے ریا سے پردہ حیات اٹھا کر حق مبین و قول محققین ٹھہرایا صاف لکھا کہ۔ عدمِ زمانی حقیققہً عدم نہیں جس نے کسی وقت میں خلعتِ وجود پایا یا پائے گا۔ وہ نہ معدوم تھا ، نہ معدوم ہو ، بلکہ یہ فقط پر دہ وحجاب ہیں۔ پہلے نہ تھا ، یعنی پوشیدہ تھا۔ اور اب نہ رہا۔ یعنی چھپ گیا ۔ ورنہ حقیقتہً وہ واقع و نفس الامر میں وجود سے مُنفک نہیں۔
اِنّا اﷲِ وانّآ الیہ راجعون
( بے شک ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی طرف پھرنا ہے۔ت)
اس قولِ شنیع پر جو شناعاتِ شدیدہ لازم ، حَدِّعدّ سے خارج۔
وٰلکن مالایُدرکُ کُلُّہ لایترک کلہ
( لیکن جو چیز مکمل طور پر پائی نہ جاسکتی ہو وہ مکمل طور پر چھوڑ ی نہ جائے گی۔ت)
فاقول : وباﷲ التوفیق :
( تو میں کہتا ہوں ، اور اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ ت) : اوّلاً نصوص صریحہ قرآنیہ کا خلاف ،
اﷲ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے۔
اَوَلا یذکر الانسان انّا خَلقنٰہ من قبل ولم یک شیئا۱۔
کیا آدمی یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اُسے بنایا اس سے پہلے ، اور وہ کچھ نہ تھا۔
( ۱؎ القران الکریم ۱۹ / ۶۷ )
زید مُتفلسف کہتا ہے ۔ تھا کیوں نہیں؟ البتہ پوشیدہ تھا۔
حق جل و علا فرماتا ہے :
وانہ اھلک عادا ن الاولیo وثمودَ فما ابقی۔۲۔
اللہ نے ہلاک کردیا اگلی قومِ عاد کو اور ثمود کو ، سو ان میں کوئی باقی نہ رکھا۔
( ۲ ؎ القران الکریم ۵۳/ ۵۰ و ۵۱ )
زید متفلسف کہتا ہے ، باقی کیسے نہیں؟ واقع و نفسُ الامر میں رُوحیں بدن سے متعلق ہیں۔ ہاں نگاہوں سے چھپ گئے۔
رب تعالٰی وتقدس فرماتا ہے :
کل من علیھا فان oویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ۔۱
جتنے زمین پر ہیں سب فنا ہونے والے ہیں اور باقی رہے گا تیرے رب کا وجہ کریم عظمت و تکریم والا۔
( ۱ ؎ ۔القران الکریم ۵۵/ ۲۶ ۲۷)
زید متفلسف کہتا ہے ، باقی تو سبھی رہیں گے مگر _______ اور پردہ میں ، اور توظاہر۔
اسی طرح صدہا آیات و احادیث ہیں جن سے زنہار زید کو جواب ممکن نہیں۔ مگر یہ کہ جہاں جہاں قرآن و حدیث میں خکلق و ایجاد و ابداع و تکوین واقع ہوئے ہیں ، انہیں بمعنی ظہور ، اور اماتت و اہلاک و افنا واعدام کو بمنی تغییب اور عدم وفنا و موت و ہلاک کو بمعنی غیبوبت (کہے عہ)
عہ : سقط من نسختنا المخطوطۃ ولابد منہ اومن نحوہ ۱۲ محمد احمد۔
اور پُر ظاہر کہ یہ تاویل نہیں ، تبدیل ہے ، کہ ہر گز لغت و عرف کچھ اس کے مساعد نہیں _______ اشقیائے فلاسفہ قرآن عظیم میں یوں ہی تحریف معنوی کرتے ہیں _______ جنت کیا ہے؟ لذت ِ نفسانی _______ نار کیا ہے؟ اَلَمِ روحانی _____
تطلع علی الافئدۃ ۲؎
(وہ آگ جو دلوں پر چڑھ جائے گی۔ ت) دیکھا
فی عمد ممدۃ ۳۔
(لمبے لمبے ستونوں مین ان پر بند کردی جائے گی۔(ت) سے کام نہیں ۔ عِیاذًا باﷲ ( اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ ت)
وہ دن قریب آتا ہے کہ
یُدَعُّونَ الٰی نارجہنم دعا۔۴
( جس دن جہنم کی طرف دھکادے کر دھکیلے جائیں گے۔(ت) جہنم میں دھکادے کر پوچھا جائے گا۔
افسحر ھذا ام انتم لاتبصرون ۵ ؎ ۔
کیوں بھلا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں؟ _______ اُس وقت اِن تاویلوں کا مزہ آئے گا۔
فانتظروا انّی معکم من المنتظرین ۶ ؎
(تو راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں۔ت)
اور ایک انہیں پر کیا ہے ، دنیا بھر کے بدعتی نصوص شرع کے ساتھ یوں ہی کھیلتے ہیں۔ خود اصل بدعتِ و منشاء ضلالت اسی قسم کی تاویلیں ہیں۔ معتزلہ کہتے ہیں :
والوزن یومئذن الحق ۔ ۷ ؎
تول اُس دن حق ہے _______ یعنی جانچ ہوگی ، میزان کچھ نہیں۔
وجوہ یومئذنا ضرۃ o الٰی ربھانا ظرۃ ۱
کچھ منہ اُس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے۔
یعنی اُس کی رحمت کی اُمید رکھتے رُویت الہی نہ ہوئے ،
الٰی غیر ذٰلک من الجھالات الکثیفۃ والضلالات الخسیفۃ
(اس کے علاوہ بھاری جہالتوں اورذلیل گمراہیوں سے۔ت)۔
پھر کیا یہ تاویلیں اُن کے کام آئیں اور انہیں بدعتی ہونے سے بچالیا؟ _______ تاہم وزن سے جانچ اور منہ دیکھنے سے امید واری مراد ہونا اتنا بعید نہیں جس قدر بے لگاؤ تحریفیں اس مُتفلسف کو کرنی پڑیں گی۔
کما لایخفٰی _______ واﷲ الھادی
(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ، اور اﷲ ہی ہادی ہے۔ت)
شِفا شریف میں باطنیہ وغیرہم غُلَاۃ کو ذکر کرکے فرماتے ہیں :
انہیں (باطنیہ) نے گمان کیا کہ نصوصِ شرع اپنے ظاہر ی الفاظ و خطاب کے مقتضٰی پر نہیں ، ر سولوں نے تو مخلوق کو محض ان کی مصلحت کے اعتبار سے خطاب کیا کیونکہ مخلوق کی کم فہمی کی و جہ سے رسولوں کے لیے تصریح کرناممکن نہ تھا۔ ان لوگوں کو( باطنیہ) کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ احکامِ شرع باطل ہوجائیں ، رسولوں کی تکذیب ہوجائے اور رسولوں کے لائے ہوئے احکام میں شک و شبہ پیدا ہوجائے اھ تلخصیص (ت)
( ۱ ؎۔ الشفا بتعریف حقوق المصطفٰے فصل فی بیان ماھومن المقالات کفر المکتبۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ /۲۶۹ )
اہل سنت کا اجماع ہے کہ نصوص اپنے ظاہر پر حمل کیے جائیں اور ان میں پھر پھار حرام و نابہ کار
کماصُرِّحَ بِہ فی کتب العقائد متناً وشرحاً
( جیسا کہ کتب عقائد چاہے متن ہوں یا شرح میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت)