میں کہ "عقولِ عشرہ کا تمام نقائص و قبائح سے مقدس و منزہ ،اور ان کے علم کا تام و محیط باحاطہ تامہ ہونا نقل کیا۔ یہاں تک کہ کوئی ذرہ ذرات عالم سے ان پر مخفی رہنا ممکن نہیں"_____ یہ خاص صفت حضرت عالم الغیب و الشہادہ کی ہے جل و علا۔
قال تعالٰی :
وما یَعْزُب عن ربّک من مثقال ذرۃٍ فی الارض ولا فی السماء ۔۱
نہیں چھپتی تیرے رب سے ذرہ برابر چیز زمین میں اور نہ آسمان میں ۔
( ۱ ؎۔القرآن الکریم ۱۰ /۶۱ )
اور اس کا غیر خدا کے لیے ثابت کرنا قطعاً کفر
العزّۃُ ﷲ
(عزت اﷲ کے لیے ہے۔ ت) اس عَدَمِ امکان کو مسلمان غور کرے کہ کیسا کفر و اشگاف اور کتنے صریح نصوص قرآنیہ کا خلاف ہے۔
قال تعالٰی:
وما یعلم جنود ربک الاھو ۔۲
کوئی نہیں جانتا تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا۔
( ۲ ؎ ۔القرآن الکریم۷۴/۳۱)
وقال تعالٰی :
الیہ یردّ علم الساعۃ ۔۱
اسی کی طرف پھیرا جاتا ہی علم قیامت کا
( ۱؎ القرآن الکریم ۴۱ /۴۷ )
وقال تعالٰی :
ویقولون متٰی ھٰذاالوعد ان کنتم صٰدقین oقل انما العلم عنداﷲ وانما انا نذیر مبین ۔۲
کافر کہتے ہیں یہ قیامت کا وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔ تو فرما اس کا علم تو خدا ہی کو ہے ، اور میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں صاف صاف ۔
( ۲ ؎ ۔القرآن الکریم ۶۷ /۲۵۔۲۶)
وقال تعالٰی :
لایحیطون بشیئ من علمہ الا بما شاء ۔۳
نہیں گھیرتے اُس کے علم سے کچھ ، مگر جتنا وہ چاہے۔
(۳؎۔القرآن الکریم ۲ /۲۵۵ )
وقال تعالٰی حکایۃً عن ملئکتہ :
سُبحٰنک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم ۔۴
پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا ۔ بے شک تو ہی ہے دانا ، حکمت والا۔
( ۴ ؎۔ القرآن الکریم ۲ /۳۲ )
سبحن اﷲ ! متفلسفہ کہتے ہیں کہ عقولِ عشرہ ملئکہ سے عبارت ہے۔ اگرچہ یہ بات محص غلط ، کہ جوامور وہ بے عقول اِن دس عقول کے لیے ثابت کرتے ہیں ، صفات ملئکہ سے اصلاً علاقہ نہیں رکھتے۔
ولا اکذب ممن کذبہ القرآن
( اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹا نہیں جس کو قرآن نے جھوٹا قرار دیا۔ت)
بلکہ یہ صرف اُن سُفہاء کے اوہامِ تراشیدہ ہیں جن کی اصل نام کو نہیں۔
ان ھی الاسماء سیتموھا انتم واٰباءُ کم ماانزل اﷲ بھا من سلطٰن ۔۵
وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔(ت)
( ۵ ؎ ۔القرآن الکریم ۵۳ /۲۳)
تاہم اگر مان لیں اور یوں سمجھیں کہ مشرکین عرب نے شانِ املاک (فرشتے) میں غُلو کے ساتھ تفریط بھی کی کہ انہیں عورتیں ٹھہرایا۔ کفارِ یونان نے وہ افراط خالص بنایا کہ اوصافِ خُلق سے متعالی بتایا۔ تو اب اس آیہ کریمہ سے اُن عقول کی حالتِ ادراک کیجئے۔
کس طرح اِن احمقوں کو جھٹلاتے ، اور اپنے مالک کے حضور اپنے عجزو بے علمی کا اقرار لاتے ، اور پاکی و قدوسی اُس کے وجہِ کریمہ کے لیے خاص ٹھہراتے ہیں۔
صدق اﷲ تعالٰی :
سیکفرون بعباد تھم ویکونون علیھم ضِدّا ۔۱
عنقریب وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔(ت)
( ۱ ؎۔ القرآن الکریم ۱۹ /۸۲ )
اِعلام بقواطع الاسلام میں ہے :
من ادّعٰی علم الغیب فی قضیّۃ اوقضایالایکفر ومن ادّعٰی علمہ فی سائر القضایا کفر۲
جس نے ایک قضیہ یا چند قضایا میں علم غیب کا دعوٰی کیا وہ کافر نہ ہوگا۔ اور جس نے تمام قضایا میں اپنے علم کا دعوٰی کیا وہ کافر ہوجائے گا ۔(ت)
( ۲ ؎۔اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ الفصل الاوّل مکتبۃ الحقیقیۃ دارالشفقت ترکی ص ۳۵۹ )
اور اسی میں علمائے حنیفہ سے کفر مُتَّفَق علیہ کی فصل میں منقول :
اووصف محدثا بصفاتہ او اسمائہ الخ ۳
یا کسی حادث کو اللہ تعالٰی کی صفات یا اس کے اسماء کے ساتھ متصف کیا الخ (ت)
( ۳ ؎۔اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ الفصل الاوّل مکتبۃ الحقیقیۃ دارالشفقت ترکی ص۳۷۴ )
غرض حکمِ مسئلہ واضح ہے۔صرف محل نظر اس قدر کو یہاں زید نے لفظ عندھم لکھ دیا کہ صراحۃً حکایت پر دال۔ اقول : مگر قطع نظر اس سے کہ جملہ
لایمکن ان لایعلم العقل الا ول مثلاً الخ
( یہ ناممکن ہے کہ مثلاً عقل اوّل کو علم نہ ہوا الخ ۔ت) کہ خود وکفر جلی ہے، داخل حکایت نہیں ، بلکہ تنزہ تام پر تفریح ہے
کما یشھد بہ سوقُ البیان
(جیسا کہ سیاقِ بیان اس پر شاہد ہے۔ت) عجب کرتا ہوں کہ یہ اسے مفید ہوا۔ اس نے مجردات کا جزئیات مادیہ کو بروجہ جزئی جاننا اپنا مذہب محقق بتایا ۔ اور اس کی حقانیت پر اس قول کو دلیل ٹھہرایا ، تو وہ یہاں محض محل نقل وحکایت میں نہیں ، بلکہ مقام تمسّک واستناد میں ہے۔ وہ بھی مجیباً و منتصراً نہ سائلاً وصائلاً ۔ تو یہ صاف اَمارتِ رضا و قبول ہے
کما لایخفٰی علٰی کل عاقل ، فضلاً عن فاضلٍ
( جیسا کہ ہر عاقل پر پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ فاضل پر پوشیدہ ہو۔ت) علاوہ بریں ہم ثابت کرآئے کہ ایسے اقوال کا بہ تصریحِ حکایت بیان کرنا بھی حلال نہیں جب تک مقرون بہ رَدّو انکار نہ ہو۔