واضح تر کہوں_______ حاصل مذہب اہل سنت یہ ہے کہ تمام مقدورات اس جنابِ رفیع کے حضور یکساں ہیں۔ کوئی اپنی ذات سے کچھ استحقاق نہیں رکھتا کہ ایک کو راحج دوسرے کو مرجوع کہیں۔
علامہ سنّوسی شرح جزائریہ میں فرماتے ہیں :
ان الذی اوقع المعتزلۃ فی الضلالات ، کا یجاب الثواب وفعل الصلاح ولاصلح علی اﷲ اعتمادُ ھم فی عقائد ھم علی التحسین والتقبیح العقلیین ، وقیاسھم افعالَ اﷲ تعالٰی واحکامہ علٰی افعال المخلوقین واحکامھم ، من غیران یکون فی ذلک جامع یقتضی التسویۃ فی الاحکام ، والذی اجمع علیہ اھلُ الحق انَّ الافعال کلھا مستویۃ بالنّسبۃ الٰی تعلق قُدرۃ اﷲ تعالٰی وارادتہ (عہ) بھا ۲؎ ۔
جس چیز نے معتزلہ کو اللہ تعالٰی پر ثواب اور فعل صلاح و اصلح کے واجب قرار دینے جیسی گمراہیوں میں ڈالا وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے عقائد میں حسن و قبح کے عقلی ہونے پر اعتماد کیا۔ اور اللہ تعالٰی کے افعال و احکام کو مخلوق کے افعال و احکام پر قیاس کیا حالانکہ کوئی ایسا امر جامع موجود نہیں جو احکام میں برابر ی کا مقتضی ہو ، اور جس پر اہل حق کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ بے شک اﷲ تعالٰی کی قدرت وارادہ کے ساتھ متعلق ہونے میں تمام افعال برابر ہیں۔(ت)
عہ : ای فیقدر علٰی کل شیئ ویفعل مایرید لاترجیح قبل ارادتہ وانما الترجیح بارادتہ فہی موجبۃ الرجحان لاھومحرک الارادۃ _______ ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام ۔ وقد راینا تصدیق ذلک ، فی قعبی العطشان و طریقی السالک ، فارادۃ اﷲ سبحٰنہ اولٰی بذالک ۱۲ منہ ۔
یعنی وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے اس کے ارادہ سے پہلے کوئی ترجیح نہیں ، ترجیح تو فقط اس کے ارادہ کی وجہ سے ہوتی ہے ، چنانچہ ارادہ موجبِ رجحان ہے نہ کہ رجحان محرکِ ارادہ ، اس مقام کو یوں ہی سمجھنا چاہیے اور تحقیق ہم نے اس کی تصدیق پیا سے کے دو پیالوں اور چلنے والے کے دو راستوں مین دیکھی ہے۔ پس اﷲ سبحانہ و تعالٰی کا ارادہ اس کے لیے اولٰی ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
( ۲ ؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثانی فی الامور المھمۃ فی الشریعۃ مکتبہ نوریہ فیصل آباد ۱/ ۲۵۰)
وہاں صرف ترجیح اُس قدیر مجید عزمجدہ کے ارادہ سے ہے۔ جس چیز کے ایجاد سے اس کا ارادہ متعلق ہوگیا اُسی نے ترجیح پالی۔
شرح طوالع میں ہے :
تخصیص بعض المقدورات بالتحصیل ، وبعضھا بالتقدیم والتاخیرلا بُدّلہ من مخصِّص ، لان نسبۃ جمیع المقدورات الٰی ذاتہ متساویۃ ولیس ھونفس العلم ، فانہ ، تابع للمعلوم ، ولا القدرۃ فانّ نسبتہا الی الجمیع علی وتیرۃٍ واحدۃ فلا بُدّ من صفۃٍ اُخرٰی من شانہا التخصیص ، وھی الارادۃ ۱ ؎ ا ھ ملخصاً ۔
بعض مقدورات کے تحصیل اور بعض کے تقدیم و تاخیر کے ساتھ خاص کرنے کے لیے کسی مخصص کا ہونا ضروری ہے کیونکہ تمام مقدورات کی نسبت اﷲ تعالٰی کی ذات کی طرف مساوی ہے ، اور وہ مخصص نفس علم نہیں کیونکہ وہ تو معلوم کے تابع ہوتا ہے اور نہ ہی وہ قدرت ہے کیونکہ اس کی نسبت سب کی طرف ایک جیسی ہے لہذا کسی اور صفت کا ہونا ضروری ہے جس کی شان تخصیص ہے اور وہ ارادہ ہے ا ھ تلخیص (ت)
( ۱ ؎۔ شرح طوالع الانوار من مطالع الانظار )
اور بفرض باطل اگر یہاں کوئی مرجح ہو بھی تو اس کا اتباع مولٰی مقتدر جل جلالہ پر ضرور نہیں۔ اسے اختیار ہے چاہے راجح کو کبھی نہ کرے اور مرجوع کو خلعتِ وجود عطا فرمائے۔ زِنہار اس پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔
شرحِ مواقف میں ہے :
اعلم انّ الامۃ قد اجمعت اجماعاً مرکبا علٰی ان اﷲ تعالٰی لایفعل القبیح ولا یترک الواجب ، فالاشاعرۃ من جہۃ انہ لاقبیح منہ ولا واجب علیہ ، واما المعتزلۃ فمن جہۃ انہ ما ھو قبیح یترکہ وما یجب علیہ یفعلہ۔ ونحن قد بینا فیما تقدم انہ تعالٰی الحاکم فیحکم بما یرید ویفعل مایشاء ، لاوجوب علیہ کما لاوجوب عنہ ولا استقباح منہ ۱ ؎ ا ھ ملتقطا ۔
تُو جان لے کہ اُمت کا اس پر اجماع مرکب ہوچکا ہے کہ بے شک اﷲ تعالٰی فعل قبیح نہیں کرتا اور نہ واجب کو ترک فرماتا ہے۔ اشاعرہ تو اس جہت سے کہتے ہیں کہ جو کچھ اس کی طرف سے ہو وہ قبیح نہیں اور اس پر کچھ واجب نہیں ، اور معتزلہ اس جہت سے کہ جو قبیح ہے وہ اس کو ترک کرتا ہے اور جو واجب ہے وہ اس کو کرتا ہے۔ اور بے شک ہم ماقبل میں واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالٰی حاکم سے جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اس پر کچھ واجب نہیں جیسا کہ اس سے کچھ واجب نہیں اور نہ ہی اس کیطرف سے کچھ قبیح ہے اھ التقاط (ت)
( ۱ ؎ ۔ شرح المواقف المرصدالسادس المقصد السادس منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ /۱۹۵۔ ۱۹۶)
مولٰی ناصح محمد آفندی برکلی طریقہ محمدیہ و سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی اس کی شرح حدیقہ ، ندیہ میں فرماتے ہیں :
لایلزم علیہ تعالٰی شیئ من فعل صلاحٍ او اصلح ، اوفساد اور افسد بل ھوالفاعل العدل المختار ، ویخلق اللہ مایشاء و یختا ر ۱ ؎ اھ مختصراً ۔
اللہ تعالٰی پر فعل صلاح یا اصلح یا فساد یا افسد میں سے کچھ بھی لازم نہیں بلکہ وہ فاعل عادل ، مختار ہے اور جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور پسند فرماتا ہے اھ اختصار (ت)
( ۲ ؎ ۔الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثانی الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۲۴۹)
شرح عقائد نسفی میں ہے :
لیت شعری مامعنٰی وجوب الشیئ علی اﷲ تعالٰی ، اذلیس معناہ استحقاق تارکہ الذم والعقاب ، وھو ظاہر، ولا لزوم صدورہ عنہ تعالٰی بحیث لایتمکن من الترک بناءً علی استلزامہ مُحالاً من سفہ اوجہلٍ اوعبث اوبخل او نحرِ ذٰلک لانّہ رفض لقاعدۃ الاختیار ، ومَیل الی الفلسفۃ الظاھرۃ العوار ۱۔
کاش میرا علم حاضر ہو ، اﷲ تعالٰی پر کسی شیئ کے واجب ہونے کا کیا معنی ہے اس لیے کہ یہاں یہ معنی تو ہو نہیں سکتا کہ اس کا تارک ذم وعقاب کا مستحق ہے اور وہ ظاہر ہے اور نہ ہی یہ معنی ہوسکتا ہے کہ اس واجب کا صدور اﷲ تعالی سے لازم ہے بایں طور کہ اس کے ترک پر قادر نہیں اس بنیاد پر یہ محال کو مستلزم ہے یعنی سفہ ، جہل ، عبث ، بخل یا اس کی مثل کوئی اور قباحت لازم آئے گی۔ یہ معنی اس لیے نہیں ہوسکتا کہ اس سے مختار ہونے کے قاعدے کا ٹوٹ جانا اور اس سے فلسفہ کی طرف میلان لازم آتا ہے جس کا عیب ظاہر ہے۔(ت)
دیکھو اس عبارت میں اُس فلسفی کے الزامِ بخل کا بھی رد ہے ۔
وﷲ الحجۃ السامیۃ
(اور اﷲ تعالٰی ہی کی حجت بلند ہے .ت) اور یہ سب مطالب کہ علماء نے افادہ فرمائے فرداً فرداً ان آیات کریمہ کہ فقیر نے تلاوت کیں ، ثابت اوراگر کچھ نہ ہوتا سو آیہ کریمہ
انّ اﷲ علٰی کل شیئ قدیر ۲
( بے شک اﷲ سب کچھ کرسکتا ہے۔ت) کے تو بس تھی کہ مرجوع بھی ایک شے ہی اور ہر شے مقدور ۔ اور معنی قدرت نہیں مگر صحت فعل وترک ، یعنی کرے یا نہ کرے دونوں یکساں ، اور کسی تقدیر پر کچھ حرج و نقصان نہیں۔
(۲ القرآن الکریم ۲ /۲۰ ۲ /۱۰۶ ۲ /۱۰۹ ۲ /۱۴۸ ۲ /۲۵۹)
طوائع میں ہے :
القادر ھو الذی یصح منہ ان یفعل المقدور وان لا یفعل۳اھ۔
قادر وہ ہے جس سے مقدور کو کرنا اور نہ کرنا دونوں صحیح ہوں ا ھ (ت)
(۳ طوالع الانوار من مطالع الانظار)
پھر ترجیح مرجوع کا الزام کیسا !_____ ا ور قادر مختصار پر یہ تقولات کس شریعت میں روا !
ثم اقول : بعبارۃٍ اخصر
( پھر میں مختصر عبارت کے ساتھ کہتا ہوں ۔ ت) ہم پوچھتے ہیں قول زید
"لزم ترجیح المرجوع"
( مرجوع کو ترجیح دینا لازم آیا ت سے کیا مقصود ؟_____ آیا استحالہ ذاتیہ ؟_____ تو بین البطلان کہ وہ ہماری قدرت فانیہ زائلہ ، قاصرہ باطلہ کے تحت میں داخل _____ نہ کہ قدرتِ باقیہ تامہ ، کاملہ دائمہ _____ یا یہ کہ خدا کو عیب لگے گا؟_____ تو یہ وہی اس غنی حمید کو بندوں پر قیاس کرنا ، اور صد ہا نصوص قرآنیہ سے منہ پھیرنا ہے۔
ہمارے فعل بھلے برے سب طرح کے ہیں اور وہ جو کچھ کرے سب اچھا_____ وہی کام ہم کریں ہم پر اعتراض ہو۔ وہ کرے اس پر اصلاً اعتراض نہیں_____ یقین نہ آئے تو کافر کی حمایت میں کسی مسلمان کو قتل کر دیکھو۔ اور اس نے بارہا کفار کو مسلمین پر غلبہ دیا۔
واﷲ ! یہ وہ جگہ ہے کہ مومن کا دل اپنے مولٰی کی محبت سے چھلکے،
العظمۃ اﷲ
(عظمت اﷲ کے لیے ہے۔ت) جمیل کی ہر بات جمیل ( ہیہات ہیہات ، بلاتشبیہ) میلے کپڑی کی بدصورت پر سخت بدنما ہوں کسی حسین کو پہننے دیجئے ، دیکھئے کتنی بہار دیتے ہیں۔
وﷲِ الْمَثلُ الاعلٰی
( اور اللہ ہی کے لیے ہے سب سے برتر شان ۔ت)
عیاذًا باﷲ
( اﷲ کی پناہ۔ ت) اگر وہ اپنے بندہ مسلمان کو دوزخ میں ڈالے۔ ( اور اسی کے وجہ کریم کی پناہ) اس وقت اس مومن سے پوچھئے تیرے رب نے یہ کام کیسا کیا؟ واﷲ ! یہی کہے گا کہ بہت اچھا ، نہایت خوب ، کمال بجا ،
ولکن عافیتک اوسَعُ لی
( لیکن تیری عافیت میر ے لیے زیادہ وسعت والی ہے۔
بالجملہ زید کا یہ قول انواع انواعِ ضلالات وجہالات کا مجمع _____ اور صریح فلسفہ و اعتزال اس کا منبع _____
نسألَ اﷲ العافیۃ ، ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز الحکیم ۔
( ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت مانگتے ہیں، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر اﷲ عزت والے حکمت والے کی توفیق سے۔ت)